یہ خوش آئند بات ہے کہ الیکشن 2018 کے انعقاد کے بعد اپوزیشن کی جانب سے بظاہر جمہوری نظیروں کی پامالی کے باوجود پاکستان میں جمہوریت قائم و دائم ہے کیونکہ ملک کے دیگر اہم ادارے بشمول فوج اور عدلیہ ملک میں جمہوریت کی نشو نما کو ہر چیز پر اہمیت دیتے نظر آتے ہیں۔البتہ ملک میں تسلسل سے حکمرانی کرنے والی دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک میں پھیلتی ہوئی کرپشن ، بدانتظامی، اقربہ پروری اور ملکی دولت منی لانڈرننگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کرنے کی نہ تو حوصلہ شکنی کی ہے اور نہ ہی قومی سیاست کو مافیائی سیاسی جرائم سے پاک کرنے کی جراٗت مندانہ کوشش کی ہے۔ حتیٰ کہ گزشتہ دس سالہ دور حکومت میں ملک میں بیرونی قرضوں اور ملکی گردشی قرضوں میں اِس حد تک اضافہ ہوا ہے کہ بین الاقوامی ادارے اِن قرضوں کی بروقت ادائیگی کیلئے ملک کی معاشی پالیسیوں کی مانٹرننگ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔لیکن بگڑتی ہوئی ملکی معیشت کے باوجود سابق حکمرانوں کی شاہ خرچیوں میں کمی کے بجائے قرضوں پر قرضہ لینے اور ملکی دولت آف شور کمپنیوں اور قانونی و غیر قانونی ذرائع سے کمائی ہوئی اربوں روپوں کی رقومات منی لانڈرننگ کے ذریعے بیرون ملک انویسٹ کرنے کا رجحان ہی دیکھنے میں آتا رہا ہے۔ سابق حکمرانوں نے اِس اَمر پر بھی کبھی غور کرنے کا تکلف نہیں کیا کہ اُن کی موج مستی کے باعث عوام کی اکثریت غربت و افلاس کا شکار ہو کر نہ صرف غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکی ہے بلکہ غیر معمولی مہنگائی اور بے روزگاری کے سبب ملک میں خودکشیوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آتا رہا ہے۔ البتہ حکمران اپنے نزلے زکام کا علاج کرانے کیلئے بھی تواتر سے سرکاری خرچ پر ہی بیرونی ممالک کی یاترا کرتے ہی نظر آتے رہے ہیں جبکہ عوام کو پینے کا صاف پانی، سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے اور دوائیوں کی سہولتوں کا فقدان ہی نظر آتا رہا ہے۔ اِس پر طرّہ یہ کہ عوامی شکایات پر جب عدالت عظمیٰ اور قومی احتساب بیورو نے ملک میں جاری کسی بھی میگا پروجیکٹ کی تحقیق و تفتیش کرنے کی کوشش کی تو وہاں اربوں روپوں کی کرپشن کا منظر نامہ ہی سامنے آیا ہے۔ درحقیقت یہی وہ مافیائی سیاسی منظر نامہ تھا جس کے سبب عوام میں بیداری اور تبدیلی کی لہر عود کر سامنے آئی لیکن سابق حکمرانوں نے اپنی کوتاہیوں ، سیاسی و مالی بدعنوانیوں اور کرپشن پر نظر ثانی کرنے اور ملک میں آنے والی تبدیلی کی لہر کو نہ تو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش کی اور نہ ہی اصلاح احوال پر کوئی توجہ کی۔
درج بالا تناظر میں جب عوام نے الیکشن 2018 میں اپنے ووٹ کی قوت سے ملک میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا تو ملک میں لوٹ مار کا بازار گرم کرنے والی اِن سیاسی قوتوں نے عوامی مینڈیٹ کو دل سے تسلیم نہیں کیا ہے بلکہ ہی پارلیمنٹ کے تقدس کی پامالی کرتے ہوئے عوامی مینڈیٹ پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے اپنی نام نہاد سیاسی موشگافیوں کو پارلیمنٹ کے فلور تک پہنچا دیا ہے ۔کہتے ہیں کہ احتجاج جمہوریت کا حسن ہے لیکن جمہوریت کے کچھ قواعد و ضوابط بھی ہیں۔ انتخابات کے بعد جب پارلیمنٹ قائد ایوان کا انتخاب کرتی ہے تو جمہوری نظیروں کیمطابق اُس کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ یہ اَمر حیران کن ہے کہ پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کے شفاف انتخاب کے بعد جونہی اسپیکر قومی اسمبلی نے قائد ایوان کے طور پر پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان کا بھاری اکثریت سے منتخب ہونے کا اعلان کیا تو مسلم لیگ(ن) کے ارکان اسمبلی نے اِسے خوش دلی سے تسلیم کرنے کے بجائے اپنے اُمیدوار شہباز شریف کی بڑے مارجن سے شکست کے بعد ،،میں نہ مانوں،، کی تکرار کیساتھ تقریباً آدھے گھنٹے تک وہ شور و غوغا مچایا کہ اسپیکر کی بار بار درخواست کے باوجود اسمبلی کی کاروائی جاری نہ رہ سکی اور اسپیکر کو مجبوراً اسمبلی کی کاروائی پندرہ منٹ کیلئے روکنا پڑی۔ جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو بھی قائد ایوان کی تقریر کے دوران مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نے شور و غوغا جاری رکھا۔ میڈیا ذرائع کیمطابق مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کا پارلیمنٹ کے فلور پر آنے سے قبل اسمبلی لابی میں اجلاس منعقد کیا گیا جہاں ایک عجیب منطق کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ کیونکہ پیپلز پارٹی نے تو خوبصورت چالاکی سے خورشید شاہ کیلئے مسلم لیگ (ن) کے ووٹ حاصل کر لئے تھے لیکن شہباز شریف کو ووٹ دینے سے انکار کر دیا ہے چنانچہ عمران خان کے مقابلے میں مسلم لیگ(ن) کیلئے سو ووٹ کا ہدف حاصل کرنا بھی مشکل ہوگیا جسے لیگی ارکان اسمبلی نے عوامی سطح پر شرمندگی سے تعبیر کرتے ہوئے غیر جمہوری فیصلہ کیا کہ وزیراعظم کے انتخاب کے بعد اسمبلی کی کاروائی چلنے نہ دی جائے ۔ صد افسوس کہ ایسا ہی کیا گیا ۔ کیا مسلم لیگ (ن) اِس قسم کی غیر پارلیمانی بے حکمتی سے پارلیمنٹ پر ہی خود کش حملہ کرنا چاہتی تھی جس کا مظاہرہ اسمبلی کے فلور پر کیا گیا؟ غیر پارلیمانی حوالے سے لیگی سیاسی رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کا ٹریک ریکارڈ ویسے بھی کوئی اچھا نہیں ہے۔ اِس سے قبل ماضی میں مسلم لیگ (ن) عدالت عظمیٰ پر حملہ کرکے ملکی آئین و قانون کی خلاف ورزی کا مظاہرہ کر چکی ہے اور چند برسوں سے لیگی قیادت عدلیہ اور فوج کے خلاف بیان بازی میں بھی مصروف ہے ۔ بہرحال عمران خان کے بعد جب شہباز شریف نے اسمبلی سے خطاب کرنے کوشش کی تو تحریک انصاف کے کچھ ارکان اسمبلی نے بھی ردعمل کے طور پر شور و غوغا کا مظاہرہ کیا جس کی ضرورت نہیں تھی۔ البتہ شہباز شریف کیساتھ خوبصورت چالاکی کرنے والے بلاول بھٹو زرداری جب پارلیمنٹ میں اپنی پہلی تقریر کرنے کیلئے آئے تو لیگی ارکان نے اُن کے خلاف کسی ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا چنانچہ بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کو خاموشی سے سنا گیا ۔
بہرحال ، منتخب وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں خصوصی طور پر اِس اَمر کا تذکرہ کیا کہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالیرنس ہوگی ، کسی کو این آر او نہیں دیا جائیگا، حکومتی اخراجات میں غیر معمولی کمی کی جائیگی اور کڑا احتساب کرکے ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لایا جائیگا۔ البتہ بلاول بھٹو زرداری نے جہاں اچھے انداز سے تقریر کی وہاں اُنہوں نے اپنی تقریر میں کچھ غیرمناسب الفاظ بھی استعمال کئے جو جمہوری روایات کے منافی ہی سمجھے جائیں گے۔ اُن کی اداروں پر تنقید اور عمران خان کو منتخب وزیراعظم کے بجائے چنیدہ وزیراعظم کے طور پر مخاطب کرنا سیاسی عالی ظرفی اور جمہوری روایات کے منافی ہی تھا۔شاید وہ درست الفاظ کا استعمال اِس لئے نہیں کر سکے کیونکہ اُن کے والد آصف علی زرداری اور اُنکی پھوپی منی لانڈرننگ کیس میں ایف آئی اے کو مطلوب ہیں لیکن اُن کی منی لانڈرننگ میں ملوث ہونے کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ منی لانڈرننگ سے متعلق یہ کیس نگران وزیراعظم کے دور میں عدالت عظمیٰ کے سامنے فیصلہ طلب ہے۔یہ درست ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی پارٹی نے پہلے سے زیادہ ووٹ اور اسمبلی کی نشستیں حاصل کی ہیں لیکن وہ ،،کڑوا کڑوا تھو تھو ، میٹھا میٹھا ہپ ہپ ،،کے مشہور محاورے پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف الیکشن 2018 میں بغیر کسی ٹھوس شہادت کے دھاندلی کے الزامات لگانے میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ حیرت ہے کہ الیکشن کمیشن کو اپنی صوابدید پر بنانے والی سابق حکمران جماعتیں ہی ہیں ، نگران مرکزی حکومت کی تشکیل میں بھی یہی دونوں جماعتیں شامل ہیں ، نادرا میں اِن ہی جماعتوں کے جڑے ہوئے نگینے کام کر رہے ہیں جبکہ پریزائیڈنگ افسروں کی سلیکشن میں بھی اِن ہی جماعتوں کا ہاتھ تھاتو پھر الیکشن میں دھاندلی کا شکوہ کیوں؟ کیا بلاول بھٹو زرداری اپنے والد کی بیرون ملک جائدادوں اور منی لانڈرننگ کیس میں ملوث ہونے پر فکر مند ہیں اور نئی حکومت سے ڈیل کی سیاست کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں؟ حقیقت یہی ہے کہ ملکی دولت کو واپس ملک میں لانے کیلئے ایسی غیر اخلاقی ڈیل تو اقتدار میں آنے کے بعد جناب ذوالفقار علی بھٹو نے بھی نہیں کی تھی۔ بھٹو صاحب نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی ہی تقریر میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ” دوسری بات سرمائے کی پاکستان سے بیرونی ممالک میں جانے کے بات ہے، میں چاہتا ہوں کہ جو سرمایہ پاکستان سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے اُس کو ہر قیمت پر واپس لانا چاہیے کیونکہ یہ سرمایہ پاکستانی عوام کا خون و پسینہ ہے اور یہ سرمایہ واپس لانا ہوگابصورت دیگر میں کسی شخص کو پاکستان سے باہر جانے کی اجازت نہیں دونگا۔ میں اُن لوگوں کے افراد اور خاندان کے خلاف کاروائی کرونگا جنہوں نے یہ سرمایہ پاکستان سے باہر بھیجا ہے کیونکہ یہ پاکستان کا سرمایہ ہے” ۔کیا بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا جن کی فکر پر وہ چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں عمل کرتے ہوئے اپنے والد کو کہیں گے کہ وہ یہ سرمایہ واپس پاکستان لے آئیں اِس سے پہلے کہ حکومت اُن کے خلاف موثر کاروائی کرے۔ بہرحال ماضی میں پاکستان کو معاشی طور پر بیرونی ملکوں کا محتاج بنانے والے سیاسی رہنماؤں کو یہ جان لینا چاہیے کہ عمران خان کی موجودگی میں نہ تو اُن کیساتھ کوئی این آر او کیا جائیگا اور نہ ہی کرپشن کے حوالے سے کوئی ڈیل کی سیاست کی جائیگی کیونکہ پاکستان کا مفاد ہی عوام کا مفاد ہے۔

49
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...