پشاورشہر ان دنوں اُدھڑا ہوا پڑا ہے۔بی آرٹی جس کے چھ ماہ میں مکمل ہونے کا منصوبہ اور خوشخبری سنائی گئی تھی آج تقریباََ 2سال کے عرصے کے بعد بھی بس ہوا میں معلق ہے سڑک پر گاڑی گزارنے کی جگہ نہیں ملتی کھڑی کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پشاور صدر میں تو گویا گاڑیاں بارش کی طرح برسی ہوتی ہیں قطار اندر قطار کھڑی گاڑیوں میں انسانوں کے گزرنے کی بھی جگہ ملنی محال ہو جاتی ہے ایسے میں کار پارکنگ ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔پہلے پہل نجی پارکنگ ایریاز بنائے گئے اور دکانوں کے سامنے جگہ ملنے کی صورت میں آپ اپنی گاڑی بغیر کسی فیس کے پارک کر لیتے تھے لیکن پھر یو ں ہوا کہ آپ سو روپے کے انڈے ڈبل روٹی لینے گئے اور پارکنگ ٹھیکدار کے مقرر کردہ کارکُن نے آپ کو چالیس روپے کا پارکنگ ٹکٹ پکڑانا شروع کر دیایعنی پچاس روپے کی چیز آپ کو نوے روپے میں پڑنے لگی اور وہ بھی ایسا نہیں کہ آپ کی گاڑی کسی مناسب جگہ کھڑی ہے یہ کہیں بھی دوسری یا تیسری قطار میں کھڑی ہو گی لیکن ٹکٹ پھر بھی لینا ہے پیسے پھر بھی دینے ہیں۔ عوام کی لوٹ دیکھنے ذرا صدر سے باہر آیئے سبزی لینے کے لیے دلزاک روڈ کی منڈی چلیے سڑک کے کنارے گند سے بھری ہوئی جگہ پر گاڑی پارک کریں تو ٹھیکدار کا کارندہ آپ کے سر پر موجود ہو گا اور ایک بار پھر چالیس روپے کا مطالبہ ہو گا اور آپ کو بتائے گا کہ اس کے صاحب نے یہ ٹھیکہ تئیس لاکھ کا خریدا ہے، اب پوچھو کس نے بیچا سڑک کو ،یہ تو پبلک پراپرٹی ہے اس کے صاحب نے کیسے سڑک خرید لی یہ اُس بیچارے کو معلوم نہیں۔ اس طرح کی درجنوں جگہوں پر پارکنگ فیس کے نام پر عوام کو لوٹنے کا سلسلہ حکومت کی سر پرستی میں جاری ہے اور مجھے یقین ہے ملک کے باقی حصوں میں بھی یہی کام ہو رہا ہو گا ۔ نئے پاکستان میں عوام کی ایک اور لوٹ ،اب ذرا بازار سے گھر واپس چلتے ہیں کیونکہ ذرا اور دیر کو رُکے تو کسی نہ کسی بہانے آپ لُٹتے رہیں گے گھر پہنچ کر ایک سے دوسرا بلب جلائیں تو دل دھڑک جا تا ہے کہ اب بجلی کا بل بڑھا کہ اب بڑھا پھر عوام کی لوٹ۔میں اپنے گھر کی بات کروں تو سکول کالج اور تلاش معاش کے سلسلے میں تمام پانچ افراد خانہ گھر سے سارا دن باہر رہتے ہیں یعنی یوں کہیے کہ بجلی سے چلنے والا ایک فرج ہی ہے جو سار ادن چلتا ہے باقی سب بند رہتا ہے ، سردی میں نہ پنکھا نہ اے سی لیکن بل ہے کہ جیب کی حد سے باہر نکلا ہوا ہوتا ہے۔ایک گیس تھی جس کا بل قابلِ برداشت ہوتا تھا لیکن وہ تو ایسا بے قابو جن بن گیا ہے کہ لوگ خوف کے مارے بل پر نظر نہیں ڈالتے کہ دس اور بیس ہزار کا ہندسہ تو جیسے بچوں کا کھیل ہو ۔ ایک پرائیوٹ ادارے کے ایک ملازم جس کی ماہانہ تنخواہ چوبیس ہزار روپے ہے کا ایک ماہ کا بل بائیس ہزار روپے آیا بچارے نے جوں توں ادا کیا تو اگلے مہینے ستائیس ہزار کا ہندسہ اس کے بل پر موجود تھا ۔اب ایک متوسط گھر جس کی آمدنی پچاس ہزار یا چلیے ستر اسی ہزار کے لگ بھگ ہو اور وہ اتنے بل دے تو کھائے کیا ۔سکول کی فیس ایک الگ ہوا ہے جس پر خوب خوب شہرت کمائی گئی کہ انہیں کم کر دیا گیا لیکن وہ بھی ممکن نہیں ہو سکا اور یہ کوشش بھی حکومت کی طرف سے نہیں کی گئی تھی۔مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کے سیاسی نعرے اتنے بلند بانگ ہوتے ہیں کہ اُن کا پورا ہونا ممکن بھی نہیں ہوتا لیکن پچھلی حکومت عوام کو ایسی پٹخنی دے چکی ہوتی ہے کہ وہ اگلی سے مجبوراََ توقع وابستہ کر لیتے ہیں اور نئے آنے والے کو اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگتے ہیں اورنئی حکومت تمام وہ حرکات شروع کر دیتی ہے جو پچھلی حکومت نے کی ہوتی ہیں بس کبھی کبھی کسی کسی موقع پر انداز میں کچھ تبدیلی کر لی جاتی ہے اور یوں فرق ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ورنہ وہی دعوے وہی وعدے وہی کھوکھلے نعرے اور وہی مشکلات وہی مسائل جیسے تھے اب بھی ویسے ہی ہوتے ہیں بلکہ مزید اضافے کے ساتھ مسلط ہوتے جاتے ہیں وہی قرضہ ضروری قراردے دیا جاتا ہے وہی آئی ایم ایف ترقی کا زینہ بن جاتا ہے ۔ہمارے موجودہ وزیر خزانہ نے فخریہ انداز میں اپنی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں یوں لگا جیسے ہم غربت ختم کرنے کے قریب پہنچ چکے ہوں اور پاکستان سچ مچ ایک فلاحی ریاست بن چکا ہویا بن جانے کے انتہائی قریب آ چکا ہوجہاں علاج مفت ہو چکا ہو تعلیم کی شرح ننانوے فیصد ہو چکی ہو اور سو کا ہندسہ ہی پار کرنا رہ گیا ہوجیسے عوام ٹیکسوں کے کے بوجھ سے آزاد ہونے والے ہوں جہاں ہر نوزائیدہ اور اس کی ماں کے دودھ ، لباس اور دیگر ضروریات کے پیکٹ دروازے کے سامنے رکھ دیے گئے ہوں اور دروازوں پر دستک دی جا چکی ہو بس گھر کے مالک کے باہر نکلنے کی دیر ہو کہ اُٹھا لے ۔ ہم نے چین اور سعودی عرب سے امداد ملنے کی اتنی خوشی منائی جیسے ہم نے ہمالیہ کھود لیا ہو اور اس کے نیچے مدفون سونے کا پہاڑ ہمیں مل گیا ہویعنی
قرض کی پیتے ہیں مے اور جی میں کہتے ہیں کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
اوراب وہ دن آپہنچا ہو۔مجھے اعتراض اس بات پر نہیں کہ ہم نے قرض کیوں لیا اعتراض اس بات کا ہے کہ اتنا کیوں لیا اس بات پر بھی نہیں کہ اب تک سارے مسائل دور کیوں نہیں ہوئے اعتراض اس بات پر ہے کہ ان میں کمی کی بجائے اضافہ ہی کیوں ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت نے حساب کتاب نہیں کیا لہٰذا اس نے اعلان کر لیا کہ وہ پانچ سال میں پچاس لاکھ گھر بنائے گی اور ایک کروڑ نوکریاں دے گی لیکن مجھ جیسے عام شہری نے فوراََ کیکو لیٹر اُٹھا یا اور حساب کتاب کر لیا کہ حکومت کو ہر روز 2747 گھر بنانے ہوں گے اور ہر روز 5494 لوگوں کو نوکریاں فراہم کرنا ہو ں گی۔ نوکریوں کے لیے تو ایک ترکیب ہے ضرور منصوبہ سازوں کے ذہن میں بھی ہو گی یعنی نوکری دو اور اگلے دن اسے نکال کر اگلوں کو دے دو کاغذوں میں گنتی پوری ہو جائے گی۔ میں یہ نہیں کہتی کہ نوکریوں کی یہ تعداد پوری کرنی ممکن نہیں ہاں گھروں کے بارے میں میرے شکوک و شہبات بہت شدید ہیں لیکن نوکریوں کے لیے مواقع تو پیدا کریں ابھی تک سوائے بی آر ٹی میں دہاڑی والے مزدوروں کی نوکریوں کے،جو اُس کو بنانے کے اور پھرتوڑنے کے اور پھر بنانے کے پیسے لے رہے ہیں، بس یہی ایک خدمت ہے جو غریب عوام کی ہو رہی ہے لیکن وہ بھی عوام کی ہی قیمت پر جو روزانہ دفتروں سے لیٹ ہونے کی بنا پر افسر کی ڈانٹ سن رہے ہیں ، گاڑیوں کے ٹائر بھی انہی کے گھِس رہے ہیں ،کاروبار بھی ان ہی کے شدید ترین متاثر ہیں۔منصوبہ دُگنی قیمت کا ہو چکا ہے،بِن بوتل کا جن جس نے منصوبہ چھ ماہ میں مکمل کرنا تھا بوتل میں بند ہو چکا ہے ہاں مہنگائی اور عوام کی کھال اُتارنے والے جن بے مہار اور آزاد گھوم رہے ہیں اِن کی بوتلیں ٹوٹ چکی ہیں لہٰذا بند ہونے کا کوئی امکان نہیں ۔میں نے پہلے بھی اپنی غریبانہ طبیعت کا اظہار کیا ہے کہ پچاس لاکھ اور ایک کروڑ کا ہندسہ سن کر فوراََ ناممکنات یا چلیے ممکنات کا حساب کتاب کر لیا لیکن نظر ایسا آرہا ہے کہ حکومت نے ایسا کچھ نہیں کیا اس نے نہ تو بی آر ٹی کے تجربے کے بعد کوئی بڑا منصوبہ بنایا ہے، نہ کارخانہ، نہ ہسپتال، نہ ترقی کا پتہ دیتا کوئی اور ارادہ عمل تک پہنچا ہے۔مرغی اور انڈے کے بعد حکومت کو کچھ اورسوجھا ہی نہیں،مجھے اُس سے بھی اختلاف نہیں تھا اسے آزما تو لیا جاتا۔ ہاں جو ہوا ہے وہ یہ کہ بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں جمع ان پر ٹیکس برابر ہے بل، عوام کے قابو سے باہر ہو چکا ہے اور باہر کی دنیا کو شاید یہ تاثر دیاجا رہا ہے کہ پاکستان کے عوام کی قوت خرید اتنی زیادہ ہے اور اسی لیے وہ بچارے ایساکررہے ہیں ۔ہماری حکومت جان کر انجان ہے کہ عام آدمی قرض ادھار لے کر انہیں ادا کر رہا ہے تا کہ حکومت کے خزانے کا حجم بڑھا یا جا سکے۔غرض ابھی تک صاف صاف پاکستان سے لے کر خو شحال پاکستان تک کا نیا پاکستان دور دور تک نظر نہیں آرہا۔میرا یا میرے جیسے عوام کا یہ مطالبہ نہیں کہ چھ آٹھ مہینے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ جاتیں لیکن کچھ آثار تو نظر آ جائیں اور عوام کو کم از کم کچھ سہولت دی جاتی لیکن یہاں تو سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا یہاں تک کہ سرکاری اداروں کی پارکنگ کے پیسے بھی عوام سے لیے جانے لگے ہیں چلیے عوام اسے بھی مجبور اسہہ لیں گے لیکن کوئی تو گارنٹی ہو کہ سال دو سال بعد وہ سکون کا سانس لے سکیں گے بہر حال حکومت اب اپنے دعوؤں کے مطابق فلاحی حکومت کر ے صرف حکمران نہ بنیں۔

230
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...