یہ اَمر خوش آئند ہے کہ گزشتہ دو انتخابات میں یعنی 2008 اور2013 کے عام انتخابات میں الیکشن کمشن آف پاکستان کو پیش آنے والی مشکلات پر 2018 کے انتخابات میں قابو پانے کیلئے چیف الیکشن کمشنر نے شفاف اور ایماندارانہ انتخابی عمل کو ممکن بنانے کیلئے قومی اداروں اور فوج کی مدد سے الیکشن کے انعقاد کیلئے فول پروف اقدامات اختیار کرنے کی کوشش کی ہے جس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے تھا۔ لیکن کچھ سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی سیاسی کوتاہیوں پر قابو پانے کے بجائے انتخابات سے پہلے ہی دھاندلی کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور کو میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ فوج کی سیاسی وابستگی کسی جماعت سے نہیں ہے ، عوام جسے بھی وزیراعظم بنائیں گے فوج صدق دل سے اُسے قبول کریگی۔ دریں اثنا ، دنیا بھرمیں جمہوریتوں میں بل خصوص مغربی جمہوری نظام کی ایک خوبی یہ ہے کہ حکومتی جماعتیں جب انتخابات ہار جاتی ہیں تو کامیاب ہونے والی حزب اختلاف کی جماعتوں پر طنز و تنقید اور دھاندلی کے نشتر لگانے کی بجائے خلوص دل سے انتخابی نتائج کے آگے سرِ تسلیم خم کرتی ہیں اور پھر خاموشی کے ساتھ اپنی صفوں میں ہار کی وجوہات تلاش کرتی ہیں تاکہ آئندہ آنے والے معرکے میں اپنی جیت کو ممکن بنا سکیں لہذا جمہوری جنگ میں ہار جیت کا یہ سلسلہ انتخابی میدان کے حوالے سے یوں ہی رواں دواں رہتا ہے۔
کہتے ہیں کہ جمہوریت اور انتخابی عمل کا چولی ددامن کا ساتھ ہے۔ دنیا بھر میں جمہوری حکومتیں غیر جانبدارانہ انتخابی عمل سے دیانتدارنہ اور شفاف انتخابی عمل کو اِس لئے بھی ممکن بنانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ طالع آزما سیاسی قوتیں کرپشن بدعنوانی اور اقربہ پروری سے اقتدار کی غلام گردشوں کو مخصوص ذاتی مفادات سے پراگندہ کرنے کے بجائے رائے عامہ کی خواہشات کیمطابق جمہوری روایات ا ور عوام کی خدمت کے جذبے کو قائم و دائم رکھیں۔ البتہ گزشتہ دس برسوں میں ملک میں عوامی حاکمیت کا تصور حکمرانوں کی کرپشن ، بدعنوانی اور اقربہ پروری کے باعث کافی حد تک متاثر ہوا ہے ۔ حتیٰ کہ حکمرانوں نے اہم قومی اداروں میں ذاتی حاکمیت کو فروغ دینے کیلئے ذاتی وفاداری سے سرشار غیر تجربہ کار اور مروجہ تعلیمی قابلیت سے محروم افراد کو تعینات کرکے اپنا الّو تو سیدھا کیا ہے لیکن کرپشن کے ہاتھوں قومی ادروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاچنانچہ عوام الناس اور سول سوسائیٹی میں مایوسی اور بددلی کی فضا ضروت پھیلی ہے کیونکہ نہ صرف یہ کہ اہم قومی اداروں بشمول پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ، پاکستان ریلوے اور بجلی و گیس کے اداروں میں تباہی و بربادی نے گھر کر لیا بلکہ غیر ضروری متنازع پرجیکٹس میں کرپشن کی رقومات منی لانڈرننگ کرکے باہر بھیجی جاتی رہی جبکہ ہر خاص و عام کی گردن پر غیرمعمولی بیرونی و گردشی قرضوں کا بوجھ لاد دی گیاجس کے سبب ملک میں مہنگائی، بے روزگاری کے باعث بیشتر آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزانے پر مجبور ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام الناس ملک میں اب نئے مسیحا کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور نئے عام انتخابات میں ووٹ کی طاقت سے کرپٹ حکمرانوں کا احتساب کرکے ایک سنہری مستقبل کی جاب دیکھ رہے ہیں۔
اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عوامی حمایت سے جمہوری حکومت کا تصور عالمی سطح پر انسانی طرزِ زندگی کے خوبصورت آدرشوں میں ایک ہے ۔ انسانی زندگی کے اِس اہم اصول کو عوامی امنگوں اور انسانی مساوات کے حوالے سے دنیاوی آلائشوں سے پاک رکھنے کیلئے آئین و قانون کی حکمرانی کے تابع کیا گیا ہے ۔ عام فہم زبان میں جمہویت کو آئین و قانون کی حکمرانی کے حوالے سے” عوام کی حکومت عوام کیلئے ” کے درخشاں اصول سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ دنیا بھرمیں جمہوری حکومتیں آئین و قانون کے اصولوں پر عمل درامد کو ممکن بنا کر جمہوری رِٹ پر آمرانہ انسانی خواہشات کو غالب آنے سے روکتی ہیں۔ کسی بھی جمہوری حکومت کیلئے کرپشن ، بدانتظامی اور اقربا پروری سمِ قاتل کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ معاشرتی برائیاں جمہوری آبگینوں کو ٹھیس پہنچاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری اصولوں پر عوامی اعتماد قائم رکھنے کیلئے دنیا بھر میں جمہوریتیں کرپشن کے خلاف آزادانہ تفتیش و تحقیق کو ممکن بنانے کیلئے کرپشن آلود شخصیتوں کو اقتدار کے منصبوں سے علیحدہ کر دیتی ہیں یا پھر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے اُنہیں اپنے منصبوں سے مستعفی ہونے پر مجبور کر دیتی ہیں ۔ یہ اَمر خوش آئند ہے کہ پاکستان میں بھی کرپشن کے خلاف احتساب کا عمل شروع ہو گیا ہے چنانچہ پاناما پیپرز منی لانڈرننگ کرپشن میں نواز شریف فیملی کو قطر، دبئی سے لیکر لندن تک محل نما پراپرٹی بنانے پر نیب کورٹ نے سزا کا مرتکب قرار دے دیا ہے اور یہی عمل ان زرداری فیملی کی سرے محل سے لیکر سوئس اکاؤنٹس اور دبئی سے لیکر امریکہ تک منی لانڈرننگ سے جائز ناجائز دولت منتقل کرنے پر انکوائری جاری ہے۔
حکمران یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ کوئی بھی قوم تاریخ سے سبق لینے اور قومی اصلاحِ احول کی فکر سے محروم ہو کر جب معدودے چند افراد کے مخصوص ذاتی سیاسی ایجنڈوں کی تابع ہو جاتی ہے تو حکمرانوں کی پارسائی قصہ پارینہ اور دامن کرپشن سے آلودہ ہو جاتے ہیں چنانچہ آئین و قانون کے حرف اپنی حرمت کھو بیٹھتے ہیں ۔ یہی وہ منظر نامہ ہے جب اقتدار کی غلام گردشیں عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے کرپشن اور پیسہ بٹورنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں ، پارلیمنٹ کی قراردادیں بے اثر اور عوامی نمائندے نام نہاد صوابدیدی اختیارات کے تحت آئین و قانون کے ضابطوں کی پاسداری سے بالاتر ہو جاتے ہیں اور جب حکمران عوامی فلاح و بہبود اورقومی اقتصادی زندگی کی عظمت کو پہچاننے کے بجائے ریاستی اداروں کو اقربا پروری ، بدعنوانی ، بدانتظامی ، کرپشن اور اخلاقی گراوٹ کا مرکز بنا دیتے ہیں تو پھر جمہوریت ہو یا جمہوری آمریت ایسی حکومتیں کسی بھی قوم کو تباہی و بربادی کے گڑھے میں گرنے سے نہیں روک سکتی۔البتہ یہ اَمر خوش آئند ہے کہ پاناما پیپرز کیس کیونکہ حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف ایک بین الاقوامی تحریک کے نتیجے میں سامنے آیا تھا لہذا یہ کیس براہ راست عدالت عظمیٰ کے نوٹس میں آگیا ۔ اِس سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری کا سوئس کرپشن کیس عدالت عظمیٰ کے نوٹس میں آیا تھا تو عدالتی فیصلے پر عمل درامد سے روگردانی کرنے پر سابق وزیراعظم گیلانی کو گھر بھیج دیا گیا تھا ۔ بظاہر ایسا ہی دکھائی دیتا ہے کہ حکمران پاکستان کی قومی زندگی میں عوامی مسائل کو حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں کرنے کے بجائے قومی اسٹیٹ کرافٹس کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرتے ہوئے کرپشن پر پردہ ڈالنے اور مخصوص ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں ۔ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے بجائے قوانین کو اپنی پسند کے مطابق ٹیلر کرنے کیلئے دیدہ دلیری سے اداروں کے کردار میں پیچیدگیاں پیداکی جا رہی ہیں جس کے باعث مقتدر قومی ادارے تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں ۔ اقتدار کی غلام گردشوں میں حکمرانوں کی بے پایاں کرپشن اور بے راہ روی کے باعث ریاستی اداروں میں اسٹیٹ کرافٹس کی تباہی ، آئین و قانون کو پس پشت ڈالتے ہوئے ریاستی اداروں میں بدکردار اور کرپٹ افراد کی تواتر سے تعیناتی ، اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں سے انحراف اور عمل درامد میں بدنیتی سے تعطل پیدا کرنے کی منظم ریاستی کوششیں عوام کیلئے بہرحال نہ قابل فہم ہیں ۔
اندریں حالات ، نواز شریف فیملی کے جیل پہنچ جانے پر سابق حکمرانوں کیلئے عام انتخابات میں ناکامی دیوار پر واضح تحریر کی طرح سامنے آتی جا رہی ہے۔ کیا نواز شریف فیملی اور زرداری فیملی کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی بے لوث ویژن علامہ اقبال کی مرہون منت تھی جبکہ اِس ویژن کی عملی تصویر میں حقیقت کے ر نگ بھرنے کیلئے قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے خون جگر سے اِس کی آبیاری کی تھی۔ جناح جب تحریک پاکستان شروع کرنے کیلئے برطانوی ہندوستان واپس آئے تھے تو اپنی تمام پراپرٹی بھی ساتھ ہی لائے تھے ۔ قیام پاکستان کے بعد اُنہوں نے اپنی بیشتر پراپرٹی تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کے نام وقف کر دی تھی۔ جناح کی عظمت کو جاننے کیلئے یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے پروفیسر سٹینلے والپرٹ کی کتاب ،،جناح آف پاکستان،، اور اُن کے غیر ملکی سوانح نگار ہیکٹر بولیتھو کی کتاب پڑھنا ہی کافی ہے جس میں اُنہوں نے بخوبی لکھا ہے کہ قائداعظم کی بے لوث جدوجہد کے بغیر قیام پاکستان عمل میں نہیں آ سکتا تھا۔ سٹینلے والپرٹ اُنہیں دنیا کی وہ واحد شخصیت قرار دیتے ہیں جس نے مسلم قوم کی یکجہتی ، مسلم مملکت کے قیام کی تحریک اور دنیا کے نقشے پر ایک نئی مملکت کے قیام کو ممکن بنایا جبکہ ہیکٹر بولیتھو کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے دنیا کی مشہور گیارہ شخصیات کی سوانح عمری لکھی ہے لیکن اُنہوں نے جناح ایسی بلند و بالا شخصیت نہیں دیکھی۔ قوم جناب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور نیب چیف جسٹس جاوید اقبال سے یہی چاہتی ہے کہ قوم کی بیرونی ملکوں میں لے جائی گئی دولت کو ہر صورت واپس لایا جائے تاکہ ملک کو بیرونی قرضوں سے نجات ددلائی جائے۔ آمین۔

92
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...