صدر پاکستان جناب عارف علوی نے صدارتی نوٹیفکیشن کے ذریعے سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جناب آصف سعید کھوسہ کو چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائز کر دیا ہے جو 18 جنوری 2019 کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔ یہ اَمر اپنی جگہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستانی جوڈیشل تاریخ میں ایک مدت کے بعد قومی اور بین الاقوامی عدالتی فلسفے پر گہری نگاہ رکھنے کے علاوہ آئینی و قانونی امور پر مکمل عبور رکھنے والی شخصیت پاکستان کے چیف جسٹس کے اہم عہدے پر فائز ہونے جا رہی ہے ۔ وہ پاکستان میں اور بیرون ملک شاندار تعلیمی تدریسی ریکارڈ کے حامل ہیں ۔ تدریسی ریکارڈ کے علاوہ اُنہیں اِس اَمر کا اعزاز بھی حاصل ہے کہ اُنہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے آنرایبل جج ہونے کے ناتے این آر او کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ وہ قومی اور بین الاقوامی آئینی و قانونی امور کے حوالے سے اہم کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں جنگ و امن ، فوجی کشمکش ، سول آزادی، آئینی و اخلاقی سبق آموز حکایات اور اداروں سے متعلقہ حوالے سے قوانین شامل ہیں۔اُنہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی لٹریچر میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعدبرطانیہ میں قانون کے تعلیم ادارے کیمبرج کوئینز کالج سے ماسٹرز آف لأ کی ڈگری حاصل کی چنانچہ وہ قانون اور انگریزی لیٹریچر کی تعلیم کے حوالے سے وسیع تر فضیلت رکھنے والی واحد پاکستانی علمی شخصیت ہیں جنہیں قائداعظم کی شہرت یافتہ بیرسٹری کی تعلیمی ڈگری لینے والی لنکنز اِن کی آنرایبل سوسائیٹی آف لنکنز اِن لندن بار نے خطاب کیلئے دعوت دی تھی۔ یہ درست ہے کہ جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ ایک ایسے وقت پاکستان کے چیف جسٹس بننے جا رہے ہیں جب عوامی اور سیاسی حلقوں میں موجودہ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کے حوالے سے جوڈیشل ایکٹیوازم کے تیز تر ہونے کی گفتگو کی جا رہی ہے۔
درج بالا تناطر میں اِس اَمر کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ پاکستانی آئین کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان خود تو قوانین نہیں بنا سکتی ہے لیکن پارلیمنٹ اور حکومت کے بنائے ہوئے تمام قوانین اور آئینی ترامیم کو آئین کیمطابق ریویو کرنے کا آئینی حق رکھتی ہے لیکن حیران کن بات ہے کہ یوں تو ازخود نوٹس لینے کے حوالے سے محترم جناب چیف جسٹس آف پاکستان نے ہر سیاسی اور غیر سیاسی معاملے پر اصلاحِ احوال کیلئے تو کافی وقت صرف کیا ہے لیکن عوامی اور پارلیمانی بحث مباحثے کے بغیر اَٹھارویں ترمیم کے حوالے سے آئین میں لائی گئی اہم ترامیم بل خصوص تعلیم کے شعبے کو وفاق سے نکال کر صوبوں کے حوالے کرنا شامل ہے پرعدالت عظمیٰ کی جانب سے ، آئینی ریویو ، تاحال سامنے نہیں آیا ہے ۔ پاکستان کی حالیہ جوڈیشل تاریخ میںیوں تو ریاستی نظام عدل کی فعالیت میں بظاہر سیاسی سرگرمی سے حصہ لینے کے حوالے سے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جرأت انکار کے سبب ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلئے وکلاء کی تحریک اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے ۔ گو کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وکلاء کی تحریک کو مہمیز تو ضرور دی لیکن بعد میں اِس تحریک پر سیاسی جماعتوں نے غلبہ حاصل کر لیا چنانچہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ کچھ سیاسی جماعتوں اور چند ریاستی اداروں کی جانب سے جناب افتخار محمد چوہدری کے قریبی رشتہ داروں پر کرپشن کے حوالے سے تنقید کے باعث جناب افتخار چوہدری کی جانب سے بنائی جانے والی سیاسی جماعت پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کو عوام الناس میں یاسی طور پر وہ پزیرائی نہیں مل سکی جس کے وہ حق دار تھے چنانچہ جرأت انکار کی تحریک بتدریج پس منظر میں چلی گئی ہے۔ اِسی طرح جوڈیشل ایکٹیوازم یا نظام عدلیہ کی فعالیت کے حوالے سے ملک میں ڈیم بنانے کیلئے قومی سطح پر فنڈز جمع کرنے کیلئے موجودہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی تحریک اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے جس نے عوام الناس میں کافی پزیرائی حاصل کی ہے اور ایک لمبی مدت کے بعد ملک میں ڈیم بنانے کی تحریک نے زور پکڑ لیا ہے ۔ البتہ جناب ثاقب نثار نے جب ملک میں ڈیم بنانے کی تحریک سے ہٹ کر جب ملک کے اہم سیاسی معاملات میں اصلاح احوال کیلئے بیشمار از خود نوٹس لیا تو سیاسی جماعتوں اور میڈیا نے بھی عدالتی آبزرویشن سے اپنے اپنے معنی بھی اخذ کرنے شروع کر دئیے۔ کیونکہ ہائی پروفائل مقدمات میں عدالتی آبزرویشن کی میڈیا میں اشاعت کو روکنے کی مقدور بھر کوشش نہیں کی گئی جس کے سبب نہ صرف عوام الناس میں بلکہ ریاستی اداروں میں بھی بے چینی کی کیفیت ضرور پیدا ہوئی ہے ۔ متعدد مقدمات میں عدالتی آبزرویشن پر اگر ریاستی اداروں نے ایکشن لینا شروع کیا تو بہت سے معاملات میں اگر مگر کی کیفیت بھی سامنے آنی شروع ہو گئی اور محترم چیف جسٹس کو متعدد مرتبہ ریاستی اداروں کی گوشمالی کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ اُن کا مطلب یہ نہیں تھا جس پر اداروں نے اُن کے مفاہیم سے آگے بڑھ کر ایکشن لئے ہیں۔
اندریں حالات ، اب چونکہ جناب آصف سعید کھوسہ صاحب ملک کے نئے چیف جسٹس بننے جا رہے ہیں لہذا اُن کیلئے چارج چھوڑنے والے چیف جسٹس سے ورثہ میں ملنے والے قانونی مسائل یقیناًگھمبیر ہونگے ۔البتہ یہ اَمر خوش آئند ہے کہ جناب آصف سعید کھوسہ آئینی و قانونی امور پر دسترس رکھنے کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں جج کی حیثیت سے مقدمات کو تعطل میں ڈالنے کے بجائے تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ کیسوں کا فیصلہ کر چکے ہیں لہذا وہ کسی ریاستی یا سیاسی شخصیت کو مقدمات کو التوا میں ڈال کر ٹائم بارڈ کرنے کی اجازت نہیں دینگے بلکہ مقدمات کو میرٹ پر دیکھتے ہوئے التوا میں موجود مقدمات پر فیصلے کرنے کیساتھ ساتھ ، ماتحت عدالتوں پر بھی زور دینگے کہ وہ مقدمات کو التوا میں ڈالنے کے بجائے فیصلے کرنے پر توجہ مرکوز رکھیں۔ قرائین یہی کہتے ہیں کہ جناب آصف سعید کھوسہ انسانی حقوق ، عوامی مفاد عامہ اور قومی سلامتی کے امور پر سیاسی موشگافیوں کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ کرنے اور ملزمان کو خلاف قانون کوئی ریلیف دینے کے بجائے میرٹ پر مقدمات کے فیصلے کرنے کو ترجیح دینگے۔ از خود نوٹس لینے کے بجائے نئے چیف جسٹس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انتہائی ضروری ازخود نوٹس لیکر اُن پر میرٹ پر فوری فیصلہ دینے کے علاوہ ماتحٹ ججوں اور ماتحت عدلیہ سے بھی توقعات رکیں گے کہ وہ مقدمات کو التوا میں ڈالنے کے بجائے میرٹ پر نمٹانے کیلئے اپنی بہترین صلاحیتوں کو استعمال کریں اور وقت پر مقدمات کا فیصلہ کریں۔ قومی اور ریاستی سطح پر جناب آصف سعید کھوسہ ، فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی ، فیڈرل شریعت کورٹ بنچ ، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اور سپریم جوڈیشل کونسل سے وابستہ رہنے کے حوالے سے قومی سلامتی، ریاستی اور عوامی مفاد عامہ پر دسترس رکھتے ہیں لہذا اُنہیں عدالتی فلسفے کیمطابق قومی زندگی میں اصلاح احوال اورعدل و انصاف کے حوالے چھوٹے بڑے کی تمیز رکھے بغیر آئین و قانون کیمطابق فیصلے کرنے سے کوئی سیاسی جماعت یا ریاستی ادارہ دباؤ میں نہیں لا سکتا ۔ اللہ پاکستان کا حافظ و ناصر ہو۔

132
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...