پاکستان اور دنیا بھر میں آزادی پسند لوگ 5 فروری کا دن کو کشمیریوں کیساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر مناتے ہیں۔ البتہ بیرونی دنیا میں بھارتی افواج کی جانب سے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی پامالی کے خلاف پھیلتے ہوئے جذبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے گزشتہ روز بھارتی انتہا پسندوزیراعظم نریندرا مودی نے بین الاقوامی کمیونٹی کو یہ بتانے کیلئے کہ بھارت اور کشمیریوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں ، ایک منصوبہ بندی کے شیخ عبداللہ کی جناح کیپ پہن کر بھارتی انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ RSS کے رضاکاروں کے ہمراہ سرینگر کودورہ کیا تو کشمیریوں کی وسیع تر احتجاجی ہڑتال کے باعث سرینگر کو مکمل طور پر سنسان پایا ۔ نریندر مودی کی ایک اور چناکیہ عیاری اُس وقت سامنے آئی جب اُنہوں نے کشمیری زبان میں تقریر کرنے کی کوشش کی لیکن بیشتر خالی کرسیاں زمانے بھر کو یہ بتاتی رہیں کہ حق اور سچ کیا ہے۔ درحقیقت نریندرا مودی کے بھارتی وزیراعظم بننے سے قبل کشمیر میں امن و امان کی فضا قائم کرنے کیلئے بظاہر کنٹرول لائین کو نرم کرنے اور کشمیر کے دونوں خطوں یعنی بھارتی مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں بکھرے ہوئے خاندانوں کو ملانے کیلئے سرینگر، مظفرآباد بس سروس کا اجراء کیا گیا تھا اور سرحدی علاقوں میں رہائشی افراد کیلئے بارٹر تجارت کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی جارہی تھی تاکہ اِس تجربے کی کامیابی کے بعد وادی کشمیر کے مقبوضہ علاقوں میں کشمیریوں کو اندرونی خودمختاری دی جا سکے۔ گو کہ پاکستان کے کچھ اہم سیاسی حلقوں اور تھنک ٹینکس کو بھارتی سیاسی لیڈرشپ پر مکمل اعتماد نہیں تھا کہ وہ کشمیریوں کے انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کی پاسداری کریگی اور ایسا ہی ہوا جب نریندرا مودی نے اقتدار میں آتے ہی بھارتی انتہا پسند تنظیم ، آر ایس ایس، جسے بھارتی جنتا پارٹی کے عسکری ونگ کے طور پر ہی جانا جاتا ہے ، کے مسلح رضاکاروں کو بھارتی فوج کیساتھ مل کر کشمیریوں پر ظلم و ستم کی کھلی چھٹی دے دی گئی۔ چنانچہ بھارتی فوج کی جانب سے کشمیر کنٹرول لائین کی روزمرہ خلاف ورزی روز مرہ کا معمول بن گئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج اور آر ایس ایس کے مسلح رضاکاروں کی جانب سے کشمیریوں پر ظلم و ستم کی نئی داستانیں رقم کر نے کے سبب کشمیریوں کی پانچویں نئی نسل نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کی بحالی اور بھارتی فوج سے آزادی حاصل کرنے کا علم اُٹھا لیا ہے۔ یہی وجہ کہ نریندرامودی کا سرینگر کا موجودہ دورہ بری طرح ناکامی سے دوچار ہوا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 5 فروری کا دن ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے اور بھارتی فوجوں کے کشمیر میں قتل عام کے خلاف کشمیروں کی عظیم مزاحمت اور قربانیوں کی یاد تازہ رکھنے کیلئے بھی منایا جاتا ہے ۔اگر تاریخ کے ابواب کو پلٹ کر دیکھا جائے تو تاریخِ کشمیر میں 27 اکتوبر کا دن کشمیر کا سیاہ ترین دن شمار کیا جاتا ہے جب بھارتی فوجیں ریاست جموں و کشمیر میں داخل ہوئیں اور کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی اُ منگوں کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے بھارت کے ساتھ کشمیر کے نام نہاد عارضی الحاق سے قبل ہی بھارتی فضائیہ کے D.C-3 طیاروں نے سکھ رجمنٹ کے فوجیوں اور ضروری جنگی ساز و سامان کے ساتھ سری نگر کے ہوائی اڈے پر اُتر کر 26 اکتوبر کی صبح ہی سے ہوائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا ۔اِس سے قبل مہاراجہ کشمیر نے بھارتی حکومت کے انتہا پسند وزیر داخلہ سردار پٹیل اور اُس وقت کے آر ایس ایس چیف گروجی کی معاونت سے کشمیر میں مسلمان فوجیوں اور پولیس کے ملازمین سے ہتھیار واپس لے کر کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کا بازرا گرم کر کے بیشتر کشمیریوں کو پاکستان کی جان دھکیلنے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ جموں و کشمیر کی مسلمان اکثریت پاکستان کیساتھ الحاق کو منطقی انجام تنہ پہنچا سکے۔چنانچہ بھارتی فوج نے کشمیر میں داخل ہوکر کشمیریوں کے قتل عام کے ذریعے جس دہشت گردی کا مظاہرہ کیا اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کر کے کشمیریوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور کیا ۔اُس کی مثال کشمیر کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
حقیقت یہی ہے کہ اس قتلِ عام کو ممکن بنانے کے لئے سابق وائسرائے ہند ماؤنٹ بیٹن جو بھارت کے گورنر جنرل کے طور پر کام کر رہے تھے نے جواہر لال نہرو کے اِشارے پرہوائی جہازوں کے ذریعے کشمیر میں فوجیں اُتارنے کے احکامات جاری کئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں حالت جنگ کا اعلان کئے بغیر ماؤنٹ بیٹن کے حکم پر تمام بھارتی مسافر بردار ہوائی جہازوں کو ہنگامی بنیادوں پر مسافروں کو ہوائی اڈوں پر چھوڑ کر کشمیر میں فوجی کمک پہچانے کے کام پر لگا دیا گیا جبکہ مسافروں کو منزلِ مقصود پر پہنچانے کی ذمہ داری برطانوی ائیر لائن کے چارٹرڈ طیاروں کے سپرد کی گئی۔ اس اقدام سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ماؤنٹ بیٹن اور جواہر لال نہرو کے گٹھ جوڑ اور سازشی عمل کا ریاست جموں و کشمیر کے بھارت کیساتھ عارضی الحاق میں کس حد تک دخل تھا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے بھارت کا گورنر جنرل بننے کیلئے کشمیر میں بھارتی مفادات کا تحفظ کرنے کی نیت سے برطانوی وائسرائے ہند کے طور پر 18 تا 20 جون 1947 میں کشمیر کا دورہ کیا تھا اور مہاراجہ کشمیر سے ملاقات کے دوران اُنہیں الحاق کشمیر کے حوالے سے کانگریسی لیڈروں کے تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔ماؤنٹ بیٹن نے مہاراجہ کشمیر کو اُن کے وزیر اعظم رام چندر کاک ، جو نہرو سے بات چیت کے مخالف تھے، کے حوالے سے انتہا پسند بھارتی لیڈر سردار پٹیل کے دھمکی آمیز پیغام سے بھی آگاہ کیا تھا کہ اگر مہاراجہ نے رام چندر کاک کی مشاورت پر پاکستان کے ساتھ کشمیر کے الحاق کا فیصلہ کیا تو اِسے بھارتی حکومت ایک غیر دوستانہ فعل سمجھے گی۔ماؤنٹ بیٹن نے مہاراجہ پر زور دیا کہ وہ صورتِ حال کو جوں کی توں رکھنے کے لئے دونوں مما لک کے ساتھ تقسیم ہند سے قبل stand still معا ہدے پر زور دے۔
مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ کشمیر ایک مسلمان اکثریتی ریاست ہے اور ریاست کی مسلمان آبادی پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش مند ہے۔ اس لئے مہاراجہ نے ماؤنٹ بیٹن کی سازشوں کا شکار ہو کر پاکستان کے ساتھ ریاست جموں و کشمیر کے فطری الحاق کے آپشن کو گنوا دیا اور اسی کوشش میں انہوں نے ریاستی ڈوگرہ ملیشیا کی طاقت کو کشمیری مسلمانوں کے خلاف بے دریغ استعمال کیا۔سردار پٹیل نے کشمیر میں بدامنی کی صورتحال سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھارتی انتہا پسند ہندو دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (RSS ) کے ہزاروں دہشت گر دوں کو سکھ انتہا پسند جتھوں کے ہمراہ کشمیر میں داخل کیا جنہوں نے مہاراجہ کشمیر کی ہمدوری حاصل کرنے کیلئے ڈوگرہ فوج کے ساتھ مل کر کشمیریوں کا قتلِ عام کیا ۔ اِسی اثنا میں ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم رام چندر کاک کو کشمیر کی وزارت عظمئ سے ہٹا دیا گیا اور کشمیر کی باگ دوڑ انتہا پسندوں کے ہاتھ میں چلی گئی چنانچہ ایک منصوبے کے تحت بالاآخر مہاراجہ کشمیر کی جموں و کشمیر کو آزاد ملک بننے کی خواہشیں ناکام ہوئیں اور اُنہیں یرغمال بنا کر ریاست جموں کشمیر کے بھارت کیساتھ عارضی الحاق کی دستاویز پر دستخط کرنے پر مجبور کر دیا گیا ۔ حقیقت یہی ہے کہ نہرو ، ماؤنٹ بیٹن سازش کے باعث کشمیر میں بھارتی فوجی مداخلت کو دھویں کے بادلوں میں چھپایا گیا تھا اور دوسری جانب ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے پاکستان کے سابق برطانوی آرمی چیف جنرل گریسی کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ پاکستان کی جانب سے قائداعظم کی ہدایت پر کشمیر میں فوج بھیجنے کی مخالفت کرے چنانچہ ایساہی ہوا ۔ بھارتی حکومت کا کہنا تھا کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے 24 اکتوبر کو افغان قبائل کے سری نگر کے مضافات میں پہنچتے ہی بھارتی حکومت سے فوجی مدد کی درخواست کی تھی جسکی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوتی کیونکہ قبائلی لشکر تو 26 اکتوبر تک کشمیری مسلمانوں کے قتل عام کو روکنے کیلئے بظاہر بارہ مولا کے مضافات تک ہی پہنچ پائے تھے ۔
خود مہاراجہ کے صاحبزادے کرن سنگھ نے اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ مہاراجہ نے سالانہ دربار پروگرام کے مطابق 24 اکتوبر کو دریائے جہلم کے کنارے سری نگر کے شہری محل میں ہی منعقد کیا تھا۔ جبکہ ماؤنٹ بیٹن کے پریس سیکریٹری ایلن کیمبل جانسن نے اپنی کتاب مشن ود ماؤنٹ بیٹن میں لکھا ہے کہ 24 اکتوبر کی رات ماؤنٹ بیٹن تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ کے اعزاز میں ایک سرکاری ڈنر میں مصروف تھے جب نہرو نے اُنہیں بتایا کہ افغان قبائیل نے سری نگر پر حملہ کر دیا ہے ۔ اگلے دن صبح یعنی (25 اکتوبر) نئی دہلی میں کیبنٹ ڈیفنس کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں کشمیر میں فوری فوجی امداد بھجنے کی بات کی گئی جس کی مہاراجہ کی جانب سے کوئی درخواست نہیں کی گئی تھی۔ ماؤنٹ بیٹن نے مشورہ دیا کہ ایسا کرنے سے پاکستان بھی کشمیر میں فوجی مداخلت کریگا اور دونوں ملکوں کے مابین جنگ چھڑ جائے گی اس لئے پہلے کشمیر کے عارضی الحاق کی بات کی جائے۔ دریں اثنا یہ فیصلہ کیا گیا کہ و ی۔پی۔ مینن کو حالات کا جائزہ لینے کیلئے بذریعہ طیارہ سری نگر بھیجا جائے۔مینن 25 اکتوبر کو سری نگر پہنچ کر مہاراجہ کو حالات سے بے پرواہ پاتے ہیں ۔ مینن نے مہاراجہ کے بھارتی حمایت یافتہ نئے وزیر اعظم مہر چند مہاجن سے ملاقات کی اور مہاراجہ کو سری نگر چھوڑ کر جموں جانے کا مشورہ دیا جسے پس و پیش کے بعد تسلیم کر لیا گیا۔ مہاراجہ کی بذریعہ روڈ جموں کیلئے روانگی کے بعد مینن مہاراجہ کے وزیر اعظم مہاجن کے ہمراہ بذریعہ طیارہ نئی دہلی پہنچے اور صورت حال کی وضاحت کی۔ ماؤنٹ بیٹن کے مشورے پر مینن کو مہاجن کے ہمراہ دوبارہ مہاراجہ سے ملنے بذریعہ طیارہ جموں بھیجا گیا۔ مہاراجہ جو 26 اکتوبر کو رات گئے جموں پہنچے تھے سے مینن کی ملاقات معنی خیز تھی کیونکہ مینن نے RSS کے انتہا پسند مسلح دہشت گردوں کے چیف گروجی کی موجودگی میں دہلی سے لائی ہوئی الحاق کی دستاویز پر مہاراجہ سے دستخط کرائے جس پر مہاراجہ نے سرینگر میں دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔دوسرے تبدیل شدہ خط میں مہاراجہ سے بظاہر عارضی الحاقِ کشمیر کی درخواست پر دستخط کرائے گئے جس میں مینن نے بعد میں فوری فوجی امداد کی اضافت کی۔ چنانچہ دباؤ کی بنیاد پر حاصل کی گئی اسی دستاویزات کی بنیاد پر ہی ماؤنٹ بیٹن نے بھارت کے ساتھ کشمیر کے عارضی الحاق کا اعلا ن کیا اور بھارتی فوجی مداخلت کو جائز قرار دینے کیلئے ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے اس درخواست پر لکھا گیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ریاست میں امن قائم ہونے کے بعد کشمیری عوام کی رائے سے کیا جائے گالیکن کشمیر میں اقوام متحدہ کی قرادادوں میں رائے شماری کے ذریعے کشمیر کے الحاق کا فیصلہ کرنے کے باوجود آج تک ایسا نہیں کیا گیا۔
اس اَمر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تقسیمِ ہند سے قبل مہاراجہ اور نہرو کے مابین خو شگوار تعلقات قائم نہیں ہو سکے تھے کیونکہ مہاراجہ ہری سنگھ اُس وقت بھارت سے کشمیر کا الحاق کرنے کے بجائے ایک خود مختار کشمیر کے لئے کام کر رہے تھے۔ مہاراجہ کے سابق وزیر اعظم رام چندر کاک کے نہرو سے کشیدہ تعلقات تھے۔ مأونٹ بیٹن نے تقسیم ہند سے قبل مہاراجہ سے وائسرائے کی حیثیت سے ملاقات کی تھی لیکن مہاراجہ یا کاک جواہر لال نہرو سے ملاقات پر تیار نہیں تھے۔ لہذا ماؤنٹ بیٹن نے مہاراجہ کو رام کرنے کے لئے گاندھی جی کی عوامی شہرت کو استعمال کیا۔ تقسیم ہند سے قبل یکم تا چھ اگست ، گاندہی جی کے دورہء کشمیر کا انتظام کیا گیا۔ ان دنوں قائد اعظم بھی کشمیر کا دورہ کرنا چاہتے تھے لیکن ماؤنٹ بیٹن نے اُنہیں کشمیر کے دورہ کی اجازت نہیں دی۔ گاندھی جی نے دورہء کشمیر سے قبل نہرو اور سردار پٹیل سے مشاورت کی۔ دونوں لیڈروں کا خیال تھا کہ کشمیر کو بھارت میں شامل کرنے کے لئے رام چندر کاک کو مہاراجہ کے وزیر اعظم کی اہم پوسٹ سے ہٹانا ضروری ہے۔ اس سازش کا تذکرہ رام چندر کاک کی برطانوی بیوی مارگریٹ کاک نے مورخہ 16 اکتوبر 1948 کو سر اسٹیفورڈ کرپس کے نام اپنے ایک کانفیڈنشل خط میں کیا ہے۔سرکاری ریکارڈ میں اس خط کے بیس پیرا گراف میں سے گیارہ پیراگرافس حذف کر دیئے گئے ہیں۔جو پیرا گرافس ریکارڈ کا حصہ ہیں اُن کے مطابق مارگریٹ کہتی ہیں کہ اُن کے شوہر پنڈت کاک کو مستعفی ہونے پر دو گروہوں نے مجبورکیا اور دونوں کا مقصد یہ تھا کہ کاک کو وزیر اعظم کشمیر کے عہدے سے ہٹا کراُن کی جگہ ایسے شخص کو لانا جس پر دباؤ چل سکتا ہو ا ور ان میں اہم گرو پ سردار پٹیل حمایت یافتہ RSS کا گروجی گروپ تھا جو کشمیر کی بھارت میں فوری شمولیت کا خواہاں تھا۔
یہ درست ہے کہ گاندھی جی نے اپنے دورۂ کشمیر کے دوران مسلم اکثریتی کشمیریوں کی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا تھا کہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کشمیری عوام کی رائے سے ہو گا لیکن یہ بیان سیاسی نوعیت کا تھا جس میں گاندہی جی کے کشمیر کے دورے کے اصل مقاصد کو دھویں کے بادلوں میں چھپانے کی کوشش کی گئی تھی۔ چنانچہ گاندھی جی کی مہا راجہ کشمیر سے ملاقات کے کچھ دنوں کے بعد ہی رام چندر کاک کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور اُن کی جگہ کانگریس حمایت یافتہ مہر چند مہاجن کو لایا گیا جنہوں نے مینن کے ساتھ مل کر بلا آخر بھارت کے ساتھ کشمیر کے نام نہاد عارضی الحاق کو ممکن بنوایا۔دراصل بھارت کے ساتھ الحاقِ کشمیر کی داستان ایک دھوکہ بازی تھی۔ ایک طرف تو یہ دعوی کہ کشمیری عوام بھارت کے ساتھ ہیں اور دوسری جا نب 27 اکتوبر کوکشمیری عوام کے بنیادی حقوق سلب کر کے ہوائی اور زمینی راستوں سے کشمیر میں بتدریج ایک لاکھ بھارتی فوج داخل کر دی گئی جبکہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ برقرار رکھنے کی غرض سے ریاست جموں کشمیر میں بھارتی ا فو اج کی یہ تعداد چھ لاکھ تک پہنچا دی گئی تھی اور موجودی نریندرا مودی دور بھارتی فوجوں کی تعداد سات لاکھ سے بھی بڑھا دی گئی ہے لیکن کشمیریوں کے جذبہ ء حریت کو ختم نہیں کیا جا سکاہے ۔ کشمیری عوام آج بھی اپنے حق خودارادیت اور رائے شماری کے ذریعے کشمیر کے پاکستان کیساتھ الحاق کیلئے نہ صرف پُرجوش ہیں بلکہ غیر معمولی قربانیں دے رہے ہیں ۔ حقیقت یہی ہے کہ کشمیریوں کے دل آج بھی بھارتی مودی سرکار کیساتھ نہیں بلکہ پاکستان کیساتھ دھڑکتے ہیں اور یہی جذبہ پاکستانیوں کو کشمیریوں کیساتھ یکجہتی کی لڑی میں پروئے ہوئے ہے جسے 5 فروری کو دنیا بھر میں پاکستانی کشمیریوں کیساتھ یکجہتی کے دن کے طور پر منا تے ہیں ۔

99
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...