امریکہ اس وقت دُنیا کی واحد سُپر پاور مانا جاتا ہے،وہ خود کو عالمی امن کا ٹھیکیدارسمجھتا ہے اور امن کی بحالی کے نام پر نجانے کتنے ملکوں کو خون میں نہلا چکا ہے وہ چاہے جو کہے کہ وہ پاکستان، افغانستان، عراق اور دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے گیا تھا حقیقت یہ ہے کہ وہ خود دہشت گردی کا سب سے بڑا حامی بلکہ اس کی وجہ ہے۔وہ جس ملک میں بھی گیا وہ ملک دہائیوں کی کوشش کے باوجود بھی اس عفریت سے نجات نہیں پا سکا نہ تو وہاں دھماکے بند ہوتے ہیں نہ معیشت بحال ہوتی ہے، نہ انفرا سٹرکچر اپنی پُرانی حالت پر آتا ہے اور امریکہ یہ ساری تباہ حالی چھوڑ کر چلتا بنتا ہے اور کسی اور ملک پر حملہ آور ہو جا تا ہے جو کہ عموماََ اسلامی ممالک ہوتے ہیں ۔خود کو انتہائی لبرل کہنے والا امریکہ دل میں اسلام کے لیے جو تعصب رکھتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، اس میں کسی صدر کی کوئی تخصیص نہیں اگر ٹرمپ علی الاعلان یہ تعصب کرتا ہے تو باقی دل میں اسلام سے خوفزدہ ہو کر اس کے مخالف ہیں۔ امریکہ کبھی ایک نام سے دہشت گردوں کی نشونما کرتا ہے اور کبھی دوسرے سے، انہیں مالی اور تکنیکی مدد بہم پہنچاتا ہے اور جب ایک گمراہ گروہ کو اندازہ ہو جاتا ہے یا ہونے لگتا ہے کہ وہ کس بُری طرح استعمال ہو رہا ہے اور خود کو امریکی اثر سے آزاد کرنے کی کوشش شروع کر دیتا ہے تو وہ دوسرے کو سامنے لے آتا ہے جسے امریکہ نے پہلے ہی تیار کرنا شروع کیا ہوتا ہے۔مجاہدین کے ذریعے روس تڑوایا تواُس کا خیال تھا کہ یہ مجاہدین ہمیشہ اُس کے تابع فرمان رہیں گے جب ایسا نہ ہوا تو انہیں دہشت گرد قرار دے کر اُن کے خلاف جنگ شروع کر دی اور ایک اور گروہ تیار ہوا، افغان طالبان ہاتھ نہ آئے تو پاکستانی طالبان بنا کر اپنا مقصد پورا کرنے لگے۔ جب پاک فوج نے ان کے کمر توڑی اور یہ قریب المرگ ہوئے تو امریکہ نے داعش یعنی آئی ایس آئی ایس بنا ڈالی اور دہشت گردوں کے سروں پر سے اپنا دستِ شفقت نہ اُٹھایا، کچھ شام میں کچھ عراق میں کچھ افغانستان اور پاکستان میں سر گرم عمل ہو گئے۔ اُس سے افریقہ بھی فارغ نہیں مصر میں اُس کی مداخلت، عرب سپرنگ کے نام سے عرب ممالک میں جو خونریزی ہوئی سب امریکہ کے دم سے ہے یعنی جہاں فساد ہے وہاں امریکہ کا ہاتھ موجود ہے۔
آیئے اب امریکہ کے اندر کی خبر لیتے ہیں۔امن امریکہ میں بھی نہیں اور انہی ’’امن پسند‘‘ امریکیوں کے ہاتھوں نہیں ۔امریکہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ عوامی اسلحہ رکھنے والا ملک ہے اور ایک اندازے کے مطابق یہاں 265 ملین بندوقیں عوام کے پاس موجود ہیں یعنی ہر بالغ امریکی کے پاس ایک سے زیادہ بندوق ہے یہ تعداد اور تناسب دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں ۔یہ بندوقیں پہلے بھی دہشت پھیلانے کے لیے نکلتی تھیں لیکن اب بڑے تسلسل سے اس میں اضافہ ہو رہا ہے اور پچھلے پانچ سال میں اس میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور عوامی مقامات پر قتلِ عام یا کھلے عام اجتماعی قتل کی وارداتیں مسلسل بڑھی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 1870 دنوں میں 1624 ایسے واقعات ہوئییہ واقعات قتلِ عام کی اس تعریف کے مطابق ہوئے جس میں کہا جاتا ہے کہ حملہ آور کے علاوہ چار یا چار سے زائد افراد کو گولیاں لگیں لہٰذا اگر حملہ ہوا اور خوش قسمتی سے حملہ آور کو چار افراد کو گولیاں مارنے میں کامیابی نہ ہوئی تو وہ واقعات اس میں شامل نہیں۔اب اگر حملوں کی یہ تعداد کسی اور ملک میں ہوتی تو امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مزید قتلِ عام کے لیے پہنچ جاتا اور کارپٹ بمباری کر کے بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور مردوں سب کو خون میں نہلا دیتا لیکن امریکہ کے اندر کے لیے اس کے سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس دہشت گردی کے خلاف کسی کاروائی کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اس کو دہشت گردی کہنے کو بھی تیار نہیں اور اس کو مختلف نام دینے میں مصروف ہے کبھی اس کو نفرت انگیزی پھیلانے والا جُرم کہتا ہے اور کبھی شیطانی افعال۔بہر حال یہ واقعات جو بھی کہلائیں اس میں زیادہ تر امریکی ہی ملوث ہیں اور یو ایس اکاونٹیبیلٹی آفس کے مطابق پچھلے سولہ سال میں ہونے والے ایسے واقعات میں سے 74% میں خود امریکی ملوث ہیں ۔یہ سولہ سال یعنی 2001سے2017 تک امریکہ میں اسلامی تشدد پسندی کے سال شمار کیے جاتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر ایسے واقعات میں امریکی ہی مجرم پائے گئے یعنی ایسا کرنے والے ’’عیسائی طالبان‘‘ ہیں ناکہ’’ مسلمان طالبان‘‘ ویسے یہ مسلمان طالبان خاص کر پاکستانی مسلمان طالبان بھی امریکہ ساختہ ہیں۔یہ عیسائی طالبان کبھی حقوق کے لیے جدوجہد کے نام پر قتلِ عام کرتے ہیں ،کبھی سیاست کے نام پر، کبھی مذہب کے نام پر اور کبھی قومیت کے نام پر ایسا ہوتاہے۔اِن عیسائی طالبان میں ہمارے ہاں کے امریکی ساختہ طالبان کی طرح بچے اور نوجوان بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔جیسے ہمارے ہاں ملنے والے خود کش سر پندرہ سے بیس بائیس سال کی عمر تک کے ہوتے ہیں اور کچھ تعلیم یافتہ یا تعلیمی اداروں کے طلباء بھی امریکہ کے ہاتھوں استعمال ہو جاتے ہیں اسی طرح امریکہ میں بھی اسی عمر کے افراد حملہ آور ہو کر کئی ایک کی جان لے لیتے ہیں بلکہ وہاں تو وہ اپنے ہی سکول کالج یا یو نیورسٹی کے طلباء کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ہمارے ہاں کہیں اور سے یہ خود کش جیکٹ پہن کر آتے ہیں اور خود کو دوسروں کے ساتھ ہی اُڑادیتے ہیں جبکہ امریکہ میںیہ دوسروں کو مار کر خود کو بھی گولی مار دیتے ہیں خودکشی بہر حال دونوں کا مقدر بنتی ہے لیکن ایک طرف یہ دہشت گرد کہلاتے ہیں تو دوسری طرف ذہنی مریض۔ سن 2000 میں ایک ایسے ہی بچے کی عمر صرف چھ سال تھی جس نے اپنے چھ سالہ ہم جماعت کو گولی ماری یہ کوئی بھی کم عمرترین قاتل ہے جس نے سکول کے اندر قتل کیا اور اسے مانا۔اسی طرح ان تعلیمی اداروں کے دیگر بالغ طلباء اور اساتذہ نے بھی ایسے کئی حملے کیے ہیں ایک بیس سالہ طالبعلم نے ایک حملے میں پہلی جماعت کے بیس بچوں کو قتل کیا جن کی عمریں چھ اور سات سال تھیں۔ صرف 2017-18 میں ایسے تقریبا جالیس واقعات ہوئے۔کہنے کو امریکی بچہ بہت محفوظ ماحول میں پڑھتا ہے لیکن خود انہیں بچوں میں دہشت گردی کے رجحانات اتنے زیادہ ہیں اور مسلسل پرورش پا رہے ہیں کہ امریکہ جیسی سُپر پاور کے لیے بھی اس پر قابو پانا مشکل ہے اور اس میں یقیناًزیادہ ہاتھ لفظ دہشت گردی کی اُس گردان کا ہے جو وہ اپنی حکومت سے سنتے ہیں۔یہ بھی یاد رہے کہ سوائے چند غیر ملکی حملہ اوروں کے یہ سب امریکی تھے لیکن پھر بھی امریکی دہشت گرد نہیں ہیں اور نہ ہی اُن کی حکومت اُنہیں دہشت گرد کہنے کو تیار ہے۔ یہ واقعات وہاں کی ہر ریاست اور معاشرے کے ہر حصے میں موجود ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ اوپر درج شدہ اعداد و شمار میں کوئی بھی واقعہ دشمنی کا نہیں بلکہ تمام کے تمام شدت پسندی اور دہشت گردی کے ہیں لیکن امریکہ پھر بھی ’’ شدت پسند‘‘ نہیں ۔امریکی نکتہء نظر کو تو چھوڑیے ہمارے عام لوگوں سے لے کر دانشوروں تک سب امریکی لبرل ازم کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ ہم نے اپنی ہونہار طالبہ سبیکہ شیخ کی لاش وصول کر کے بھی اسے دہشت گردی نہیں بلکہ صرف جُرم ہی کہا جبکہ نہ صرف پاکستان کو بلکہ امریکی دہشت گردی سے متاثر ممالک کو اس امریکی رویے پرشدید احتجاج کرنا چاہیے اور اسے اس بات پر مجبور کرنا چاہیے کہ وہ ان تمام بقول خود جرائم کو دہشت گردی کے واقعات اور ان تمام حملہ آوروں کو جن کو وہ ذہنی مریض یا مجرم کہتا ہے دہشت گرد بلکہ ’’عیسائی طالبان‘‘ قرار دے کر ان کے خلاف اسی طرح کی جنگ کا اعلان اور آغاز کرے جس طرح کی جنگ کا اعلان اُس نے پوری دنیا خاص کر اسلامی ممالک میں کر رکھا ہے۔

147
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...