ملک میں عام انتخابات سر پر ہیں اور بظاہر ذہنی ہیجان کے شکار سابق وزیراعظم میاں نواز شریف بے حکمت سیاسی مہم جوئی مین مصروف ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں منتخب کئے گئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بدستور سابق تاحیات نااہل وزیراعظم اور نااہل پارٹی چیف جنہیں ملکی سیاسی سرگرمیوں کیلئے پارٹی چیف کے طور پر بھی سیاست میں حصہ لینے کی پابندی عائد کی گئی ہے بدستور ملکی سیاست میں آئین و قانون کے منافی سیاسی سرگرمیوں میں متحرک ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ملک کے حقیقی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اپنی قومی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے بجائے تا حیات نااہل میاں نواز شریف کو ہی اپنا وزیراعظم سمجھتے ہوئے اُن کے بے حکمت سیاسی بیانیہ کو جسے دیوانے کی بڑ سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے کو ” موسٹ اوبیڈینٹ سرونٹ″ کے طور پر دھراتے جا رہے ہیں۔ جناب نواز شریف اپنی اِسی ہیجانی کیفیت کے پیش نظر شفاف انتخابات پر سے دل اُٹھ جانے پر یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں کہ ملک کے آئندہ انتخابات خلائی مخلوق کرائے گی تو یہی فکر جناب شاہد خاقان عباسی کو ستانے لگی ہے۔ حیرت ہے کہ پاکستان کے موجودہ چیف الیکشن کمشنر کو لگانے میں جناب نواز شریف کی مرضی کو دخل حاصل تھا جبکہ ملک میں انتخابی مہم کے دوران عارضہ وزیراعظم کا تعین بھی نواز شریف کے نامزد کردہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر کی مرضی سے ہی ہوگاتو اِس کے باوجود سابق نااہل وزیراعظم کی لڑھکتی ہوئی زبان سے ادا ہونے والے خلائی مخلوق کے ہیجانی بیانیہ کی وزیراعظم عباسی کو خلاف آئین تصدیق کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اندریں حالات پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر کے ترجمان کو کہنا پڑا کہ وزیراعظم کا بیان خلاف آئین ہے کیونکہ انتخابات خلائی مخلوق نہیں بلکہ جیتا جاگتا الیکشن کمیشن کرائیگا۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ملک کے انتہائی اہم منصب پر فائز شخصیات کو ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے جو نہ صرف محض مفروضوں ، قیاس آرائیوں پر مبنی ہوں بلکہ ملکی آئین کے صریحاً منافی اور تمسخر اُڑانے کے مترادف ہوں۔
دراصل جناب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو ملک کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر ملکی سیاسی حالات کو سیاق و سباق اور سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے نہ کہ کسی دیوانے کی بڑ کو اہمیت د ی جائے ۔کیونکہ وہ جس کو اپنا وزیراعظم سمجھتے ہیں وہ تو نیب کورٹ کی پیشیاں بھگتنے کے باعث یقیناًہیجانی کیفیت سے دوچار ہیں لہذا اُنہیں لندن میں کسی اچھے ذہنی امراض کے کلینک میں علاج کرانے کا مشورہ دینا چاہیے تھا۔بظاہر ایسا ہی دکھائی دیتا ہے کہ حکمران پاکستان کی قومی زندگی میں عوامی مسائل کو حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں کرنے کے بجائے قومی اسٹیٹ کرافٹس کو محض کرپشن پر پردہ ڈالنے اور مخصوص ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔چنانچہ اقتدار کی غلام گردشوں میں حکمرانوں کی بے پایاں کرپشن اور بے راہ روی کے باعث ریاستی اداروں میں اسٹیٹ کرافٹس کی تباہی ، باضمیر افسران کا اہم اداروں سے اخراج اور اُن کی جگہ ریاستی اداروں میں نااہل اور کرپٹ افراد کی تواتر سے تعیناتی ، سپریم کورٹ کے فیصلوں سے انحراف اور عدلیہ کے اہم فیصلوں پر عمل درامد میں بدنیتی سے تعطل پیدا کرنے کی منظم حکومتی کوششیں ناقابل فہم ہیں۔دنیا بھر میں جمہوری سیاسی قوتیں عوام کی حمایت سے پارلیمنٹ کی سربلندی کیلئے ملکی سلامتی کو پیش نظر رکھتے ہوئے سیاسی ، عسکری اور عدالتی ستونوں کو مضبوط بنانے کیلئے آئین و قانون پر عمل درامد کو انتہائی ممکن بناتی ہیں تاکہ ریاست کا ہر ادارہ اپنے اپنے دائرہء اختیار میں رہتے ہوئے ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کو ممکن بنائے ۔لیکن جو منظر نامہ آجکل پاکستانی عوام کو درپیش ہے، اُس پر بیشتر سیاسی جماعتوں کے رہنما ، بنکوں کے اربابِ اختیار اور پاکستانی سول اور عسکری حکام عجیب مخمصے میں گرفتار ہیں کہ آیا وہ حکمرانوں کی جنبشِ اَبرو پر عمل کریں یا پاکستانی اعلیٰ عدلیہ جو آئین و قانون کی تشریح کی آئینی اہلیت رکھتی ہیں ، کے فیصلوں کی پابندی کریں۔ حتیٰ کہ آج یہ پوزیشن آ گئی ہے کہ حکمران ملک میں آئین و قانون کی حکمران قائم کرنے کے بجائے قوانین کی تشریح اپنی سیاسی مفاد کیمطابق دیدہ دلیری سے کر رہے ہیں۔ لہذا ملکی انتظامی نظام کو غیر آئینی اور غیر قانونی انداز میں بیان کرنے کے رجحان نے بیشتر مقتدر قومی ادارں کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا ہے ۔
دریں اثنا ، شاہد خاقان عباسی کے اپنے وزیراعظم میاں نواز شریف جنہیں وزیراعظم کے منصب اور پارٹی صدارت کیلئے تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا ہے بدستور حکمرانوں کی شہہ پر آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 63 کی متعلقہ دفعات کے برخلاف عدلیہ اور افواجِ پاکستان کو شدید تنقیدکا نشانہ بنا رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کا بظاہر عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہنا کہ ایک حکومتی ستون نے ریاست پر قبضہ کرلیا ہے اور فوج کے کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ کہنا کہ آئندہ عام انتخابات میں اُن کا مقابلہ نظر نہ آنے والی غیبی طاقتوں سے ہے جبکہ اُن کی صاحبزادی کا عوام کو بظاہر فوج کے خلاف اُبھارتے ہوئے یہ کہنا کہ عوام اُٹھیں اور الیکشن میں نادیدہ قوتوں کو ہمیشہ کیلئے شکست دیدیں ملک میں سیاسی خلفشار پیدا کرنے کے مترادف ہے۔نواز شریف ببانگ دہل کہتے ہیں کہ اُن کے سینے میں بہت سے راز دفن ہیں جنہیں وہ جلد ہی افشا کریں گے۔ کیا نواز شریف یہ راز بھی افشا کریں گے کہ اُنہوں نے اپنے خاندان کی دولت پراپرٹی کی صورت میںآف شور کمپنیوں کی مدد سے بیرون ملک چھپانے اور انتہائی خاموشی سے اپنے صاحبزادوں کو برطانوی شہریت کیونکر دلوائی جبکہ اُن کے صاحبزادے اُن کے بیشتر بیرونی ممالک کے دوروں میں اُنکے ساتھ ساتھ ٹریول کرتے اور مقامی بل خصوص بھارت تاجروں سے ملاقاتیں کرتے نظر آتے تھے۔کیا وہ اِس راز سے بھی پردہ اُٹھانا چاہیں گے کہ مسلم دشمن بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی جن سے اُن کی پہلی ملاقات حلف برداری کے موقع پر اُن کے صاحبزادے اور مودی کے خاص منظور نظر تاجر سجن جندال کی خواہش پر ذاتی دوستی میں تبدیل ہوئی کے پیچھے کیا راز ہے اور نریندرا مودی اور سجن جندال کن مقاصد کے تحت خاص طور پر اُن کی نواسی کی شادی میں اچانک لاہور آکر شریک ہوئے اور آپ کو کیوں اپنا پگڑی بھائی بنایا جبکہ نریندرا مودی بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کی دشمنی میں پیش پیش ہیں؟ کیا آپ اِس راز سے بھی پردہ اُٹھائیں گے کہ سجن جندال کابل سے خصوصی طیارے میں اسلام آباد کیوں تشریف لائے تھے اور اُنہیں ریاستی پروٹوکول کیساتھ اسلام آباد سے ویزہ کے بغیر مری کیوں لے جایا گیا اور مری رہائشگاہ پر آپکی صاحبزادی ، صاحبزادے اور آپ سے ملاقات میں کس ایجنڈے پر گفتگو کی گئی؟ کیا آپ اِس راز سے بھی پردہ اُٹھائیں گے کہ نریندرا مودی اور سجن جندال سے ملاقاتوں کے بعد آپ کے وزیر اطلاعات افواج پاکستان کے خلاف ڈان لیکس میں کیونکر ملوث ہوئے جبکہ ڈان لیکس کمیشن رپورٹ کو ابھی تک عوام کی اطلاع کیلئے جاری نہیں کیا گیا ہے۔ کیا آپ اِس راز سے بھی پردہ اُٹھائیں گے کہ وزارت اطلاعات میں خفیہ فنڈ کس مقصد کیلئے استعمال کئے جاتے رہے ہیں اور عوام سے بجلی کے بلوں میں ٹیلی ویژن فیس کے طور پر لی گئی اربوں روپوں کی رقم کہاں خرچ کی جاتی رہی ہے؟ کیا یہ رقم بچوں اور خواص کیلئے بھارت سے لئے جانے والے پروگراموں پر خرچ کی جا رہی ہے جس کے منفی اثرات پاکستانی معاشرے پر ثبت ہو رہے ہیں؟ اندریں حالات اس بات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ بھارتی ٹیلی ویژن کے کارٹون و ڈرامہ پروگراموں کی بڑھتی ہوئی ثقافتی یلغار میں ہم نے کیا حاصل کیا ہے اور کیا کچھ کھوتے جا رہے ہیں۔ درج بالا تناطر میں ہمارے فکر و نظر کے اداروں کو اِس اَمر پر بھی غور و فکر کرنا چاہیے کہ کیا نواز شریف کی خلائی مخلوق کے حوالے سے موجودہ ہیجانی کیفیت اور غیر آئینی و غیر قانونی مہم جوئی کے پیچھے کیا بھارتی عزائم پوشیدہ ہیں۔

36
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...