حسین حقانی میمو گیٹ اور پرویز رشید ڈان لیکس کے حوالے سے پاکستان میں بیرونی ایجنسیوں کی تخریب کاری اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ قومی سلامتی کے حوالے سے تحقیقات کے دوران اِن دونوں شخصیتوں کا بل ترتیب اہم عہدوں سے علیحدہ کئے جانے یا ازخود اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جانے کے باوجود یہ دونوں شخصیتیں بدستور پاکستانی قومی اداروں کے خلاف متحرک ہیں جو انتہائی حیران کن اَمر ہے۔ حسین حقانی بظاہر امریکی سی آئی اے اور بھارتی را کے حمایت یافتہ تھنک ٹینکس کی مدد سے واشنگٹن میں بیٹھ کر پاکستان کو ٹارگٹ بنائے ہوئے ہے جبکہ پرویز رشید سابق نااہل وزیراعظم کے زیر سایہ ڈان لیکس کی فکر کو آج بھی مہمیز دینے میں مصروف ہیں۔ درحقیقت ، نائین الیون کے بعد مسلم ممالک کے خلاف مغربی ممالک کے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے بیرونی خفیہ ایجنسیاں میڈیا میں دوستانہ صحافتی حلقوں کی مدد سے نہ صرف تخریب کاری پھیلانے کیلئے ڈِس انفارمیشن کو حربے کے طور پر استعمال کرنے میں پیش پیش ہیں بلکہ ٹارگٹ ملکوں بشمول پاکستان میں اندرونی خلفشار پیدا کرکے ہم خیال اتحادی ملکوں کی مدد سے جن میں بھارت پیش پیش ہے، خطے میں مغرب کی سیاسی بالا دستی قائم کرنا اِسی اہم مشن کا حصہ ہے۔ نائین الیون کی دہشت گردی کے المناک واقعات جس کے پس پردہ محرکات اور ذمہ داران کا تعین آج بھی بے یقینی کی دھند میں چھپا ہے ، کے بعد مغرب میں اسلامی تہذیب و تمدن کو جس بہیمانہ طریقے سے تہذیبی ٹکراؤ کا نشانہ بنایا گیا ہے ، وہ یقیناًقابل مذمت ہے ۔ مغربی ممالک کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئیے کہ تمام ہی اسلامی ممالک کسی بھی نوعیت کی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ اگر بفرض محال یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ نائین الیون کی دہشت گردی کے پیچھے القاعدہ یا طالبان قوتیں کارفرما تھیں تب بھی محض چندانتہا پسند گروپوں کی دہشت پسندانہ کاروائیوں کی آڑ میں مغرب کی جانب سے سیاسی اور معاشی دباؤ کے حربے استعمال کرتے ہوئے اسلامی میانہ روی کے حامل تمام اسلامی ملکوں کے تمدن کو مطعون کرنا کسی طور احسن اقدام نہیں ہے ۔
بہرحال مغربی ملکوں میں نائین الیون کی دہشت گردی کی آڑ میں اسلام کے خلاف نہ ختم ہونے والی ہرزہ سرائی کی مہم سے اِس اَمر کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک دنیا بھر میں اسلامی تمدن کی بڑھتی ہوئی پزیرائی سے ناخوش ہیں ۔ ماضی میں اِسی فکر کا اظہار عربوں کی حمایت سے سلطنت عثمانیہ کی تباہی کو ممکن بنانے اور عرب ملکوں پر قبضے کے بعد 1917 میں برطانوی وزیر خارجہ کی جانب سے عربوں کو آزادی دینے کے بجائے فلسطین کو یہودیوں کا قومی گھر بنانے کا اعلان بلفور بھی اِسی فکر کا حصہ ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے اِس دور سے ذرا آگے بڑھتے ہیں تو اِسّی کی دھائی میں جہاد افغانستان کی مدد سے روسی سوویت یونین کے ٹوٹنے پر بل خصوص امریکی حمایت یافتہ یہودی لابی نے ہی اسلامی جہادی فکر کو افغانستان میں عالم تنہائی میں چھوڑ کر مغربی دنیا کیلئے خطرہ سمجھنا شروع کر دیا چنانچہ مغربی میڈیا پر یہودی بالادستی کے باعث اسلامی دنیا کے خلاف یہ منظم پروپیگنڈہ آج تک جاری و ساری ہے ۔ اِس تحریک کو مزید مہمیز دینے کیلئے امریکا میں یہودی لابی کے زیر اثر مغرب کے کچھ مفکرین نے اپنے تحقیقی مقالوں کے ذریعے تواتر سے اسلامی تہذیب کے اقتصادی اور معاشرتی نظام کو مغربی سرمایہ دارانہ نظام کیلئے بڑی رکاوٹ گردانتے ہوئے مستقبل کی تہذیبی کشمکش کو مغربی فکر و نظر کا حصہ بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا ۔ اِن مفکرین میں 1918 میں شائع ہونے ہونے والی کتاب ” مغرب کا زوال ” کے مصنف اَسوالڈ سیپنگلر، 1990 میں شائع ہونے والے مقالے ” مسلم برہمی کی جڑیں ” کے مصنف برنارڈ لیوس اور 1993 میں شائع ہونے والی کتاب ” تہذیبوں کا ٹکراؤ ” کے مصنف سیموئل ہٹینگٹن شامل ہیں۔ حیرت ہے کہ علمی قابلیت اور وسائل ہونے کے باوجود اسلامی تہذیب کے خلاف منظم مغربی پراپیگنڈے کا موثر جواب دینے کے بجائے مسلم ممالک کے بیشتر سیاسی و میڈیا دانشور مغربی ملکوں کے سامنے معذرت آمیز رویہ اختیار کرنے پر ہی اکتفا کرتے رہے ہیں؟
نائین الیون کے بعد دہشت گردی سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پانے کیلئے اقوام متحدہ کے چارٹر کو پیش نظر رکھتے ہوئے معدودے چند دہشت گرد تنظیموں کے گرد دائرہ تنگ کرنے اور دہشت گردی سے متعلقہ مسائل کو بخوبی حل کرنے کے بجائے مخصوص مفادات کی تابع مغربی طاقتوں نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بیشتر اسلامی ممالک بل خصوص عراق ، ایران ، افغانستان اور پاکستان میں تہذیبوں کے تصادم کی فکر کو غیر ضروری طور پر مہمیز دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کو نہ صرف غیر محسوس طریقے سے تبدیل کرکے سامراجی مقاصد کیلئے استعمال کیا بلکہ طاقت کے بل بوتے پر دیدہ دلیری سے آزاد اسلامی ملکوں کے اقتدار اعلیٰ اور خود مختاری میں بھی بے دریغ دراندازی کی گئی ہے ۔ عراق اور افغانستان پر امریکہ ، برطانیہ اور نیٹو کے غاصبانہ قبضے کیلئے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا اُس میں بیرونی ایجنسیوں کی تخریب کاری اور مقامی صحافیوں کی پیلی صحافت سر فہرست نظر آتی ہے ۔ اِسی حوالے سے مسلم ممالک میں فوجی تربیت یافتہ بیرونی کنٹریکٹ سیکیورٹی ایجنسیوں کے ایجنٹوں بل خصوص بلیک واٹر کی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ تہذیبوں کے تصادم کی مغربی فکر اور اسلامی ممالک کے خلاف مغرب کے جارہانہ عزائم کو دھند کی دیوار میں چھپانے کیلئے مغربی میڈیا جس پر یہودی لابی کا بھرپور کنٹرول ہے، نے ماضی میں ڈِش انفارمیشن پراپیگنڈہ کے ذریعے دنیا کو یقین دلایا تھا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیارموجود ہیں جنہیں جمہوری دنیا اور مغرب کی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ سمجھا گیا تھا لیکن کیا عراق میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کا کھیل کھیلنے کے باوجود ایسے کسی مہلک ہتھیار کی موجودگی نہیں پائی گئی کیونکہ عراق پر قبضے کے بعد بھی ایسا کوئی ہتھیار نہیں ملا۔
سامراجی ممالک بل خصوص امریکہ اور برطانیہ جمہوریت کے علم بردار ہونے کے باوجود ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ کیا ایسا مغرب کے مخصوص مفادات کے پیش نظر گیس ، تیل و دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال اسلامی ممالک کے قدرتی وسائل کو اپنے قبضہء قدرت میں رکھنے کیلئے کیا جاتا ہے کیونکہ مغربی ممالک اسلامی فکر کے احیاء کو مغربی سیکولر کلچر کیلئے سم قاتل سمجھتے ہیں ؟ اِس کا جواب ماضی میں امریکہ نے سرد جنگ سے جان چھڑانے کیلئے کیمونسٹ روس کی مکران کوسٹ کے گرم پانیوں تک مجوزہ آمد کو اسلامی ممالک کی سلامتی اور مغرب کے مخصوص مفادات جن میں مشرق وسطیٰ کے تیل کے ذخائر شامل تھے کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے افغان جہاد کو مہمیز دیکر سویت یونین کے ٹوٹنے کی شکل میں پا لیا تھا ۔ چنانچہ سرد جنگ کے خاتمے پر مغربی عزائم پورے ہو نے پر مغرب نے جہادی قوتوں کی پشت سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا کیونکہ اسلامی فکر کے احیاء کے سامنے مغربی فکر کے روندے جانے کے خدشات کے پیش نظر مغرب نے نہ صرف اتحادی جہادیوں کو دہشت گرد بنانے میں دیر نہیں لگائی بلکہ کل تک سوویت یونین کے حمایتی بھارت کو بھی اپنا دفاعی اتحادی بنانے سے گریز نہیں کیا ۔ اِسی تناظر میں یہ اَمر حیران کن ہے کہ چند پاکستانی سنیئر صحافی اور اینکر حالات کی بہتری کیلئے کام کرنے کے بجائے اپنے مضامین ، ٹاک شوز اور عوامی بات چیت کے فورمز میں بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت کے حوالے سے بھی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں ۔ یاد رہے کہ بلوچستان کو کسی فوجی مہم کے ذریعے پاکستان شامل نہیں کیا گیا تھا جس طرح بھارت نے ریاست حیدرآباد ، جونا گڑھ مناودر اور کشمیر پر فوجی طاقت کے بل بوتے پر قبضہ کیا تھا بلکہ برٹش بلوچستان ریفرنڈم کے ذریعے اور ریاست قلات ، مکران اور خاران کے حکمرانوں نے برطانوی حکومت ہند کی تقسیم ہند کے ایجنڈے کے مطابق ریاستوں سے متعلق برطانوی حکومت ہند کی پالیسی کے تحت پاکستان کیساتھ الحاق کیا تھا ۔ اِسی طرح سرحدی صوبہ خیبر پی کے ریفرنڈم کے ذریعے ہی پاکستان میں شامل ہوا تھا ۔ بھارتی حاشیہ بردار پاکستانی صحافیوں کے حوالے سے سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت میں فوجی چھاونیوں کا نظام قائم نہیں ہے بلکہ بھارت نے تو مقبوضہ کشمیر کے طول و ارض میں ملکی سیکیورٹی کے نام پر لاکھوں فوجیوں کو تعینات کیا ہوا ہے جہاں کشمیریوں کو بدترین غیرا نسانی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔
درج بالا منظر نامے میں اِس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بیرونی ایجنسیاں گریٹر بلوچستان تحریک کی آڑ میں پاکستان اور ایران کے خلاف تخریب کار ایجنٹوں کے ذریعے علاقے میں بدامنی پھیلانے میں پیش پیش ہیں۔ بیرونی ایجنسیاں گوادر میں پاکستان چین سی پیک معاہدے کے تحت خلیج کے منہ پر چین کی موجودگی کو خطے میں بھارت اور امریکا کے مخصوص مفادات کے منافی سمجھتے ہوئے پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقوں میں نہ صرف تخریب کاری کو ہوا دے رہی ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کی دیوار تعمیر کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ بھارت کی ایران میں چاہ بہار بندرگا کی تعمیر کی آڑ میں پاکستان ایران سرحدی علاقے میں بھارتی تخریب کار ایجنٹوں کے ذریعے بلوچستان میں سیاسی خلفشار پیدا کرنے میں پیش پیش ہے جس کی وضاحت بلوچستان کے علاقے میں داخل ہونے والے ہائی پروفائل دہشت گرد بھارتی تخریب کار ایجنٹ جادیو کی گرفتاری سے بھی ہوتا ہے جس کا مقدمہ اب اقوام متحدہ کی عالمی عدالت تک پہنچ چکا ہے۔کچھ ایسی ہی صورتحال کے حوالے سے ایرانی سیاسی قیادت سیستان بارڈر اور خلیج سے ملحقہ علاقوں سے ایران میں ہونے والی بیرونی ایجنسیوں کی دراندازی سے شاکی نظر آتی ہے۔ خطے میں سی آئی اے ، اسرائیلی ایجنسی موساد اور بھارتی ایجنسی را کا گٹھ جوڑ خطے کی سلامتی کیلئے سم قاتل کے مترادف ہے۔ اِس منظر نامے کی تائید ایران کے خلاف اسرائیل کے حالیہ دعووں سے بھی ہوتی ہے۔ اسرائیلی اربابِ اختیار کے میڈیا بیانات کیمطابق ایران کی ایٹمی تنصیبات کی تباہی کیلئے اسرائیلی ایجنٹوں اور کمانڈو گروپس کو ایران میں تخریب کاری کیلئے تواتر سے بھیجا جاتا رہا ہے بھی اِسی تشویشناک صورتحال کی نشان دہی کرتی ہے ۔ بیرونی ذرائع ابلاغ کے مطابق بیرونی ایجنسیاں ایرانی بلوچستان کی تنظیم جند اللہ کو بلوچ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں تربیت دے کر ایران میں سیاسی خلفشار پیدا کرنے کیلئے استعمال کر رہی ہیں جس کی تصدیق 2011 میں لندن سے شائع ہونے والی کتاب “Pakistan Terrorism Ground Zero” کے متن سے بھی ہوتی ہے جس میں وضاحت سے کہا گیا ہے کہ جند اللہ ، پاکستان ایران تعلقات کی خرابی کے حوالے سے کیلئے ایک چیلنج بن چکی ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس موساد ، سی آئی اے اور راء کیساتھ مل کر گریٹر بلوچستان موومنٹ کی آڑ میں ایران اوربلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں جسے اومان اور افغانستان میں قائم خفیہ سیف ہاؤسز کے ذریعے ہوا دی جا رہی ہے۔ اِسی حوالے سے گزشتہ چند برسوں میں چینی انجینئروں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ بھارتی تھنک ٹینکس ماضی میں عراق پر امریکی قبضہ کی حمایت میں اسرائیلی موساد اور امریکی سی آئی اے کیساتھ مل کر خطے کے ممالک میں بڑی ڈِس انفارمیشن مہم چلاچکے ہیں جس کا مقصدامریکی عوام اور اقوام عالم کو مطمئن کرنا تھا کہ عراق کی سابقہ صدام حکومت امریکا اور اسرائیل کے خلاف کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتی ہے ۔درحقیقت بیرونی ایجنسیاں دنیا بھر میں میڈیا کی بڑھتی ہوئی سیاسی قوت کا بخوبی ادراک رکھتی ہے ۔
ماضی میں ڈِس انفارمیشن کا یہی حربہ عراق میں کیمیکل ہتھیاروں کی موجودگی کے حوالے سے عراقی صحافیوں کی مدد سے استعمال کیا گیا جس کیلئے خطیر رقومات خرچ کی گئیں ، عراقی اور عرب ملکوں کے سنیئر صحافیوں کو ہمنوا بنایا گیا اور سی آئی اے کی میز پر تیار کئے گئے پراپیگنڈہ مواد کو اِن صحافیوں کے رپورتاژ اور کالموں کو عراقی عوام کی رائے ظاہر کرتے ہوئے امریکی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کامیاب کوششیں کی گئیں۔ یہ درست ہے کہ آزادانہ رائے کے حامل کچھ امریکی صحافیوں نے امریکی میڈیا میں عراقی عوام کی رائے کے طور پر ظاہر کئے جانے والے اِس منظم پروپیگنڈے کے خلاف آواز بھی بلند کی لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے ۔ بہرحال پیسے اور طاقت کے زور پر جو کچھ سی آئی اے، موساد اور را نے عراق میں صدام حکومت اور افغانستان میں طالبان حکومت مخالف پراپیگنڈہ محاذ پر کیا ہے اب وہی کچھ سی آئی اے اور موساد بھارتی ایجنسیوں اور سی آئی اے کنٹریکٹ ایجنسی بلیک واٹر سے منسلک ایجنٹوں کی جانب سے بلوچستان میں تخریب کاری پھیلانے کیلئے کیا جا رہا ہے ۔ چنانچہ اِس اَمر کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئیے کہ بلوچستان بیرونی ایجنسیوں کی تخریب کاری کا شکار ہے جہاں بیرونی تربیت یافتہ دہشت گرد نام نہاد بلوچ آزادی کی نام نہاد تحریکوں کی آڑ میں بلوچستان میں گیس ، تیل اور بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے علاوہ بلوچ و غیر بلوچ آبادیوں کے درمیان غلط فہمیان پھیلانے کیلئے فرقہ وارانہ اور لسانی دہشت گردی میں ملوث ہیں جس کا ایک مقصد مقامی ایجنسیوں کی توجہ انسداد دہشت گردی کے مسائل سے ہٹانے کیلئے بیرونی ایجنسیاں منظم خفیہ آپریشن کے ذریعے ایران پاکستان تعلقات میں بھی دڑاڑ پیدا کرنے کیلئے بھی کوشاں ہیں جبکہ بھارت سرکاری طور پر بلوچستان میں تقسیم ہند کے نامکمل ایجنڈے کی آڑ میں دانشورانہ تخریب کاری میں مصروف ہیں۔ چنانچہ پاکستانی عوام بل خصوص نوجوانوں کو حکومتی اداروں سے بدگمان کرنے کیلئے بلوچستان کے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کیلئے چند پاکستانی صحافیوں کو بخوبی استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ درست ہے کہ موجودہ حکومت مشرف دور میں بلوچستان میں بیرونی ایجنسیوں کی پیدا کردہ سیاسی بے چینی کا قلع قمع کرنے اور بظاہر بلوچ عوام کے حقوق کی بحالی کیلئے سیاسی پیکیج سامنے لائی تھی لیکن صد افسوس کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے چار سالہ دور میں اِس پیکیج پر سنجیدہ نوعیت کا کام نہیں کیا گیا ۔ گو کہ سابق وفاقی وزیر داخلہ نے اکبر بگتی کے مبینہ قاتلوں کو قانون کے دائرے میں لانے کیلئے سابق صدر مشرف کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا عندئیہ دیتے ہوئے آزاد بلوچستان تحریک کے حامیوں کے خلاف مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا تھا ۔ لیکن محض اعلانات سے ہی حالات کی بہتری کی اُمید لگانا محض خام خیالی کے مترادف ہی سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ بھارتی ڈِس انفارمیشن سے متاثر افراد بل خصوص بلوچ نوجوانوں کو قومی دائرے میں واپس لانے کیلئے سنجیدہ عملی اقدامات کی ضرورت مسلمہ ہے ۔ بہرحال گزشتہ چند مہینوں میں بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف مہم میں کافی تیزی کا عنصر دیکھنے میں آیا ہے۔ نہ صرف یہ کہ دہشت گرد گرپوں کے خلاف دائرہ تنگ کیا گیا ہے بلکہ پاکستان فوج کی جانب سے بلوچستان کے نوجوانوں کو فوج و دیگر مقامی اداروں کا حصہ بنانے کا جو عمل شروع کیا گیا ہے اُس سے بلوچ عوام کا مقامی اداروں پر اعتماد کا رشتہ بھی بخوبی استوار ہوا ہے لیکن ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اندریں حالات ، حکومت کو اِس اَمر سے بھی پہلوتہی نہیں کرنی چاہئیے کہ موجودہ سیاسی منظر نامے میں جہاں بیرونی ایجنسیوں کے ایجنٹوں کی تخریب کاری اور ڈِش انفارمیشن کے خلاف سخت ترین اقدامات لئے جانے کی ضرورت ہے وہاں بلوچستان کے تاریخی حقائق سے بھی سول سوسائیٹی ، صحافیوں اور دانشوروں کو تواتر سے آگاہ کرنے کی ضرورت بھی مسلمہ ہے تاکہ بیرونی ایجنسیوں کی تخریب کاری روکنے کیلئے سیاسی جماعتوں، تاجروں اور بیوروکریسی میں دشمن ممالک بل خصوص بھارت کیلئے نرم گوشہ رکھنے والے افراد اور ففتھ کالم صحافیوں کی قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں کو موثر طور پر روکا جا سکے۔ لہذا، عوام کے ووٹ کی عزت اپنی جگہ پر لیکن آنے والی منتخب حکومت کو جہاں بلوچستان اور دیگر صوبوں میں پاکستانی عوام کی بہبود کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہوگا وہاں بیرونی ایجنسیوں کی تخریب کاری کو کنٹرول کرتے ہوئے بیرونی ایجنٹوں کی جانب سے ایران پاکستان تعلقات میں پھیلائی جانے والی آنے والی تخریب کاری کا قلع قمع کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

57
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...