بانیء پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان سے چند روز قبل 11 اگست 1947 میں پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کا صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے تاریخی خطاب میں پاکستان کے انتظامی و سیاسی امور کو دیانت و امانت کے اصولوں پر قائم کرنے کے علاوہ میثاقِ مدینہ کی فکر کیمطابق پاکستان میں آباد اقلیتوں کو برابر کے سیاسی حقوق دینے کا اعلان کیا تھا۔ لارڈ اؤنٹ بیٹن کے 3 جون 1947 کے تقسیم ہند کے اعلان کے بعد قائداعظم جانتے تھے کہ جن خطوں میں پاکستان بننے جا رہا ہے اُن میں آبادی کے لحاظ سے 25 فی صد آبادی ہندو سکھ اور عیسائی اقلیتوں کی ہوگی۔ قائداعظم چونکہ ہندوستان میں آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کانگریس کے صدر جواہر لال نہرو کے گٹھ جوڑ کے حوالے سے قیام پاکستان کے قبل ہی پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں سے بخوبی آگاہ تھے اور جانتے تھے کہ چونکہ پاکستانی فیڈریشن جن صوبوں میں قائم ہونے جا رہی تھی وہاں آبادی کے حوالے سے پاکستان کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی اقلیتوں پر مثتمل ہوگی اِس لئے وہ اقلیتوں کے مسئلے کو ترجیح بنیادوں پر حل کرنا چاہتے تھے اور اِسی پس منظر میں قائداعظم تحریک پاکستان میں ہندوستانی مسلمانوں کی قربانیوں کو بھی رائیگاں نہیں جانے دینا چاہتے تھے ۔ چنانچہ وہ آزاد ہونے والے دونوں ملکوں کے درمیان پُرامن تہذیبی توازن کو قائم رکھنے کیلئے اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے اچھائی کی آواز بلند کرنا چاہتے تھے تاکہ انتہا پسند ہندوؤں کی سازشوں کے آگے انسانی حقوق کا بند باندھ کر آزادی کے خوشگوار ماحول کو دونوں ملکوں میں یادگار بنایا جاسکے ۔ قائداعظم کیلئے نئی مملکت پاکستان کی سلامتی اور تمام چیزوں سے بالا تر تھی جسے یقینی بنانے کیلئے اُنہوں نے ہر ممکن کوشش کی۔
بہرحال اپنی تمام تر فہم و فراست کو استعمال کرتے ہوئے قائداعظم نے قیام پاکستان سے قبل بھی اقلیتوں کے درمیان معاملہ فہمی کی فکر کو تقویت پہنچانے کیلئے 11 اگست 1947 کی تقریر سے قبل 27 مارچ 1947کو بمبئی چیمبر آف کامرس میں بھارتی ہندوؤں کو مخاطب کرتے ہوئے نئی بننے والی مملکت پاکستان میں ہندوؤں سے مساویانہ سلوک کرنے کا اعلان کیاتھا ۔ اِسی فکر کا اعادہ کرتے ہوئے 14 جولائی 1947 کو نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی ہندو اقلیت کو مخاطب کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا تھا کہ ہندو قیام پاکستان کے حوالے سے غلط پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں کیونکہ پاکستان میں ہندوؤں کی مذہبی ثقافت ، پراپرٹی اور زندگی کا تحفظ کیا جائیگا اور دیگر شہریوں کی طرح اُنہیں مساوی حقوق اور تحفظات مہیا کئے جائیں گے ۔ لیکن بھارتی سیاسی رہنما چونکہ پاکستان کو نقصان پہنچانے پر تُلے ہوئے تھے لہذا اُنہوں نے بھارتی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے ہندوؤں اور سکھوں کو اپنی دولت بھارت میں منتقل کرنے کی ترغیب دینے کے علاوہ مشرقی پنجاب اور دہلی میں باحیثیت مسلمانوں کی جائدادوں پر قبضہ کرنے کیلئے فرقہ وارانہ فسادات کے نام پر ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا جس کے سبب لٹے پٹے لاکھوں مسلمان اپنا سب کچھ ہندوستان میں چھوڑ کر پاکستان آنے پر مجبور ہو گئے۔ بھارتی انتہا پسند تنظیموں نے یہی رویہ کشمیر میں اختیار کیا جہاں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرکے لاکھوں کشمیریوں کو پاکستان میں دھکیل دیا گیا۔بہرحال قائداعظم کی ویژن پاکستان کی قومی سلامتی کے گرد گھومتی نظر آتی تھی وہ ہر قیمت پر پاکستان کو ایک آزاد و خودمختار ملک دیکھنا چاہتے تھے۔ قائداعظم انتہا پسند ہندوؤں اور بیشتر انگریز سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کی پاکستان مخالف فکر سے بخوبی آگاہ تھے چنانچہ اُنہوں نے نئی مملکت خداداد پاکستان کو بنتے ہی تباہی کا شکار بننے سے بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی ۔ وہ جانتے تھے کہ کانگریس نے 3 جون 1947 کے تقسیم ہند کے پروگرام کو دل سے تسلیم نہیں کیا ہے جس کا اظہار عبوری حکومتِ ہند کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے 3 جون کے تقسیم ہند پلان کے حوالے سے آل انڈیا ریڈیو پر اپنی تقریرمیں تقسیم ہند کو عارضی کہتے ہوئے کیا تھا جبکہ کانگریس کی مجلس عاملہ نے بھی تقسیم ہند کے پلان کو تسلیم کرتے ہوئے قیامِ پاکستان کو عارضی قرار دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ پاکستان پھر سے ہندوستان میں شامل ہو جائیگا جبکہ کانگریس حکومت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل نے انتہا پسند ہندوؤں (ہندو مہا سبھا اور آر ایس ایس) کی ایک خفیہ بیٹھک میں یہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا تھا کہ برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کیلئے تقسیم ہند کے پلان کی منظوری ضروری تھی چنانچہ انگریزوں سے اقتدار کی منتقلی کے بعد بھارت کی صبحِ آزادی کی طاقت کے سامنے پاکستان شب کی شبنم کی صورت تحلیل ہو جائیگا۔بلاشبہ پاکستان کے خلاف یہ منصوبہ بندی نہرو۔ماؤنٹ بیٹن گٹھ جوڑ کے پس منظر میں کی جا رہی تھی۔ جدید تحقیق سے اِس اَمر کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ 1947 میں برطانوی پارلیمنٹ میں ہندوستان کی آزادی کے بل پر تقریر کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم لارڈ اٹیلی نے کہا تھا کہ برصغیر ہندوستان کو دو ملکوں میں تقسیم کرکے آزاد کرنا ایک عارضی عمل ہے چنانچہ آزادی کے بعد دونوں قومیں ایک بڑی ڈومینین کی حیثیت سے متحد ہو کر دولت مشترکہ میں شامل ہو جائیں گے ۔
درحقیقت یہی وہ بھارتی سازشی ذہن تھا جس کے تحت انتہا پسند ہندوؤں نے سکھ انتہا پسندوں سے مل کر 15 اگست 1947 میں کراچی میں جشن آزادی کے موقع پر قائداعظم کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔ اِسی سازش کے تحت نئی قائم ہونے والی مملکت پاکستان کے دارلحکومت کراچی کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے نئی دہلی سے کراچی سامان اور سٹاف لے جانے والی سپیشل ٹرینوں کو مشرقی پنجاب میں دھماکوں سے اُڑانے کی سازش کی گئی جسے اسپیشل برانچ پنجاب کے باضمیر انگریز چیف کیپٹن جیرالڈ سیوج نے قیام پاکستان سے دو ہفتے قبل انتہا پسند سکھ لیڈر ماسٹر تارا سنگھ اور آر ایس ایس کی سازش کو بے نقاب کر کے ناکام بنا دیا تھا ۔حیرت کی بات ہے کہ کیپٹن جیرالڈ سیوج کی رپورٹ جب انگریز گورنر پنجاب کے سامنے پیش کی گئی تو سر ایون جنکنز نے کیپٹن سیوج کو سیل شدہ رپورٹ کے ہمراہ وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے پاس بھیج دیا جہاں لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کانگریسی لیڈر سردار ولھ بھائی پٹیل، جواہر لال نہرو ، لیاقت علی خان اور قائداعظم کی موجودگی میں کیپٹن سیوج کی رپورٹ کے مندرجات اور بیان سننے اورانتہائی سنجیدہ معاملے پر غور کرنے کے بعد ماؤنٹ بیٹن نے اپنے سٹاف آفیسر کو کہا کہ وہ گورنر پنجاب کے نام ایک خط تیار کریں جس میں وہ ایون جنکنز کو یہ مشورہ دیں گے کہ باؤنڈری کمیشن ایوارڈ کے اعلان کیساتھ ہی سکھ انتہا پسند لیڈر ماسٹر تارا سنگھ اور دیگر ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے۔حیرت ہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے نہ ہی پنجاب باؤنڈری کمیشن ایوراڈ جس کا اعلان تقسیم ہند سے قبل ہی کیا جانا چاہیے تھا کا اعلان کیا گیا اور نہ ہی اِس نوعیت کا کوئی خط انگریز گورنر پنجاب کے نام تحریر کیا گیا۔ البتہ لیاقت علی خان کی جانب سے گورنر سندھ کو صورتحال کا نوٹس لینے کا ضرور کہا گیا جس کے نتیجے میں کچھ انتہا پسند سکھ اور آر ایس ایس کے انتہا پسند کارکن بشمول ایل کے ایڈوانی اور جسونت سنگھ تھرپارکر سے سرحد عبور کرکے ہندوستان چلے کئے۔جسونت سنگھ جو عمر کوٹ میں راجپوت قبیلے کے سردار رانا چندر سنگھ کے قریبی خون کے رشتہ دار تھے نے رانا چندر سنگھ کو بھی ترغیب دی کہ وہ بھی اپنی دولت لیکر اُن کیساتھ ہندوستان چلیں لیکن رانا چندر سنگھ نے اپنی جنم بھومی چھوڑنے سے انکار کردیا اور کہا کہ اُنہیں قائداعظم کی لیڈر شپ پر مکمل بھروسہ ہے۔یہی وہ منظر نامہ تھا جب ماسٹر تارا سنگھ اور آر ایس ایس کے انتہا پسندوں نے دہلی، پنجاب اور کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام کرکے لاکھوں لٹے پٹے مسلمانوں کو پاکستان ہجرت کرنے پر مجبورکرکے پاکستان پر اقتصادی دباؤ ڈالنے اور پاکستان کو معاشی طور پر ناکام ریاست بنانے کی کوشش کی ۔ اِسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ آزادی کے ایک ماہ کے بعد ہی ستمبر 1947 میں پاکستان میں سیاسی خلفشار پیدا کرنے کی نیت سے سابق صوبہ سرحد میں پختونستان علیحدگی کی تحریک اور مشرقی پاکستان میں اُردو زبان کے خلاف مزاحمتی تحریکیں شروع کی گئیں ۔ اکتوبر 1947 میں بھارت نے مسلم اکثریتی ریاست کشمیر میں فوجیں داخل کیں جبکہ بلوچستان میں مارچ 1948 میں خان آف قلات کو بغاوت پر اُکسایا گیا لیکن قائداعظم نے اپنی سیاسی بصیرت اور فہم و فراست سے اِن تمام مسائل پر قابو پایا ۔
درج بالا تناظر میں قائداعظم نے افغانستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف واحد ووٹ دئیے جانے کے بعد نواب سعید اللہ خان کو اپنے ذاتی نمائندے کے طور پر ظاہر شاہ کے دربار میں کابل بھیجا جس سے دونوں ملکوں کے درمیان بہت سی غلط فہمیوں کا تدارک ہوا اور افغانستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف دئیے جانے والے منفی ووٹ کو اکتوبر 1947 میں واپس لے لیا۔اِسی طرح قائداعظم نے بیماری اور پیرانہ سالی کے باوجود مارچ 1948 میں سابق مشرقی پاکستان کا دورہ کیا جہاں اُن کے دورے کے دوران اُردو زبان کے خلاف تحریک کی شدت ختم ہوئی۔ جبکہ خان آف قلات نے بلوچستان کی ریاست خاران، مکران اور لس بیلہ کی پاکستان سے الحاق کے بعد قائداعظم سے اپنی پرانی دوستی کے حوالے سے ریاست قلات کی پاکستان سے الحاق کی خواہش کا اظہار کیا چنانچہ قائداعظم نے مشرقی پاکستان سے واپسی پر ریاست قلات کی پاکستان میں شمولیت کی دستاویز پر دستخط کرکے خان آف قلات کی پاکستان سے الحاق کی درخواست کو قبول کرلیا۔اِسی طرح قاائداعظم نے قبائلی عوام کی وفاداری کو پیش نظر رکھتے ہوئے قبائلی علاقوں سے فوج واپس بلانے ک اعلان کیا چنانچہ قائداعظم کی سیاسی بصیرت کو دیکھتے ہوئے سابق صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں کے غیور پٹھانوں نے باچا خان کی پختونستان کی تحریک کو ناکام بنا دیا۔
قائداعظم سیاسی معاملہ فہمی سے اِن تمام سازشوں پر قابو پانے کے باوجود پاکستان کی معیشت کو ایک کامیاب ریاست بنانے کیلئے ضروری سمجھتے تھے ۔ چنانچہ وہ نئی مملکت میں غربت و افلاس کو ختم کرنے کیلئے پاکستان کو اسلامی ویلفیئر ریاست بنانا چاہتے تھے ۔ جہاں تک پاکستان کے خلاف ازلی دشمن کی سازشوں کا تعلق ہے اِن بھارتی سازشوں کا تذکرہ قائداعظم نے آزادی کے ایک برس کے بعد آزادی کی پہلی سالگرہ کے موقع پر اپنے بیان میں کہا تھا : ” ہم نے سال بھر کے حوادث کا مقابلہ حوصلہ و عزم سے کیا ۔ دشمن کے وار جن کا ذکر بار بار کیا جا چکا ہے خصوصاً مسلمانوں کو بحیثیت قوم ختم کرنے کی منظم سازش کے خلاف جو کامیابی ہم نے حاصل کی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ اِس نوزائیدہ مملکت کو پیدا ہوتے ہی دیگر طریقوں سے گلا گھوٹنے کی ناکام کوشش میں ہمارے دشمنوں کو یہ اُمید تھی کہ اُن کی دلی منشا اقتصادی چالبازیوں سے پوری ہو جائیگی ۔ اِن تمام دلائل اور براہین سے کام لیکر جو بغض و عداوت کی بنیاد پر تراشی جا سکتی تھیں یہ پیش گوئیاں کی جانے لگیں کہ پاکستان دیوالیہ ہو جائیگا اور دشمن کی شمشیر و آتش جو مقصد حاصل نہ کر سکی وہ اِس مملکت کی مالی تباہی سے حاصل ہو جائیگی مگر ہماری برائی چاہنے والے اِن سیاسی نجومیوں کی تمام پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں اور ہمارے پہلے ہی بجٹ میں بچت ہوئی اور ہماری تجارت کا توازن ہمارے حق میں رہا ” ۔ درحقیقت قائداعظم پاکستان میں اسلامی فلاحی نظام کو قائم کرنا چاہتے تھے جس میں امیر اور غریب کے درمیان فاصلوں کو کم کیا جائے ۔ وہ چاہتے تھے کہ ملک سے رشوت ، بدعنوانی ، کرپشن اور اقربہ پروری کو آئینی ہاتھ سے کچل دیا جائے۔صد افسوس کہ بانیانِ پاکستان کے دنیائے فانی سے جلد رخصت ہونے کے بعد حکمرانوں نے قائداعظم کی ویژن کو پس پشت ڈالتے ہوئے ملک میں ذاتی مفادات کے تحفظ کیلئے نہ صرف کرپشن، بدعنوانی اور اقربہ پروری کو فروغ دیا بلکہ آمرانہ روش اختیار کرتے ہوئے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ گزشتہ چند عشروں میں تو حکمرانوں نے نظام حکومت کی تمام حدوں کو ہی کراس کر دیا چنانچہ کرپشن اور منی لانڈرننگ کے ذریعے ملکی دولت کو بیرونی ممالک میں انوسٹ کرنے اور جائدادیں بنانے کیلئے سیاست کو نہ صرف جرائم سے آلودہ کردیا بلکہ ذاتی مفادات اور بیرونی ایجنڈوں پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کی معیشت کو غیر معمولی بیرونی قرضوں کے جال میں جکڑ کر رکھ دیا جبکہ عوام غربت و افلاس کی چکی میں پس کر بے حال ہوچکے تھے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب عمران خان نے تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے ملک میں جناح و اقبال کی ویژن کو عام کرنے کیلئے نیا پاکستان بنانے اور پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کیلئے جدوجہد کا آغاز کیا۔ چنانچہ عمران خان کی اِس جدوجہد کے ذریعے عوام میں ملکی صورتحال کی بخوبی آگہی ہوئی تو پھرعوام میں جرائم سے آلودمافیائی سیاست سے آزادی حاصل کرنے کی لہر بھی پیدا ہوئی جس کے سبب فاٹا سے کراچی تک قوم جاگ اُٹھی اور الیکشن 2018 نے اِس عوامی جدوجہد میں سنگ میل کی حیثیت اختیار کر لی۔ درحقیقت عمران خان نے اپنی جدوجہد کے تسلسل سے کرپٹ مافیا کو شکست دے کر جناح و اقبال کی ویژن کو آگے بڑھانے کیلئے نیا پاکستان بنانے کی کوشش کی ہے ۔ چنانچہ قوم کی نظریں اب عمران خان کی جدوجہد کے ثمر دیکھنے کی منتظر ہے جو آئندہ چند دنوں میں وزیراعظم پاکستا ن کی حیثیت سے حلف اُٹھانے والے ہیں۔ اللہ ہمارا حافظ و ناصر ہو۔

95
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...