گزشتہ روز چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کو دُوہری شہریت کے حامل افسران کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہ اُنہیں مجبور نہ کیا جائے کہ وہ خود قانون کو اَپ ڈیٹ کریں کیونکہ دُوہری شہریت کے حامل افسران اور کچھ جج ملک کے حساس محکموں میں تعینات ہیں ۔ اُنہوں نے سیکریٹری دفاع سے جواب طلب کیا ہے کہ اُنہیں بتایا جائے کہ اگر فوج میں بھی دُوہری شہریت کے افراد موجود ہیں۔ مبینہ طور پر یہ کہا گیا ہے کہ اب تک کی تحقیقات کیمطابق سویلین حساس محکموں بشمول ،،نادرا،، میں 1116 افسران اور 1249 افسران کی بیگمات دُوہری یا غیرملکی شہریت کی حامل ہیں جبکہ سول اسٹیبلشمنٹ کوڈ کیمطابق کسی بھی سول آفیشل کیلئے دُوہری شہریت کا حصول تو ایک طرف رہا اُنہیں حکومت کی پیشگی اجازت اور ایجنسیوں کی تحقیقات کے بغیر کسی غیر ملکی خاتون سے شادی کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 63(1)(c) کے تحت کسی بیرونی ریاست کی شہریت حاصل کرنے والا شخص پارلیمنٹ کا ممبر بننے کیلئے نااہل تصور کیا جائیگا۔پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس حساس محکموں میں دُوہری شہریت کے حامل افراد کی موجودگی کو اِس لئے بھی ایک خوفناک رجحان سمجھتے ہیں کیونکہ ملک میں اہم منصبوں پر فائز دُوہری شہریت رکھنے والی سیاسی شخصیتوں کے بیرونی مخصوص مفادات کے باعث ملک میں بیرونی طاقتوں کا عمل دخل بڑھ گیا ہے جس نے پاکستانی سیاسی افق پر مزید اُلجھنیں پیدا کر دی ہیں ۔ اِس اَمر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دیگر ملکوں کے شہریوں کی طرح پاکستانی شہریوں کو بھی غیر ملکی شہریت دئیے جانے سے قبل بل خصوص امریکہ ، کینیڈا، برطانیہ اور یورپ میں اجتمائی طور پر حلف اُٹھانا پڑتا جس میں مہمان ملک سے تمام تعلق ختم کرتے ہوئے میزبان ملک کے آئین، قانون اوراسٹیٹ کرافٹس پر عمل درامد لازمی قرار دیا گیا ہے جس میں میزبان ملک کے سیکیورٹی اداروں کیلئے کام کرنا شامل ہے۔ بل خصوص امریکہ میں نائین الیون کی دہشت گردی کے بعد اِن قوانین کو زیادہ سخت کر دیا گیا ہے۔اِس دوران بیرونی ایجنسیوں سے منسلک صحافیوں اور اہم کتابوں کے مصنفین نے دنیا بھر میں مغربی فکر کو پھیلانے اور تیسری دنیا کے ملکوں میں مغربی فکر و نظر کو مہمیز دینے کیلئے نہ صرف پرائیویٹ ایجنسیوں کے ذریعے ہزاروں ایجنٹوں کی بھرتی اور اُن سے کام لینے کا تذکرہ کیا ہے بلکہ ایسے اہم افراد کو اُن کے اپنے ملکوں میں بھی مغربی ایجنڈے کو تقویت پہنچانے کیلئے اہم محکموں میں مقامی سیاسی قیادت کی مدد سے داخل کرنے تذکرہ کیا ہے۔ یہ خبر اور بھی زیادہ تشویش ناک ہے کہ نواز شریف دور میں مبینہ طور پر 298 بھارتی شہریوں کو ایجنسیوں کی تفتیش و تحقیق کے بغیر پاکستانی شہریت دی گئی۔
درج بالا تناظر میں گزشتہ دس برس میں دوہری شہریت یا غیر ملکی شہریت کے حامل افراد کی ملک کے اہم عہدوں پر تعیناتی معمول کا معاملہ بن کر رہ گئی ہے۔ چنانچہ حکمران گزشتہ برسوں سے یہی کہتے آئے ہیں کہ آئین میں دُوہری شہریت کے خلاف کوئی قدغن نہیں لگائی گئی ہے جبکہ ماضی میں آرٹیکل 63 (1) (c) کے تحت عدالت عظمیٰ نے آئین کی صریحاً خلاف ورزی پر پارلیمنٹ میں دُوہری شہریت رکھنے والے ارکان کی رکنیت کا نوٹس لیا تھااور ایک رکن پارلیمنٹ فرح ناز اصفہانی کی پارلیمنٹ کی رکنیت بھی معطل کی تھی۔ البتہ ملکی سیاسی قیادت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے نہ صرف دُوہری شہریت کے حامل افراد کو تحفظ دیتی رہی بلکہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ بھی ایسے ممبران پارلیمنٹ کے کیس الیکشن کمیشن کو بھیجنے میں تساہل پسندی سے کام لیتے رہے ۔ ماضی میں رحمن ملک کا کیس بھی عدلیہ کے سامنے آیا تھا لیکن کہا گیا کہ رحمن ملک نے برطانوی شہریت چھوڑ دی ہے جبکہ وہ 2008 میں عدالت عظمیٰ کو برطانوی شہریت ترک کرنے کے حوالے سے کوئی مستند ثبوت پیش نہیں کر سکے تھے ۔ سابق صدر آصف علی زرداری حکومت کے دوران فرح ناز اصفہانی امریکی شہریت رکھنے کے باوجود کئی برسوں تک نہ صرف پارلیمنٹ کی اِن کیمرہ اور اوپن کاروائیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں بلکہ منصب صدارت پر فائز آصف علی زرداری کے سیاسی ترجمان کے فرائض بھی سرانجام دیتی رہی ہیں جبکہ اُن کے شوہر حسین حقانی جو عدالت عظمیٰ سے میمو گیٹ کیس میں بھگوڑے ہیں اپنے آپ کو اب بھی پاکستانی کہتے ہیں میمو گیٹ اسکینڈل کے سامنے آنے تک امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں ۔ چنانچہ جو سلسلہ صدر زرداری کے زمانے میں بلا تحقیق امریکی و بھارتی دُوہری شہریت کے مالک افراد کو بلا کسی ایجنسی کی تحقیق اور کلیئرنس کے پولیس رپورٹنگ سے استثنی ویزا جاری کرنے کا سلسلہ واشنگٹن اور دبئی سے شروع کیا گیا تھا اُسے نواز شریف دور میں نہ صرف جاری رکھا گیا بلکہ بیشتر اہم محکموں میں بھی دُوہری شہریت کے حامل افراد کی تعیناتی کو بھی مہمیز ملی۔ سپریم کورٹ کو اِس اَمر پر بھی تشویش ہے کہ دُوہری شہریت رکھنے والے اِن افراد کو نہ صرف قومی خزانے سے غیر معمولی تنخواہوں سے نواز گیا بلکہ ملک میں مافیائی نظام قائم کرنے کیلئے تین لاکھ کے قریب سرکاری ملازموں کو بھی دوگنا یا تین گنا تنخواؤں سے نوازا گیا ۔ پنجاب حکومت اِس معاملے میں ایک قدم آگے بڑھ گئی جہاں ہم خیال ریاستی افسران کی قیادت میں 56 کمپنیوں کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں اعمال کو غیر معمولی تنخواؤں کے عوض کرپشن اور بدعنوانی کو فروغ دیا گیا جس کے سبب قومی خزانے کو بدترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا جسے بیرونی اور گردشی قرضوں سے پورا کیا گی نتیجتاً ملک کی معاشی حالت انتہائی تباہ کن پوزیشن پر پہنچ گئی ہے جسے اب بین الاقوامی ادارے پاکستان پرپا بندیاں لگانے کے حوالے سے مانیٹر کر رہے ہیں۔
حقیقت یہی ہے کہ دنیا پھر میں کوئی بھی ملک بل خصوص امریکہ غیر ملکیوں کو اُس وقت تک اپنی شہریت نہیں دیتا جب تک وہ (1) اپنے ملک کی شہریت کو کلی طور پر خیرباد نہ کہہ دیں (2) وہ اِس اَمر کا اقرار نہ کریں کہ وہ جس ملک کی شہریت اختیار کر رہے ہیں اُس کے آئین و قانون کے وفادار رہیں گے اور اُس کا دفاع کریں گے (3) ضرورت پڑنے پر اُس ملک کے دفاعی اور سویلین سروسز کیلئے بلا اعتراض کام کریں گے (4) اگر اُنہیں سول انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا تو وہ نئے ملک کے شہری کی حیثیت سے سویلین ڈائرکشن پر قومی اہمیت کے آپریشنز میں بغیر کسی ذہنی رکاوٹ کے کام کریں گے یعنی اگر اُنہیں کہا جائے کہ وہ خود اپنے سابقہ ملک کے بارے میں کسی خفیہ آپریشن میں حصہ لیں تو وہ انکار نہیں کریں گے ۔ قارئین کرام ، دُوہری شہریت سے متعلق درج بالا بیان کی گئی مختصر سی روداد سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بیرونی شہریت کے حصول کے بعد بیرونی اشاروں پر کام کرنے والے اِن دُوہری شہریت کے حامل افراد سے پاکستان کی فلاح اور بھلائی کی کیا اُمید کی جا سکتی ہے جبکہ اِن میں سے بیشتر پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے بجائے مبینہ طور پر بیرونی قوتوں کے مخصوص مفادات کیلئے کام کر رہے ہوں ۔ فرح اصفہانی کیس سے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ کیا موجودہ شکل میں 1973 کا آئین غیر ملکی شہریوں کی پارلیمنٹ کی مقتدر نشستوں پر دخول کو رونے میں ناکام ہوگیا ہے اور کیا غیر ملکیوں کو پاکستانی اسمبلیوں میں بیٹھ کر قوم کی تقدیر سے کھیلنے کی مکمل آزادی ہے ؟ گذشتہ چار برس میں آئین کے تقدس کو قائم رکھنے کیلئے الیکشن کمیشن اِس آئینی خلاف ورزی کو روکنے کیلئے کیا کرتا رہاہے ، ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم اغیار کے اِس کھیل میں کیونکر شریک ہیں اور اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے سے پہلوتہی کیوں کرتے رہے ہیں ؟ عدالت عظمیٰ کی یہ آبزرویشن درست ہے کہ امریکی شہریت رکھنے والی شخصیتیں اگر آج رکن اسمبلی ہیں تو کل کو وہ وزارت عظمیٰ اور منصب صدارت پر بھی فائز ہو سکتی ہیں ۔ بہرحال پاکستان میں نئے انتخابات میں عوام نے پاکستان کی سلامتی سے کھیلنے والے سیاست دانوں کو ناکامی سے دوچار کر دیا ہے اور اُمید ہے کہ نئی حکومت ریاستی پروٹوکول اور کیبنٹ کے غیر معمولی اخراجات میں کمی کرکے صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کریگی۔
پاکستان میں دوہری شہریت کا مسئلہ اِس لئے بھی گھمبیر شکل اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ دوہری شہریت کے حامل افراد کیلئے بیرونی ممالک میں ذاتی اکاؤنٹ کھولنا اور اِن اکاؤنٹس میں پاکستان سے رقومات منتقل کرنا کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے جبکہ دوہری شہریت کے حامل افرادکی حمایت میں ایسی سیاسی شخصیتیں پیش پیش نظر آتی ہیں جو بیرونی ممالک کے ایجنڈے پر عمل درامد کے حوالے سے نظریہ پاکستان کے حامی عام لوگوں کو قومی سلامتی سے بدظن کرنے کیلئے قانون و آئین کے منافی نِت نئی سیاسی موشگافیاں استعمال کرنے میں پیش پیش ہیں حتیٰ کہ ملک میں الیکشن 2018 کے بعد عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے بجائے دھاندلی کی سیاسی موشگافیوں میں اُلجھانے میں مصروف رہے ہیں۔ درحقیقت مسلمہ جمہوری روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کسی بھی عام انتخابات میں ماضی کی حکومت کی کارکردگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے یا ماضی کی حکومت کو دوبارہ مینڈیٹ دینے کے حوالے سے ہی فیصلہ کرتے ہیں ۔البتہ جمہوری ملکوں میں ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ سیاسی جماعتیں عوام کے مینڈیٹ کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کریں۔ حقیقت یہی ہے کہ ملک میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی ڈیل کی پالیسی کے دس سالہ پُرآشوب دورِ حکومت میں حکمرانوں نے سیاست کو کرپشن ، بدعنوانی اور اقربہ پروری کا کاروبار ہی بنا کر رکھ دیا تھا ۔ جبکہ وقت کی بیداری کی لہر کو سمجھتے ہوئے عوام جان چکے ہیں کہ حکمران طبقے نے ملکی آئین و قانون کو موم کی ناک بنا کر ملک میں جمہوری نظام کو مافیائی اجارہ دار اشرافیہ Aristocracy میں تبدیل کر کے عوامی مینڈیٹ کو ہی مسخ کرکے رکھ دیا تھا جہاں ملکی قومی سلامتی کو پس پشت ڈالتے ہوئے یہ مافیائی حکومت دھونس زبردستی اور حکومتی صفوں میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو اشرافیہ کے گلے کا ہار بنا کر بار بار اقتدار کی غلام گردشوں پر قبضہ کرنا ہی اپنا مقصد حیات سمجھتی ہے۔ چنانچہ موجودہ انتخابات کے مکمل نتائج ظاہر ہونے سے قبل ہی اِس مافیائی اجارہ دار اشرافیہ نے انتخابی سیاسی ہار کو تسلیم کرنے کے بجائے جے یو آئی کے مولانا فضل الرحمن ، اے این پی کے اسفند یار ولی، بلوچستان کے محمود اچکزئی ، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ اور ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار پیش پیش تھے جنہوں نے عوامی مینڈیٹ کے خلاف ملک میں احتجاج اور خلفشار کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی جسے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی سیاسی قیادت کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ بہرحال عوام الناس نے سابق حکمرانوں اور اُن کے اتحادیوں کے طاغوتی سیاسی حربوں کو سمجھتے ہوئے ایسی کسی تحریک میں شمولیت سے گریز کیا چنانچہ عوامی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اِن جماعتوں نے بل آخر اسمبلیوں میں جانے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے۔
درحقیقت پاکستانی عوام اپنے وطن کیلئے جان قربان کرنے والی فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول پولیس کے شہیدوں کو کبھی نہیں بھلا سکیں گے جن کے شانہ بشانہ پاکستان کے ستر ہزار سے زیادہ عوام نے بھی جام شہادت نوش کیا ہے۔ پاکستانی عوام اپنے ملک سے محبت کرنے والے لوگ ہیں چنانچہ موجودہ انتخابات میں عوامی ردعمل کرپٹ مافیائی اجارہ دار نظام اور وطن فروشوں کے ایجنٹوں کیخلاف اچھائی کی آواز کے طور پر بلند ہوا ہے۔ عوام ہی نہیں بلکہ ملک کے مقتدر ادارے بھی ملک میں سیلابی پانی کی چادر کی طرح پھیلتی ہوئی کرپشن ، بدعنوانی اور اقربہ پروری سے حیران پریشان رہے ہیں۔ اجارہ دار مافیائی اشرافیہ کی کرپشن کے سامنے قومی نظامِ حکومت کا تسلیم شدہ دائرہ کار (Established State Crafts) ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اور ہر سطح پر یہ محسوس کیا جانے لگا تھا کہ ریاستی نظام اندھیر نگری چوپٹ راج کے محاورے سے بھی آگے نکل گیا ہے لیکن جمہوری ملکوں میں عوام کی رائے سے ہی تبدیلی ممکن ہوتی ہے لہذا چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے ملکی دگرگوں حالات کو محسوس کرتے ہوئے حکومتی اقدامات کو انتہائی زنگ آلود پاتے ہوئے صحت، ہسپتالوں کی حالت زار، صاف پانی، تعلیم اور ریاستی تعلیمی اداروں کی حالت زار ، بیرونی اور گردشی قرضوں کی بد انتظامی ، ڈیموں کی تعمیر سے پہلو تہی اور پنجاب میں سرکاری سرپرستی میں 56 پرائیویٹ کمپنیوں میں کرپشن کی بھرمار کو دیکھتے ہوئے اپنی آبزرویشن دینی شروع کی تو عوام کیلئے یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ اِس مافیائی ریاستی نظام نے ہی ملک میں غربت و افلاس کو آخری حدوں تک پہنچا دیا ہے جسے آنے والے انتخابات کے ذریعے ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے چنانچہ یہی وہ فکر تھی جس نے عمران خان کی تسلسل سے جاری جدوجہد عوامی سطح پر مقبولیت کا سبب بنی اور بل آخر الیکشن 2018 میں اب یہ تبدیلی ممکن ہوتی نظر آ رہی ہے۔
درج بالا تناظر میں مولانا فضل الرحمن ، اسفند یار ولی، محمود خان اچکزئی اور دیگر ہارے ہوئے سیاست دان انتخابی نتائج موصول ہونے کے باوجود عوامی مینڈیٹ اور اپنی شکست کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وہ یہ بھی ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کی کرپشن، منی لانڈرننگ پر مبنی مافیائی پالیسیوں کے انکشافات نے غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزانے والی جمہوری اکثریت کو خدائی قوتوں کی حرمت نے خوابِ خرگوش سے جگا دیا ہے اور اُنہوں نے وزیرستان سے لیکر کراچی تک اپنی ووٹ کی قوت سے اشرافیہ کی اجارہ دار مافیائی طاقت کو شکست دے دی ہے۔درحقیقت ، یہی وہ غربت و افلاس کی ماری ہوئی جمہوری اکثریت ہے جس نے قومی یکجہتی کیساتھ قائداعظم محمد علی جناح کی تحریک پاکستان کا دست و بازو بن کر پاکستان بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان کے یہ غیور عوام جانتے ہیں کہ مولانا مفتی محمود کی قومی سیاسی بصیرت کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن نے اپنی ساری سیاسی زندگی میں قوم اور ملک کی بہتری کے بجائے محض ذاتی مفادات کی سیاست کو ہی ترجیح دی ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ اسفند یار ولی پاکستان کی سربلندی کیلئے کام کرنے کے بجائے بھارتی ایجنڈے پر ہی کام کرتے رہے ہیں ۔ پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ وہ کالا باغ ڈیم کو اپنی لاشوں پر بنانے کی بات تواتر سے کرتے رہے ہیں جبکہ پاک افغان بارڈر (ڈیورنڈ لائین) کے حوالے سے اُن کا موقف بھارت اور شمالی اتحاد کی افغان حکومت کے حوالے سے پاکستان میں سیاسی خلفشار پیدا کرنے کے مترادف ہی رہا ہے ۔اُن کا یہ کہنا کہ ڈیورنڈ لائین کا صفایا کرکے خیبر پختون خواہ ، وزیرستان ، بلوچستان اور افغانستان کے پختون علاقوں پر مثتمل پختونوں کی علیحدہ ریاست قائم کی جائے درحقیقت پاکستان کو توڑنے کے مترادف ہی سمجھا جائیگا ۔ یہی وہ ایجنڈا ہے جس پر نواز شریف کے خاص اتحادی محمود خان اچکزئی بھی اسفند یار ولی کے ہمراہ پاکستان دشمن فکر کو ہوا دیتے رہے ہیں ، دراصل پاکستان کو توڑنے کے بھارتی ایجنڈے کے ممکنہ نقصانات کو سمجھتے ہوئے پختون نوجوانوں نے جو پاکستان کیلئے بیشمار قربانیاں دے چکے ہیں خیبر پختوں خواہ اور بلوچستان میں اپنے ووٹ کی طاقت سے پاکستان دشمن ایجنڈے کو بل آخر شکست فاش سے دوچار کر دیا ہے۔ شریف فیملی کی کرپشن کے منکشف ہونے پر سپریم کورٹ اور قومی احتساب بیورو کی کرپشن کے خلاف اجتمائی کوششیں اپنی جگہ مستحسن ہیں۔ پنجاب میں دھیلے کی کرپشن پر مستعفی ہونے کا بار بار اعلان کرنے والے خادم پنجاب کے گرد آشیانہ و صاف پانی کی اسکیموں کے علاوہ سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والی56 کمپنیوں میں ہونے والی اربوں کی کرپشن کے حوالے سے گھیرا ہوتا جا رہا ہے جبکہ آصف علی زرداری اور اُن کی ہمشیرہ منی لانڈرننگ انکوائری میں ایف آئی اے کے سامنے اپنی بیگناہی ثابت کرنے کے بجائے انقوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے ہی گریز کر رہے ہیں۔ چنانچہ اِن تمام حقائق کے سامنے آنے پر عوام نے اپنے وطن کی محبت میں سرشار ہوکر قومی سلامتی کے منافی دوہری شہریت کے بیرونی ایجنڈے کو پشاور سے کراچی تک اپنے ووٹ کی قوت سے شکست فاش دیکر قومی اداروں پر اپنے اعتماد کو بحال کر دیا ہے اب یہ عمران خان کی قیادت میں آنے والی نئی مرکزی حکومت کاکام ہے کہ وہ عوام کی اُمنگوں پر پورا اُترتے ہوئے قائداعظم کے فلاحی ریاست کے آدرشوں پر عمل درامد کرتے ہوئے ملک میں امیر و غریب کے درمیان فاصلوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق کم کرکے نہ صرف ملک سے غربت و افلاس کا خاتمہ کرے بلکہ کرپشن و بدعنوانی کے سبب بیرونی قرضوں میں ڈوبی ہوئی مملکت خدادا د پاکستان میں مساواتِ محمدؐی کا بول بالا کر دے بقول اقبال  ؂
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائیگی
پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغام سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائیگی

116
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...