الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے یہ اَمر خوش آئند ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی صدارت میں ہونے والے الیکشن کمیشن کے ایک اجلاس میں گزشتہ روز متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات کو پُرامن ، شفاف اور بدعنوانی سے پاک بنانے کیلئے پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر فوج تعینات کی جائیگی ۔یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ بیلٹ پیپر کی چھپائی اور ترسیل بھی فوج کی نگرانی میں کی جائیگی جبکہ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے بیلٹ پیپرز کی چھپائی ، ترسیل اور انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنز پر امن و مان قائم کرنے کی ذمہ داری فوج کے سپرد کیا جانا ایک احسن اقدام ہے کیونکہ ماضی میں بل خصوص 2008 اور 2013 کے عام انتخابات میں ایڈیشنل بیلٹ پیپرز کی چھپائی اور ترسیل کے حوالے سے کچھ اقدامات فوج سے بالا بالا بھی کئے گئے تھے جس کے سبب سیاسی حلقوں میں کچھ غلط فہمیوں نے بھی جنم لیا تھا۔ اَس کی ایک وجہ ملک کے کچھ علاقوں میں بل خصوص اندورن سندھ کچھ چیک پوسٹوں پر رینجرز نے تلاشی کے دوران غیر متعلقہ افراد کے قبضے سے بیلٹ پیپرز برامد کئے تھے جس سے نگران صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر حرفِ سوالیہ بھی قائم ہوئے تھے ۔ کچھ ایسی ہی صورتحال ماضی میں چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے جاری کئے جانے والے ضابطہ اخلاق پر صوبائی نگران حکومتوں کی جانب سے مکمل عملدرامد میں تساہل پسندی کے حوالے سے بھی دیکھنے میں آئی تھی۔
یہ درست ہے کہ آئین کے آرٹیکل 218 کے تحت شفاف اور ایماندارانہ انتخابات کرانا اور انتخابی فہرستوں کی تیاری و سالانہ نظر ثانی کاکام الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے جس کیلئے آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت وفاق اور صوبوں کے تمام حکام عاملہ کا فرض ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے کارہائے منصبی کی انجام دہی کیلئے الیکشن کمیشن کی مدد کیلئے ہر دم تیار رہیں۔گو کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری اور سالانہ نظر ثانی کے کام کی ذمہ داری تو دامے درمے سخنے الیکشن کمیشن کی ہے لیکن چونکہ وقت کیساتھ ساتھ انتخابات میں ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے قومی شناختی کارڈکا ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے لہذا اِس کام میں وفاقی وزارت داخلہ کے زیر انتظام NADRA (نادرا) کا ادارہ ہی ممتاز اہمیت کا حامل ہے جہاں ماضی میں الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہونے کیلئے حکمرانوں کے اُبرو کے اشارے پر بہت سے خفیہ کاکام کئے جاتے رہے ہیں ۔گو کہ ماضی میں نگران حکومتوں کی تشکیل میں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں بل خصوص حکمران جماعت کو ڈیل کی سیاست کے تحت الیکشن کمیشن کی بہترین کوششوں کے باوجود انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے سے روکا نہیں جا سکا تھا ۔ اِس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کے باوجود صوبائی گورنر اور صدر مملکت کے منصب پر حکمران جماعت کے طاقت ور سیاسی مہرے ہی حکومتوں کی صفوں میں موجود ہوتے ہیں جو بہرحال ملک کی بیوروکریسی میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں چنانچہ جب حکمران جماعت عام انتخابات کی صورت میں اقتدار سے دستبردار ہوتی ہے تو قرائین یہی کہتے ہیں کہ وہ اہم انتظامی اداروں اور بیوروکریسی میں اپنے ہم خیال افراد کو اہم منصبوں پر چھوڑ کر بظاہر انتخابی معاملات کو اپنے لنکس کے ذریعے خفیہ ذرائع سے ارینج کرنے کیلئے چھوڑ جاتی ہے۔اندریں حالات ملک میں شفاف انتخابات کرانے کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ماضی میں بوگس شناختی کارڈز کے ذریعے بوگس انتخابی فہرستوں اور گھوسٹ پولنگ اسٹیشنز کا تذکرہ میڈیا کے ذریعے بخوبی عوام کے سامنے آتا رہا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اور قومی دانشور بوگس انتخابی فہرستوں اور بوگس شناختی کارڈز کے حوالے سے عام انتخابات چرائے جانے کی ایسی تمام تفصیلات کتابوں میں بھی لکھتے رہے ہیں۔ ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں چند روز قبل نادرا کے ایک سابق ڈپٹی چیئرمین کہہ چکے ہیں کہ،، نادرا،، وفات پا جانے والے لاکھوں شناختی کارڈز ختم (delete) کرنے کے بجائے اِن کی پلیسمنٹ (placement) اہم حلقہٗ انتخاب میں اثر انداز ہونے کیلئے استعمال کرتی رہی ہے ۔ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے بوگس شناختی کارڈز کو مبینہ طور پر نادرا میں حکومتی لیگی لنکس ماضی میں ضمنی انتخابات میں مخصوص وفاقی اور صوبائی حلقوں میں ڈائی ہارڈ لیگی یونین کونسل میں 500 کارڈ فی پولنگ اسٹیشن استعمال کرتے رہے ہیں ۔ کیا یہ بوگس کارڈز وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی تحلیل سے قبل ہی پُراعتماد لیگی یونین کونسلوں میں تقسیم کر دئیے گئے ہیں جہاں اِن کا استعمال گھوسٹ یا اہم پولنگ اسٹیشنز پر کیا جانا مقصود ہے؟ گو کہ نادرا کے ایک ترجمان نے گزشتہ روز اپنے ایک سابق ڈپٹی چیئرمین (نادارا)کے بوگس شناختی کارڈ کی پلیسمنٹ کے حوالے سے الزامات کی تردید کی ہے لیکن نادرا ترجمان نے تحلیل شدہ لیگی حکومت کے دور میں میرٹ کے بغیر نادرا میں اہم پوسٹوں پر تعینات کئے جانے والے دہری شہریت کے حامل متنازع افراد اور اُن کے رشتہ داروں کی تعیناتی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو اِن افراد کی دہری شہریت کے بارے میں کیوں نہیں بتایا گیا ہے، اگر ایسا ہے تو یہ ایک سنجیدہ الزام ہے؟ دراصل ماضی میں بوگس ووٹوں کے اندراج کے باعث ہی ملکی سیاست متنازع ہوتی چلی گئی ہے جسے آہنی ہاتھ سے نمٹنا انتہا ئی ضروری ہے۔لہذا الیکشن کمیشن آف پاکستان کو محض نادرا کے ترجمان کی تردید پر یقین کرنے کے بجائے نادرا میں موجود سابق حکومتی لنکس کو ملک میں عام انتخابات کے مکمل ہونے تک غیر فعال کرکے اُن کی سروسز اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حوالے کر دینی چاہیے کیونکی جمہوریتوں میں انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درامد سے ہی شفاف اور بدعنوانی سے پاک انتخابات کو ممکن بنایا جا سکتا ہے جبکہ انتخابی ماحول کو پُرامن بنانے کیلئے پولیس، رینجرز اور فوج کی تعیناتی کے علاوہ اسلحہ کی نمائش اور اُمیدواروں کے حمایت یافتہ افراد کی جانب سے فائرننگ کے واقعات پر محض نمائشی اقدامات کرنے کے بجائے فوری سخت ترین انتظامی اقدامات لئے جانے چاہیں کیونکہ ماضی میں بھی نادرا کی احمقانہ کارکردگی اور انتظامیہ کی جانب سے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرامد کرانے میں ناکامی کے سبب ہی چیف الیکشن کمشنر کو سیاسی جماعتوں اور قومی دانشوروں کی جانب سے تنقید کر سامنا کرنا پڑا تھا ۔
حقیقت یہی ہے کہ ملکی سیاسی قیادت میں محض مخصوص ذاتی مفادات اور کرپشن کو تحفظ دینے کیلئے پایا جانے والا اقربہ پروری کا رجحان ہی قوموں کی زندگی میں سیاسی کمزوری بن کر غالب آ جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی جمہوریت کے حوالے سے دنیا بھر کے سیاسی دانشور یہی سوال کرتے ہیں کہ پاکستان میں مخصوص ذاتی سیاسی مفادات کی پرورش کیوں کی جاتی ہے؟ صد افسوس کہ قیام پاکستان کے بعد ملک میں سیاست کو مثبت اور دیانتدارانہ انداز سے آگے بڑھانے کے بجائے ملکی آئین و قانون سے انحراف کرتے ہوئے اسلام کے نام پر حاصل کی گئی مسلمانوں کی اِس عظیم اسلامی ریاست میں دین اسلام کی قومی بھلائی کی پالیسیاں اپنانے کے بجائے تواتر سے جاگیرداری و سرمایہ داری نظام کو مسلط کرنے کیلئے نہ صرف ملک کو سیکولرازم کی راہ پر لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ بتدریج عوامی جمہور کا راستہ روکتے ہوئے منافقت ، کرپشن ، اقربہ پروری ، بے انصافی اور بدعنوانی کے ذریعے مخصوص مفادات کی حامل سیاسی جماعتوں کو ریاستی اداروں پر مسلط رکھنے کی اسٹیٹس کو کی پالیسی کو قومی سیاست کے نام پر جاری رکھا گیا ہے۔ چنانچہ عوام میں یہی فکر جنم لے رہی ہے کہ ملکی معاملات میں اُنکے ووٹ کی نہیں بلکہ بوگس ووٹوں کی اہمیت زیادہ ہے جبکہ حکمران مخصوص مفادات کے حصول اور کرپشن کو تحفظ دینے کیلئے پٹواری سے لیکر اعلیٰ ریاستی عہدوں تک متنازعہ شہرت رکھنے والے افراد کو ہی اہم اداروں میں تعینات کرنے کی روش اختیار کرتے جا رہے ہیں جبکہ عوام کی توجہ روز مرہ مسائل سے ہٹانے کیلئے گزشتہ پانچ برس میں ملکی سیاسی قیادت نے نام نہاد سازشی تھیوریوں اور فوج و عدلیہ کے خلاف لایعنی کہانیاں بیان کرنے میں ہی گزار دی ہے ۔ درحقیقت، مسلم لیگ ن کے نام نہاد قائد نواز شریف جن کے بارے میں اُن ہی کے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کہتے رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن میں تاحیات قائد کا کوئی عہدہ موجود نہیں ہے لہذا تاحیات نااہل وزیراعظم اور تا حیات نااہل پارٹی صدر کا تاحیات قائد مقرر کیا جانا جماعت کے آئین کے منافی ہے۔ جبکہ نواز شریف اور اُنکے حاشیہ بردار مبینہ طور پر الیکشن کی شفافیت کو سبوتاژ کرکے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے فوج کو امن عامہ بحال رکھنے اور پولنگ اسٹیشنز پر امن عامہ کا کوئی کردار دینے کی مخالفت میں بیان دیتے رہے ہیں۔ سابق نااہل وزیراعظم کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نئے انتخابات میں انگریزی کے محاورے by hook or by crook دو تہائی اکثریت حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کیلئے بظاہر اُنہیں اپنا وزیراعظم ماننے والے سابق قانونی وزیراعظم خاقان عباسی کی مخصوص صلاحیتوں پر کافی بھروسہ تھا۔بہرحال الیکشن کمیشن آف پاکستان مبارک باد کا مستحق ہے کہ اُنہوں نے ملک کو شفاف انتخابی نتائج دینے کیلئے فول پروف انتظامی اقدامات لینے کا فیصلہ کیا ہے۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

111
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...