میڈیا اطلاعات کیمطابق پاناما کرپشن کیس میں قطری خط کے بعد قطری شہزادہ حماد بن جاسم کی فیملی کسٹم فری گاڑیوں کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر پاکستانی میڈیا کی زینت بن گئی ہے۔ اطلاعات کیمطابق گزشتہ چند برسوں میں جاسم فیملی کے نام سے تقریباً ساڑھے تین سو گاڑیاں پاکستان میں درآمد کرکے ساڑھے چارسو ارب روپے کسٹم ڈیوٹی کی مد میں بچائے گئے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں سفارتی اِستثنیٰ کا غلط استعمال کرتے ہوئے اِن گاڑیوں کو قطری شہزادوں کے شکار کی آڑ میں درآمد کیا گیا تھا لیکن بظاہر قطری شہزادوں کے شکار کے محدود دوروں کے باعث بیشتر گاڑیوں کبھی بھی شکار کیلئے استعمال نہیں کی گئیں ۔ کیا یہ گاڑیاں قطر میں مقیم قطری فیملی کے بزنس پروجیکٹس میں شامل احتساب بیورو کے سابق چیئرمین سیف الرحمن جو قطری شہزادوں کی فیملی کیلئے تجارتی فوائد حاصل کرنے کیلئے پاکستان میں شریف فیملی اور سیاسی طور پر دیگر طاقت ور افراد سے منسلک ہیں کی خوبصورت دھوکہ بازی کی مرہون منت ہے بظاہر ایسا ہی نظر آتا ہے کیونکہ بیشتر گاڑیاں روالپنڈی کری روڈ سے لیکر بنی گالہ و بارکہو کے پرائیویٹ ویئر ہاؤسز جن میں سیف الرحمن کے ریڈکو پروجیکٹس شامل ہیں اور دیگر علاقوں سے قبضے میں لی گئی ہیں۔ غالباً اِس اَمر کا تعین تو ہو چکا ہے کہ یہ گاڑیاں سفارتی استثنیٰ کی آڑ میں پاکستان لائی گئیں تھیں لیکن حیرت کا پہلو یہ بھی ہے کچھ گاڑیاں جاسم فیملی کے نابالغ بچوں کے نام پر بھی لائی گئی ہیں۔
اِن گاڑیوں کے پاکستان میں غیر قانونی استعمال کے بارے میں مکمل تفتیش و تحقیق ہونے تک وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا یہ گاڑیاں الیکشن 2013 اور 2018 میں مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کے زیر استعمال بھی رہی ہیں کیونکہ کچھ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ اِن میں سے ایک گاڑی مریم نواز کے صاحبزادے کے استعمال میں تھی جسے اُن کے ڈرائیور کے ہمراہ تحویل میں لیا گیا ہے۔اِس اَمر کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ دوست ممالک ہوں یا دشمن ملک سفارتی روابط اور مراعات کیلئے اقوام متحدہ کے ظابطے کیمطابق بین الاقوامی سفارتی اور قونصلر تعلقات کے حوالے سے ویانا کنونشن 1963 کا اطلاق ہوتا ہے جس پر اقوام متحدہ ٹریٹی سیریز کیمطابق 19 مارچ 1967 سے باقاعدہ عمل درامد شروع کر دیا گیا تھا۔ویانا کنونشن 1963 میں سفارت کاروں اور سفارتی مشن میں کام کرنے والے دیگر بیرونی یا مقامی سٹاف کی حفاظت اور سفارتی مراعات کے حوالے سے نہ صرف تعریف متعین کر دی گئی ہے بلکہ مہمان اور میزبان ممالک کے فرائض کو بھی بخوبی منضبط کر دیا گیا ہے۔ اِس کنونشن کی باقاعدہ توثیق دسمبر 1973 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سفارتی اہلکاروں سمیت بین الاقوامی طور پر زیر حفاظت اشخاص جن میں غیر ممالک کی حدود میں سربراہان ریاست، سربرہان حکومت ، وزرائے خارجہ اور اُن کے ہمسفر افراد اورخاندان کے افراد کا تعین بھی کر دیا گیا جبکہ وہ غیر ممالک کی حدود میں ہوں۔ویانا کنونشن کے تحت سفارتی مراعات و تحفظات کے حوالے سے اِس اَمر کو بخوبی واضح کر دیا گیا ہے کہ اِن مراعات کا مقصد سفارتی نمائندوںیا اُن کے دوستوں کو انفرادی فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ سفارتی مشن کو اپنے فرائض مستعدی سے سر انجام دینے کی سہولت بہم پہنچانا ہے جس کی اِن گاڑیوں کے حوالے سے بظاہر نفی کی گئی ہے ۔
یہ درست ہے کہ کچھ سفارتی نمائندے ویانا کنویشن کے تحت تحفظات و مراعات کو ناجائز طور پر استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ میزبان ملک کے تعزیراتی و قانونی دائرہ اختیار سے باہر ہوتے ہیں لیکن یہ تحفظات ناجائز اشیا یا حساس اسلحہ کے ڈپلومیٹک بیگ یا کسٹم نان پیڈ اشیا کے طور پر لائے جانے کے بعد ایسی اشیا کی میزبان ملک میں تقسیم کی ممانعت کرتا ہے ۔ سفارتی نمائندوں کے استعمال کیلئے کسٹم نان پیڈ گاڑیوں کی اجازت ہوتی ہے جن پر سفارتی نمبر پلیٹ کی منظوری دفتر خارجہ یا وزارت داخلہ کی جانب سے دی جاتی ہے لیکن اگر کسی اور مقصد کیلئے کسٹم نان پیڈ گاڑیاں لائی جاتی ہیں تو اِنہیں تین ماہ کیلئے ہی کسٹم ڈیوٹی سے مبرا کیا جاتا ہے لیکن اِن گاڑیاں کو سفارت خانے یا قونصل خانے کی حدود یا سفارت خانے کی جانب سے لی گئی عمارتوں میں ہی رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن نہ تو اِن گاڑیوں کو قطری سفارتی حدود میں رکھا گیا تھا اور نہ ہی تین ماہ کی مدت کے بعد اِنہیں واپس بھیجا گیا اور نہ ہی کسٹم ڈیوٹی ادا کی گئی ۔ قرین از قیاس یہی ہے کہ یہ گاڑیاں غیر سفارتی افراد کے استعمال میں ہی رہی ہیں۔ ماضی میں چند سفارتی مشن حساس اسلحہ بھی ڈپلومیٹک بیگ کے ذریعے پاکستان میں لاتے رہے ہیں یا مقامی افراد کی مدد سے غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف رہے ہیں چنانچہ ویانا کنونشن کے تحت غیر پسندیدہ سرگرمیوں کے سبب ایسے سفارتی نمائندوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیکر میزبان ملک سے نکال دیا جاتا ہے البتہ کسی سفارت کار کو میزبان ملک کے خلاف شریک جرم یا شریک سازش ہونے کی بنیاد پر گرفتار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ وزارت خارجہ یا داخلہ کی منظوری کے بغیر کسٹم نان پیڈ اشیا جنہیں بغیر کسی تحریری اجازت کے سفارت خانے یا قونصل خانے کی حدود سے باہر رکھا گیا ہو یا سفارت خانے میں بلا کسی جواز کے حساس اسلحہ دہشت گردوں کی مدد کیلئے لایا گیا ہو تو اُسے نہ صرف مقامی قوانین کے تحت ضبط کیا جا سکتا ہے بلکہ ایسے دقیق معاملات میں سفارت کاروں کے ملوث ہونے پر اُنہیں ناپسندیدہ شخصیت قرار دیکر ملک سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔ چنانچہ سفارتی استثنیٰ کی آڑ میں لائی گئی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں سرکاری اجازت کے بغیر پرائیویٹ اداروں کے احاطے اور ویئر ہائسز میں نہ صرف یہ کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جا سکتی ہیں بلکہ اِن گاڑیوں کو پرائیویٹ ادارے یا افراد کسی بھی غیر قانونی مشتبہ کاروائی میں سہولت کاری کیلئے بھی استعمال کر سکتے ہیں جس کی ویانا کنونشن اجازت نہیں دیتا ہے ۔
پاکستانی سول سوسائیٹی اور عوام کیلئے یہ اَمر انتہائی حیرانی و پریشانی کا سبب ہے کہ اتنی زیادہ تعداد میں یہ کسٹم نان پیڈ گاڑیاں کیونکر پاکستان میں لائی گئیں اور ماضی کی حکومتوں نے اِس کا نوٹس کیوں نہیں لیا؟ بلاشبہ قطر دوست ممالک میں شامل ہے لیکن آئینی و قانونی حدود و قیود تو پاکستانی عوام پر بھی لاگو ہیں۔ یہ درست ہے کہ قطری شہزادے حماد بن جاسم کی فیملی کا شمار عرب دنیا کی ٹاپ کی دولت مند فیملیوں میں ہوتا ہے۔ اِس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ماضی میں پرنس حماد بن جاسم ال تھانی قطر ی حکمران کے ولی عہد ، وزیر خارجہ اور وزیراعظم کے طور پر ملک کی اہم پوزیشنوں پر کام کرتے رہے ہیں لیکن پھر کچھ وجوہات کے باعث اُنہوں نے اِن تمام عہدوں کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اہم ممالک میں منافع بخش پروجیکٹس پر کام کرنے تک ہی محدود کر لیا تھا۔ بہرحال اُن کا شمار سیاسی طور پر قطر کی اہم بادشاہ گر شخصیت کے طور پر ہوتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کا میڈیا اکثر و بیشتر اُن کی غیر معمولی دولت کے حصول میں کرپشن کے فیکٹر کو نظر انداز نہیں کرتا ہے۔ عرب جمہوریہ مصر کی ایک حالیہ میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “Hammad bin Jassem’s wealth reveals the size of corruption within the royal family in Qatar…After turning into a political mogul inside the emirate, Hammad bin Jassem decided to expand his fortune and switch to offshore investments. Hammed bin Jassem is accused of receiving an $7.5-million commission from BAE Inc against $613-million arms deal in 1998…in 2008, then Prime Minister of Qatar, he had an infamous incident with the British judicial system after an illegal deal with Barclays bank.” درج بالا تناظر قطری شہزادے حماد بن جاسم کی متلون مزاج شخصیت کے بارے میں آگہی بخوبی ہو جاتی ہے۔ قطری شہزادے نے میاں نواز شریف کے دور حکومت میں احتساب بیورو کے سابق چیئرمین سیف الرحمن کی مدد سے پاکستان میں کافی منافع بخش پروجیکٹس سے فائدہ اُٹھایا ہے۔ یہ قیاس بھی کیا جاتا ہے کہ پاناما پیپرز کیس میں میاں نواز شریف کو بظاہر اُلجھنوں سے نکالنے کیلئے قطری خط کا حصول جسے کچھ دانشور سیف الرحمن اور میان صاحب کے وکیل اکرم شیخ کا برین چائلڈ کہتے ہیں بھی اِسی فکر کا نتیجہ نظر آتا ہے لیکن یہ حربہ ناکامی کا شکار ہوا کیونکہ قطری شہزادے نے منی ٹریل دینے کیلئے سپریم کورٹ یا جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ ایسی ہی کچھ صورتحال کراچی پورٹ قاسم میں قطر ی پاور پروجیکٹ کے افتتاح کے موقع پر سامنے آئی جب پرنس حماد جاسم کے ایک کزن قطری شہزادے کی قیادت میں قطری ٹیم نے جس میں سابق احتساب بیورو کے چیف سیف الرحمن بھی شامل تھے نے شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ پاور پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔قطری شہزادے نے بعد میں جاتی عمرہ میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے اور ماڈل ٹاؤن میں سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف سے بھی ملاقات کی اور قطری پروجیکٹس میں مدد فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ سوال یہی ہے کہ سفارتی استثنیٰ کی آڑ میں یہ بیش قیمت قطری گاڑیاں کس مقصد کیلئے پاکستان لائی گئیں تھیں اور اِن گاڑیوں کو ویانا کنونشن کو پس پشت ڈالتے ہوئے کون لوگ استعمال کرتے رہے ہیں جس کی مناسب تفتیش کی جانی چاہیے۔

87
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...