پاکستان میں عام انتخابات کے بعدپاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی اور عمران خان نے 18اگست کو بطور نئے وزیراعظم کے حلف اُٹھایا۔دنیا کے عام سفارتی رواج کے مطابق مختلف سربراہانِ مملکت نے انہیں مبارک باد کے خطوط لکھے اور نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی کامیابی کے لیے رسمی یا دلی دعاکی۔یہ معمول کی ایک کاروائی ہے جو ایسے مواقع پر کی جاتی ہے اور ایسا ہی ایک انتہائی محتاط انداز میں لکھا ہوا مبارکباد کا خط بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بھی عمران خان کے نام بھیجا ہے جس میں ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا ہے لیکن اس سے زیادہ امن اور علاقے کے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے لیے اپنی حکومت کی کوششوں اور خواہش کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے اپنے ملک کی طرف سے اس خواہش کا بھی اظہار کیا ہے کہ نئی حکومت کے زیر قیادت معاشی ترقی کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکیں اور ان کی روز مرہ زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکیں۔ اگرچہ اس خط میں وہ گر مجوشی نہیں جس کی کسی برادر اسلامی ملک سے تو قع کی جاسکتی ہے تا ہم اس کو بھی ایک بہتر اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔ بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات کی نو عیت ہمیشہ مختلف اور حساس رہی ہے ۔1971 کے خونچکاں واقعات اور پھر پاکستان کی تاریخ کا سب سے افسوسناک سانحہ یعنی سقوط ڈھاکہ کا پیش آنا ہی ان تعلقات کی نوعیت کو مخصوص بناتا ہے۔ 1971 میں جس طرح ہمارے اپنے سیاست دانوں اور حکمرانوں کی نا اہلیو ں، شیخ مجیب الرحمن اور اس حواریوں کی غداری اور سب سے بڑھ کر بھارت کی مکارانہ سازشوں نے بر صغیر کی تاریخ کو پلٹا وہ ایک ایسا المیہ ہے جو ایک مستقل تکلیف کا باعث ہے۔ بر صغیر کے مسلمانوں نے چاہے وہ اس کے جس کونے میں بھی رہتے تھے انگریز سے ایک آزاد مملکت کا مطالبہ کیا تھا یہ جدوجہد اس خطہء زمین میں ہر جغرافیائی پا بندی سے آزاد تھی اور مکمل طور پر نظریاتی بنیادوں پر مبنی تھی اور اس نظریے کی بنیاد یہ تھی کہ بر صغیر میں دو قومیں رہتی ہیں مسلمان اور ہندو نہ یہ کہ کوئی پنجابی مسلمان، بنگالی، سندھی، پٹھان،بہاری،بلوچی،کشمیری مسلمان۔ جس نے کلمہ توحید پڑھا وہ ایک جھنڈے تلے آگیا، اور پاکستان بن گیا لیکن دشمن کو یہی گوارہ نہ تھا کہ مسلمان یوں متحد ہوں اور وہ ایک اکائی بن کراُن کے لیے خطرہ بن جائیں لہٰذا اُس نے انگریز کے ہوتے ہوئے جو سازشیں کی تھیں اُنہیں مزید تیز تر کر دیا ۔پانی کی بندش،کشمیر پر قبضہ، 1965 کی جنگ،لمحہ بہ لمحہ بڑھتی سازشیں اور مکروہ چالیں اپناتا رہا اور پھر اس نے وہ منصوبہ بنایا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔مشرقی پاکستان میں وہ کھیل کھیلا گیا جس پر اگر تاریخ دان انصاف سے تحقیق کرے تو بھارت کو جنگی جرائم کا باقاعدہ مجرم قرار دے دیا جائے گا۔اُس نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کے غنڈوں کے ذریعے جس طرح مشرقی اور مغربی پاکستانیوں کا قتلِ عام کروایاوہ بھی تاریخ کا حصہ ہے اور خود کئی بھارتی صحافیوں لکھاریوں حتیٰ کہ فوجی افسران بلکہ جرنیلوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اُنہوں نے اِن دہشت گردوں کو باقاعدہ تربیتی کیمپوں میں تربیت دی ۔غیر جانبدار صحافیوں اور مبصرین نے اپنے تجزیوں میں شواہد کے ساتھ ان واقعات کو تحریر کیا ہے جن میں بھارت کے ان تربیت یافتہ قاتلوں نے پاکستانیوں کا قتلِ عام کیا۔لیکن بھارت کی پراپیگنڈہ کرنے کی مکروہ صلاحیت نے عام بنگالیوں کو یہ باور کرایا کہ مغربی پاکستان کوئی قابض ملک ہے اور مشرقی پاکستان محکوم۔حالا نکہ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ ابتدائی دور میں کئی صدور اور وزرائے اعظم کا تعلق ملک کے اسی حصے سے تھا جن میں قائد اعظم کے بعد پاکستان کے گورنرجنرل بننے والے خواجہ ناظم الدین کے علاوہ حسین شہید سہروردی ،محمد علی بوگرہ، سکندر مرزا،نور الامین سب وزرائے اعظم اور گورنر جنرل جیسے عہدوں پر فا ئز ہوئے۔1960کی دہائی میں ملک کے مغربی حصے میں جو ترقیاتی کام ہوئے ویسے ہی مشرقی پاکستان میں بھی ہوئے لیکن پھر بھی بھارت نے اپنا گھناؤنا کھیل کھیلا اور مشرقی پاکستان میں اس تاثر کو عام کیا کہ انہیں محروم رکھا جا رہا ہے اور اسی سازش کو پھیلاتے پھیلاتے آخر کاریہاں وہ حالات پیدا کئے گئے جو سقوط ڈھاکہ پر منتج ہوئے اور بھارت نے اپنے خیال میں ایک طفیلی ریاست کو جنم دیا۔شیخ مجیب نے اُن کی اس خواہش کا بھر پور احترام کیا اور پاک فوج کے اوپر ایسے ایسے الزامات عائد کئے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔جن میں خاص طور پر بنگالی مسلمانوں کا قتل عام اور عورتوں کی آبرو ریزی کے شرمناک الزامات بھی شامل تھے لیکن اپنی سازش کی کامیابی کے صرف پانچ سال بعد ہی شاید بنگلہ فوج یہ بھارتی غلامی برداشت نہ کر سکی اور اُسے اُس کے خاندان کے چالیس افراد سمیت قتل کر دیا۔دوسری حکومتوں کے دور میں پاک بنگلہ تعلقات میں کافی بہتری بھی دیکھی گئی لیکن حسینہ واجد دخترِ شیخ مجیب کی حکومت میں پاکستان مخالف نظریات اور جذبات کو ہمیشہ ہوا دی گئی ۔جماعت اسلامی کے ان کارکنان کو جنہوں نے اُس وقت بھی اپنے ملک پاکستان سے وفاداری کا ثبوت دیا اور بنگلہ دیش بننے کے بعد بنگلہ دیشی باشندوں اور سیاستدانوں کی حیثیت سے وہاں کی سیاست میں حصہ لیا اُنہیں بڑھاپے میں بے رحمی سے پھانسیاں دیں اور یہ سزا اُن کی اپنے ملک سے وفاداری کے جرم میں دی گئی۔اُس کی حکومت میں بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کو پاکستان آنے سے روکا گیا۔ایسا بھی نہیں کہ تمام بنگلہ دیشی پاکستان کے مخالف ہیں بلکہ سچ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اب بھی پاکستان کے لیے نیک جذبات رکھتے ہیں اور بھارت کے اثر سے آزاد رہنا چاہتے ہیں لیکن بہت کچھ حکمرانوں پر منحصر ہے اور حسینہ واجد کی حکومت کا کبھی بھی پاکستان کی طرف مثبت رویہ نہیں رہا اور اس بار اس محتاط خط میں بھی کوئی گر مجوشی نہیں تا ہم اگر اُنہوں نے ہمت کر کے رسم دنیا بنھائی ہی ہے تو اپنا رویہ بھی تبدیل کریں اور وہ تعصب جو اُنہیں ورثے میں ملا ہے اُس سے بھی خود کو آزاد کریں اور اپنی قوم کے جذبات پر سے بھی پہرہ اٹھالے۔ پاکستانیوں اور بنگا لیوں نے مل کر انگریز اور ہندو سے آزادی کے لیے جدوجہد کی تھی اور دو قومی نظریے کی بنیاد پر قابضوں اور غاصبوں کو شکست دی تھی اگر طویل زمینی فاصلے اور دشمن کی مکاری اور اپنوں کی غداری نے یہ فاصلے ذہنی فاصلوں میں تبدیل کر بھی دیے تھے تو آج جب دشمن کا مقصد ومنشاء آشکار ہو چکا تو رویوں کو بھی تبدیل کر لینا چاہیے۔ پاکستانی آج بھی بنگالیوں کی خوشیوں میں خوش اور دکھوں میں دکھی ہوتے ہیں لیکن دوسری طرف سے بھی ایسے ہی رویے کی توقع رکھتے ہیں۔ حسینہ واجد سے اگرچہ محبت آمیز تعلقات کی تو قع نہیں تاہم مشورہ ضرور ہے کہ انہیں اپنے آپ پر کام کرتے رہنا چاہیے۔

102
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...