پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل پر ہمیشہ سوالیہ نشان بھی اُٹھتے ہیں ،تشویش بھی پائی جاتی ہے اور بسا اوقات یہ تسلسل ٹوٹا بھی ہے جس میں ہمارے سیاستدانوں کا اہم رول ہوتا ہے۔ہاں گذشتہ کچھ عرصہ سے ہماری جمہوریت اور فوج اپنے اپنے دائرے میں اپنی اپنی ڈگر پر چل رہے ہیں اور چاہے حکمران اپنی مدت پوری کریں یا نہ کریں حکومتوں نے اپنی مدتیں پوری کیں ہیں تاہم نہ زمانے کا چلن بدلا نہ سیاست کا، ایک دوسرے پر ایسے ایسے حملے کیے گئے ایسے ایسے جملے کسے گئے کہ الامان والحفیظ۔لگتا ہے سیاست سے شائستگی رخصت ہو چکی، ہاں پھر یہ بھی ہوا کہ یہی دشنام طراز ایک دوسرے کی سیٹوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ایک دوسرے کے سنگی ساتھی بن گئے اور اسے نظریہ ضرورت قرار دینے کی بجائے باہمی افہام و تفہیم کا نام دے دیا جا تا ہے کاش کہ یہ باہمی افہام و تفہیم ہماری سیاست اور معاشرے کا خاصہ بن جائے لیکن دکھ یہی ہے کہ ایسا نہیں ہے ہم اپنا دیا جلانے کے لیے دوسروں کے جلتے چراغ بجھا کر اپنی بہادری پر فخر محسوس کرتے ہیں ہمیں اپنے ذاتی مفادات کے آگے کسی دوسرے کا فائدہ نقصان نظر نہیں آتا۔قومی سطح پر ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور سیاستدان اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے کسی بھی قسم کا نہ صرف بیان دے سکتے ہیں بلکہ اپنے کارکنوں کو قومی نقصان کرنے پر جذباتی طور پراُبھار سکتے ہیں ، اداروں کے خلاف جو رویہ رکھا جاتا ہے وہ نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی ہمارے لیے رسوائی کا باعث بن جاتا ہے ۔خاص کر فوج کے خلاف ہمارے عظیم رہنماؤں کے بیا نات توکچھ ایسے ہوتے ہیں جیسے دشمن پڑوسی ملک سے دیے گئے ہوں یا اُن کی فوج کے بارے میں دیے گئے ہوں ۔ہمارے کچھ سیاسی رہنما تو افواج پاکستان کے شہدا کے درجہء شہادت کے بارے میں بھی تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں، اس ذہنیت پر افسوس کے علاوہ کیا کہا جا سکتا ہے ہاں انہیں یہ یاد دلایا جاسکتا ہے کہ کچھ جوان اُن کے خاندانوں میں بھی ہوتے ہیں۔ہمارے انہی سیاسی رہنماؤں کو جب پناہ کی ضرورت ہوتی ہے اور یا قوم اُن سے اُن کے گمراہ خیالات پر پوچھ گچھ کرتی ہے تو تب وہ ایسا یو ٹرن لیتے ہیں کہ بندہ دیکھتا ہی رہ جائے پھریہی فوج عظیم ہو جاتی ہے ورنہ شرمناک طور پر اسے ایسے ایسے خطابات سے نوازا جاتا ہے کہ شہیدوں کے خون کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ہمارے گذشتہ وزیراعظم کو تو کبھی یہ قرینہ تک نہ آیا کہ اپنے محافظوں کو کس طرح عزت دی جائے۔ دشمن سرحد سے چند کلو میڑ اندر ان کی ریاستِ جاتی عمرہ رائیو نڈ کا وجود بھی انہی محافظوں کا مرہون منت ہے جو سرحد پر بیٹھ کر اس وطن بشمول جاتی عمرہ کی حفاظت کرتے ہیں ۔یہی حال ہمارے مولانا فضل رحمان صاحب کا بھی ہے جب انہیں عوام کا ڈر پیدا ہو جائے تو فوج عظیم ہو جاتی ہے ورنہ یہ بھی محمد نواز شریف کے عظیم ساتھی بن جاتے ہیں ۔حالیہ الیکشن پر مولانا صاحب کی رائے بڑی توجہ طلب ہے اگرچہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کب وہ دوبارہ اقتدار کا مزہ لوٹنے کے لیے نئی حکومت کے حامی بن جائیں فی الحال تو بوجوہ اپنی شکست کے اور عرصہ دراز کے بعد سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کے وہ سخت ناراض ہیں لہٰذا نئی حکومت کے خلاف ہیں۔چلیے یہاں تو تیل کی دھار دیکھئے ،دیکھتے ہیں کہ کب تک ایسا چلے گا لیکن ان کے حالیہ الیکشن کے بارے بیا نات خاصے قابلِ اعتراض ہیں ۔ اُن کے فرمان کے مطابق موجودہ الیکشن میں فوج کا کردار اہم اور فیصلہ کن رہا اور جیتنے والے فوج کی مدد سے جیتے چلئے مان لیا تو کیا ’’را‘‘ کی مدد سے جیتنے سے بہتر نہیں کہ آئی ایس آئی کی مدد سے جیتا جائے۔فضل رحمان صاحب کے بعد ان کے ایک اور ہمنوا یعنی محمود خان اچکزئی بھی میدان میں اترے یہ بھی حکومتی پارٹی کے ’’پکے‘‘ اتحادی ہوتے ہیں لیکن فوج کے خلاف اپنی زبان دراز ہی رکھتے ہیں یہ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر ملکی سا لمیت پر ہرزہ سرائی فرماتے رہتے ہیں اور اپنا ایک صوبہ بھی افغانستان کو پیش کرتے رہتے ہیں جبکہ ان کا اس صوبے سے نہ تعلق ہے نہ واسطہ۔ افغان حکومت سے ان کے خوشگوار تعلقات کا وہ فائدہ خوب اٹھاتے رہے ہیں اور جواباََ انہیں اپنے ہی ملک سے غداروں کی کھیپ بھی فراہم کرتے رہتے ہیں جو انہی کے صوبے میں انہی کے لوگوں کا قتل عام کرتے ہیں شاید یہی حقیقت بھانپ کر اور سمجھ کران کے حلقے کے لوگوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا اور جب وہ اپنی نشست ہار گئے جسے وہ اپنی میراث سمجھتے ہیں تو ان کی توپوں کا رُخ بھی واہگہ کی توپوں کی طرح افواج پاکستان کی طرف ہو گیا اور الیکشن پر اپنی اُسی رائے کا اظہار کیا جس کی ان سے توقع تھی یعنی فوج نے انہیں ہرایا۔ اب یہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگانے والوں کے ساتھی ووٹ کے ہی انکاری ہو گئے۔بات یہاں تک آکر بھی نہ رُکی اور مزید آگے بڑھ کر ایک اور مہم شروع ہو گئی نئی حکومت کے حلف اُٹھانے سے بھی پہلے یہ کہا جانے لگا کہ بہت جلد حکومت اور فوج کے تعلقات خراب ہو جائیں گے اور حکومت چل نہیں سکے گی مجھے اس سے غرض نہیں کہ حکومت کس کی ہے لیکن کیا اس قسم کا ماحول پیدا کرنا درست ہے کہ جس میں حکومت اور فوج کو آپس میں ٹکرایا جائے اور عوام کے ذہنوں میں تنفر پیدا کیا جائے اور یہ تاثر دیا جائے کہ ان کے نمائندوں کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں بلکہ جب فوج چاہے انہیں کرسی سے اتار دے اگرچہ ماضی میں مارشل لاء لگے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انہی سیاستدانوں نے مٹھائیاں بانٹ کر اس پر اپنی خوشی کا اظہارکیا ہے اور ان ادوار کی اسمبلیوں میں بھی پورے طمطراق سے بیٹھے ہیں مگر اب اگر ایسا نہیں ہو رہا اور ملکی سیاست میں مثبت تبدیلی آرہی ہے تو دوبارہ اس قسم کی باتیں کیوں کی جارہی ہیں اور کس کا ایجنڈا پورا کیا جارہا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک میں خود کو جمہوریت کے چیمپئن اور خود کو جمہوری نظام کے لیے ناگزیر سمجھنے والے ہی جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔اب بھی ان کے لیے ہمدردانہ مشورہ یہ ہے کہ خدارا اگر فوج حکومت میں نہیں آنا چاہ رہی تو اسے زبردستی اس میں مت گھسیٹیے، جمہوریت کو چلنے دیں آپ اپنی باری کر چکے ہیں عوام آپ کو آزما چکے ہیں اگر اب وہ دوسروں کو آزمانا چاہ رہے ہیں تو آزما لینے دیجئے اگر وہ آپ سے اچھی کارکردگی دکھا سکے تو ٹھیک ہے نہیں تو آپ اگلی بار کے لیے کوشش کیجیے الیکشن میں ہار جیت کارکردگی پر ہونی چاہیے اور بجائے الزامات لگانے کے اپنی نیت اور عمل پرتوجہ دینا چاہیے۔ کام نئی حکومت کا بھی آسان نہیں اُسے بھی وہ وعدے پورے کرنے ہیں جن پر اُس نے ووٹ لیا ہے لہٰذا اپوزیشن اس طرح کیجیے کہ حکومت کو سیدھے راستے پر رکھ سکیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپوزیشن حکومت سے کریں کہ وہ آپ کی سیاسی حریف ہے فوج سے نہیں جو آپ اور آپ کی سرحدوں کی مقدس محافظ ہے۔

165
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...