پلوامہ میں ایک کشمیری نوجوان عادل ڈار نے بھارتی فوجی ٹرکوں کے قافلے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں چوالیس بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے۔یہ پچھلی کئی دہائیوں میں کشمیر میں بھارتی فوج پر سب سا بڑا حملہ تھا جس میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا اور یہ کوئی ایسا غیر متوقع بھی نہ تھا کیونکہ کشمیر میں بیٹھی آٹھ لاکھ قابض بھارتی فوج جو مظالم کر رہی ہے اس کا رد عمل ایسا ہی ہونا تھا لہٰذا اس حملے کو بھارت کا اس قدر سنجیدگی سے لینا کچھ زیادہ سمجھ میں نہیں آتا ہاں اس سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ یہ سارا واویلا اپنے ڈرامے کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے مچایا گیا تاکہ دنیا کو یقین دلایا جاسکے کہ اُس کی آٹھ لاکھ فوج کی موجودگی میں بھی پاکستان اُس کے اندر آکر کاروائی کر سکتا ہے، ہے تو یہ فخر کی بات اور ایک طرح سے پاک فوج اور پاکستان کو بھارت کی طرف سے ایک سلامی ہے تاہم اس کا یہ پروپیگنڈا اس مقصد کے لئے نہیں ہے بلکہ اُس نے پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کے لئے ایسا کیا لیکن اُس کا وار اُسی کو الٹا پڑ گیا اور دنیا میں اُس کی جو سبکی ہوئی وہ بھارت کی تاریخ کا ایک ایسا حصّہ بن گیا جو مدتوں اس کو شرمندہ کرتا رہے گا اور اس کو یہ یا د دلاتا رہے گا کہ اُس کے ایک شدت پسند اور دہشت گرد وزیراعظم نے الیکشن جیتنے کے لئے اپنے ملک کے فوجیوں کو بطور چارہ استعمال کیا اور باقائدہ جنگ چھیڑنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس موقع پر بھارت سرکار اور فوج کا رویہ تو انتہائی غیر ذمہ د ارانہ اور جارحانہ تھا ہی اُس کے میڈیا نے جو منفی اور جاہلانہ حد تک غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایااُس نے بھارت کی بدنامی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ بھارتی میڈیا کے پروگرام کسی میدان جنگ سے کم نہ تھے ۔ یہاں خود اینکر اور مہمان لٹرتے رہے اور ایک دوسرے کوبرے الفاظ سے نوازتے رہے اگر کوئی مہمان اپنی زبان کو سچ بولنے سے نہ روک سکا تو اینکرز نے انہیں سٹوڈیو سے نکل جانے تک کا حکم دیا۔ بھارت کے ایک چینل نے بڑا نجنیئر بننے کی کوشش کرتے ہوئے گرے ہوئے کسی طیارے کے کسی حصّے کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا کہ یہ ایف16 طیارے کا کوئی حصّہ ہے جسے مہمان نے نہ صرف رد کیا بلکہ بھارتی طیارے MIG-21 کا حصہ قرار دیا اس کے بعد اس لائیو پروگرام کے مہمان کا کیا ہوا اس کی کوئی اطلاع نہیں۔اس طرح جب لائن آف کنٹرول پر ایک رپورٹر نے دہائیوں پر پاکستانی گولہ باری کی’’ المناک داستان ‘‘سنانے کے بعد ایک بوڑھے دیہاتی سے صورت حال پوچھی تو اُ س نے صاف طور پر بتایا کہ دو دن سے پاکستان کی طرف سے فائرنگ نہیں ہورہی لیکن ادھر سے یہ لوگ لگے ہوئے ہیں جس پر مسلمان رپوٹرنے اپنی نوکری اور اپنا رزق بچاتے ہوئے اپنی بات گول مول کرکے ختم کردی۔ یہ تو چند ایک مثالیں ہیں جو پاکستانی میڈیا کی نظروں میں آئیں یا سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچ گئیں ورنہ پور امیڈیا جس طرح چیختا چنگھاڑتا رہا اُس میں ایسے کئی اور واقعات ہوئے ہونگے جنہوں نے بھارت کے جھوٹ کا پول کھولا ہوگا۔ اس بار تو بین الاقوامی طور پر بھی بھارتی میڈیا کی غیر ذمہ داری کو محسوس بھی کیا گیااور ہدف تنقید بھی بنا یا گیا۔ بھارتی میڈیا کا رویہ مناسب کبھی بھی نہیں رہابلکہ خطے میں جنگ کروانا ’’را‘‘ کی طرح یہ بھی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اسی لئے ان کے منشور اور ایجنڈا پر پہلا نکتہ ہی نفرت پھیلانا ہوتا ہے چاہے اس کے لئے اسے ہندوستان کے اندربھی گھر گھر آگ لگانا پڑے اُسے نہ ابھی نندن اور اس کے خاندان سے ہمدردی ہے اور نہ کسی کلدیپ اور نہ کسی راجدیپ کے خاندانوں سے اُسے صرف اور صرف جنگ چاہیے چاہے اُس کے ہاں یتیموں اور بیواؤں کی فصل اُگے یا چاہے دشمن کے ملک میں اور جب سے مودی جیسا شخص بھارت کے تخت پر بیٹھا ہے تب سے تو شدت پسندی میں شدیدترین اضافہ ہوا ہے نہ بھارت کے اندرکامسلمان اُس کے ہتھکنڈوں سے محفوظ ہے نہ باہر کا۔ بھارت کا میڈیا کشمیر میں اپنی فوج اور حکومت کے مظالم کے بارے گونگا بہرا اور اندھا ہے اُسے وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور پامالی نظر نہیں آتی لیکن جب وہاں کے لوگ ان مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے اور انکی ایک چھوٹی سی کاروائی کے بدلے پورا کشمیر ہلادیا جاتا ہے اور بھارتی میڈیا اس لگی آگ کے اوپر مسلسل تیل ڈالتا رہتا ہے اور یہی پلوامہ حملے کے بعد ہوا ایک غیر ذمہ دار میڈیا کا غیر ذمہ دار اورغیر مناسب رویہ سامنے آتا رہا، جبکہ دوسری طرف پاکستان کے میڈیا نے ایک انتہائی سلجھے ہوئے اور ذ مہ دارنہ انداز میں ہر رپورٹینگ مکمل ثبوتوں کے ساتھ کی اور مسلسل امن کا پیغام دیتا ہوا نظر آیا اُس نے خبر دی اور مکمل دی لیکن ملک میں جنگی بخار اٹھانے کی کوشش نہیں کی اور اس بات کو پوری دنیا میں نوٹ کیا گیا اور پاک فوج کی کارکردگی اور پاکستانی حکومت کے رویے کی طرح سراہا گیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس طرح دہشت گردی نے پاک فوج کے سپاہی سے لے کر جنرل تک ہر فوجی کی تربیت کی اسی طرح اس کا میڈیا بھی اس بھٹی کی سختی اور گرمی کو سہہ سہہ کر ایک انتہائی ذمہ دار کردار ادا کرنے کے قابل ہوا جس کا ثبوت اُس نے موجودہ پاک بھارت تناؤ بلکہ شدید تناؤ میں انتہائی مثبت کردار ادا کر کے دیا،نہ صرف یہ کہ حالات کو قابو میں رکھا بلکہ ملک میں خوف کی فضاء پیدا نہ ہونے دی۔ قوم کا مورال بلند رکھااور بغیر جنگ کا بخار پیدا کیے عوام کے جذبہ حب الوطنی کو زندہ رکھا اور قوم کو حوصلہ دیے رکھا کہ ہم امن چاہتے ہیں لیکن یہ خواہش ہماری کمزوری نہیں اور اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو قوم یہ تسلی رکھے کہ ہماری افواج دشمن کی کسی بھی جارحیت کا بھر پور جواب دے سکتی ہے اوریہ سب کچھ حقائق کے تجزئے کے ساتھ بتایاجاتارہا اورالحمداللہ ہماری فوج نے اپنی اہلیت ثابت بھی کی اور دنیا کو بتا دیا کہ معیار اور تعداد میں فرق کیا ہوتا ہے اور یہ بھی منوالیا کہ تین سوتیرہ آج بھی ہزار پر بھاری ہو سکتے ہیں اور ایسا ہوا بھی لیکن پھر بھی ہمارے میڈیا نے ذمہ دارانہ کردارہی اداکیا اور یہ ثابت کیا کہ میڈیا بذات خود ایک بڑا ہتھیار ہے اور مثبت اور منفی دونوں طرح استعمال کیاجا سکتا ہے اوریہ بھی کہ اس کا استعمال انتہائی سمجھداری کا تقاضا کرتا ہے اگر اسے اپنے ملک میں دشمن کے خلاف ہی غیرمناسب اندازمیں فسادپھیلانے کے کیلئے استعمال کیا جائے توبھی یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ بیجاجوش کسی کھلی جنگ کا باعث بن سکتا ہے جو سوائے تباہی کے کچھ بھی نہیں کر سکتی اوراس بار پاکستان کے ہر طبقہ فکر اور میڈیا نے جس طرح ملکی مفاد کے لئے مل کرکام کیا ہے وہ ملک کے لئے یقیناًباعث فخرہے اور بھارت کے میڈیا نے جس رویے کو اپنایا وہ ان کے لئے سبکی کا باعث ہی بنا۔یہ توقع بالکل بجاکی سکتی ہے کہ آئنددہ بھی محبت اور مفاہمت کی یہ فضا ملک کے مفاد کے لئے اسی طرح قائم رکھی جائے گی ،انشاء اللہ۔

145
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...