وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے گزشتہ دنوں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے تہنیتی پیغام کے جواب میں پاکستان بھارت تعلقات پرجمی برف کو پگھلانے اور بات چیت کے ذریعے معاملات کو سلجھانے کیلئے بھارتی وزیراعظم کو تجاویز پر مبنی جوابی خط میں لکھا تھاجس کی بنیادی تجویز کو بھارتی میڈیا میں بھی بخوبی شائع کیا گیا ہے ۔ جناب عمران خان کیمطابق اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان اور بھارت کو سنگین مسائل درپیش ہیں لیکن یہ دونوں ملکوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی عوام بل خصوص مستقبل کی نسلوں کیلئے اِن تمام مسائل جن میں مسئلہ جموں و کشمیر کے علاوہ سیاچین و سر کریک شامل ہیں پر خصوصی توجہ کریں اوراِنہیں بات چیت کے ذریعے حل کریں ۔ جناب عمران خان کی تجویز قائداعظم محمد علی جناح کی فکر کے عین مطابق تھی جب اُنہوں نے قیام پاکستان کے بعد رائٹر کے نمائندے ڈنکن ہوپر کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کر دیا تھا کہ پاکستان ایک الگ وطن کی شناخت سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی بھی شکل میں بھارت کیساتھ کسی دستوری اشتراک کو قبول کریگا۔البتہ پاکستان ، بھارت کیساتھ آزاد ممالک کی طرح برابری کی بنیاد پر دوستی و تعاون کے ایسے معاہدوں کیلئے تیار ہے جیسا کہ دیگر اقوام کیساتھ کئے جا سکتے ہیں۔ اندریں حالات، جناب عمران خان نے اگر بھارتی وزیراعظم کو خط لکھ کر خطے میں پُرامن بقائے باہمی کے حوالے سے مسائل کو حل کرنے کی جانب توجہ مبذول کرائی تھی تو اِس خط کے مندرجات ہر پیمانے سے اقوام متحدہ کے چارٹر پر پوارا اُترتے ہیں۔ دراصل بھارت کی طرح پاکستان بھی اب ایک موثر ایٹمی طاقت ہے البتہ بھارت کے توسیع پسندانہ ایٹمی عزائم کے سامنے پاکستان کا ایٹمی پروگرام خطے میں پُرامن بقائے باہمی کے حوالے سے ہی سامنے آیا تھا تاکہ خطے میں جنگ کے بجائے دونوں ملکوں میں پُرامن تہذیبی توازن کو اقوام متحدہ کے چارٹر کیمطابق استوار کیا جائے لیکن بھارت خطے میں اپنی بالا دستی قائم کرنے کیلئے بدستور متحرک ہے جبکہ عمران خان کا خط دونوں ممالک کی خود مختاری ، سرحدوں کے احترام اور علاقائی و بین الاقوامی مسائل جن میں مسئلہ کشمیر کو بنیادی حیثیت حاصل ہے کو اقوام متحدہ کے چارٹر کیمطابق بات چیت سے حل کرنے کی غمازی کرتا ہے۔
حیرت ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے بھارتی وزیراعظم کو لکھے گئے خط کے جواب میں پہلے تو بھارت کی جانب سے دونوں وزرا ء خارجہ کی نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ملاقات کا اعلان کیا گیا اور پھر اگلے ہی دن بغیر کسی مناسب جواز کے مسترد کردیا گیا جسے بھارتی ڈپلومیسی کی بدنیتی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ بھارتی ترجمان کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج نیویارک میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کریں گی۔ لیکن ابھی اِس اعلان کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ بھارت نے تین بھارتی پولیس اہلکاروں کے قتل کا الزام بغیر کسی شہادت کے پاکستان پر لگاتے ہوئے اور ساتھ ہی گزشتہ ماہ جولائی میں کشمیریوں پر ظلم و ستم کے حوالے سے پاکستان پوسٹ کی جانب سے جاری کئے جانے والے ٹکٹ پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ کی نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔بھارت کی جانب سے بھارتی پولیس اہلکاروں کے قتل میں پاکستان کو ملوث کرنا محض پاکستان کے خلاف ہرزا سرائی کے مترادف ہے جبکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق مسئلہ کشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے جو آج بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے کا حصہ ہے جہاں بھارتی افواج کشمیریوں پر ظلم و ستم اور کشمیری خواتین و نوجوان طلبا و طالبات پر بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں مصروف ہیں جس کی طرف پاکستان پوسٹ کے ٹکٹ جاری کرکے اقوم متحدہ کے چارٹر یا اکتوبر 1970 کے اقوام متحدہ کے کسی اعلان یا اصول کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے ادارے کی توجہ متنازع مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کی جانب مبذول کرائی گئی ہے۔بھارت اِس حقیقت سے کیسے انکار کر سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق ریاست جموں و کشمیر ، بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک متنازع علاقے کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ جہاں اقوام متحدہ کا چارٹر آزاد مملکتوں کی سلامتی کے تحفظ کا ضامن ہے وہاں کشمیری عوام کو جدوجہد آزادی کے حوالے سے ستر کی دھائی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 3034 کی حمایت بھی حاصل ہے جس میں قومی آزادی کی تحریکوں کی مسلح جدوجہد کودرست قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ اگر پاکستان پوسٹ نے متنازع جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی پر کوئی یادگاری ٹکٹ جاری کیا ہے تو پاکستان کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق جموں و کشمیر کے مسئلے میں ایک اہم فریق کی حیثیت حاصل ہے جسے بات چیت سے حل کرنے کیلئے بھارت 1972 کے دوطرفہ شملہ معاہدے اور اعلان لاہور کے ذریعے بھی حل کرنے کا پابند ہے جسے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی جانب وزیراعظم عمران خان نے اپنے خط میں بھی بھارت کی توجہ مبذول کرائی تھی۔
درحقیقت بھارتی لیڈر شپ وعدوں، اعلانات اور معاہدوں کی پاسداری میں کوئی اچھا ٹریک ریکارڈ نہیں رکھتی ہے۔ بھارتی ترجمان کے حیران کن بیان پر پاکستانی وزیر اطلاعات و نشریات جناب فواد چوہدری نے اپنے مختصر ردعمل میں کہا ہے کہ تمام دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان بھارت کیساتھ باہمی ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کو پُرامن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے لیکن بھارت کے ذہنی شعور پر شدت پسندوں کو غلبہ حاصل ہے جو مسائل کو حل کرنے پر مناسب توجہ دینے سے گریزاں ہیں۔ فواد چوہدری کا کہنا درست ہی ہے کیونکہ بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جسے سابق وزیراعظم آنجہانی واجپائی نے کانگریس پارٹی کی طرز پر بی جے پی کے عسکری ونگ راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے ہٹ کر صحیح معنوں میں ایک سیاسی پارٹی بنانے کی کوشش کی تھی اور جس کے باعث یہ توقع کی جا رہی تھی کہ خطے کے اہم ممالک پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری پیدا ہوگی لیکن بھارت میں 2014 کے عام انتخابات سے قبل ہی آر ایس ایس کے نئے چیف ڈاکٹر موہن بھگوت جو عرصہ دراز سے پارٹی کے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر کام کرتے رہے ہیں نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے آر ایس ایس کے دس لاکھ مسلح رضاکاروں کی مدد سے پہلے تو واجپائی ، کے ایل ایڈوانی اور جسونت سنگھ کو بی جے پی پارٹی کے عہدوں سے سبکدوش کیا اور پھر بی جے پی کے صدر کے طور پر آر ایس ایس کے پُراعتماد ساتھی راج ناتھ سنگھ (موجودہ بھارتی وزیر داخلہ) کو فائز کیا اور پھرا پنے خاص شاگرد نریندرا مودی کو بھارتی انتخابات میں آر ایس ایس کے اینٹی پاکستان اور اینٹی مسلم ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے استعمال کیا۔ چنانچہ 2014 کے بھارتی الیکشن میں نریندرا مودی کی کامیابی کے بعد وزیراعظم کا حلف اُٹھانے کے بعد موہن بھگوت نے بی جے پی کی صوبائی تنظیموں میں اپنا عمل دخل قائم رکھنے کیلئے ایک منصوبہ بندی کے تحت آر ایس ایس کے حلف یافتہ ہندو توا شدت پسندوں کو الیکشن 2019 سے قبل ہی بی جے پی میں نائب صدر اور جنرل سیکریٹری کے اہم عہدوں پر فائز کرنے کی فکر اپنائی ہے، اِسی طرح اُنہوں نے اہم بھارتی انتظامی پوسٹوں پر بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی مدد سے آر ایس ایس کے حماتیوں کو لگانے کی پالیسی اپنائی ہے ۔ لہذا محتاط جائزے کیمطابق یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر موہن بھگوت کے اشارے پر بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے دو وجوہات کی بناہ پر وزیرخارجہ شسما سوارج کی پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کو منسوخ کیا ہے۔ ایک تو یہ کہ اِس ملاقات کے بعد بین الاقوامی میڈیا بل خصوص پاکستانی میڈیا کی جانب سے مسئلہ کشمیر، سیا چین و سر کریک کے حوالے سے پاکستانی نقطہ نگاہ کو ہوا ملے گی جس کا فائدہ حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی جسے اب راہول گاندہی کی قیادت میں منظم کیا گیا ہے اُٹھا سکتی ہے جبکہ آر ایس ایس چیف کی ہدایت پر نریندرا مودی چند ماہ میں شروع ہونے والی الیکشن مہم کو اینٹی پاکستان اور اینٹی اسلام بنیادوں پر منظم کر رہے ہیں۔بہرحال ، گو کہ بھارت کی دونوں بڑی جماعتیں کانگریس پارٹی اور بی جے پی اپنی جدوجہد کے تسلسل پاکستان کو سیاسی طور پر نچوڑنے میں لگی ہیں لیکن بہرحال کانگریس پارٹی کے دور حکومت میں کشمیر میں سرحدوں کو نرم کرکے کشمیر کے مستقل حل کیلئے وادی کشمیر کو اندرونی خودمختاری دینے کے عمل پر ضرور کام کیا گیا تھا جسے نریندرا مودی حکومت نے وادیء کشمیر میں نیا فوجی آپریشن شروع کرکے کشمیریوں پر غیر معمولی ظلم و ستم ڈھانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ۔ لہذا وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کو خطے میں پُرامن بقائے باہمی کے حوالے سے اپنی جدوجہد کو جاری رکھنا چاہئے۔

106
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...