پلوامہ جنت نظیر وادی کشمیر کا ایک ضلع ہے لیکن اسکی بھی بد قسمتی یہ ہے کہ 94 فیصدسے زیادہ مسلمان ہو نے کے باوجود بھارت کے قبضے میں ہے، یہ خوبصورت وادی نہ صرف چاول کی پیداوار کی وجہ سے مشہور ہے بلکہ زعفران کاسونابھی یہاں خوب اُگتاہے اور دودھ بھی اس کی خاص پیداوار ہے۔لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود اسکے لوگ آزادی کی سانس لینے کو ترس رہے ہیں اور جب حالات ایسے ہوں تو لاواتو پکے گا اوریہی ہو رہاہے۔ کشمیر کے 96 فیصدمسلمان اپنی اکثریت کے باوجود صرف دو سے تین فیصدہندؤں کے غلام ہیں اور یہ المیہ یہاں پر کئی المیوں کو جنم دیتا ہے، کشمیر میں روز جوان، بوڑھے اور بچے شہید کر دیے جاتے ہیں۔آٹھ لاکھ قابض فوج ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کے حق آزادی کو غصب کئے بیٹھی ہے، یہ وہ قاتل ہیں جنہیں ایسا کرنے کے تمام اختیارات حاصل ہیں اور ایسا کرنے کے لئے انہیں شاباشی دی جاتی ہے لیکن انہی کے ستائے ہوئے کشمیری جب ان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور کوئی کاروائی کر لیتے ہیں تو بھارت سرکار اپنے مظالم کے بدلے میں ہونے والی ان کاروائیوں کے لئے پاکستان کو موردِالزام ٹھہرا دیتی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا کنٹرول لائن کے ڈیڑھ سو کلومیٹر اندر واقع پلوامہ میں فوجیوں سے بھرے ہوئے ٹرکوں کے قافلے پر حملہ ہوا اور 44فوجی موقع پر مارے گئے۔ ایک نوجوان عادل ڈار نے بارود سے بھری ہوئی اپنی گاڑی ان گاڑیوں سے ٹکرائی، یہ پچھلی کئی دہائیوں میں کشمیرمیں بھارتی قابض فوجیوں پر سب سے زیادہ خونریز حملہ تھا اور یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اب کشمیر یوں کا صبر جواب دے رہا ہے اور اب وہ آزادی کے حصول کے ساتھ ساتھ اپنے شہیدوں کے خون کا بدلہ بڑے پیمانے پر لیں گے۔ ابھی تو یہ بھی اُس سے بہت کم ہے جو کشمیر یوں کے ساتھ اُن کی اپنی ہی زمین پر ہورہاہے اگرچہ یہ سب کچھ پورے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے لیکن کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اجتماعی ظلم کی بدترین مثال ہے اور مودی کی حکومت آنے کے بعد تو کھلم کھلا مسلمانوں کے خلاف منصوبے بننے لگے ہیں اور ان پر بڑے زور وشور سے عمل بھی ہو رہا ہے۔ کشمیر کے مسلمان کسی دور میں محفوظ نہیں رہے ہیں لہٰذا انکا ردعمل یوں بھی قدرتی ہے اور یوں بھی کہ آزادی کے حق سے بھی محروم ہیں۔ مگر بھارت کا اپنے عوام کو اندھیرے میں رکھنے کا ایک پراناہتھیار ہے کہ ہر رد عمل، ہر ناکامی پاکستان کے سر تھوپ دو اور پلوامہ حملے کے بعد بھی یہی ہوا اور ’’یہ بعد‘‘ اس حملے کی کسی تفتیش کے بعد نہیں تھا بلکہ بھارتی سوشل اور الیکٹرانک میڈیا نے فوراً اس حملے کو پاکستان سے جوڑ دیا،کسی تحقیق اور تفتیش کی ضرورت نہیں سمجھی گئی اور فیصلہ صادر کر دیا گیا۔ در اصل بھارتی سیاست کا یہ مستقل چلن ہے کہ انتخابات کے سال میں کچھ نہ کچھ پاکستان کے خلاف کیا یا کہا جائے سو عادل ڈارجیسے حریت پسند نوجوان کے جذبہء آزادی کو پاکستان کے نام کر دیا گیا۔ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میں یہی کہوں گی کہ بھارت جتنی محنت پاکستان کے خلاف کرتا ہے اتنی وہ اپنے معاملات کی تحقیق پر کر لیتا توشاید بہت سے مسائل سے بچ جاتا۔ خیر کشمیر میں تو وہ جو بھی کر لے کشمیری اپنا حق آزادی چھوڑنے کو تیا ر نہیں۔کشمیر بھارت کے لئے ایک جلتا ہوا انگارہ ہے اور جب تک وہ اس پر قابض ہے ایسا ہی رہیگا۔ بھارت کشمیر یوں کے دل سے نہ اپنی نفرت نکال سکتاہے نہ پاکستان کی محبت، اس کا ایک ثبوت کشمیر کی سنٹرل یونیورسٹی میں ہونے والی تقسیم اسناد کی وہ تقریب ہے جس میں جب بھارتی ترانہ بجایا گیا تو سوائے ایک شخص کے کوئی اس کے احترام میں کھڑا نہ ہوا ۔بھارت میں ایک عام روایت ہے کہ اس کا پُر تشدد جنگی غبار اسکے میڈیا کے ذریعے اس کے پورے عوام تک پہنچ جاتا ہے اور اگر وزیر اعظم مودی اور مشیر اجیت دوول ہو تو جنگی جنون تو عروج پر ہی ہوگا ۔ اس وقت بھارت میں اجیت کما ر دول قومی سلامتی کا مشیر ہے اور اسکی زندگی کا نظریہ اور مقصد سب کچھ صرف اور صرف پاکستان مخالفت پر مبنی ہے۔بلوچستان اس کا سب سے بڑا ہدف ہے لیکن کشمیر کے مسائل سے اُس کی آنکھیں بند ہیں وہ کشمیر جہاں ہر سات کشمیریوں کے اوپر ایک فوجی مسلط ہے۔ اس کے اپنے ملک میں آزادی کی کئی دیگر تحریکیں بھی چل رہی ہے ہیں لیکن اُس کی توجہ پھر بھی بلوچستان اور پاکستان پر ہے تو یہ تو طے ہوا کہ وہ اپنے اندرونی مسائل حل کرنے پر تیا ر ہی نہیں بلکہ دوسروں کے لئے مسائل پیدا کرنے میں زیادہ مصروف ہے اور اسی لئے اُس کے ملک کے مسائل حل ہونگے بھی نہیں۔ کشمیر کے مسئلے کاتو ایک ہی حل ہے کہ بھارت اُس کو آزاد کردے ورنہ وہاں ایک مقبول بٹ، ایک برھان وانی اور ایک عادل ڈار نہیں آزادی کے بے شمار دیوانے موجود ہیں۔بھارت نے اپنے جتنے عقلی اور طبعی وسائل جنگ کے لئے وقف کر رکھے ہیں اگر اُسے ختم کر دے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔اب بھی پلوامہ کا واقعہ ہوتے ہی اس نے حملہ ،جنگ ،فوج اور تباہی کی باتیں شروع کر دیں اور اپنی فوجیں سرحدوں پر تیار کردیں حالانکہ خود اس کے اندر سے بھی اس کے اس اقدام اور ارادے کے خلاف آوازیں اٹھیں لیکن تاحال وہ کسی خوش فہمی میں مبتلاء ہے، تاہم وزیراعظم عمران خان نے بڑے واضح الفاظ میں اُسے بتا دیا کہ اُس کی کسی بھی ایسی حرکت کا جواب دینے کے لئے ہم سوچیں گے نہیں بلکہ براہ راست جو اب دیں گے اور یوں بھارت کی غلط فہمی دور کرنے کی کو شش کی ہے۔ اس سے پہلے پاکستان بھارت کو یہ پیش کش بھی کر چکا ہے کہ وہ ثبوت فراہم کرے کہ پلوامہ میں کوئی پاکستانی، پاکستانی تنظیم یا ادارہ ملوث ہے تو ہم بھارت کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے لیکن حسب معمول بھارت نے اس پیشکش کو مستر د کردیا اور مطالبہ کیا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرے لیکن اس مطالبے کے لئے اُس کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ اُس کا کہنا یہ ہے کہ اگر جیش محمد نے ذمہ داری قبول کی ہے تو اس کے خلاف کاروائی کی جائے لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس تنظیم پر پاکستان میں پابندی ہے اور اگر اسکا وجود بھارت یا کشمیر میں کہیں ہے تو پاکستان اس کے لئے بالکل ذمہ دار نہیں۔ بھارت اپنے مسائل کا حل اپنے اندر تلاش کرے تو بہتر ہوگا بجائے اس کے کہ وہ بین الاقوامی برادری کو بھی دھوکہ دے اور اپنے عوام کو بھی بیوقوف بنائے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس حملے پر جتنے بھی پاکستان مخالف بیان آئے غیر کشمیریوں کی طر ف سے آئے کسی کشمیری نے پاکستان کو اس حملے کے لیے مورد الزام نہیں ٹھہرایا وہ اسے کشمیریوں کاجذبہء حریت اور اپنے ایک بہادر نوجوان کی بہادری اور جرأت ہی سمجھ رہے ہیں اور جب وہ خود اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں اور یہ اعتراف کرتے ہوئے بھارتی فوج اور بھارتی سرکار کے مظالم کی داستانیں بھی دہرا رہے ہیں تو پھر تو بھارت کو مان لینا چاہئے کہ اصل مجرم وہ خود ہے بلکہ اُسے ایسے کئی دوسرے واقعات کے لئے بھی تیا رہنا چاہیے کیونکہ آزادی کی خواہش کسی زندہ انسان کو کامیابی حاصل ہونے تک دم نہیں لینے دیتی اور بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک کشمیر آزادنہیں ہوگا آخری کشمیری بھی اس کے لئے مسائل پیداکرتا رہے گا۔ لہٰذا اُس کے لئے بہتر یہی ہے کہ اپنی فوج کشمیر سے واپس بلالے اور انہیں وہ حق خود ارادیت دے جس کے لئے اُس نے اقوام متحدہ کی استصواب رائے کی قرارداد پر دستخط کئے ہیں۔ اس کا یہ عمل نہ صرف اس کے مسائل کے حل میں مددگار ہوگا بلکہ پورے خطے میں امن کا باعث بنے گا۔

112
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...