گزشتہ ماہ مسلح دہشت گردوں کی جانب سے چینی قونصل خانے کراچی پر حملہ کیا گیا لیکن پاکستانی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی جان پر کھیل کر ناکام بنایا ہے جسے حالیہ دور میں سفارتی علاقے کی ایک بڑی دہشت گردی میں شمار کیا جا سکتا ہے البتہ جس کے ناپاک اہداف حاصل کرنے میں دہشت گرد ناکام رہے۔ ابتدائی تحقیقات کیمطابق تینوں دہشت گرد تین کلو گرام دھماکہ خیز مواد کے علاوہ ڈرائی بیٹری، ہینڈ گرینیڈ، چار ڈیٹونیٹر اور کیمیکل سے بھری بوتلوں سے مسلح تھے اور بظاہر چینی قونصل خانے کو بارود سے اُڑا کر آگ لگانے کے ناپاک مشن پر بھیجے گئے تھے۔ زمینی شہادتوں کیمطابق قیاس کیا جا رہا ہے کہ اِن دہشت گردوں کو تخریب کاری کے ذریعے نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی کی آڑ میں بھارتی ایجنسی را اور اسرائیلی ایجنسی موساد کے تعاون سے سی آئی اے کنٹریکٹ ایجنسی بلیک واٹر آرمی نے بھرتی کرکے تربیت کیلئے بھارتی را کے حوالے کر دیا تھا۔ مبینہ طور پر اِس نوعیت کے دہشت گردوں کو افغانستان اور اومان میں قائم بھارتی اور اسرائیلی خفیہ ٹھکانوں سے نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی کے حوالے سے کنٹرول کیا جاتا ہے ۔درحقیقت بھارتی، اسرائیلی اور امریکی ایجنسیاں پاکستان چین تجارتی کوریڈور یعنی سی پیک منصوبے کو نہ صرف خطے میں بھارت، اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ مفادات کے خلاف سمجھتی ہیں بلکہ پاکستان کے جوہری پروگرام کو بھی اسرائیل اور بھارتی مفادات کیلئے سم قاتل جانتی ہیں۔ اسرائیلی ایجنسیوں کیلئے پاکستانی جوہری پروگرام نا قابل قبول ہے جس کے بارے میں اسرائیلی تھنک ٹینک خیال کرتے ہیں کہ پاکستانی ایٹم بم ، اسلامی بم بن کر تاریخ کے کسی بھی دوہرائے پر اسرائیل کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ پاکستانی ایٹمی بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا ہے کہ بھارتی ایٹم بم خطے میں پاکستان کی سلامتی کے خلاف جارحیت کی نشانی بن کر سامنے آیاتھا جبکہ پاکستانی ایٹم بم خطے میں پُرامن بقائے باہمی کی علامت کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے بھارتی بالا دستی اور جارحیت پسندی کے خلاف خطے میں ایک بڑی رکاوٹ قائم کردی ہے۔ چنانچہ اسرائیلی ایجنسیاں بھارتی ایجنسیوں کیساتھ مل کر نہ صرف پاکستان کے جوہری پروگرام پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ پاکستان میں اندرونی خلفشار پیدا کرنے کیلئے مبینہ طور پر بھارتی ایجنسیوں کی کھلم کھلا حمایت کر رہی ہیں ۔
کیا اسرائیلی ایجنسی موساد ، سی آئی اے حمایت یافتہ بلیک واٹر آرمی اور بھارتی ایجنسی راء پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو امریکی مدد سے کیپ کرنے کیلئے موقع کی تلاش میں نہیں ہیں؟ کیا خلیج کے عین منہ پر سی پیک تجارتی منصوبے کی شکل میں امریکا کو خلیج میں نام نہاد معاشی خدشات درپیش ہیں ؟ حققت یہی ہے کہ اصل مسئلہ خطے میں پاکستان چین تجارتی مفادات کا نہیں بلکہ امریکی بالا دستی کا ہی ہے۔ کیونکہ جب سابق کیمونسٹ سوویت یونین نے افغانستان پر فوجی قبضہ کیا تو امریکہ نے محسوس کیا کہ مکران کوسٹ کے گرم پانیوں تک سابق سوویت یونین کا پہنچنا خلیج میں امریکی تجارتی مفادات کیلئے سم قاتل ثابت ہوسکتا ہے چنانچہ امریکا نے خلیج کی عرب طاقتوں اور پاکستان کیساتھ مل کر افغان جہاد کے ذریعے نہ صرف سوویت یونین کو افغانستان سے نکال باہر کیا بلکہ سوویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد امریکا نے واحد گلوبل طاقت کی شکل اختیار کرلی اور نائین الیون کے بعد پاکستان اور خلیج کے ملکوں پر دباؤ کا حربہ استعمال کرکے یورپی نیٹو اتحاد کی مدد سے سوویت یونین کی جگہ افغانستان پر خود قابض ہوگیا۔ بہرحال خطے میں سامراجی عزائم کی تکمیل کیلئے امریکا نے پاکستان اور خلیجی عرب ملکوں پر دباؤ کی احمقانہ پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے خطے کی معروضی اور زمینی حقیقتوں کو نظر انداز کر کے ایک بڑی غلطی یہ کی ہے کہ افغانستان میں شفاف جمہوریت بحال کرنے اور افغان جہاد کے حامیوں کو نئی عمل داری میں شریک کرنے کے بجائے بھارت کیساتھ مشترکہ دفاعی و سیکیورٹی معاہدے کے تحت پاکستان کی خدمات کو پس پشت ڈالتے ہوئے افغانستان کی اکثریتی پشتون قوم اور ڈیورنڈ لائین پر آباد پاکستانی پشتونوں کے حقوق کو صریحاً نظر انداز کرکے شمالی اتحاد اور بھارت کے درمیان اتحاد بنا کر افغانستان میں سیاسی اور سماجی کردار بھارت کے حوالے کر دیا ہے۔ جسے بھارت تا حال موثر طور پر ادا کرنے میں ناکامی کا شکار ہے۔
درج بالا تناظر میں اہم سوال یہی ہے کہ کیا امریکا نے افغان جہاد میں کامیابی کے بعد خطے کے تمدنی اور سیاسی حالات کا درست طور پر تجزیہ کیا تھا یا محض سامراجی پالیسی کو ہی اپنا نصب العین بنا لیا تھا ؟ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کیونکہ امریکا نے اسرائیلی اور بھارتی تھنک ٹینکس کی خطے میں تہذیبی جنگ کی چکاچوند پیدا کرنے کی پالیسی کو بغیر سوچے سمجھے اختیار کرتے ہوئے خطے کے حقائق اور افغانستان کی تمدنی و تہذیبی فکر کو قطعی طور پر پس پشت ڈاتے ہوئے بھارت کو افغانستان میں وہ رول دے دیا جس کی وہ کبھی توقع نہیں کرتا تھا۔جبکہ افغان جہاد اور نائین الیون کے بعد جنرل پرویز مشرف کی جانب سے امریکا کو دی جانے والی غیر مشروط اور غیر معمولی سہولتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے جس کے ذریعے ہی امریکا نے افغانستان پر امریکا نیٹو اتحاد کے ناممکن قبضے کو ممکن بنایا تھاکے عمل کو بھی نظر انداز کر دیا گیا ۔ چنانچہ امریکا نیٹو اتحاد نے افغانستان میں بھارت کی سماجی و سیاسی قوت کا غلط اندازا لگاتے ہوئے افغانستان کی سیاسی اور جغرافیائی دلدل میں اپنے آپ کو اِس حد تک پھنسا لیا ہے کہ امریکی حمایت یافتہ مقامی حکومتیں بھارتی تربیت کے باوجود اتنی زیادہ غیر مستحکم ہو چکی ہیں کہ امریکا کو اقتدار منتقل کرکے افغانستان سے باوقار طور پر واپس جانا بھی ایک مشکل تر اَمر بن گیا ہے۔
سوال یہی ہے کہ امریکا نے بھارت کو افغانستان میں اتنا بڑا سیاسی و سماجی رول دیتے وقت خطے کا تمدنی و تہذیبی جائزہ باریک بینی سے کرنے کے بجائے اپنے آپ کو خطے کی ہندو مسلم تہذیبی جنگ کا حصہ بننے پر ہی کیوں اکتفا کیا۔ تقسیم ہند کے موقع پر سابق صوبہ سرحد میں بھارت یا پاکستان میں شامل ہونے کے حوالے سے ہونے والے ریفرنڈم سے قبل جبکہ صوبہ سرحد میں ہندو کانگریس پارٹی خدائی خدمتگار پارٹی کیساتھ مل کر حکومت کر رہی تھی برطانوی وائسرائے کونسل کے عبوری وزیراعظم جو بھارتی ہندو کانگریس کے صدر بھی تھے، جواہر لال نہرو نے ڈیورنڈ لائین کے قبائلی علاقوں کا دورہ کیا تھا جہاں بیشتر قبائلی علاقوں میں پشتون جرگوں نے جواہر لال نہرو کی تقریر سننے سے انکار کر دیا تھا۔ اِس ناکام دورے سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ افغانستان کی بیشتر قومیتیں ہندو کی غلامی کو برداشت کرنے کیلئے کسی طورتیار نہیں تھیں تو افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے پر بھارتی اہلکاروں کیساتھ مضبوط سماجی و سیاسی تعاون کیسے ممکن ہو سکتا تھا جبکہ بھارت نے تو کٹ پتلی افغان سیاسی لیڈروں کو تو محض اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتے ہوئے افغانستان کے معدنی وسائل کو بھارت کیلئے حاصل کرنے پر ہی زور دیا جس میں افغانستان میں دنیا دوسرے بڑے لوہے کے ذخائر کی پہاڑیوں کے تین چوتھائی حصے کو بھارت کا اونے پونے داموں خرید لینا شامل ہے۔ اندریں حالات ، افغانستان جسے ماضی میں بیشتر مواقع پر بل خصوص مسلم دور ارتقا میں برصغیر ہندوستان میں حاکمیت قائم کرنے کیلئے نہ صرف ہندو ریاستوں اور ہندو راجوں مہاراجوں سے خونریز جنگیں کرنی پڑیں بلکہ اِسی دوران مسلم علماء و مشائخ کے ہاتھوں تقریباً پانچ کروڑ سے زیادہ ہندو اسلام کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہوئے حلقہ اسلام میں بھی داخل ہوئے تو حالیہ دور میں یہ کیونکر ممکن تھا کہ افغان عوام افغانستان میں بھارت کے سیاسی اور سماجی رول کو تسلیم کرکے ہندو امریکا غلامی کو اپنے گلے کا ہار بنا لیتے۔ چنانچہ افغان عوام بھارت جس کا افغانستان سے کوئی سرحدی رشتہ بھی قائم نہیں ہے کیونکر بھارتی امن کی آشا کو قبول کر لیتے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا بھارت، امریکا اور اسرائیل بین الاقوامی معاہدوں کے تحت دو آزاد و خودمختار ملکوں پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی سی پیک معاہدے کو اپنے معاشی مفادات کے مخالف گردانتے ہوئے دہشت گردی کے ذریعے کیسے ختم کر سکتے ہیں جبکہ پاکستانی عوام اپنی قومی سلامتی کیلئے پہلے ہی ستر ہزار سے زیادہ جانیں قربان کر چکے ہیں چنانچہ پاکستانی قوم سی پیک کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔
اندریں حالات ، امریکا، بھارت نواز بین الاقوامی ایجنسیوں کی پاکستان اور بل خصوص بلوچستان اور کراچی میں غیر سفارتی سرگرمیوں کے پس منظر میں چینی قونصل خانہ کراچی پر ہونے والے حملے میں اِس اَمر کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ پاکستان چین اقتصادی کوریڈور یعنی سی پیک منصوبے کے حوالے سے اہم پارٹنر عوامی جمہوریہ چین کی بے مثال کوششوں سے گوادر پورٹ کی تجارتی اہمیت ایک بین الاقوامی تجارتی روٹ کی حیثیت سے حقیقت کا روپ دھارتی جا رہی ہے جس میں اب سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک بھی سرمایہ لگانے کیلئے سامنے آ رہے ہیں ۔ البتہ امریکی حمایت یافتہ بھارت ایران چاہ بہار تجارتی منصوبہ خطے میں متبادل تجارتی روٹ کی حیثیت سے افغانستان اور وسط ایشیائی ملکوں میں بھی تاحال خدشات کا شکار ہے جبکہ سی پیک منصوبے کو وسط ایشائی ممالک سے لیکر روس تک پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے بلکہ یورپ اور برطانیہ میں بھی سی پیک منصوبے میں فراہم کی گئی تجارتی سہولتوں کو مثبت انداز سے دیکھا جا رہا ہے ۔ چنانچہ یہی وہ سیاسی چبھن ہے جسے بھارت ، اسرائیل و امریکا تکون جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں اپنے سیاسی و معاشی مفادات کے برعکس سمجھتے ہوئے بلوچستان اور کراچی میں نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی اور کنٹریکٹ دہشت گرد ایجنسیوں کے ذریعے سی پیک منصوبے کی اہمیت کم کرنے کیلئے ملک میں اندرونی خلفشار پھیلانے میں پیش پیش ہیں اور چینی قونصل خانے پر حملہ اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
درج بالا تناظر میں امریکا ، اسرائیل و بھارت کی حمایت سے نہ صرف بلوچستان کی نام نہاد آزادی کی جدوجہد کے نام پر فنڈز جمع کئے جا رہے ہیں جن کا بیشتر حصہ پاکستان بل خصوص بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کو جنم دینے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے بلکہ اسرائیل میں گریٹر بلوچستان تحریک کے حامی میر آزاد خان بلوچ کی سرکردگی میں میں نام نہاد آزاد بلوچستان کا دفتر یروشلم میں قائم کیا گیاہے ۔ اگر گزشتہ عشرے میں بلوچ دہشت گردوں کی سیاسی و معاشی سپورٹ کے حوالے سے بیرونی صورتحال کا ایک غیر جانبدار جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ پاکستان مخالف مخصوص مفادات کے پیش نظر امریکاو اسرائیلی ایجنسیوں اور بھارتی سفارتی مشن کی مدد سے امریکہ میں احمد مستی خان بلوچ کی قیادت میں بلوچ یہودی ہندو اتحاد قائم کیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹر واحد بخش بلوچ امریکا میں ہندو ، یہودی کمیونٹی کی مدد سے بلوچستان کی نام نہاد آزادی کی تحریک کیلئے کام کر رہے ہیں جسے امریکا میں حق خوداختیاری کے تھنک ٹینک کے سربراہ والٹر لینڈری اور بھارتی راء کے سفارتی افسران و ریسرچ سکالرزپر مثتمل ساؤتھ ایشین ہندو تھنک ٹینک کی حمایت حاصل ہے اور جو ایک منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں بلوچ شدت پسندی کو اُبھارنے میں پیش پیش ہیں۔ گو کہ پاکستان خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پُر جوش ہے اور جس کیلئے پاکستان فوج ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ پاکستانی عوام نے بھی ستر ہزار سے زیادہ افراد کی قربانی پیش کی ہے جسے دنیا مانتی بھی ہے لیکن امریکہ بھارت ا سرائیل اتحاد خطے میں اپنے مذموم سامراجی عزائم کی تکمیل کیلئے پاکستان پر امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی پالیس پر بدستور قائم ہیں جسے گزشتہ دس برس میں بل خصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے دور میں معذرت آمیز پالیسی اختیار کئے جانے کے باعث فروغ حاصل ہوتا رہا ہے۔ البتہ ملک میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے قیام کے بعد اُس وقت تبدیلی کی فضا دیکھنے میں جب موجودہ وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بھارت نواز بیانات کے بعد امریکہ کو صاف طور پر بتا دیا کہ موجودہ حکومت اب کسی بیرونی ملک کے جنگی عزائم کا حصہ نہیں بنے گی بلکہ پاکستان کے مفاد کیلئے کام کریگی۔یہی فکر صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات کے جواب میں پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر باجوہ اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیانات سے بھی جھلکتی ہے۔
حیرت ہے کہ خطے میں امن و امان اور جنوبی ایشیا کی اقوام کے درمیان امن و بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے کیلئے پاکستان کی زبردست کوششوں کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی بدستور پاکستان کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈے کو مہمیز دینے میں مصرف ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ یقیناًمبارک باد کے مستحق ہیں کہ اُنہوں نے امریکہ بھارت دفاعی و سیکورٹی اتحاد کی موجودگی میں پاکستان مخالف مذموم پروپیگنڈے کے باوجود ہمسایہ ممالک کی اقوام کے درمیان دوستی اور امن و امان کی پالیسی کو فروغ دینے کی کوششوں کوجاری رکھا ہے چنانچہ سکھ قوم کے متبرک تاریخی مقام گردوارہ بابا گرونانک کو نہ صرف 72 برس کے بعدکھول دیا ہے بلکہ بھارتی سکھ یاتریوں کی سہولت کیلئے کرتارپور سرحد سے چند کلو میٹر کی دوری پر گردوارہ بابا گرونانک تک پہنچنے کیلئے سڑک و ریل کی سہولتیں مہیا کرنے اور یاتریوں کے ٹھہرنے کیلئے ایک جدید ہوسٹل بنانے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ یقیناًحکومت پاکستان کا یہ اقدام خطے کی مذہبی قوتوں کے درمیان بھائی چارے کے جذبات کو تقویت پہنچانے کیلئے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ البتہ پاکستان کیلئے پریشان کن بات یہی ہے کہ ماضی میں جنرل مشرف حکومت کی جانب سے افغانستان میں امریکا نیٹو اتحاد کی مدد کئے جانے کے باوجود امریکا ، اسرائیل اور بھارت خطے میں ایک گریٹر گیم پلان کے ذریعے افغانستان اور بھات کو مضبوط تر اور پاکستان کو اندرونی خلفشار میں مبتلا دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ پاکستان خطے میں پُر امن بقائے باہمی کے تحت امن و استحکام قائم کرنے کا حامی ہے؟
خطے میں پاکستان کی امن کی خواہش کے جواب میں بھارت کا رویہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف جنگی جنون پر مبنی لگتا ہے جس کی تصدیق بھارتی آرمی چیف کے سرحد پار حملے کرنے کے متعدد دھمکی آمیز بیانات اور کشمیر کنٹرول لائین کی ایک تسلسل سے خلاف ورزی سے بھی ہوتی ہے جبکہ بھارت میں 2014 کے عام انتخابات سے قبل راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (RSS) کے چیف ڈاکٹر موہن بھگوت، سنگھ پریوار کی تمام جماعتوں کے اشتراک عمل سے ماضی میں کہہ چکے تھے کہ انتخابات کے بعد نریندر مودی کے وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کی صورت میں بھارت ماتا کے سیکولر کردار کو حقیقی معنوں میں ہندو ریاست میں تبدیل کر دیا جائیگا ۔ چنانچہ مودی سرکار کے قیام کے بعد آر ایس ایس کی فکر کو آگے بڑھانے کیلئے بھارت میں مسلمانوں عیسائیوں اور دلتوں کے خلاف تعصب کی آگ کو اسقدر پھیلایا گیا ہے کہ ہندو انتہا پسند سنگھ پریوار کے عسکریت پسند گروپوں نے بھارتی پولیس کی خاموش حمایت سے مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے کے ناکردہ جرم میں اُن کے گھروں کے دروازوں پر تشدد کرکے موت کے گھاٹ اُتارنے سے بھی گریز نہیں کیا جبکہ اِسی شدت پسندانہ سلوک کا مستحق عیسائی مشنری کی ٹیموں ، پادریوں اورد لتوں کو سمجھا جا رہا ہے ۔ اِسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ بھارتی فوج کی مدد سے شیو سینا، بجرنگ دل، ویشوا ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے متعصب انتہا پسند ہندو گروپ، شدت پسندی کی اِسی آگ کو مقبوضہ کشمیر کے طول و ارض میں پھیلانے میں بھی پیش پیش ہیں ۔ بھارتی مسلمان جو اپنی مذہبی رسومات چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ بھارت چھوڑ کر پاکستان چلے جائیں جبکہ مسلم دانشوروں کو کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ بھارت میں رہنا چاہتے ہیں تو وہ ہندوازم سے اپنے روابط استوار کریں اور اسلامی اصطلاح استعمال کرنے کے بجائے بھارتی تہذیب کیمطابق ہندو بھارت میں اپنے آپ کو محمڈن ہندو کہلوائیں ۔ حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے والے بھارتی مسلما ن سیاسی رہنما اکبرا لدین اویسی نے اِس اَمر کی تصدیق کی ہے کہ بھارتی انتہا پسند ہندو تواتر سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ مسلمان ہیں تو پھر وہ پاکستان چلے جائیں ۔ اِسی فکر کے تحت نریندرا مودی حکومت ایک مرتبہ پھر انتخابات 2019 کی الیکشن مہم جوئی میں پاکستان کے خلاف مذموم پروپیگنڈے میں مصروف ہے حتیٰ کہ کرتار پور سرحد کھولنے کی تقریب میں بھی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے نہ صرف پاکستان آنے سے گریز کیا بلکہ ایک مرتبہ پھر اعلان کر دیا کہ بھارت پاکستان میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کریگا جس سے بھارت کے خطے میں مذموم عزائم کا بخوبی ادراک ہوتا ہے۔
صد افسوس کہ پاکستان کی جانب سے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی پالیسی کو فروغ دینے کی بہترین کوششیں کئے جانے کے باوجود جنوبی ایشیا میں امریکا، بھارت ، اسرائیل اتحاد بھارت کو خطے پر مسلط کرنے اور پاکستان کو بھارت کی طفیلی ریاست بنانے میں مذموم کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں۔ بھارت نے نریندرا مودی کی قیادت میں سابق وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی فیملی سے دوستی کا لبادہ اُوڑھ کر اینٹی پاکستان فکر کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا اور جناح و اقبال کی اسلامی تمدن کی فکر کو بھی ہندوازم میں جذب کرنے کیلئے پر تولتا رہا ہے۔چنانچہ پاکستان میں گزشتہ عشرے کی جمہوری حکومتوں نے صورتحال کی نزاکت کو سمجھنے اور فکرِ جناح و اقبال کو وفاق اور صوبائی سطح پر متحرک کرنے کے بجائے پاکستان میں نئی نسل کے طلبأ و طالبات کو دین اسلام اور تحریک پاکستان سے نابلد رکھنے کیلئے اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں مغربی سیکولرازم کو تقویت پہنچانے کیلئے تبدیلی کی ابتدا کی گئی جسے مملکت خدادداد پاکستان کی سلامتی کے منافی ہی سمجھا جانا چاہیے۔ البتہ عمران خان کی نئی وفاقی حکومت کے آنے کے بعد عوام کو یقین ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نہ صرف جناح و اقبال کی فکرِ اسلامی کو آگے بڑھانے میں موثر کردار ادا کریگی بلکہ چین پاکستان سی پیک منصوبے کے خلاف بھارتی تخریب کاری کا بھی موثر تدارک کرتی رہیگی کیونکہ سی پیک منصوبہ ہی پاکستان کی معاشی ترقی کا ضامن ہے ۔

11
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...