بھارت میں (2014) میں انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نئے چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کی سرپرستی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی لیڈرشپ نریندرا مودی کی قیادت میں منتقل کئے جانے کے بعد جب سے انتہا پسند ہندو توا مرکزی حکومت قائم ہوئی ہے کشمیری مسلمانوں پر بل خصوص ظلم و استبداد کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ وادیء کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم پیلٹ گنوں سے کشمیری نوجوانوں ، طالب علموں ، خواتین و بزرگ شہریوں کے چہروں کو مسخ کرنے اور بیشتر کو اندھا بنانے اور غیر انسانی سلوک کی انتہا کئے جانے کے باوجود ہر نئے ظلم کیساتھ کشمیریوں کا جذبہ آزادی بلند تر ہی ہوتا جا رہا ہے۔ جبکہ نریندرا مودی حکومت بھارتی فوج کے غیر معمولی ظلم و ستم کے باوجود کشمیریوں کی آزادی کی اُمنگ کوختم کرنے میں ناکامی کا شکار ہے اور اب نِت نئے ہتھکنڈوں سے وادیء کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے اور کشمیرکو بھارت میں جذب کرنے کیلئے بھارتی آئین میں وادیء کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے درپے ہے چنانچہ اب بھارتی آئین کے آرٹیکل 35A کو ختم کرکے بھارتی شہریوں کو کشمیر میں زمینیں خریدنے اور کشمیر میں بسانے کی اجازت دینے کی آڑ میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش میں مصروف عمل ہے۔ چنانچہ گزشتہ دنوں یعنی پانچ اگست 2018 کے دن بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے وادی کشمیر میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 35A کے تحت غیر کشمیریوں کو زمین خریدنے کی اجازت دینے کے حوالے سے متوقع فیصلے کے خلاف وادی کشمیر میں بھارتی فوج کی ظالمانہ کاروئیوں کے باوجود عوامی ریلیاں نکالی گئیں اور مکمل ہڑتال کی گئی جسے محسوس کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کو 27 اگست تک موخر کر دیا ہے۔
اگر تاریخ کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھا جائے تو تقسیم ہند کے ایجنڈے میں نا انصافیوں کی داستان رقم کرنے کیلئے بھارت کے پہلے وزیراعظم آنجہانی جواہر لال نہرو اور برطانوی حکومت ہند کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے گٹھ جوڑ نے مسئلہ کشمیر کو جنم دیا تھا۔ برطانوی حکومت ہند کی بیان کردہ تقسیم ہند کی پالیسی کے مطابق جب مسلمانان کشمیر نے نئی قائم ہونے والی ریاست پاکستان کے ساتھ کشمیر کے الحاق کی خواہش کا اظہار جموں کشمیر میں مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آزاد جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی قیادت میں سرینگر میں 19جولائی 1947 کو ایک بڑی عوامی ریلی منعقد کرکے ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کیساتھ الحاق کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی تو نہرو ماؤنٹ بیٹن سازش کے تحت کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونے سے روک دیا گیا۔ جبکہ تقسیم ہند کے برطانوی فارمولے کے تحت کشمیر کا مستقبل جغرافیائی ، مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے نئی قائم ہونے والی مسلم مملکت پاکستان کے ساتھ وابستہ تھا۔ پاکستان میں بہنے والے تمام دریا وادئ کشمیر کی مختلف جھیلوں اور گلیشیئز کے مرہون منت ہیں اور پاکستان کی زراعت کا تمام تر دار ومدار انہی دریاؤں سے نکلنے والی نہروں پر ہے۔ تقسیم ہند کے وقت ریاست جموں و کشمیر ، وادی کشمیر ، لداخ اور جموں پر مشتمل تھی ۔ سب سے زیادہ آبادی والا علاقہ وادی کشمیر تھا جہاں مسلمان کل آبادی کا 95%فی صد تھے۔ لداخ میں تقریبا 51%فی صد بدھ مت کے پیروکار تھے 46%فی صد مسلمان اور ہندو محض 3%فی صد تھے ۔ جموں کے علاقے میں مسلم اکثریت کے علاقوں ڈوڈ اور راجوڑی کو چھوڑ کر ہندو اور سکھ اکثریت میں تھے۔ اس طرح مجموعی طورپر مسلمان، ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی کا 78%فی صد تھے اور یقینی طور پرتقسیم ہند کے ایجنڈے کے مطابق ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے منتظر تھے۔
حقیقتاً ڈاکٹر موہن بھگوت کشمیر کو بھارت ماتا میں جذب کرنے کیلئے جنونی کیفیت کے مالک ہیں اور عرصہ دراز سے اکھنڈ بھارت کی فکر پر عمل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ چنانچہ انتہا پسند ہندو توا کے حوالے سے اکھنڈ بھارت کی فکر کو مہمیز دینے کیلئے اُنہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے عسکری ونگ آر ایس ایس ( جس کے مسلح رضاکاروں کی تعداد بھارت میں دس لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے) کے سابق چیف سدرشن سنگھ کے سبکدوش ہونے پر جب ڈاکٹر موہن بھگوت نے آر ایس ایس کی باگ دوڑ سنبھالی تو 2013 کی وجے دشمی کانفرنس میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ سنگھ پریوار کی تمام انتہا پسند تنظیموں بشمول شیو سینا ، وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل ، ہندو توا سولجرز، زعفرنی تائیگرز اور ہندو توا یونیٹی کی شکل میں اکھٹا کیا جائیگا تاکہ الیکشن 2014 کے ذریعے بھارت کو ہندو ریاست بنانے اور بھارتی مسلمانوں اور کشمیر کو طاقت کے زور پر بھارت میں جذب کرنے کی حکمت عملی اپنائی جاسکے۔ اِس سلسلے میں ڈاکٹر موہن بھگوت نے 2013 میں ہندو توا کی سفارشات مرتب کرنے اور سنگھ پریوار کی جماعتوں کے اتحاد کو مضبوط بنانے کیلئے اِن تنظیموں کے مفکرین کی حمایت سے خفیہ حکمت عملی کا تعین کرنے کیلئے کولکتہ ، نئی دہلی، بنگلور اور احمدآباد میں چار سیمینار منعقد کئے جن میں صحافیوں کو آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ چنانچہ پہلے مرحلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی پرانی قیادت بشمول اٹل بہاری واجپائی ، ایل کے ایڈوانی اور جسونت سنگھ کو سائڈ لائین کرتے ہوئے ڈاکٹر موہن بھگوت نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت اپنے وفادار شاگرد راج ناتھ سنگھ کے حوالے کردی جبکہ 2014 کے انتخابات میں اینٹی پاکستان اور اینٹی مسلم منشور کو آگے بڑھانے کیلئے گجرات احمد آباد میں مسلمانوں کے قاتل نریندرا مودی کو مرکزی قیادت سونپ دی گئی ۔ ڈاکٹر موہن بھگوت کی اِسی اینٹی پاکستان اور اینٹی مسلم ڈاکٹرائین کے تحت نریندرا مودی نے الیکشن 2014 میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی چنانچہ نریندرا مودی نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد وادی کشمیر میں ظلم و ستم کی انتہا کردی۔ بھارتی افواج نے تواتر سے پیلٹ گنوں کے ذریعے کشمیری نوجوانوں ، خواتین اور بزرگوں کے چہرے چھلنی کرنے شروع کئے جبکہ ٹارچر سیلوں میں نہ صرف کشمیری نوجوانوں کا قتل عام اور بدترین انسانی تشدد کا بازار گرم کیا گیا بلکہ کشمیری خواتین کیساتھ بھی انتہائی غیرانسانی اور غیر اخلاقی سلوک کیا گیا ۔گو کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو کشمیر میں رسائی نہیں دی جارہی ہے لیکن مستند ذرائع کی مدد سے انسانی حقوق کی تنظیم ایشیا واچ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے اپنی تحقیقی رپورٹوں میں بل خصوص کشمیری خواتین اور نوجوانوں پر ہونے والے جن انسانیت سوز مظالم کی تفصیل بیان کی ہے اُسے پڑھ کر تو شیطان بھی شرماتا ہے جس کے بارے میں بھارتی صحافی اور سیاسی دانشور خشونت سنگھ نے اپنے ایک کالم،، شرم سے جھکے سر،، میں لکھا تھا کہ کشمیریوں کے پاس اِس بات پر یقین کرنے کے ٹھوس شواہد ہیں کہ ہندوستان گذشتہ کئی دھائیوں سے اپنی ساکھ کھوتا جا رہا ہے ۔ گذشتہ 14 برسوں میں 75 ہزار کے قریب کشمیری ہلاک کئے جا چکے ہیں ، چھ ہزار کے لگ بھگ نوجوان گمشدہ ہیں جبکہ تین لاکھ سے زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں ۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کشمیری عوام بھارت کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں تو آپ حمیرہ قریشی کی کتاب The untold story کا مطالعہ کریں ۔ یہ جرأت مند خاتون ہر دو ماہ بعد وادی کا دورہ کرتی رہی اور وہاں کے متاثرہ اور عام لوگوں کے تاثرات اور خیالات قلم بند کرتی رہیں ۔ اُن کی بیان کردہ روداد کو میں نے پڑھا تو ظلم و تشدد کا ہر منظر میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے ۔ آپ یقین کیجئے کہ آج ہمارے سر شرم سے جھکے ہیں ۔
حیرت کی بات ہے انسانی حقوق کی انجمنوں اور بھارتی شہریوں کی جانب سے کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کی پُر زور مذمت کئے جانے کے باوجود گزشتہ چند برسوں میں بھارت سے تجارت کے سامنے ہر کور ایشو کو بھلا دینے کی تاجر ذہنیت کے مالک سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے جو اپنے آپ کو کشمیری کہلانے سے بھی گریز نہیں کرتے تمام تر صورتحال کا علم ہونے کے باوجود 2014 میں نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حلف وفاداری کی تقریب میں نہ صرف خصوصی طور پر شرکت کی بلکہ لندن پوسٹ کی مستند رپورٹ کیمطابق میاں نواز شریف نے نریندر مودی کی حلف وفارادی کی تقریب کے بعد بھارتی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال کی فیملی کی جانب سے دی گئی چائے کی ایک خصوصی دعوت میں شرکت کی جس کی فیملی فوٹو بھی لندن پوسٹ نے ڈیٹ لائین 16 جون 2014 کے حوالے سے شائع کی ۔ لندن پوسٹ نے چائے کی اِس دعوت کے حوالے سے یہ سوال کوئی جواب دئیے بغیر شائع کیا تھا کہ “Why Sharif skipped meeting Hurriat leaders but attended steel baron tea party.” ۔ یعنی جناب نواز شریف نے کشمیری حریت قیادت کو چھوڑ کر بھارتی اِسٹیل ٹائیکون کی چائے کی دعوت میں کیونکر شرکت کی۔ اِسی طرح سارک کانفرنس کے موقع پر نیپال میں نواز مودی مبینہ خفیہ ملاقات کا تذکرہ معروف بھارتی صحافی برکھا دت نے کیا تو یہی سجن جندال کھٹمنڈو میں بھی موجود تھے۔ 25 دسمبر 2015 میں بھارتی وزیراعظم نریندو مودی اچانک لاہور تشریف لائے تو بھی سجن جندال اپنی فیملی کے ہمراہ وزیراعظم کی نواسی کی شادی میں شرکت کیلئے لاہور میں موجود تھے۔ اندریں حالات، بھارتی لکھاری برکھا دت کی کتاب میں نیپال میں سارک کانفرنس کے موقع پر نواز مودی خفیہ مذاکرات کے حوالے سے دی گئی تفصیلات بھی کافی معنی خیز ہیں ۔ اِن تفصیلات کے حوالے سے یہ اَمر حیران کن ہے کہ سارک کانفرنس سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے مبینہ طور پر وزیراعظم نواز شریف سے نیپال میں خفیہ ملاقات کرانے کا اہتمام کرنے کا ٹاسک بھی سجن جندال کو ہی دیا تھا جس کیلئے لندن میں مقیم اُن کے صاحبزادے نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ صد افسوس کہ ایک ایسے مرحلے پر جبکہ کشمیر میں بھارتی مظالم اپنی انتہا کو پہنچ چکے تھے اور کشمیر کنٹرول لائین پر فائر بندی کی خلاف ورزی روزمرہ کا معمول بن چکی تھی نواز شریف حکومت اور کشمیر کمیٹی کے مولانا فضل الرحمن کی خاموشی نہ صرف پاکستان کے علاقائی مفادات کے منافی رہی بلکہ ڈان لیکس اور نواز شریف کے فوج اور عدلیہ کے خلاف بیانات خطے میں بھارتی ایجنڈے کی حمایت کے مترادف ہی رہے۔چنانچہ بھارت کشمیر کو بھارت میں جذب کرنے کی وحشیانہ پالیسی پر آج بھی گامزن ہے۔ البتہ پاکستان الیکشن 2018 کے متوقع وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی وزیراعظم کے تہنتی فون کے جواب میں یہ کہناکہ بھارت اگر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ایک قدم آگے بڑھائے گا تو ہم دو قدم آگے آنے کیلئے تیار ہیں، خوش آئند بات ہے۔

32
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...