مورخہ 29 اپریل کو مینارِ پاکستان کے سایہ تلے ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کے دور دراز علاقوں اور لاہور کے طول و ارض سے لاکھوں شہریوں نے عمران خان کی قیادت میں شرکت کی۔ اِس اجلاس میں عمران خان نے جن گیارہ نکات کا تذکرہ کیا اُس میں جناح و اقبال کی ویژن کے حوالے سے تجدیدء عہد کی ویژن نمایاں نظر آتی تھی۔ جن لوگوں نے اِس اجلاس میں شرکت کی یا عمران خان کے افکار کو نجی ٹیلی ویژن چینلز پر ملاحظہ کیا اُنہیں عمران خان کی تقریر اور گیارہ نکات میں مینارِ پاکستان کی روح حلول کرتی نظر آئی۔ یقیناًیہ اُس عمران خان کا چہرہ نہیں تھا جو عام جلسوں اور دھرنوں میں سیاسی موشگافیوں کا مظاہرہ کرتا نظر آتا تھا ۔ نہ ہی یہ وہ چہرہ تھا جو کرکٹ کپتان کی حیثیت سے پاکستان کو پہلا عالمی کرکٹ کپ دلوانے جا رہا تھا ، نہ ہی یہ وہ چہرہ تھا جو گلی گلی شہر شہر شوکت خانم کینسر ہسپتال کیلئے فنڈ جمع کرتا نظر آتا تھابلکہ مینار پاکستان کی تاریخ پر دستک دیتا یہ وہ چہرہ تھا جو جناح و اقبال کی فکر و نظر کو مہمیز دیتے ہوئے پاکستان کے غربت و افلاس کے مارے ہوئے لوگوں کی فلاح کیلئے جناح و اقبال کی تعلیمات پر مبنی نہ صرف ایک نئے پاکستان کی نوید دے رہا تھا بلکہ سیاسی فہم و فراست کیساتھ غیر ملکی قرضوں اور غربت سے پاکستانی عوام کو نجات دلانے کیلئے جناح کی تعلیمات کی طرح پُر عزم نظر آتا تھا۔ چنانچہ مینار پاکستان سے لیکر راوی کے پل کے قرب تک لاکھوں افراد خاموشی سے قرارداد پاکستان کی سرزمین پر ایک نئے عمران خان کو جنم لیتے دیکھ رہے تھے جن میں ہزاروں خواتین ، بچے اور طلباء و طالبات بھی نمایاں نظر آتے تھے ۔البتہ یہ وقت ہی بتائے گا کہ کیا یہ سب سیاسی موشگافیوں کا کھیل تھا یا اِسے اُردو کے مشہور محاورے،، زبان خلق کو نقارہء خدا سمجھو،، کی مانند تپتے ہوئے ریگستان میں تازہ ہوا کا جھونکا سمجھا جائے گا۔
اگر درج بالا تناظر میں تاریخ کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھا جائے توبرطانوی حکومت ہند کے زمانے میں لاہور کے منٹو پارک میں جب 23 مارچ 1940 کی قراردادِ لاہور جسے تاریخ میں قراردادِ پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے پیش کی گئی تو اُس وقت بھی پشاور سے لیکر بنگال تک کے علاقوں سے آئے ہوئے مسلمانوں اور لاہور کے مسلم شہریوں کے لاکھوں کی تعداد منٹو پارک میں موجود تھی جبکہ ہزاروں خواتین بھی جلسہ گاہ میں موجود تھیں جن میں اکثریت برقہ پوش خواتین کی تھی۔ قرارداد پاکستان پیش ہونے پر اُن میں سے ہی ایک برقہ پوش خاتون مجمع سے اُٹھ کر اسٹیج پر تشریف لائی تھیں جنہوں نے قراردادِ پاکستان کی مسلم خواتین کی جانب سے تائید کی۔ یہ خاتون مرحوم مولانا محمد علی جوہر کی اہلیہ تھیں جنہیں مولانا محمد علی جوہر نے لندن میں گول میز کانفرنس کے موقع پر اپنی موت سے قبل بیت المقدس میں دفن ہونے کی خواہش کیساتھ ساتھ کہا تھا کہ کاش اللہ تبارک تعالیٰ محمد علی جناح کے دل میں یہ بات ڈال دیں کہ وہ ہندوستان واپس جا کر مسلم قوم کی قیادت کریں کیونکہ جناح کے علاوہ کوئی اور ایسی شخصیت موجود نہیں ہے جو مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ مملکت کی تحریک کو مہمیز دے سکے۔ چنانچہ مولانا محمد علی جوہر کی اہلیہ اِسی خواہش کو پورا کرنے کیلئے 23 مارچ کے جلسے میں دیگر خواتین کے ہمراہ تشریف لائی تھیں اور اسٹیج پر آکر اُنہوں نے نہ صرف قراردادِ پاکستان کی تائید کی بلکہ اپنی تائیدی تقریر میں پاکستان کا لفظ بھی استعمال کیا اور پھر وہ ہزاروں برقہ پوش خواتین کی تالیوں کی گونج میں برقہ پوش خواتین کے اِسی اجتماع میں گم ہوگئیں ۔ چنانچہ جب قرردادِ پاکستان کو پشاور سے لاہور ، سندھ سے یوپی اور بلوچستان سے بنگال تک سے آئے ہوئے مسلم رہنماؤں اور عوام نے تالیوں کی نہ ختم ہونے والی گونج میں متفقہ طور پر منظور کیاتو قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے سیکریٹری مطلوب الحسن سید سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اقبال وفات پا چکے ہیں اگر وہ زندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے کہ آج ہم نے اُن کی خواہش پوری کر دی ہے۔ درحقیقت ، 1936/37 میں شدید بیماری کے باوجود علامہ اقبال اور قائداعظم میں مسلمانان ہند کی غربت و افلاس اور شریعت اسلامی کے حوالے سے اسلامی قوانین کے نفاذ کو متحدہ بھارت میں ناممکن قرار دیتے ہوئے ایک علیحدہ مسلم مملکت پاکستان کی جدوجہد پر ہی اتفاق کیا گیا تھا۔ لہذا علامہ اقبال نے اپنے کانفیڈنشل خطوط میں قائداعظم پر زور دیا کہ وہ متحدہ ہندوستان کی تجویز ہرگز قبول نہ کریں اور مسلم اکثریتی خطوں میں علیحدہ مملکت کی تشکیل کیلئے آئندہ اجلاس لاہور میں منعقد کریں۔ قائداعظم نے علامہ اقبال کی تجاویز سے اتفاق کیا چنانچہ وہ تحریک پاکستان کے دوران اکثر اپنی پالیسیوں کی وضاحت کرتے رہتے تھے کہ میں پاکستان کیلئے لڑ رہا ہوں کیونکہ ہمارے مسائل کا عملی حل ہی پاکستان میں ہے۔ اگر ہم قرآن کریم سے ہدایت حاصل کرتے رہے تو آخری فتح ہماری ہوگی کیونکہ ہماری نجات اسوہ حسنہؐ پر چلنے میں ہے جس کا پیغام ہمیں قانون عطا کرنے والے پیغمبر اسلامؐ نے دیا ہے۔
اندریں حالات ، قراردادِ پاکستان کے جلسہ ء عام اور عمران خان کے جلسے میں علامہ اقبال کی ویژن اور قائداعظم محمد علی جناح کی عملی جدوجہد کی فکر سے مماثلت محض اتفاقیہ بھی ہو سکتی ہے ۔ البتہ آج کے پاکستان اور قراردادِ پاکستان کے دور کے حالات میں مسلم اُمت کی حالت زار غربت و افلاس کے حوالے سے ملتی جلتی ہی نظر آتی ہے جس کیلئے بانیان پاکستان کی تعلیمات کیمطابق عمران خان نے ببانگ دہل اعلان کیا ہے۔ برطانوی حکومت ہند کے دور غلامی میں بھی مسلمانوں کی اکثریت مفلسی کی حالت میں زندگی بسر کرتی تھی اور آج بھی ملک کی اکثریتی آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انگریزوں کے زمانے میں جب کوئی اچھی آسامی نکلتی تھی تو اشتہار میں تذکرہ کیا جاتا تھا کہ مسلمان درخواست دینے کی ضرورت محسوس نہ کریں جبکہ آج بھی آسامی کا اشتہار جاری کرنے سے پہلے ہی عوامی مقابلے کے بجائے پہلے تو ایسی آسامی کی تعلیمی قابلیت ہی حکومتی جماعت کے حاشیہ بردار کی قابلیت کیمطابق کم کر دی جاتی ہے یا پھر اشتہار کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی اور حکمرانوں کے اشاروں پر مافیائی انداز میں وفاقی سیکریٹری اور صوبائی چیف سیکریٹری کی تنخواؤں سے دس بیس گنا زیادہ ماہانہ تنخواؤں اور سہولتوں پر ایسے حاشیہ برداروں کو بھرتی کر لیا جاتا ہے۔چنانچہ یہی کیفیت پیمرا ، پی آئی اے اور پی ٹی وی کے علاوہ اسٹیٹ بنک اور دیگر قومی بنکوں میں بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ عوام کیلئے یہ صورتحال اُس وقت اور زیادہ تکلیف دہ ہو جاتی ہے جب حکمرانوں کے یہی حاشیہ بردار حکومتی جماعت کی سفارش پر لوگوں کو بھرتی کرنا اپنے لئے باعث افتخار سمجھنے لگتے ہیں۔ ملک میں دہشت گردی کی ابتدا ہوئی تو حکمرانوں اور اُن کے گماشتوں کی ذاتی حفاظت کیلئے لاتعداد پولیس فورس دن رات موجود ہے جبکہ ستر ہزار سے زیادہ عوام دہشت گردی کی نظر ہو چکے ہیں۔ پی آئی اے میں ایک غیر ملکی کو اعلیٰ عہدے پر تعینات کیا جاتا ہے تو اپنا عہدہ چھوڑنے سے قبل ہی پی آئی اے کا جہاز لے کر غائب ہو جاتا ہے۔ یہی حال عوام و خواص کیلئے قانون پر الگ الگ عمل درامد کے حوالے سے دیکھنے میں آتا ہے جب پاکستان کے آئین و قانون سے روگردانی کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار ذاتی مقدمات میں عدالتوں سے مفرور ہوکر اشتہاری ملزم بن جاتے ہیں تو اُنہیں نہ صرف وزیر اعظم پاکستان اپنے جہاز میں فرار ہونے میں مدد دیتے ہیں بلکہ لندن کے سرکاری دورے میں مفرور اشتہاری ملزم کی بیٹھک میں مزج پرسی کے علاوہ سیاسی معاملات پر گفتگو کرنے سے بھی پرہیز نہیں کرتے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کو ملک کی سپریم کورٹ نے نہ صرف وزیراعظم کے منصب کیلئے نااہل قرار دیا ہے بلکہ سیاسی پارٹی کے صدر کے طور پر بھی سیاست میں حصہ لینے کیلئے نااہل قرار دیا ہے ۔ گو کہ پارٹی چیف کے طور پر نواز شریف کی جگہ اُن کے بھائی کو پارٹی چیف مقرر کر دیا گیا ہے لیکن یہ پارٹی چیف اور موجودہ وزیراعظم شاہد خاقا ن عباسی سابق نااہل وزیراعظم اور سابق نااہل پارٹی چیف کی ڈکٹیشن پر ہی کام کر رہے ہیں ۔ تو پھر عوام کیوں نہ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی تعلیمات کو اپنا منشور بنانے والے عمران خان کو قوم کا نجات دہندہ سمجھیں؟ بہرحال ملکی انتخابات نزدیک ہیں اور وقت ہی بتائے گا کہ ملک کی سیاست بانیان پاکستان کی تعلیمات کی طرف رجوع کرتی ہے یا پھر غیر ملکی قرضوں کی غلامی ایک بار پھر عوام کا مقدر بن جاتی ہے ۔

43
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...