ممبئی دہشت گردی (نومبر 2008 ) کے حوالے سے راقم کے گزشتہ کالم پر بہت سے قارئین نے سوالات قائم کئے ہیں اور ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے نواز شریف کے بیان کی روشنی میں مزید تفصیلات جاننے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ میاں نواز شریف جن کے بارے میں سابق وزیراعظم شہید بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب مفاہمت میں لکھا تھا کہ نواز شریف نے اکتوبر 1989 میں اُسامہ بن لادن کی حمایت اور مالی سپورٹ سے اُن کی حکومت کو گرانے کیلئے بے نظیر کے حامی ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کی تھی کے حوالے سے ماضی میں میاں نواز شریف کے نان اسٹیٹ ایکٹرز سے رابطے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔چنانچہ ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے سوال کیا گیا ہے کہ میاں نواز شریف نومبر 2008 میں نہ تو وزیراعظم اور نہ ہی صدر مملکت کے منصب پر فائز تھے اور نہ ہی صوبہ سندھ کی حکومت اُن کے دائرہ اختیار میں تھی تو اُن کا ممبئی دہشت گردی کے بارے میں معلومات کا ذریعہ کیا تھا کیونکہ بھارت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ دہشت گردوں کا مبینہ سفر سندھ کے پانیوں سے ممبئی کی بندرگاہ تک پہنچا تھا ؟ درحقیقت سابق نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف کی جانب سے سیاق و سباق اور کسی مضبوط شہادت کے بغیر ہی بھارتی سیاسی قیادت اور انتہا پسند ہندو تنظیموں کے پروپیگنڈے سے متاثرہو کر ممبئی دہشت گردی کی ذمہ داری احمقانہ انداز سے قبول کرکے گھر کو برباد ی کے جنکشن پر چھوڑتے ہوئے معصومیت سے یہ کہنا کہ گھر کو ٹھیک کرنے کی بات کرکے اُنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے جسے قوم و ملک سے خوفناک مذاق کے مترادف ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔چنانچہ اِس خوفناک مذاق کے منفی نتائج کے بارے میں مسلم لیگی مقتدر سیاسی رہنما چوہدری نثار علی خان کا یہ تجزیہ کہ ایسے بیانیہ سے نہ صرف ملک بلکہ مسلم لیگ (ن) پارٹی کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے قابلِ غور ہے۔ البتہ نواز شریف کے بیانیہ پر مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کا یہ کہنا کہ میاں نواز شریف کا مبینہ انٹرویو کرانے والے مسلم لیگ کے قائد کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور لیگی ارکانِ سے رہنمائی طلب کرنا کہ موجودہ حالات میں نواز شریف کے بیانات کا کس طرح دفاع کیا جا سکتا ہے حیران کن بات ہے۔ کیا تیس برس تک اقتدار کی غلام گردشوں میں متحرک رہنے اور اہم منصبوں کا حلف اُٹھانے کے بعد بھی سابق نااہل وزیراعظم کو اِس اَمر کا ادراک نہیں ہے کہ کیا بات کہنی چاہیے اور کیا نہیں جبکہ خطے میں بھارتی قیادت پاکستان کو بھارت ماتا میں جذب کرنے کے ناپاک عزائم کے حوالے سے مشرقی پاکستان کو طفیلی ریاست بنگلہ دیش میں تبدیل کرنے کے بعد اب امریکا اور اسرائیل کے تعاون سے موجودہ پاکستان پر بھی دانت تیز کر رہی ہے۔ چنانچہ قوم اور ملک کے حوالے سے ایسے احمقانہ بیانات بھارت کیلئے خصوصی انعام کی حیثیت رکھتے ہیں جسے بھارتی قیادت دنیا بھر میں پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے طور پر پھیلانے کیلئے ہر دم تیار بیٹھی رہتی ہے ۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے فرمایا تھا ………. ؂
میں اُن کی محفل عشرت سے کانپ جاتا ہوں
جو گھر کو پھونک کے دنیا میں نام کرتے ہیں
درحقیقت ، ممبئی دہشت گردی میں پاکستان مخالف بھارتی ایجنسی را، انتہا پسند بھارتی فوجی افسران اور دہشت گرد بھارتی تنظیمیں دامے درمے سخنے شامل ہیں۔ راقم نے دسمبر 2008 میں ممبئی دہشت گردی کے تمام پہلوؤں پر ایک تحقیقی ، تفتیشی اور تجزیاتی کالم تحریر کیا تھا جس سے یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ پاکستانی ایجنسیوں کا اِس دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ مضمون آج بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی 2008 میں چنانچہ عوام کے ذہنوں میں جنم لینے والے سوالات کا مفصل جواب اِس تحقیقی رپورٹ میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ” 26 / 27 نومبر 2008 کو ممبئی میں شروع ہونے والی دہشت گردی کی ایک منظم و منضبط کاروائی جسے انسانی اقدار کے ہر پیمانے سے بہیمانہ اور دلخراش واردات سے ہی تعبیر کیا جائے گا اور جوتقریباً 60 گھنٹوں تک ممبئی کے انسانوں پر ایک تاریک رات کی ظلمات کی طرح طاری رہی ، کیونکر ممکن ہوئی ہے ؟ یہ وہ سوال ہے جسے نہ صرف دنیا بھر کے تمام ہی دارلحکومتوں میں بھارتی دفاعی اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی کیساتھ ساتھ بھارتی سیاسی اور انتظامی اداروں کی منافقانہ حکمت عملی سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے ۔ اِس بھارتی ناکامی کا المیہ اُس وقت اور بھی زیادہ گھمبیر ہو جاتا ہے جب اِس المناک واردات کی آڑ میں تمام تر بھارتی ناکامیوں کا پر فریب ملبہ حکومت پاکستان پر ڈالنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے ۔بہرحال ایسا پہلی مرتبہ ہی ہوا ہے کہ دنیا بھر میں ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان پر الزامات کا ملبہ ڈالنے کی بھارتی کوششوں پر شکوک و شبہات کا برملا اظہار کیا گیا ہے ۔ دہشت گردوں کی اِس بہیمانہ کاروائی کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان پر الزامات کی بارش کے بعد بھارت کی جانب سے حکومت پاکستان کو فراہم کی جانے والی مبینہ دہشت گردوں کی فہرست میں بھی کوئی نئی بات نہیں کہی گئی ہے بلکہ اِس فہرست میں کم و بیش وہی نام دُھرائے گئے ہیں جو ماضی میں کئی مرتبہ بھارت کی جانب سے انڈر ورلڈ کرائمز ، کشمیر اور سکھ دہشت گردی کے حوالے سے پیش کئے جاتے رہے ہیں۔ اِن ناموں پر پاکستانی موقف بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنی کہ یہ فہرست ۔ حیرت ہے کہ بھارت کے اُبھرتے ہوئے معاشی دارالحکومت ممبئی میں جنم لینے والی دہشت گردی کی اِس منظم واردات کے مبینہ طور پر سمندری راستے سے ظہور پزیر ہونے پر ایشیا کی سب سے بڑی انڈین نیوی نے بھی بھارتی حکومت کی جانب سے بعد از وقوعہ جاری کردہ متضاد اور متنازعہ ریاستی بیانات کی تفصیلات جاری ہونے کے بعد دہشت گردی کے اِس واقعہ میں بھارتی انٹیلی جنس ، مقتدر بحری اورانتظامی اداروں کی مکمل ناکامی کا وا ضع طور پر اعلان کیا ہے 3 دسمبر 2008 کو جاری کئے گئے ایک بیان میں بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سریش مہتا نے امریکی معلومات پر تبصرہ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے اُن کے پاس ایسی معلومات نہیں تھیں جس کی بنیاد پر کاروائی کرنا ممکن ہوتا ۔ اُنہوں نے ممبئی میں دہشت گردوں کے داخلے کو ملک کی سیکورٹی اور انٹیلی جنس کی ناکامی سے تعبیر کیا ۔ اِس اعلانِ ناکامی کے حوالے سے بھارتی نیوی کا موقف اِس لئے بھی ناقابل فہم ہو جاتا ہے کہ جب بھی بھارتی حکومت خطے میں دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتی ہے تو وہ ملک بھر میں مقامی ہندو انتہا پسند تنظیموں کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات ISI یا پاکستانی جہادی تنظیموں پرہی لگانے پر اکتفا کرتی رہی ہے”
بھارت میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے سیکولر ذہن رکھنے والے بیشتربھارتی سیاسی و سماجی دانشور بھی سرکاری سطح پر فروغ پانے والے اِس منافقانہ روئیے سے اکثر و بیشتر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں ۔ بہت سے دانشوروں بشمول کلدیپ نائیر ، خوشونت سنگھ ، تولین سنگھ ، ویرندر سنگھ ، میناکشی گنگولی ،سیدشہاب الدین ،سعید نقوی اور بھٹا چاریہ اپنے حالیہ مقالوں اور کالموں کے ذریعے بھی بھارت میں دہشت گردی کی کاروائیوں کے حوالے سے تواتر سے بھارتی اربابِ اختیار کی توجہ اِس اَمرپر دلاتے رہے ہیں کہ بھارت میں دہشت گردی کے ہر وقوعے کا الزام پاکستان پر لگانے کے بجائے اپنے ملک کے اندر بھی اِن وقوعوں کی وجوہات تلاش کرنی چائیے کیونکہ دہشت گردی کے بہت سے واقعات بھارتی اندرونی سیاسی کشمکش کے باعث ظہور پزیر ہو رہے ہیں چنانچہ بھارت میں مسلمانوں اور انتہا پسند ہندو توا کی سرگرمیاں کو اُبھرتی ہوئی بھارتی دہشت گردی کے موجودہ منظر نامے میں بھارتی سیاسی مسئلے سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ کیونکہ بھارت اب امریکہ و امریکا کا اتحادی ہے اور دہشت گردی کی موجودہ واردات کے دوران ممبئی میں انتہا پسند یہودیوں کے مرکز نریمان ہاؤس کو نشانہ بنایا جانا بھی معنی خیز بات ہے ۔ چنانچہ خطے میں جاری دہشت گردی کی اِس جنگ میں اب شعوری یا غیر شعوری طور پر بھارت اسرائیلی مخصوص مفادات کو بھی جنوبی ایشیا کے معاملات میں اہمیت حاصل ہو گئی ہے ۔یاد رہے کہ خطے میں ایران اسرائیل ایٹمی کشیدگی کے حوالے سے بلوچستان میں اسرائیلی مفادات کے پس منظر میں اسرائیل بلوچستان میں اپنے مخصوص مفادات کے ضمن میں بھارتی اداروں اور گریٹر بلوچستان تحریک کے لیڈروں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور اِسی حوالے سے یروشلم میں نام نہاد آزاد بلوچستان کا آفس کھولا گیا ہے۔ ممبئی دہشت گردی میں یہودی نریمان ہاؤس کو ٹارگٹ بنانا اور پاکستان پر ممبئی دہشت گردی کے ملبہ پھینکنے کا عمل بھی خطے کی زمینی صورتحال کے حوالے سے ایک معنی خیز ڈیویلپمنٹ سے ہی تعبیر کیا جائے گا ۔
یہ درست ہے کہ بھارت بین الاقوامی فورمز کے سامنے اپنی تفتیشی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے بھارت یونین کے اقتدار اعلیٰ کے نام پر نہ صرف مقامی دہشت پسندانہ رجحانات اور بھارتی سیاسی اور سماجی زندگی میں مختلف الخیال شدت پسند گروپوں کی آپس کی چپقلش اور قومی سطح پر دہشت گردی کے مقامی عمل کے تیز تر ہونے کے باوجود مختلف بھارتی سیاسی گروپوں کی جانب سے اپنے مخصوص سیاسی مفادات کو تحفظ دینے کیلئے نہ صرف مضبوط ہندو سماجی پوزیشن رکھنے والے انتہا پسند دہشت گرد عناصر کی نشان دہی نہیں کرتا ، نہ ہی ہندو معاشرے میں سیاسی انتہا پسندی سے لپٹی ہوئی پیچیدگیوں کا تذکرہ کرتا ہے بلکہ دہشت گردی کی واردات کے بعد اِن تمام متنازعہ امور پر منافقانہ سرکاری خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے جیسا کہ سمجھوتہ ایکپریس ، مکہ مسجد ، مالے گاؤں وغیرہ سے متعلق دہشت گرد کاروائیوں کے بارے میں پاکستانی ایجنسیوں پر الزامات لگا کر کیا گیا ۔ سرکاری طور پر اِس اَمر کی وضاحت بھی نہیں کی جاتی ہے کہ نکسل باڑی دہشت گرد تحریک کے دوران آج تک بھارت میں جتنی قتل و غارت گری اور دہشت گردی کی وارداتیں ہوئی ہیں اُن کا گراف جموں و کشمیر میں ہونے والی قتل و غارت گری اور دہشت گردی سے کہیں زیادہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے سیکولر ذہن رکھنے والے بیشتربھارتی سیاسی و سماجی دانشور بھی سرکاری سطح پر فروغ پانے والے اِس منافقانہ روئیے سے اکثر و بیشتر مایوسی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور گاہے گاہے بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں اندرونی ہاتھ ملوث ہونے پر بھی تحقیقات کے عمل کو تیز کرنا چاہیے ۔
درج بالا تناظر میں ، اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نائین الیون کے بعد دنیا بھر میں دہشت گردی کی لہر کے آگے بند باندھنے کے حوالے سے امریکہ اور بھارت کے درمیان معتبر دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کی اہمیت کو تو ضرور محسوس کیا گیا ہے لیکن اِن محسوسات کو ریاستی اور بین الاقوامی معاہدوں میں ڈھال کر مستحکم بنیادوں پر قائم کرنے کی خواہشات رکھنے کے باوجود بھارت میں اسلام اور عیسائیت کے خلاف دہشت گردی کا مزاج رکھنے والی مقامی ہندو تواتنظیموں اور علیحدگی پسند نکسل باڑی تحریک کی شدت پسند ی و دہشت گرد کاروائیوں کو کبھی بھی حقیقی معنوں میں بھارتی سیکولر سیاسی ، انتظامی اور معاشرتی نظام میں نہ تو ضم کیا جا سکا ہے اور نہ ہی بھارتی سماجی اور سیاسی نظام پر اثر انداز ہونے والی اِن انتہاپسند تحریکوں اور تنظیموں کی غیرمعمولی شدت پسندی کو بھارتی سیکولر آئین کے تابع کیا جا سکا ہے ۔ جہاں تک بھارتی مسلمانوں کا تعلق ہے اُنہیں ویسے ہی دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے اور سیاسی و سماجی طور پر اُن کی اہمیت محض انتخابات میں ووٹ ڈالنے تک ہی محدود ہے ۔ اِسکی ایک حالیہ مثال اُس وقت سامنے آئی ہے جب ہندو توا دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے بھارتی انسداد دہشت گردی کے ایک مقامی سربراہ ہیمنت کراکرے اور اُن کے ساتھ سالسکر نے جب مالے گاؤں اور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں میں سنگھ پرئیوار اور ہندو توا کے انتہا پسند حامیوں جن میں بھارتی فوج کے چند متعصب ہندو افسران بشمول کرنل پروہت وغیرہ شامل تھے کے ملوث ہونے کا سراغ لگایا اور بیگناہ مسلمانوں کو مقدمات سے فارغ کیا گیا تو اِنہی ہندو شدت پسند تنظیموں کی جانب سے اُنہیں موت کے گھاٹ اُتارنے کی دھمکیوں سے نوازا گیا ۔بھارتی مسلم سیکولر نمائندوں کے علاوہ دہلی جامع مسجد کے امام بخاری بھی تواتر سے اِس اَمر کی تائید کرتے رہے ہیں کہ بھارت میں ہونے والی کسی بھی مجرمانہ یا دہشت پسندانہ واردات میں بھارت کے طول و ارض سے بے گناہ مسلمانوں کی گرفتاریاں کی جاتی ہیں اور اُن میں سے چیدہ چیدہ افراد کو مقدمات میں پھنسایا جاتا ہے لیکن ایسا خال خال ہی ہوتا ہے کہ جب کوئی باضمیر ہندو افسر اصل حقیقت سے پردہ اُٹھا دیتا ہے۔ ہیمنت کراکرے بھی انسداد دہشت گردی ے حوالے سے ایک ایسے ہی باضمیر افسر تھے لیکن بھارتی سیکولر آئین پر یقین رکھنے والے اِس فرض شناس افسر کی مالیگاؤں اور سمجھوتہ ایکپریس کے دھماکوں میں انتہا پسند ہندوؤں کی complicity کو ثابت کرنے اور انسداد دہشت گردی کی اِس بے مثال کارکردگی پر خراج تحسین پیش کرنے کے بجائے ممبئی دہشت گردی کی موجودہ واردات میں بلاآخر اِس فرض شناس افسر کو بھی اُن کے ساتھی سالسکر کے ہمراہ ممبئی دہشت گردی کی اِسی واردات میں ریلوے ٹرمینل پر فائرنگ کے واقعہ کے فوراً بعد پولیس ہیڈکوارٹر کے عقب میں موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا جس کا الزام بھی اجمل قصاب پر لگا دیا گیا۔ اِس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ ممبئی میں دہشت گردی کی موجودہ المناک واردات کے حوالے سے بھارتی ریاستی اداروں اور میڈیا کی جانب سے درست نتائج اخذ کرنے اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے بجائے اِس کاروائی کو محض پاکستان کے خلاف پوائنٹ اِسکور کرنے اور الزامات کی ایک نہ ختم ہونے والی بے معنی بحث کا محور بنا کر پاکستان، بھارت تعلقات میں بگاڑ کی نئی دیوار قائم کرنے پر ہی تمام تر صلاحیتیں صرف کر دی گئیں اور خطے میں آبرومندانہ امن کو فروغ دینے کے بجائے عوامی سطح پر خوف و ہراس اور مایوسی کی فضا قائم کر دی گئی ہے جو خطے کے امن کیلئے اچھا شگون نہیں ہے ۔
دریں اثنا ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی میڈیا اور سرکاری ذرائع سے جو بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں ، اُن کے تجزیاتی جائزے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مستند شہادت سے محروم پاکستان مخالف الزامات کی درست پیرائے میں تفتیش و تحقیق کرنے کے بجائے بھارتی حکومت ، انتہا پسند ہندو تنظیمیں اور بیشتر اپوزیشن سیاسی جماعتیں اپنی اپنی سیاسی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے حقائق کو پس پشت ڈالتے ہوئے دہشت گردی کی اِس کاروائی کو نہ صرف دھویں کے بادلوں میں چھپانے کی کوششوں میں مصروف ہیں بلکہ انتہا پسند ہندو اِس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے خطے میں پاکستان کے خلاف نفرت کی سیاست کو پھر سے اُبھارنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اِس اَمر پر حیرت ہوتی ہے کہ بھارتی لیڈرشپ اور مقتدر ادارے دہشت گردی کی اِس واردات پر خاطر خواہ غور و فکر کرنے اور درست پیرائے میں تفتیش کے عمل کو آگے بڑھانے کے بجائے بھارت میں انتخابی عمل کے حوالے سے محض اپنے اپنے مخصوص سیاسی مفادات کو ہی پیش نظر رکھتے ہیں اور اِس المناک واردات کے گرد پاکستان مخالف الزامات اور مفروضوں کا جال بُن کر تمام ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتے ہیں ۔ وہ دہشت گردی کی اِس بہیمانہ واردات کی تمام تر ذمہ داری کا بوجھ مستند شہادتوں کے بغیر پاکستان پر ڈالتے ہوئے بھی یہ نہیں بتا پا رہے ہیں کہ مبینہ طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے اِن دہشت گردوں کو ممبئی کے ہائی سیکیورٹی زون میں باآسانی آپریٹ کرنے اور بیباکی سے اپنا ظالمانہ مشن پورا کرنے کیلئے logistic support کن مقامی بھارتی ایجنٹوں یا دہشت گرد گروپوں کی جانب سے دی گئی تھی ۔یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ بھارتی مقتدر ادارے انسداد دہشت گردی کے کسی Standing Operational Procedure پر عملدرامد کئے بغیر ممبئی کی ٹارگٹ بلڈنگز میں دہشت گردی کی صورتحال پر قابو پانے یا محض چند (تقریباً دس ) دہشت گردوں جو ممبئی کے پانچ سات مقامات پر بکھرے ہوئے تھے پر قابو پانے میں 60 گھنٹوں تک کیا مشاورت کرتے رہے کیونکہ قرائین تو یہی کہتے ہیں کہ اِن دہشت گردوں کو زخمی حالت میں زندہ پکڑنے کے بجائے بھارتی اداروں نے اِن میں سے بیشتر دہشت گردوں کو جان سے مار دینے کی اِسٹریٹیجی ہی اپنائی تھا اور ایک دہشت گرد کا زندہ بچ جانا یا تو ایک معجزہ ہی تھا یا پھر اِسے بھی پاکستان پر ملبہ ڈالنے کیلئے اجمل قصاب کے ڈوپلیکیٹ کے طور پر بھارتی اِسٹریٹجی کا حصہ بنایا گیاَ ؟ حیرت ہے کہ بھارتی حکومت اِن دہشت گردوں کے ممکنہ عزائم کو سمجھنے اور اِن کے مقامی ایجنٹوں کو expose کرنے میں کیوں ناکام رہی اوراپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے ہوئے بے خبری کا مظاہرہ کرتی رہی یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر بھارتی اداروں کو بہت سی وضاحتیں دینی چاہئیں ؟
بھارتی اداروں کی مبینہ تحقیق کیمطابق اگر یہ دہشت گرد گجرات کاٹھیاوار سے منسلک سندھ کی ساحلی پٹی، شاہ بندر وغیرہ سے ریاست گجرات ہوتے ہوئے ممبئی میں داخل ہوئے تھے تو امریکی اتحادی ایجنسی کی جانب سے مبینہ دہشت گردوں کے سمندری راستے سے ممبئی میں ممکنہ داخلے کی پیشگی اطلاعات حاصل ہونے کے باوجود ، جس کا تذکرہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے بھی کیا گیا ہے تو ممبئی میں وسیع تر بھارتی انٹیلی جنس ، سیکیورٹی اور ایشیا کی سب سے بڑی بھارتی نیوی نے کشتیوں میں سوار بھارت آنے والے اِن دہشت گردوں کو حساس اسلحہ و گولہ بارود کیساتھ ممبئی کے ہائی سیکیورٹی زون میں کیسے داخل ہو نے دیا جہاں وہ آزادی سے دس دن تک علاقے کی Recce کرتے رہے ۔ حیرت ہے کہ ایشیا کی سب سے بڑی انڈین نیوی جو امریکی معاہدوں کا حصہ ہونے کے باعث نہ صرف پاکستان اور خلیج سے آنے والے فشنگ ٹرالرز اور دیگر کشتیوں اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھتی ہے کو امریکی انٹیلی جنس کی پیشگی رپورٹ ملنے کے باوجود یہ مبینہ دہشت گرد کیونکر ممبئی میں باآسانی داخل ہوگئے؟ مندرجہ بالا تناظر میں انڈین نیوی اور نیول طیاروں کی مسلسل سمندری نگرانی اور ممبئی میں بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری موجودگی کے باوجود یہ مبینہ دہشت گرد مناسب سیکیورٹی چیکس کے حامل تاج محل و اُبرائے ٹرائی ڈینٹ ہوٹل اور بین الاقوامی اہمیت کے حامل یہودی اسرائیلی سینٹر نریمان ہاؤس تک پہنچنے اور رہائشی کمروں میں حساس اسلحہ رکھنے میں کیونکرکامیاب ہوئے ؟ ایسا یقیناًمقامی سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں تھا ۔
چنانچہ عذر گناہ بدتر از گناہ کے طور پر بھارتی میڈیا میں یہ کہا گیا کہ بھارتی نیوی نے دہشت گردوں کو ممبئی لانے پر مبینہ طور پر دو پاکستانی بحری جہازوں کو قبضہ میں لیا تھا لیکن حقائق یہی کہتے ہیں کہ اِن میں سے کوئی بھی جہاز پاکستانی نہیں تھا ؟ جبکہ پہلے کہا گیا تھا کہ کشتیوں میں سوار دہشت گرد 26 نومبر کو ریاست گجرات کے راستے ممبئی پہنچے تھے لیکن پھر یہ بھی کہا گیا کہ دہشت گرد وں کا یہ گروپ بحری راستے سے ایک ماہ قبل ممبئی پہنچا تھا لیکن ممبئی پولیس اور دیگر انٹیلی جنس ادارے اِس اَمر کی وضاحت نہیں کرتے کہ دہشت گردوں کے پاس اتنا زیادہ حساس اسلحہ کہاں سے آیا اور ہوٹل سیکیورٹی اور نریمان ہاؤس میں موثر اسرائیلی سیکیورٹی کی موجودگی میں اِسے کس طرح ٹارگٹ ایریا میں لایا گیا اور اِن ہوٹلوں و نریمان ہاؤس میں موجود چند دہشت گردوں نے اتنی زیادہ فائر پاور کا مظاہرہ کیونکر کیا ؟ واحد مبینہ دہشت گرد جسے زندہ پکڑا گیا کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ملتان کے نزدیک فرید کوٹ کا رہائشی ہے لیکن بی بی سی کی ایک تفتیشی رپورٹ کے مطابق ایسے کسی بھی دہشت گرد کا تعلق فرید کوٹ نامی کسی گاؤں یا قصبے میں نہیں پایا گیا ۔ ایک ای میل میں دعویٰ کیا گیا کہ دہشت گردوں کا تعلق پہلے سے نہ سنے گئے دکن مجاہدین سے ہے ۔ یہ ای میل مبینہ طور پر لاہور سے بھیجی گئی لیکن امریکی تحقیق نے اِس میل کو روسی آئی پی کے حوالے سے بیان کیا ہے جسے کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے بیرونی لنکس لاہور ہی نہیں دنیا کے کسی بھی شہر سے جاری کر سکتے تھے اور اِسے کسی طرح بھی حکومتِ پاکستان کے خلاف ایک مستند شہادت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا ؟ اِس اَمر کو بھی مد نظر رکھنا چاہئیے کہ جہادی تنظیموں کے علاوہ بھارتی انتہا پسند ہندو تنظیموں ویشوا ہندو پریشد ، آر ایس ایس ، اور بجرنگ دل یا ہندو یونٹی کے ایکسٹرنل لنکس دنیا بھر بشمول پاکستان موجود ہیں اور دہشت گردی کی ایسی کسی بھی واردات میں بخوبی استعمال ہو سکتے ہیں ؟ دکن مجاہدین کے حوالے سے دہشت گردوں کے بیانات بھارتی میڈیا اور چینلز پر کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے بھی بیان کئے گئے جن سے یہ نتائج اخذ کرنا کہ دہشت گردی کی اِس کاروائی میں پاکستانی ،بنگلہ دیشی یا بھارتی اسلامی جہادی تنظیمیں ملوث ہیں کو بھی مستند شہادت کے بغیر ناقابل فہم ہی سمجھا جائے گا ۔ اگر بھارتی ادارے اور میڈیا مقامی سپورٹ کے عمل کو مکمل طور پر expose کئے بغیر دہشت گردی کی اِس واردات کو مقامی دہشت گردوں کی complicity کے عنصرسے علیحدہ رکھتے ہوئے بِلا کسی شہادت کے الزام پاکستان پر عائید کرنے پر اصرار کرتے ہیں تو بات عام فہم کی ادراک سے بھی باہر ہو جاتی ہے۔
فی الحقیقت دہشت گردی پر مبنی عراق ، افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے خود کش حملوں کی شیطانی فکر تو سمجھ میں آتی ہے لیکن ممبئی دہشت گردی بالکل ہی مختلف واقعات و معاملات پر مبنی ہے جسے بیرونی عناصر مقامی سیکورٹی اداروں کی موجودگی میں کنڑول نہیں کر سکتے۔ اہم سوال یہی ہے کہ کیا باہر سے آنے والے مبینہ دہشت گردوں کیلئے مقامی سپورٹ ایجنٹوں کی مدد کے بغیر یا بھارتی سیکیورٹی انٹیلی جنس کی نظر میں آئے بغیر ٹارگٹ ایریا کے بلڈنگ اسٹرکچرز کی معلومات حاصل کرنااور اِن اُس سے منسلک گلیوں، محلوں، بازاروں اور شاہراؤں کی متعدد مرتبہ بخوبی Recce کرنا ممکنات میں تھا بظاہر ایسا ممکن نہیں ہے ؟ جبکہ ممبئی جیسے اہم شہر میں موجود مقتدر ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے بحری و شہری اداروں کی متحرک موجودگی میں مضبوط مقامی سپورٹ کے بغیر ممبئی میں کافی دنوں تک اپنے آپ کو اور حساس اسلحہ کو کسی عوامی علاقے یا ہوٹل میں چھپائے رکھنا بھی ایک بہت ہی مشکل اَمر ہے ۔ یہ کہنا کہ یہ دہشت گرد ایک لمبی مدت تک ممبئی میں رہتے ہوئے اسلحہ جمع کرتے رہے ، Recce کرتے رہے اور اپنے آپ کو ایجنسیوں کے سامنے expose ہونے سے بچاتے رہے بغیر کسی مضبوط مقامی سپورٹ کے کیسے ممکن ہے کیونکہ یہ کوئی خودکش حملہ آور نہیں تھے جو کسی خفیہ مقام سے اچانک آئے اور دھماکہ کرکے شہادت بھی اپنے ساتھ ہی ختم کر گئے عذر گناہ بدتر از گناہ کے مترادف ہی ہے ۔ یہ وہ اہم سوالات ہیں جو فی الوقت انسداد دہشت گردی کے بہت سے دانشوروں کے ذہن میں چبھ رہے ہیں کیونکہ جس انداز میں ممبئی دہشت گردی کے ممکنہ عزائم کو دہشت گردوں اور بھارتی میڈیا و سیاسی و سماجی لیڈرشپ کے جاری کردہ بیانات میں بتایا کیا گیا ہے اُن میں نہ صرف مکمل مماثلت ہے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی اداروں میں موجود ہندو انتہا پسندوں کو اِن دہشت گردوں کی پیشگی تائید حاصل تھی۔ قرائین یہی کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے اِس المناک واردات کی ابتدا سے ہی دہشت گردوں اور سیاسی انتظامیہ کے مقاصد ایک جیسے ہی نظر آتے تھے یعنی بڑی ہی یکسوئی سے دہشت گردی کی اِس واردات کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا جائے ۔
حیران کن بات یہ بھی ہے کہ ممبئی جسے بھارت کے معاشی دارلحکومت کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے ، میں بھارتی سنٹرل انٹیلی جنس بیورو، ‘RAW راء کے ایجنٹوں ، سپیشل برانچ کے موثر ہوٹل نیٹ ورک ، مقامی CID ، پرائیویٹ ہوٹل سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے ایجنٹوں کی نظروں میں آئے بغیر ممبئی میں اتنی بڑی واردات کرنے میں کیونکر کامیاب ہوئے؟ کیونکہ مضبوط مقامی سپورٹ کے بغیر یہ دہشت گرد ممبئی میں اتنی بیباکی ، دیدہ دلیری اور اعتماد کیساتھ تاج محل ہوٹل ، اُبرائے ہوٹل ، اسرائیلی نریمان ہاؤس ، کاما ہسپتال ، چھترپتی شیوا جی ریلوے ٹرمینل اور کیفے لیوپولڈ کے علاقوں کو دہشت گردی کا نشانہ نہیں بنا سکتے تھے ۔ درحقیقت سمجھوتہ ایکسپریس اور مالے گاؤں و مکہ مسجد وغیرہ کے دھماکوں میں سنگھ پرئیوار کی اہم تنظیموں سے منسلک انتہا پسند ہندوؤں اور فوجی افسروں کا دہشت گردی کی کاروئیوں میں تال میل کا پایا جانا اور پھر ممبئی میں دو مبینہ دہشت گردوں کی جانب سے ریلوے ٹرمینل پر فائرنگ کے بعد بآسانی پولیس ہیڈکوارٹر کی پشت پر پہنچ کر جیپ میں موجود انسداد دہشت گردی کے سربراہ ہیمنت کراکرے اور وجے سالسکر جنہوں نے مالے گاؤں اور سمجھوتہ ایکسپریس کے کیس میں انتہا پسند ہندؤ فوجی افسروں کو گرفتار کیا تھا اور جنہیں اِس کارکردگی پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں ، کا ممبئی دہشت گردی کی اِسی واردات میں دور سے نشانہ باندھ کر قتل کیا جانا مقامی دہشت گرد تنظیموں کے مارک مین کی مدد کے بغیر کیسے ممکن تھا ؟ ایک ایسی پیچیدہ دہشت گردی کی واردات جس کے واحد زندہ بچ جانے والے مبینہ مرکزی ملزم اجمل قصاب کے بھارتی سپریم کورٹ میں متنازع بیانات کے بعد بھی پاکستانی اداروں کو رسائی دئیے بغیر پھانسی پر لٹکا دینا حیران کن اَمر ہے۔ اندریں حالات ، سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ممبئی دہشت گردی کی اِس واردات کا الزام بغیر کسی شہادت کے پاکستان پر ڈال دینا کیا کسی بیرونی دباؤ کے سبب تھا؟ نواز شریف کے دس برس کے بعد کسی موقع محل کے بغیر ہی ممبئی دہشت گردی کو زیر بحث لانا پاکستان کے قومی مفادات کو زک پہنچانے کے مترادف ہی سمجھا جائیگا کیونکہ اس بیان کے فوراً بعد ہی بھارت کے دفاعی اتحادی امریکا کے وزیر دفاع کے ترجمان ڈانا دبلیو وائٹ کا بھارتی چیرہ دستیوں کو پس پشت ڈالٹے ہوئے یہ کہنا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں ہی نے دہشت گردی کو فروغ دیا ہے بھی نواز شریف کے بیان کا ایکشن رے پلے ہی ہے ۔ کیا نوز شریف اپنے دوست نریندرا مودی اور امریکا کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں، بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ اسلام آباد، لاہور، لندن اور واشنگٹن میں بیٹھے کچھ غدارانِ وطن اپنی فیملی کے اہم ممبران کو غیر ملکی شہریت کو عافیت سمجھتے ہوئے پاکستان کی بربادی کے منصوبے بنانے میں مصروف ہیں جس کا پاکستانی اداروں کو موثر تدارک کرنا چاہیے کیونکہ بقول علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ ۔۔۔۔۔
میں اُن کی محفل عشرت سے کانپ جاتا ہوں
جو گھر کو پھونک کے دنیا میں نام کرتے ہیں!

237
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...