پاکستان کی سیاسی تاریخ میں راولپنڈی میں جلسہ عام سے خطاب کرنے والے پہلے وزیراعظم قائد ملت لیاقت علی خان کا 16 اکتوبر 1951کو لیاقت باغ کے جلسہ عام میں دن دھاڑے قتل کے بعد اِسی لیاقت باغ میں عام انتخابات سے قبل جلسہ عام سے خطاب کرنے کے بعد 27 دسمبر 2007 کو سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی بظاہر دہشت گردی کے المناک واقعہ میں شہادت کو گیارا برس گزرنے کے باوجود ابھی تک قاتلوں کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔ محترمہ شہید کے قتل کے میں جو تازہ ترین مبینہ شہادتیں سامنے آئی ہیں اُن میں بے نظیر بھٹو کے بیرون ملک معتمد خاص مارک سیگل جو بے نظیر بھٹو کی کتاب مفاہمت (Reconciliation) شائع کرنے کے پروجیکٹ پر بھی کام کرتے رہے ہیں جو محترمہ کی شہادت کے فوراً بعد مارک سیگل کی ادارت میں ہی شائع ہوئی تھی ۔ البتہ یہ اِمر حیران کن ہے کہ مارک سیگل کا بیان سابق صدر زرداری کے دورِ حکومت میں قلم بند کرنے کے بجائے محترمہ کے قتل کے تقریباً آٹھ برس کے بعد میاں نواز شریف کی حکومت کے دوران مارک سیگل کا بیان اہم گواہ کے طور پر ویڈیو لنگ بیان کے ذریعے قلم بند کیا گیا جس میں محترمہ کے قتل پر سابق صد پرویز مشرف کے حوالے سے کچھ نئے الزامات سامنے آئیں ہیں۔ مارک سیگل کے بیان کے بعد میڈیا اطلاعات کیمطابق میاں نواز شریف کے معتمد خاص نجم سیٹھی نے بھی کچھ ایسے حقائق یا مفروضات کا تذکرہ کیا ہے جس سے محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے مقدمہ قتل میں کچھ اور پیچیدگیاں سامنے آئی ہیں۔
مارک سیگل کے بیان میں صدر مشرف کی جانب سے بے نظیر بھٹو کو دی جانے ولی مبینہ دھمکیوں پر نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ محترمہ کے قتل کے حوالے سے چار افراد کی گواہی سامنے آنی ضروری ہے جس میں پرویز مشرف، دوسرے وہ خود اور دیگر صحافی جن کی محترمہ سے پاکستان آمد کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہی ہے ، تیسرے مارک سیگل جن کا بیان قلم بند ہو چکا ہے اور چوتھے امریکی مصنف ران سسکائنڈ” ۔ اِسی حوالے سے نجم سیٹھی محترمہ بے نظیر بھٹو کی امریکہ سے آنے والی ایک حیران کن ٹیلی فون کال کا تذکرہ بھی کرتے ہیں جس میں پاکستان آنے سے قبل محترمہ بے نظیر بھٹو، نجم سیٹھی کی رائے جاننا چاہتی تھیں کہ کیا وہ اپنی ذاتی سیکورٹی کے حوالے سے مشرف پر بھروسہ کر سکتی ہیں یا نہیں لیکن نجم سیٹھی کے جواب دینے سے قبل ہی محترمہ کے شوہر آصف علی زرداری نے محترمہ سے فون چھین کر کہا کہ سیٹھی تم اُنہیں کیا مشورہ دو گے ، تم اُنہیں وہ مشورہ دو جو میں اُنہیں دے رہا ہوں اور وہ یہ کہ مشرف پر بالکل اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور مجھے خطرہ ہے کہ اُن کی جان خطرے میں ہوگی، یہ اُس وقت زرداری صاحب کے لفظ تھے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ورثہ کی مالک اور دو مرتبہ وزیراعظم کے منصب پر فائز رہنے والی خاتون وزیراعظم کی سیٹھی صاحب سے اہم موضوع پر ہونے والی گفتگو کے دوران ٹیلی فون چھین کر اِس قسم کے الفاظ استعمال کئے جائیں، ناقابل فہم بات ہے۔ بہرحال اگر یہ الفاظ زرداری صاحب نے ادا کئے تھے تو کیا زرداری صاحب جانتے تھے کہ بے نظیر بھٹو کو پاکستان پہنچنے پر قتل کر دیا جائیگا یا یہ کہ وہ بے نظیر بھٹو کو پاکستان جانے سے روک کر خود پیپلز پارٹی کی قیادت کرنا چاہتے تھے جس کیلئے اُنہوں نے محترمہ کے پاکستان آنے سے چند برس قبل بظاہر سابق صدر مشرف سے ڈیل کرنے کیلئے آڈیالہ جیل سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے جیل اور مقدمات سے اپنی رہائی کیلئے محترمہ بے نظیر بھٹو سے کیلی فورنیا میں دس برس کیلئے سیاست سے علیحدہ رہنے کی درخواست کی تھی جس کا تذکرہ محترمہ نے اپنی کتاب مفاہمت بھی کیا ہے جبکہ بعد میں سابق صدر مشرف نے بے نظیر بھٹو کی مبینہ ڈیل کی مخالفت کے باوجود آصف علی زرداری کو رہا کر ہی دیا تھا ۔چنانچہ محترمہ کے المناک قتل کے بعد زرداری صاحب جو چند گھنٹوں کے اندر ہی محترمہ بے نظیر بھٹو کی وصیت کے ہمراہ پاکستان تشریف لے آئے تھے جس میں محترمہ نے اپنے بعد اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کو پیپلز پارٹی کی صدارت کیلئے نامزد کیا تھا، زرداری صاحب نے موقع محل دیکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کے طور پر پارٹی کیا قیادت سنبھال لی اور ہمدردی کے ووٹ کی بنا پر وفاق اور صوبہ سندھ میں حکومت قائم کرلی اور سابق صدر مشرف کے منصب صدارت سے مستعفی ہونے پر صدر مملکت کے عہدے پر انتخاب جیت کر فائز ہوگئے۔ نجم سیٹھی نے جن دیگر افراد کی اہم گواہی کا تذکرہ کیا ہے اُس پر تو آگے چل کر گفتگو ہوگی لہذا یہ دیکھنا چاہیے کہ محترمہ کے کراچی پہنچنے پر کیا صورتحال درپیش آئی۔
اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان آمد سے قبل ہی اُن کی ذاتی سیکیورٹی کے حوالے سے بہت سے خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے ۔ میڈیا ذرائع کیمطابق آصف علی زرداری کی جانب سے مبینہ طور پر یہ کہا گیا ہے کہ وہ محترمہ کی کراچی آمد پر استقبال اور انتخابی مہم میں سیکیورٹی کے حوالے سے کچھ گاڑیوں کیلئے جیمرز اور چند ایک بلٹ پروف گاڑیاں کراچی بھیجنا چاہتے تھے لیکن حکومت نے اِس کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر نہیں کی اور کہا گیا کہ حکومت خود یہ سہولتیں بہم پہنچائے گی لیکن جب اِن سہولتوں کو بہم پہنچانے کا وقت آیا تو حکومت نے سیکیورٹی کے مناسب انتظامات سے بھی پہلوتہی کرنے سے گریز نہیں کیا جبکہ حکومت کی جانب سے اِس اَمر کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے کہ زرداری صاحب جیمرز یا کچھ اور بلٹ پروف گاڑیاں بھیجنا چاہتے تھے ۔ بہرحال یہ اَمر اپنی جگہ اہم ہے جس کی تصدیق میڈیا اطلاعات سے بھی ہوتی ہے کہ جنرل مشرف کچھ خدشات کی بنیاد پر چاہتے تھے کہ محترمہ انتخابات سے قبل پاکستان تشریف نہ لائیں۔ لہذا جب محترمہ نے صدر مشرف کی توقعات کے برخلاف پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تو اُن کی آمد سے قبل صدر مشرف کی جانب سے اُنہیں یہی پیغامات بھیجے گئے کہ ملک میں دہشت گردی کا خطرہ ہے لہذا، اُن کی آمد پر کوئی جلسہ جلوس نہیں ہونا چاہیے اور وہ ائیرپورٹ سے بذریعہ ہیلی کوپٹر سیدھی بلاول ہاؤس جائیں ۔کیا سابق صدر مشرف کو کراچی میں بی بی کے جلوس پر حملے کی انٹیلی جنس اطلاعات موجود تھیں جس کی بنیاد پر اُنہوں نے بی بی کو جلوس ملتوی کرکے بلاول ہاؤس جانے کا مشورہ دیا تھا؟ کیا سابق پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کو محترمہ کے پاکستان آنے پر کچھ مشترکہ خدشات تھے، کیونکہ محترمہ کی کراچی آمد پر اُن کا جلوس بدترین دہشت گردی کا شکار ہواجس میں سینکڑوں افراد مارے گئے لیکن محترمہ کے اپنی سیکریٹری ناہید خان کیساتھ ٹرک کے سیف روم میں مزار قائد پر تقریر کی ریہرسل کیلئے چلے جانے کے باعث محترمہ اور ناہید خان کی جان دہشت گردی کی اِس واردات میں محفوظ رہی۔
حیرت اِس بات پر ہوتی ہے کہ کراچی میں نہ مکمل سیکیورٹی انتظامات کے نتیجے میں دہشت گردی سے پہنچنے والے بدترین جانی نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے راولپنڈی کی لیاقت باغ ریلی میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے فول پروف سیکیورٹی کیلئے حکومت نے کیا انتظامات کئے تھے ؟ لیاقت باغ میں سیکیورٹی کے انتظامات کو اِس لئے بھی مزید بڑھانے کی ضرورت تھی کیونکہ محترمہ ایک ہائی سیکیورٹی شخصیت یعنی افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد اِس جلسے سے خطاب کرنے کیلئے تشریف لارہی تھیں۔ فی الحقیقت موقع پر موجود لوگ اور لائیو ٹیلی ویژن فوٹیج یہی کہتی ہیں کہ جب محترمہ لیاقت باغ ریلی سے خطاب کرنے کیلئے تشریف لائیں تو مناسب سیکیورٹی موقع پر موجود تھی لیکن جب ریلی سے خطاب کرنے کے بعد اُن کی واپسی ہوئی تو مناسب سیکیورٹی انتظامات موجود نہیں تھے، یہاں تک کہ پستول بردار اور چادر پوش دہشت گرد اُنکی گاڑی کی نزدیک ترین پوزیشن پر پہنچنے میں کامیاب رہے کیونکہ اُنہیں روکنے والا VIP سیکیورٹی دائرہ اپنی جگہ موجود نہیں تھا ۔ مشرف اور اُن کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائیزر اُس وقت راولپنڈی میں ہی موجود تھے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیکیورٹی کے حوالے سے صورتحال کو مانیٹر نہ کر رہے ہوں چنانچہ اِس مرحلے پر بی بی کے سیکیورٹی ایڈوائزر رحمن ملک کا موقع واردات کو چھوڑ کر چلے جانا بھی صورتحال کی کی پیچیدگی کو ہی ظاہر کرتا ہے ۔ بلاشبہ چند حلقوں اور میڈیا کی جانب سے یہ خدشات بھی ظاہر کئے جاتے رہے کہ محترمہ کو لیزر گن کے جدید ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا تھا اور پستول بردار دہشت گردوں کی کاروائی محض خانہ پوری کیلئے تھی ؟ جہاں یہ حکومتی سیکیورٹی کی حد درجہ ناکامی تھی وہاںیہ اَمر بھی غورطلب ہے کہ کراچی کے تلخ تجربے کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کے سیکیورٹی ایڈوائزر رحمن ملک نے نہ تو نامکمل سیکیورٹی کا نوٹس لینے کی زحمت گوارا کی بلکہ وہ خود بھی محترمہ کی سیکیورٹی کیلئے مخصوص بلٹ پروف بیک اَپ سپورٹ گاڑی محترمہ کی گاڑی کی روانگی سے قبل ہی اُن کے سیکیورٹی دائرے سے باہر نکال کر تیزی سے بلاول ہاؤس اسلام آباد کیلئے روانہ ہوگئے جس کا نوٹس اقوام متحدہ انکوائری کمیشن نے بھی اپنی پورٹ میں لیا ہے۔
فی الحقیقت، محترمہ بے نظیر بھٹو کی المناک شہادت نے مغربی دنیا کو بھی ہلا کر رکھ دیا تھا۔ سابق امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی خبر سن کر سکتے میں آ گئی تھیں، اُنہوں نے اپنی کتاب (نو ہایئر آنر)میں لکھا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو ایک بہادر خاتون تھیں ۔ اُن کی شہادت پر میں نے اپنے آپ کو خالی خالی اور شدید صدمے میں محسوس کیا ۔ بے نظیر بھٹو کی موت پاکستان اور امریکا کیلئے بہت ہی بُری خبر تھی اور میرے لئے ذاتی جھٹکا تھا۔میں نے بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی کیلئے مدد کی تھی اور مجھے اُمید تھی کہ وہ پاکستان کو مشکل بحران سے نکال لیں گی لیکن میں نے اُن کی موت کے بعد محسوس کیا کہ پاکستان نے جمہوریت اور متوازن پاکستان کیلئے ایک اور موقع گنوا دیا ہے۔بے نظیر بھٹو نے خود اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب سابق صدر مشرف سے ڈائیلاگ شروع ہوا تو اُنہوں نے ہر مرحلے پر لندن اور واشنگٹن کو صورتحال سے باخبر رکھاکیونکہ یہی دو ممالک لندن اور واشنگٹن صدر مشرف کے بڑے حمایتی تھے چنانچہ جمہوریت کی آواز کو بلند کرنے کیلئے اِن دونوں ممالک کی حمایت لازمی تھی۔ بے نظیر بھٹو اِس اَمر سے خوب واقف تھیں کہ اُن کی جلاوطنی کے دوران جنرل پرویز مشرف کے زیرِ سایہ منعقد ہونے والے 2002 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن ہارس ٹریڈنگ، دھونس دھاندلی اور ریاستی جبر کیساتھ پیپلز پارٹی کو اقتدار میں آنے سے روک دیا گیا تھا ؟ محترمہ نے اپنی کتاب میں اِس اَمر کا تذکرہ بھی کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم کو کہا گیا تھا کہ وہ دس ارکانِ قومی اسمبلی کو ساتھ لے آئیں تو اُنہیں وزیراعظم بنا دیا جائے گا لیکن اُنہوں نے بے وفائی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ چنانچہ مخدوم امین فہیم کی جانب سے مایوس ہونے کے بعد سابق صدر مشرف یہ جانتے ہوئے کہ شہید محترمہ ہی وہ واحد لیڈر ہیں جو بین الاقوامی طور پر صدر مشرف کو بے معنی بنا سکتی ہیں چنانچہ اِسی حوالے اُن کی ٹیم نے مبینہ طور پر آڈیالہ جیل میں موجود آصف علی زرداری سے سزا اور مقدمات ختم کرنے کے حوالے سے سیاسی ڈیل کے عوض محترمہ بے نظیر بھٹو کو بظاہر دس برس کیلئے سیاست سے علیحدہ ہونے کا عندیہ دیا تھا جسے بے نظیر بھٹو نے مسترد کر دیا تھا۔ یہی قیاس کیا جاتا ہے کہ زرداری صاحب مشرف کی ڈیل سے متفق تھے چنانچہ بعد میں اُنہیں بے نظیر سے ڈیل کئے بغیر ہی قید سے رہا کر دیا گیا تھا۔
حیران کن بات ہے کہ ایک ایسے وقت جب بے نظیر بھٹو پاکستان آنے کیلئے امریکہ کے اہم ممبران سینیٹ اور وزرا سے بات چیت کے پروسس میں تھیں جناب آصف علی زرداری نے ایسے اہم موقع پر بھی اپنی بے حکمتی سے صورتحال میں بگاڑ پیدا کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔2007 میں پاکستان واپسی سے قبل امریکا میں اہم سینیٹرز کی جانب سے دئیے گئے ڈنر میں اُن کی پاکستان واپسی پر سیکیورٹی میں دلچسپی لینے پر جب بے نظیر بھٹو اِن امریکی ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کر رہی تھیں تو تیسری ڈنر ٹیبل پر بیٹھے ہوئے آصف علی زرداری نے مداخلت کرتے ہوئے بظاہر احمقانہ طور پر بلند آواز میں کہا ” میں نے آٹھ برس جیل میں گزارے ہیں اوربے نظیر میری رہائی کیلئے جد و جہد کرتی رہی ہیں، اب جیل جانے کی باری بے نظیر بھٹو کی ہے جبکہ میں بی بی کی رہائی کیلئے جنگ کرکے شہرت حاصل کرونگا۔ بہرحال بی بی نے اپنے شوہر کی اِس بے حکمتی پر شائستگی سے جواب دیا ہاں آصف اب میری باری ہے ، اِس اَمر کا تذکرہ ران سسکائنڈ نے اپنی کتاب (دی وئے آف دی ورلڈ) میں بخوبی کیا ہے۔ اِس سے قبل ایسی ہی حماقت کا مظاہرہ زرداری صاحب نے اُس وقت کیا تھا جب نجم سیٹھی کیمطابق محترمہ بے نظیر بھٹو نے اُن سے ٹیلی فون پر رائے معلوم کرنے کی کوشش کی تھی کہ کیا وہ مشرف کی سیکورٹی پر یقین کر سکتی ہیں اور زرداری صاحب نے فون چھین کر نجم سیٹھی کو کہا تھا کہ اگر وہ مشرف پر یقین کرکے پاکستان گئیں تو یا تو اُنہیں مار دیا جائیگا یا گرفتار کر لیا جائیگا۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان آنے پر بے نظیر بھٹو کوو گرفتار کرکے لاہور میں نظر بند بھی کیا گیا اور بل آخر راولپنڈی میں جلسہ عام کے بعد دہشت گردی کی واردات میں اُنہیں جان سے مار دیا گیا لیکن سوال یہی ہے کہ آصف علی زرداری کو اِس حقیقت کا قبل از وقت علم کس طرح ہوا تھا۔ کیا زرداری صاحب ہر قیمت پر بے نظیر بھٹو کو پاکستان آنے سے روکنا چاہتے تھے اور کیا یہ باتیں اُن کے علم میں اُس وقت آئیں تھیں جب وہ آڈیالہ جیل میں مشرف کی ٹیم سے ڈیل کرنے میں مصروف تھے جسے بے نظیر بھٹو نے مسترد کر دیا تھا۔
کراچی اور راولپنڈی کی دہشتگردی کی وارداتوں نے بہت سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے جن کا احاطہ اقوام متحدہ انکوائری کمیشن نے بھی کیا تھا ۔ اِن میں کچھ اہم سوالات شہید محترمہ نے خود اپنی کتاب میں بھی اُٹھائے ہیں ، کراچی ریلی کے دوران رات کے وقت سٹریٹ لائٹس کو کیوں جلایا بجھایا جا رہا تھا اور جلوس کے راستے میں وقوعہ کی جگہ کچھ خالی گاڑیاں کیوں پارک کی گئیں تھیں۔کراچی ریلی کے دوران لائیو ٹیلی ویژن کوریج کا جائزہ لینے کے بعد یہی حقیقت سامنے آئی تھی کہ محترمہ کے ٹرک کو نہ بم دھماکوں کا نشانہ بنایا گیاتھا بلکہ فائرنگ بھی کی گئی تھی جس میں بہت سے بے گناہ انسان چشم زدن میں ختم ہوگئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے ۔ پاکستان میں محترمہ کے استقبال کی لائیو کوریج دنیا بھر میں دیکھی جا رہی تھی لیکن صد افسوس کہ بی بی کے سیکورٹی ایڈوائر جناب رحمن ملک سیکیورٹی کی سنگین صورتحال پر صدر پرویز مشرف کے سیکیورٹی ایڈوائیزر طارق عزیز سے رابطہ کرنے میں ناکام رہے ۔ حیرت ہے کہ جب بی بی کو لاہور میں نظر بند کیا گیا تو سینکڑوں سیکیورٹی اہلکار بی بی کے قرب و جوار میں موجود تھے لیکن کراچی میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے راولپنڈی لیاقت باغ ریلی میں سیکیورٹی انتظامات میں بہتری لانے کے بجائے کم تر سیکیورٹی موجود تھی جبکہ لیاقت باغ میں سیکیورٹی کے انتظامات کو اِس لئے بھی مزید بڑھانے کی ضرورت تھی کیونکہ محترمہ ایک ہائی سیکیورٹی شخصیت یعنی افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد اِس جلسے سے خطاب کرنے کیلئے تشریف لائی تھیں۔ حیرت ہے کہ جب محترمہ لیاقت باغ ریلی سے خطاب کرنے کیلئے تشریف لائیں تو مناسب سیکیورٹی اُن کے ہمراہ تھی لیکن جب ریلی سے خطاب کرنے کے بعد اُن کی واپسی ہوئی تو سیکیورٹی انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے۔ چنانچہ پستول بردار اور چادر پوش دہشت گرد اُنکی گاڑی کی نزدیک ترین پوزیشن پر پہنچنے میں کامیاب رہے کیونکہ اُنہیں روکنے والا VIP سیکیورٹی دائرہ اپنی جگہ موجود نہیں تھا ۔یہ اَمر بھی غورطلب ہے کہ بی بی کے سیکورٹی ایڈوائزر رحمن ملک جو بی بی کی گاڑی کو لیڈ کرکے لیاقت باغ آئے تھے وہ بی بی کی گاڑی کو متبادل روٹ سے واپس لے جانے کے بجائے بی بی کی بیک اَپ سپورٹ گاڑی بی بی کے اپنی گاڑی میں بیٹھنے سے قبل ہی تیزی سے نکال کر موقع واردات سے رخصت ہوگئے اور نہ ہی خودکش دھماکے کے بعد اُنہوں نے زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا بی بی کی خیریت دریافت کرنے کی کوشش کی بلکہ بلاول ہاؤس اسلام آباد پہنچ گئے۔ اقوام متحدہ کمشین رپورٹ نے بھی اِسے بی بی کی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی غیر ذمہ داری سے تعبیر کیا ہے۔
یہ اَمر بھی مد نظر رہے کہ بی بی پاکستان واپس آئیں تو زرداری صاحب نے ہی اپنے خاص سیکیورٹی گارڈ خالد شہنشاہ کو بی بی کے ذاتی گارڈ کے طور پر مقرر کیا تھا جبکہ راولپنڈی کے جلسہ عام میں اِسی سیکیورٹی گارڈ کو بی بی کی تقریر ختم ہونے سے قبل گلہ کاٹنے کے حیران کن اشارے کرتے ہوئے دیکھا گیا جسے بعد میں اقوام متحدہ انکوائری کمیشن میں پیش ہونے سے قبل ہی کراچی میں بلاول ہاؤس کے نزدیک قتل کر دیا گیا۔ یہ بھی ایک حیران کن اَمر ہے کہ بی بی کے قتل کے بعد زرداری صاحب بظاہر چند گھنٹوں کے اندر ہی پاکستان پہنچ گئے اور پیپلز پارٹی کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں سنبھالتے ہی بی بی کے قریبی ساتھیوں بشمول اُن کی سیکریٹری ناہید خان اور لاڑکانہ سے منتخب ہونے والے اُن کے شوہر ڈاکٹر صفدر صاحب کیساتھ ساتھ بی بی کے متعددوفاداروں کو پارٹی سے سائیڈ لائین کردیا۔ مشہور سنیئر صحافی ذاہد حسین نے بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی کے حوالے سے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بی بی نے اپنے دوستوں اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ زرداری صاحب کی سیاست میں واپسی نہیں چاہتی ہیں اور اُن کی پاکستان موجودگی میں سیاست میں زرداری صاحب کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ حقیقت یہی ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے شوہر آصف علی زرداری کو دبئی میں بچوں کی دیکھ بھال کیلئے چھوڑ پاکستان واپس آئیں تھیں اور ملک میں ہونے والے انتخابات میں کسی حلقے سے زرداری صاحب کو عام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے پارٹی ٹکٹ بھی نہیں دیا تھا جبکہ محترمہ نے اپنی وصیت میں اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کو ہی پیپلز پارٹی کا چیئرمین نامزد کیا تھا لیکن عبوری مدت کیلئے زرداری صاحب نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کے طور پر نہ صرف پارٹی کو سنھبال لیا بلکہ بی بی کی شہادت کے بعد ہمدردی کے ووٹ کی بناہ پر ملک میں اقتدار کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوگئے۔بی بی کی شہادت کے حوالے سے پرویز مشرف کا یہ کہنا کہ بی بی کے موبائل فون کا ریکارڈ صاف کرنے کے دو برس کے بعد انکوائری ٹیم کے حوالے کیا گیا جبکہ اُنہوں نے بی بی کے مبینہ قاتل محسود سے زرداری صاحب کے تعلق ہونے کا اشارہ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے ۔ البتہ حقیقت کیا ہے یہ اَمر ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے ۔ کیا پرویز مشرف اور زرداری صاحب کے درمیان کوئی سیاسی ہم آہنگی موجود تھی یا نہیں اِس کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وقت ہی بی بی کے قتل سے پردہ اُٹھا سکتا ہے ۔ بی بی کے قتل کے بارے میں اگر کچھ کہا جا سکتا ہے تو وہ بقول شاعر یہی ہے کہ۔۔۔۔۔۔
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے !

83
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...