پاکستان میں پانی کی کمی اور حکمرنوں کی جانب سے ملک میں ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے کی جانے والی کوتاہی کے برخلاف گزشتہ ایک عشرے میں بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جس تیزی سے مقبوضہ کشمیر کی سرزمین سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریاؤں پر درجنوں ڈیم بنا کر اور کچھ دریاؤں کا رُخ بھارت کی جانب موڑنیکا قصد کیا ہے لیکن صد افسوس کہ گزشتہ عشرے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں نے پاکستان میں کم ہوتی ہوئی پانی کی خبر گیری کرنے میں انتہائی کوتاہی کا ثبوت دیا جس کا منفی اثر نہری پانی سے کاشت ہونے والی زمینوں پر بھی دیکھنے میں آیاجبکہ ملکی معیشت کو بظاہر بیرونی و گردشی قرضوں کی بھرمار کرکے تباہی کے گہرے غار میں دھکیل دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ پاکستان میں تیزی سے کم ہوتے ہوئے پانی کے ذخائر کی صورتحال پر جب درد دل محسوس کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان محترم میاں ثاقب نثار نے خلوص دل سے تعمیرء ڈیم کی فکر سے کمر باندھی ہے تو ملکی فکر و نظر سے عاری کچھ سیاست دانوں نے اپنے گریبانوں کو ٹٹولنے اور اچھائی کی آواز پر لبیک کہنے کے بجائے عوام کو گمراہ کرنے کیلئے نِت نئے سیاسی شوشے چھوڑنا بھی شروع کر دئیے ہیں۔ چنانچہ عالمی یوم جمہوریت کے بین الاقوامی دن کے موقع پر جناب آصف علی زرداری اور اُن کے خصوصی نمائندے سید خورشید شاہ کو بھی جمہوریت اور آئین کی یاد آگئی ہے ۔ سید خورشید شاہ کی شخصیت سندھ کے عوام سے پوشیدہ نہیں ہے سیاست میں اُن کا نام 1988 میں سامنے آتا ہے جب وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی سندھ کے ممبر بنے اور پھر چل سو چل ترقی پا کر قومی اسمبلی اور وزارتوں تک اُن نام شہرت کی منزلیں طے کرتا گیا۔ اُن کا نام ایسے ہی باکمال افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب کچھ پا لیا جو کسی اور صاحب ادراک دانشور کیلئے تمام زندگی کی مشقت سے بھی ممکن نہیں ہوتا۔
حقیقت یہی ہے کہ جناب چیف جسٹس کی ڈیم بنانے کی کاوش پر جب قوم نے دامے درمے سخنے دلی سپورٹ سے چیف جسٹس کی مخلصانہ فکر کو نوازنا شروع کیا تو کچھ سیاسی رہنماؤں نے اپنے کوتاہیوں کی تلافی کرنے کے بجائے جناب چیف جسٹس کو ہی غیرمعمولی تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔ ایک جانب تو طلبا و طالبات ، قومی دانشور ، اساتذہ کرام ، ڈاکٹرز ، پروفیسرز ، شعرا کرام ، ادیب ، لکھاری ، تاجر ، سرکاری ملازمین اور فوج کے جوان ، افسر اور دردمند دل رکھنے والے عوام ہیں جنہوں نے جناب چیف جسٹس کی اچھائی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اربوں روپے ڈیم کی تعمیر کیلئے نچھاور کر دئیے ہیں اور دوسری جانب کچھ کوتاہ اندیش سیاست دان ہیں جو بیرونی ڈش انفارمیشن پر ڈیم کی تعمیر کے خلاف پیش پیش ہیں۔ یہ اَمر بہرحال قابل ستائش ہے کہ جناب چیف جسٹس کی کاوش پر ملک میں سیاسی تبدیلی لانے کے علمبردار موجودہ وزیراعظم عمران خان نے حالیہ کیبنٹ میٹینگ میں جناب چیف جسٹس کی فکر سے قدم ملاتے ہوئے نہ صرف چیف جسٹس کو اِس قومی خدمت پر خراج تحسین پیش کیا بلکہ وزیراعظم ڈیم فنڈ کو بھی چیف جسٹس ڈیم فنڈ سے منسلک کر دیا۔
حیرت کی بات ہے کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو جو مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے پیش پیش تھے اور جن کے دور حکومت میں بھارت کو کشمیر سے پاکستان آنے والے دریاؤں پر ڈیم بنانے کی کبھی جراٗت نہیں ہوئی تھی کی نام لیوا جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ نے نہ صرف چیف جسٹس ڈیم فنڈ کی شدید مخالفت کی بلکہ سیاسی موشگافیوں کو استعمال کرتے ہوئے چیف جسٹس کو کہا گیا کہ وہ اپنے ادارے کو ڈیم بنانے کیلئے استعمال کرنے کے بجائے عدلیہ کی سیاسی جماعت بنائیں۔ چنانچہ جناب وزیراعظم عمران خان کی کیبنٹ نے اِن سیاسی موشگافیوں کا بروقت جواب دیتے ہوئے جناب چیف جسٹس کی کاوش کی حوصلہ افزائی کی اور وزیراعظم ڈیم فنڈ کو بھی چیف جسٹس ڈیم فنڈ سے منسلک کرنے کا اعلان کیا تو جوابی طور پر جناب آصف علی زرداری بھی میدان عمل میں کود پڑے اور اُنہیں وہ آئینی حدود یاد آگئیں جن سے وہ زندگی پھر پہلو تہی کرتے رہے۔ اُنہوں نے بظاہر سید خورشید شاہ کی حمایت میں انٹرنیشنل ڈیموکریسی ڈے پر اپنے بیان میں گزشتہ روز یہ فرمانے سے بھی گریز نہیں کیا کہ پاکستان کے تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں۔
اگر ماضی کے سیاسی جھروکوں سے دیکھا جائے تو جناب زرداری نے اپنی صدارت میں سوئس کورٹ کرپشن و منی لانڈرننگ کیس کو ٹائم بارڈ کرانے کیلئے اپنے وزیراعظم کو سپریم کورٹ کے آئینی و قانونی فیصلے پر عملدرامد نہیں کرنے دیا جس کے نتیجے میں وزیراعظم اپنے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ سوئس کیس کے ٹائم بارڈ ہونے پر جناب زرداری نے اپنے ذاتی دوست واجد شمس الحسن جنہیں برطانیہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا تھا کے ذریعے تمام دستاویزات سوئس کورٹ سے حاصل کرکے غائب کردی جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جناب زرداری جو 35 ارب روپے کے حالیہ جعلی اکاؤنٹس منی لانڈرننگ کیس میں ایف آئی اے کو مطلوب ہیں نے سوئس کیس ٹائم بارڈ ہونے پر اپنے حالیہ بیان حلفی میں سپریم کورٹ کو مطلع کیا تھا کہ اُن کی بیرون ملک کوئی پراپرٹی نہیں ہے جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔بظاہر بیرون ملک پراپرٹی کے حوالے سے جناب زرداری کے خلاف کوئی دستاویز اب ریکارڈ سے غائب ہیں لیکن بیرونی ممالک میں جنوبی ایشیا کی جمہوریتوں میں کرپشن اور منی لانڈرننگ سے متعلقہ معلومات کا تذکرہ بہرحال اہم بیرونی مصنفوں کی کتابوں میں سوئس کورٹ کے جج ، محترمہ بے نظیر بھٹو کے قلم بند کئے گئے بیان کے علاوہ سرے محل کیس جج کی بیان کردہ تفصیلات بہرحال موجود ہیں۔اِن کتابوں میں بیش قیمت ہیروں کے نیکلس کی لندن میں خریداری کے علاوہ لاکھوں ڈالر کی بیورے ہلز میں زرداری صاحب کی خریداری کی تفصیلات بھی موجود ہیں ۔ اندریں حالات قومی کام پر تنقید کرنے کے بجائے جناب زرداری اور سید خورشید شاہ کو بلند بانگ دعوے کرنے کے بجائے اپنے گریبانوں کو ضرور ٹٹول کر دیکھنا چاہیے بقول شاعر۔۔۔۔ ؂
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اُتنا ہی وہ خاموش ہے
جب سیاسی رہنما کرپشن اور بدعنوانی کے مقدمات میں پھنس جاتے ہیں تو اُنہیں جموری نظام زندگی کی یاد ستانے لگتی ہے۔ جمہوریت نام ہے قانون کی حکمرانی کا چاہے وہ براہ راست عوامی حکومت ہو یا منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت کی جائے۔ ایک سابق مشہور امریکی صدر ابراھم لنکن کی آسان تشریح کیمطابق جمہوریت نام ہے : Government of the people, by the people, for the people. ۔ بیشتر سیاسی دانشور اِسے آئین و قانون کیمطابق عوام کے براہ راست راج یا اکثریتی راج سے تشبیہ دیتے ہیں جسے عوام کی شمولیت سے فیئر و فری الیکشن کے ذریعے چنا جائے اور جس میں عوام الناس اور اقلیتوں کے آئینی حقوق کا بخوبی تحفظ کیا جائے۔البتہ دنیا بھر میں سیاسی دانشوروں کو جمہوری نظام میں پھیلتی ہوئی کرپشن ، بدعنوانی اور اقربہ پروری نے ہلا کر کھ دیا ہے۔ بیشتر سیاسی دانشور جمہوری نظام میں در آنے والی اِن بیماریوں کو سیاسی کینسر یا رِستے ہوئے ناسور سے تعبیر کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں چنانچہ آج کی دنیا میں متعدد سیاسی تھنک ٹینکس، کرپشن و احتساب اور جمہوری گوڈ گورننس کے حوالے سے تحقیقی عمل میں مصروف ہیں تاکہ امانت ، دیانت اور عوامی مفادات کے اصولوں سے ہٹ کر جمہوری نظام میں داخل ہونے والی حکمرانوں کی ذاتی مفادات سے اُلجھی ہوئی اِن سیاسی بدعتوں سے جمہوریت کو محفوظ بنایا جاسکے۔ جدید تحقیق کیمطابق تیسری دنیا کے ملکوں میں حکمرانوں نے اجتماعی تجارتی حلقوں اور بیوروکریسی میں مافیائی نظام کو فوقیت دیتے ہوئے نہ صرف حکمرانوں کے ذاتی مفادات کو تحفظ دینے کی کوشش کی ہے بلکہ اِس مافیائی نظام کے سبب عوام کو ناقابل برداشت نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ چنانچہ جب حکمران اجتمائی مفاد کو چھوڑ کر محض ذاتی مفادات کے تابع دولت کی حصول کو ہی مقصد حیات بنا لیتے ہیں اور قومی دولت کو منی لانڈرننگ و آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک منتقل کر دیتے ہیں تو پھر اِس کی مثال کسی بھی ملک میں غربت و افلاس میں غیر معمولی اضافے اور مقابلتاً حکمرانوں کے سیاسی حاشیہ برداروں اور ذاتی مفادات کا تحفظ کرنے والی بیوروکریسی میں دولت اور شہرت کی ریل پیل میں نظر آتی ہے۔ متوسط طبقے یا عام لوگوں کی اکثریت جو کچھ اپنی زندگی بھر کی محنت و جفاکشی کے باوجود نہیں کما پاتی ہے اُن کے دیکھتے ہی دیکھتے حکمرانوں کے سیاسی حاشیہ بردار اور محبوب بیوروکریسی کے افراد محلوں ، پلازوں اور ملوں کے مالک بن جاتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ گزشتہ مافیائی حکومتوں کی کرپشن، منی لانڈرننگ اور آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک چھپائی جانے والی دولت کے باعث پاکستانی عوام ملکی تباہی پر حد درجے مضطرب ہیں کہ اِس دولت کو پاکستان واپس لایا جائے تاکہ نہ صرف ملک کی ڈولتی ہوئی معیشت کو سہارا ملے بلکہ غربت و افلاس کی ماری عوام کے مسائل کا بھی بخوبی تدارک کیا جاسکے۔

87
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...