میاں نواز شریف جب سے وزیراعظم اور پارٹی چیف کے منصبوں کیلئے نااہل قرار دئیے گئے ہیں بظاہر نفسیاتی دباؤ کا شکار نظر آتے ہیں چنانچہ اِسی نفسیاتی کیفیت میں وہ بہت سارے معاملات میں اپنی سیاسی حماقتوں کو بھول جاتے ہیں اور آدھے سچ کو ہی مکمل سچ بنا کر پیش کرنے کی کوشش میں جھوٹ و کپٹ کا سہارا لینے پر مجبورہو جاتے ہیں ۔کاش وہ ن لیگ کے خواجہ آصف صاحب کے مقدمے سے ہی سبق حاصل کر لیتے جنہوں نے اپنی بیرون ملک تنخواہ اور اقامہ کے حوالے سے سچ بول کر اہم مقدمے میں کامیابی حاصل کی اور اُنہیں عدالت عظمیٰ نے نہ صرف الیکشن لڑنے کیلئے اہل قرار دے دیا بلکہ اُن کے سر پر لٹکتی ہوئی نااہلی کی غضبناک تلوار بھی دور کسی گہری کھائی میں جا گری ہے۔ البتہ جناب نواز شریف نے نہ تو تاریخ اور نہ ہی حالات حاضرہ سے کوئی سبق سیکھا ہے بلکہ اِس کے برخلاف حقائق سے بے پرواہ ہوکر نیب مقدمات میں اپنے صاحبزادوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی فیملی کی تمام تر پراپرٹی کی ذمہ داری اپنی اولاد اور مرحوم والد محترم پر ڈال دی ہے ۔سوال یہ بھی ہے کہ اگر اپنے صاحبزادوں کے مجوزہ کاروبار اور پراپرٹی سے میاں صاحب کا کوئی تعلق نہیں تھا تو عوام یہ ضرور جاننا چاہیں گے کہ آپ نے اپنی چار سالہ وزارت عظمیٰ کے دور میں وزارت خارجہ کا منصب بھی اپنے پاس کیوں رکھا ہوا تھا جس کا بغچہ بغل میں دبائے آپ نے بے شمار ملکوں کا دورہ کیا تو اِن دوروں میں آپکے صاحبزادوں کی موجودگی کن تجارتی مفادات کے تحت ہوتی تھی اور بل خصوص بھارت اور نیپال میں بھارتی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال کیساتھ آپکے صاحبزادے کی تعلق داری کیا معنی رکھتی تھی۔
بہرحال نواز فیملی بظاہر آج بھی کلمہٗ حق کہنے کے بجائے جھوٹ کا طاغوتی سہارا لینے پر ہی کیوں مجبور نظر آتی ہے ؟ میاں صاحب کیوں بھول جاتے ہیں کہ ایک جھوٹ کے بعد کئی اور جھوٹ اُن کے منتظر ہوتے ہیں۔چنانچہ ایک صاحبزادے جو برطانوی شہریت کے حوالے سے اب نیب مقدمات میں مفرور ہو گئے ہیں ٹیلی ویژن چینل پر لندن پراپرٹی کے حوالے سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ وہ تو طالب علم ہیں اُنہیں گھر سے کرایہ آتا ہے جبکہ صاحبزادی یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ اُن کی تو پاکستان میں یا پاکستان سے باہر کوئی پراپرٹی نہیں ہے اور وہ اپنے والد کی کفالت میں ہیں تو وہ اگر اپنے شوہر کی موجودگی میں بھی اپنے والد کی زیر کفالت میں ہیں تو اُن کا شوہر اتنا دولت مند کیوں کر ہو گیا ہے؟ اگر شریف فیملی اپنے آپ کو پاکستان کے حکمران طبقے سے جوڑتی ہے تو پھر سچ بولنے میں کیا قباحت ہے؟ جبکہ سچ کی پناہ ایک ایسی آہنی شیلڈ ہے جو زمانے کے سرد و گرم اور مخالفین کے تابڑ توڑ سیاسی حملوں سے بھی شکستہ نہیں ہوتی اور بل آخر سچ کی حقیقت کو سمجھنے والوں کا بول بالا ہوتا ہے۔ چنانچہ سچ کے علمبردار معاشرتی سر بلندی اور انسانیت کی معراج بن کر تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کیا نواز شریف کرپشن کے ذریعے کمائی دولت سے اپنے آپ کو بالا تر کرنے کیلئے نیب مقدمات میں قومی اسمبلی اور قوم سے خطاب میں خود اپنی ہی کہی گئی باتوں سے کیوں انحراف کرتے ہیں اور بیرون ملک آف شور کمپنیوں کے ذریعے چھپائی ہوئی دولت اور پراپرٹی کی تمام تر ذمہ داری اپنی اولاد اور والد محترم مرحوم پر ڈال کر اپنے آپ کو پاناما کیس سے بچانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں۔ اِسی طرح ایئرمارشل اصغر خان کیس میں الیکشن کے حوالے سے جنرل درانی سے وصول کی گئی مفت کی دولت پر سپریم کورٹ میں پیش ہوکر اپنی صفائی پیش کرنے کے بجائے عدلت عظمیٰ کے سامنے پیش ہونے سے ہی انحراف کیوں کرتے ہیں اور کیا اِس سے عوامی سطح پر اُن کی شہرت مزید داغدار نہیں ہوئی ہے ۔
اندریں حالات ،گزشتہ روز میاں صاحب نے ایک عوامی خطاب میں چیف جسٹس کے خلاف جس ہاہاکار کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی حیران کن ہے جس میں اُنہوں نے مشرف کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ جناب چیف جسٹس صاحب کہاں گیا آرٹیکل 6 ، مشرف سے سے نرمی کیوں، آئین شکن کو کچھ نہ کہیں اورہمیں الیکشن لڑنے کیلئے نااہل کردیا؟ عوام میاں صاحب کے اِس مطالبے پر حیران پریشان ہیں اور یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جناب نواز شریف صاحب ، پاکستان میں چیف جسٹس صاحب سے اِس مطالبے کا حق اگر کسی سیاست دان کو تھا تو وہ شخصیت صرف بھٹو صاحب کی تھی جنہیں ایک سابق آئین شکن آمر مطلق صدر ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے انتہائی شاطرانہ انداز میں پھانسی پر لٹکا دیا تھا جس پر شاعروں کو بھی کہنا پڑا کہ ،، تم قتل کروہو کہ کرامات کرو ہو،، اور جس آمر کے کاندھے پر چڑھ کر آپ جناب نواز شریف صاحب اقتدار کے منصبوں پر فائز ہوئے تھے۔جناب نواز شریف صاحب سوال یہ بھی ہے کہ جنرل مشرف کو غیر فطری طور پرآرمی چیف کے عہدے سے ہٹانے کے چکر میں آپ نے طیارہ ہائی جیکنگ کیس کو کیوں اپنے گلے لگا لیا تھاجس میں عدالت نے آپ کو 14 برس قید سے نوازا تھا اور پھر آپ خود ہی مشرف صاحب سے ڈیل کی سیاست کا کھیل کھیلتے رہے چنانچہ حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے آپ نے اپنی سزا اُس وقت کے چیف ایگزیکٹو، پرویز مشرف کی ہی سفارش پر صدر مملکت نے معاف کرا ئی تھی؟ کیا یہ درست نہیں ہے کہ ملکی سیاست میں حصہ لینے کیلئے محترمہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان آمد کے بعد آپ کوسابق صدر پرویز مشرف نے ہی سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کی سفارش پر پاکستان آ کر سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی؟ اور کیا وزیراعظم گیلانی کی وفاقی حکومت میں شامل ہونے کیلئے آپ کے وزرا نے صدر مشرف کے سامنے پیش ہوکر وزارتوں کا حلف نہیں اُٹھایا تھا؟ تو کیا اُس وقت صدر پرویز مشرف آئین شکن نہیں تھا؟ میاں صاحب یہ کیا سیاست ہے کہ ،، کڑوا کڑوا تھو تھو میٹھا میٹھا ہپ ہپ،،؟کیا آپ بھول گئے ہیں کہ جناب چیف جسٹس نے ایک گمشدہ ایس ایس پی کراچی کو سایہء گمشدگی سے نکالنے کیلئے اِسی قسم کی اجازت سے نوازا تھا تاکہ وہ بھی اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کر سکیں اور وہ اب پولیس کی کسٹڈی میں ہیں؟ تو جناب مشرف کو بھی مشروط اجازت دی گئی ہے تاکہ وہ پاکستان واپس آئیں اور اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کریں جبکہ بقول پرویز مشرف اُنہیں باہر جانے میں آپکی پارٹی کے سینئر لیڈروں کی حمایت حاصل رہی ہے۔
سابق صدر پرویز مشرف اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف بظاہر سیاسی نااہلی کے حوالے سے ایک ہی سکے کے دو رُخ نظر آتے ہیں۔ البتہ سابق صدر مشرف نے بیرون ملک اپنی خود ساختہ جلا وطنی کے دوران اپنے آپ کو ماضی کی یادوں سے باہر نکالنے کی کوشش ضرور کی لیکن پھر بھی اقتدار کی غلام گردشوں کو نہیں بھول پائے ہیں اور پاکستان واپس آ کر انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند ہیں تو اگر چیف جسٹس صاحب نے اُنہیں مقدمات کا سامنا کرنے کی شرط پر پاکستان واپس آنے کی اجازت دی ہے تو اِس میں کیا مذائقہ ہے۔ لیکن جب آپ سیاسی ڈیل کرکے اپنے سزاؤں سے جان چھڑانے کیلئے ملک سے باہر چلے گئے تھے تو پھر آپ کی جماعت کے قومی اسمبلی میں بیشتر ارکان نے بھی اپنا راستہ خود ہی متعین کیا جب مشرف کے سیاسی امور کے سیکریٹری کی ایک آواز پر ہی مسلم لیگ (ن) مسلم لیگ (ق) میں تبدیل ہوگئی تھی ۔ عوام یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ اِس سے قبل جب جنرل پرویز مشرف آرمی چیف کی حیثیت سے سری لنکا کے اہم دورے پر تھے تو آپ نے اُن کی تین سالہ ٹرم ختم ہونے سے قبل ہی کس سازش کے تحت اُن کی پاکستان واپسی کا انتظار کئے بغیر ہی سیاسی بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتہائی بے حکمتی سے مشرف کی پاکستان واپس سے قبل ہی اور قواعد کیمطابق اُنکی جگہ فوج سے سینیارٹی پینل مانگے بغیر اپنے کسی لاڈلے کو چیف آف پاکستان آرمی بنانے کا اعلان کیونکر کیا تھا جبکہ جنرل مشرف کے طیارے کو کراچی میں اُترنے کے بجائے کسی اور ملک میں لینڈ کرنے کے احکامات کیوں جاری کئے تھے جس کے سبب قومی ائرلائین میں سوار دیگر سینکڑوں مسافروں کی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہوا تھا جسے آرمی ٹاپ براس نے جنگی بنیادوں پر ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ تو جناب نواز شریف صاحب چیف جسٹس کے فیصلوں پر بلا جواز ہاہا کار مچانے کے بجائے اپنے دامن اور بند قبا کا ضرور ملاحظہ کریں۔

102
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...