ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آج کل دنیا ا ین جی اوز کی زد میں ہے خاص کرترقی پذیر ممالک۔ اور یوں لگتا ہے یہ این جی اوز ملکوں کی قسمت بدل رہے ہوں، عوام کے مسائل حل کر رہے ہوں اور کم از کم ان کے ٹارگٹ علاقے جنت بن چکے ہوں، ہر ایک کو صاف پانی مہیا ہو چکا ہو ، اچھے سکول سب کو نصیب ہو چکے ہوں اورمعاشرتی برائیوں کا خاتمہ ہو چکا ہو ۔ یہ این جی اوز روز نئے نئے تعلیمی، معاشی،اقتصادی اور معاشرتی نظریے پیش کرتے ہیں اور یہی ان کا روز گار ہے کہ آج ایک کل دوسرا معیار پیش کریں اور ہر نئے پیمانے پر نئے فنڈز حاصل کریں۔ان کے مطابق تو یہ افریقہ کے بھوکے عوام کے لیے اتنا کام کر چکے ہیں کہ وہ امریکہ اور یورپ کے برابرا آکر کھڑا ہو چکا ہے ہر ایک کو علاج معالجہ ، پانی ،خوراک سب میسر ہے مگر ہے پھر بھی ایسا کہ افریقہ کے عوام آج بھی پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں ،کھانے کا نوالہ آج بھی اُن کے لیے نایاب ہے، تعلیم آ ج بھی ان کی پہنچ سے دور ہے اور دنیا کو یہ بتایا جارہا ہے کہ این جی اوز کو ان ہی کی فکر سے نیند نہیں آتی ترقی یافتہ دنیا کا یہ طبقہ انہی کے غم میں مبتلاء ہے۔ یہی حال ان این جی اوز کا ہمارے ملک میں ہے ان کا مقصد ہمارے مسائل کا حل نہیں کیونکہ اگر یہ مسائل سچ مچ حل ہو گئے تو یہ کس چیز کی آڑ لے کر ہمارے ملک آسکیں گے اور کیسے فنڈز کے حصول کے ساتھ ساتھ اپنے خفیہ ایجنڈوں پر کام کر سکیں گے کیونکہ اب ان این جی اوز نے اپنا دائرہ کار فلاحی کاموں سے بڑھا کر جاسوسی تک پہنچا دیا ہے۔ بہت سارے آئی این جی اوز یہی ایجنڈا لے کر ترقی پذیر ملکوں میں آتے ہیں اور حالات میں سدھار کی بجائے بگاڑ کا ذریعہ ہی بنتے ہیں۔ بظاہر ہماری فکر میں مبتلاء یہ ادارے ہماری سیکیورٹی اور ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرتی رسم ورواج میں دراڑیں ڈالنے کے مجرم بھی پائے گئے۔فرقہ واریت کے طوفان کے پیچھے ایسے ہی خفیہ ہاتھ کار فرما ہیں اور یہ ایجنڈا اس رازداری سے پورا کیا جاتا ہے اور اس کے لیے ایسے ایسے طریقے آزمائے جاتے ہیں کہ بے روزگاری کے مارے ہوئے اِن تنظیموں میں دن رات کام کرنے والے اپنے لوگ بھی اس سے بے خبر رہتے ہیں ۔انہیں اپنے روزگار اور تنخواہ سے سروکار ہوتا ہے جس کے لیے وہ ایسے ایسے سروے کرتے ہیں جو ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور نتائج اپنے من پسند طریقے کے مطابق شائع کر دیے جاتے ہیں اس کے لیے بھی انتہائی مجبور بستیوں کا رُخ کیا جاتا ہے اور اُن کی مجبوریوں کو کیش کیا جاتا ہے ۔ ایسے این جی اوز ہمارے ملک میں تھوک کے حساب سے پائے جاتے ہیں جو مختلف اوقات میں ہمارے ملک میں در آئے ہیں ۔افغانستان پر روسی اور امریکی حملے اور افغان مہاجرین کی پاکستان آمد، 2005 کا شدید زلزلہ اور کئی دیگر مواقعے پر اِن این جی اوز نے فلاحی کاموں کے لیے یا فلاحی کاموں کی آڑ لے کر پاکستان کا رُخ کیا اور کوئی مناسب قانون سازی نہ ہونے کے باعث بِلا کسی روک ٹوک کے آتی رہیں، 2015 تک کوئی قانون سازی نہ ہونے کے باعث ایسا ہوتا رہا تاہم2015میں این جی اوپالیسی بننے کے بعد اِن سے رجسٹریشن کے لیے کہا گیا جس کے نتیجے میں ایسے 145 تنظیموں نے خود کو رجسٹر کرانے کے لیے وزارتِ داخلہ کو درخواست دی ۔تحقیق وتفتیش کے دوران پتہ چلا کہ ترسٹھ این جی اوزایسی تھیں جو ملکی سلامتی کے خلاف کام کرتی رہی تھیں اور اسی بنا پر اِن کو زیر نگرانی رکھا گیا ۔مختلف وزارتوں اور حساس اداروں نے اپنی رپورٹیں پیش کیں جن کی بنا پر وزارتِ داخلہ نے 49 این جی اوز کو نومبر2017 اور اگست2018 میں نوٹس جاری کیے اور انہیں پاکستان میں اپنے منصوبے بند کرنے کا حکم دیا ان میں اٹھارہ این جی اوز نے اس حکم کے خلاف اپیل کی،جنہیں اپنی صفائی کا پورا موقع دیا گیا لیکن اس معاملے کی چھان بین کے لیے مقرر کردہ کمیٹی نے متفقہ طور پر ان کے موقف کو رد کیااور 2 اکتوبر2018 کو انہیں آخری فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ وہ معاملات اور منصوبے سمیٹ کر پاکستان چھوڑ دیںیہ سب کچھ کرنے کے لیے انہیں دومہینے کا وقت دیا گیا ہے اور انہیں یہ موقع بھی دیا گیا کہ چھ ماہ بعد وہ نئے ایم او یو کے تحت رجسٹریشن کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ یہ تو وہ این جی اوز ہیں جنہوں نے خود کو رجسٹرکیا یا کرانے کی کوشش کی جبکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چالیس این جی اوز ایسی ہیں جنہوں نے رجسٹریشن کرانے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی ہے لیکن وہ ملک کے اندر کام کر رہی ہیں۔ یہاں اپنے اداروں کی کمزوری بھی ماننا پڑے گی خاص کروزارت داخلہ اور خفیہ اداروں کی جنہوں نے ایسی تنظیموں کو اپنے ملک میں کام شروع کرنے دیا اگر یہ کہا جائے کہ اُن کی پکڑتو ہو چکی ہے تو بات یہ ہے کہ انہیں ملک کے خلاف کچھ بھی کام کرنے کا موقع کیوں دیا گیا پہلے ہی دن سے آنکھیں کیوں نہ کھلی رکھی گئی کہ کسی کو جرات ہی نہ ہوتی مگر اب وزارات داخلہ کا جلد ہی قانونی چارہ جوئی کرنے کا ارادہ ہے۔ اب بھی اگر دنیا کو یہ یاد کرا دیا جائے کہ ہر کسی کو ہمارے ملک میں خیرات کے نام پر اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تو زیادہ خرابی سے بچا جا سکتا ہے ویسے بھی اپنے عوام کو خود انحصاری کی عادت ڈالنے کی ضرورت ہے نہ کہ ہر کام کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنے کی ، ہاں جو این جی اوز واقعی خیر سگالی اور دوستی کا جذبہ لے کر آئیں اور خفیہ مقاصد پر کام نہ کریں تو انہیں خو ش �آمدید کہنے اور کام کرنے کی اجازت دینے میں کوئی حرج نہیں اور ایسے ہی 81 اداروں کو حکومتِ پاکستان نے کام کرنے کی اجازت دی بھی ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ اِن پر بھی کڑی نظر رکھی جائے تا کہ بات خوشگواری سے نا خوشگواری تک نہ پہنچے، اِن اکیاسی بین الاقوامی فلاحی تنظیموں میں بیس امریکی، چودہ بر طانوی اور گیارہ جرمن این جی اوز بھی شامل ہیں اور تا حال یہ سب بڑے مثبت طریقے سے معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور اگر یہ اسی جذبے سے کام کریں تو اپنے ملکوں کے لیے پاکستانیوں کے دل میں یقیناًجگہ بنا سکیں گے۔
آج کی دنیا میں قومی یا بین الاقوامی این جی اوز کا اپنے یا دوسرے ملکوں میں کام کرنا کوئی انہونی بات نہیں پوری دنیا میں ایساہو رہا ہے لیکن اگر انہیں ضابطہء اخلاق دیا جائے اور خاص کر ملکی قوانین پر عمل کرانے کاپابند بنایا جائے اور اِن پر سختی سے عمل کروایا جائے تو یہ زیادہ موئثر ہوں گے اور دنیا کے مختلف ممالک کو ایک دوسرے کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکیں گے لیکن جو این جی اوز دوسرے ملکوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے اُسے کسی طرح بھی لائسنس یا اجازت نامہ فراہم نہ کیا جائے۔ ہمیں صرف اُن این جی اوز کو عزت اور اجازت دینی چاہیے جو ہماری شرائط پر ہمارے لیے کام کریں نہ کہ ہمارے لیے کام کی آڑ لے کر اپنی شرائط پر اپنے مقاصدپورے کریں اور وہ بھی ہماری سلامتی کے خلاف ۔لہٰذا حکومت اور قومی سلامتی کے اداروں کو اِن پر ہر وقت کڑی نظر رکھنا ہو گی۔

71
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...