افغانستان برادر اسلامی ملک ہے لیکن دشمن کے ریشہ دوانیوں کے باعث اکثر اس کے تعلقات پاکستان سے نا خوشگوار ہو جاتے ہیں ۔وہی پاکستان افغان حکمرانوں کے الزامات کی زد میں آجاتا ہے جو ہمیشہ مشکل حالات میں افغانوں کی پُشت پر جم کر کھڑا ہوا ہے چاہے اس کے لیے اسے پوری دنیا کی مخالفت لینا پڑی اور مشکلات برداشت کرنا پڑی اُس نے کیں۔دہائیوں تک خود اپنے ملک سے نکالے گئے افغانوں کو اپنی سر زمین پر پناہ دی اور دہشت گردی کے بے شمار واقعات میں ملوث ہونے کے باوجود بھی انہیں بے یار و مدد گار نہیں چھوڑا ،انہیں روس اور امریکی بموں کی زد میں آنے سے بچائے رکھاورنہ دنیا میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جب پڑوسی ممالک نے بے یارو مدد گار مہاجرین کے لیے اپنے ملک کی سرحدیں بند کیں اور انہیں گولہ بارود کی بارش میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔لیکن پھر بھی افغانستان میں حالیہ حکومتیں پاکستان کے بارے میں ایک منفی تاثر پھیلاتی رہی ہیں اور منفی رویے کو افغان عوام تک بھی پہنچا رہی ہیں اگرچہ پاکستان میں دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ افغانستان میں بد امنی ہے کہ وہاں کے جنگجو گروہ جب اپنی حکومتوں کے خلاف بر سر پیکار ہو جاتے ہیں تو افغان حکومت بجائے انہیں قابو کرنے کے پاکستان کے قبائلی علاقوں سے بالخصوص اور پورے ملک سے بالعموم اپنے مطلب کے لوگ تلاش کر کے انہیں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے لگ جاتی ہے اور پچھلے چالیس سال میں تو اُسے مزید سہولت یوں حاصل ہو گئی ہے کہ اُس کے لاکھوں باشندے مہاجرین کی صورت میں پاکستان میں موجود ہیں اور وہ سب نہیں تو اُن میں ایک اچھی خاصی تعداد اپنی حکومت کی مدد پر آمادہ ہو جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغان حکومت اپنے ملک میں امن قائم کرنے میں ہمیشہ سے ناکام ہے کیونکہ وہ اپنے دوست دشمن کی پہچان کرنے کی کوشش نہیں کرتی ہے۔ افغانستان بھارت جیسے مسلم دشمن ملک سے احکامات وصول کرتا ہے اور پاکستان کے مسلمانوں پر آزماتا ہے لیکن خود اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے سے مکمل طور پر معذور ہے۔ اس بار تو خود اس کی اپنی پارلیمنٹ نے اس بات پر اعتراض اٹھایا ہے اور افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے ایک اپنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق افغان پارلیمنٹ نے اس بات پر اعتراضات اٹھائے ہیں کہ سیکیورٹی ایجنسیاں اپنا طریقہ کار بدل لیں اور اپنے لوگوں کی حفاظت کی طرف توجہ دیں اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت تک افغانستان میں اس سال کے پہلے چھ ماہ میں UNAMA یعنی اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کے پاس فضائی جنگی کاروائیوں میں 353 شہریوں کے متاثر ہونے کی رپورٹ آئی ہے جس میں 149 ہلاک اور204 زخمی ہوئے اور یہ تعداد پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہے جس پر افغانستان کے اندر سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔قانون بنانے والے اداروں نے بھی اس پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے کہ اتحادی افواج سول آبادی کے ساتھ ناروا سلوک کر رہی ہے۔
اگرچہ افغان پارلیمنٹ اس سلسلے میں اتحادی افواج کو موردِ الزام ٹھہرا رہی ہیں لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ 2015کے بعدزیادہ تر دہشت گردی کے خلاف کاروائیاں افغان افواج خود کر رہی ہیں لہٰذا اس جانی نقصان کی ذمہ داری بھی زیادہ تر اُسی پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہی شہریوں کو نشانہ بنارہی ہے۔ناتجربہ کار یا ہنگامی بنیادوں پر اٹھائی گئی کسی غیر تر بیت یا فتہ فوج سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ کسی بھی آپریشن کے لیے وہ منصوبہ بندی اور تیاری نہیں کر پاتی جو درست طریقے سے ٹارگٹ کو نشانہ بنائے اور یہی وجہ ہے کہ افغان شہری آبادی اپنی ہی فضائی افواج کا نشانہ بن رہی ہے جس سے اُن کی ساکھ بھی بُری طرح متاثر ہو رہی ہے اور اگر ایک مخصوص طبقے میں اُن کی کچھ مقبولیت تھی وہ بھی ختم ہو رہی ہے اور یہ سب افغان حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے یوں تو اُس کی فوج کو نیٹو میں شامل ترقی یافتہ ممالک کی افواج نے تر بیت دی ہے جن میں امریکہ اور برطانیہ بھی شامل ہیں لیکن ابھی تک وہ ان غیر ملکی افواج کی مدد سے ہی چل رہی ہے اور اس کے سینئر ترین عہدوں پر پہنچنے والے بھی اُس معیار تک نہیں پہنچے جہاں کامیاب منصوبہ بندی ممکن ہوتی ہے۔ یہی حال اس کی فضائی افواج کا ہے جس کے پائیلٹ بغیر کسی تحقیق کے فضائی حملہ کر دیتے ہیں جس سے عام بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور انہی ہلاکتوں کی تعداد کو افغان فضائی افواج اپنی کامیابی کے پیمانے کے طور پر استعمال کر رہی ہے جس پر ہیومن رائٹس واچ نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ افغان ائیر فورس کو مزید تربیت کی ضرورت ہے دوسری طرف خود امریکی فضائی تربیتی افسران کے مطابق ہر سال افغانیوں کی بڑی تعداد کو فوجی تربیت کے لیے امریکہ بھی لایا جاتا ہے لیکن ان کی اکثریت مفرور ہو جاتی ہے۔ان میں سے جو تربیت مکمل بھی کر لیتے ہیں وہ اس معیار تک نہیں پہنچ پاتے جو کامیاب کاروائیوں کے لیے ضروری ہے ورنہ اسی سال سول ہلاکتوں کے اعداد و شمار ہی اس معیار کو جانچنے کے لیے کافی ہیں۔ امریکی فضائیہ کے بریگیڈئیر جنرل فلپ اے سٹیورٹ کے مطابق اُن کے سینکڑوں فوجی ان افغا ن ہوا بازوں کی ذہنی تربیت پر بھی مامور ہیں لیکن اگر نتائج دیکھیں جائیں تو معیار سے انتہائی کم ہیں۔ یہاں معاملہ افغان حکومت کی نیت کا بھی ہے کہ وہ اپنے مغربی آقاؤں اور بھارتی اشاروں کے مطابق زیادہ توجہ پاکستان پر الزام تراشی اور یہاں دہشت گردی کرانے پر مرکوزرکھے ہوئے ہیں دوسرا یہ کہ وہ اپنی افواج کی وہ ذہنی تربیت نہیں کر رہی ہے جس کے مطابق وہ دوست اور دشمن کی پہچان کرے اور یہ بھی کہ اپنے اصل ٹارگٹ کو پہچانے نہ کہ مجمع دیکھ کر اس پر حملہ آور ہو جیسا کہ اُس نے2 اپریل کے ایک واقعے میں کیا جہاں ایک عام مذہبی اجتماع پر حملہ کر کے بیسوں عام شہریوں اور بچوں کو ہلاک کیا گیا۔افغان حکومت کو ان واقعات کی روک تھام پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ اِن ہلاکتوں کو اپنی کامیابی قرار دینے کی کوشش کرے اور مزید یہ کہ اپنی توانائیاں اپنے ملک کو خانہ جنگی سے نکالنے پر صرف کرے نہ کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی مدد کرنے پر اس طرح نہ صرف اِن کا اپنا ملک مسائل سے نکل آئے گا بلکہ خطے کی صورتِ حال بھی بہتر ہو گی۔

66
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...