مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کیلئے قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی تحریکِ پاکستان کی جدوجہد کا محور جنوبی ایشیا میں قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بّرصغیر ہندوستان کی دو آزاد و خودمختار ریاستوں میں تقسیم کا مطالبہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ تحریک پاکستان کی مسلم لیگی قیادت اسلامی ضابطہ اخلاق پر یقین کامل رکھتی تھی جس کی اساس اسلامی فلسفہ حیات پر استورا کی گئی ہے۔نظریہ کا مطلب ایسا فلسفہ یا مشترکہ لائحہ عمل مراد ہے جو انسانی زندگی سے متعلق سیاسی، سماجی، مذہبی ، معاشی اور تہذیبی مسائل کے حل میں معاون ہوتا ہے یعنی نظریہ اُن تمام سیاسی، مذہبی اور تمدنی اصولوں کا مجموعہ ہے جن پر کسی قوم یا تہذیب کی بنیاد استوار ہوتی ہے۔ عام طور پر نظریے کے ماخذ کے طور پر کسی بھی قوم کیلئے مشترکہ مذہبی فکر و نظر قوموں کی یکجہتی کو ممکن بنانے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے جیسا کہ مختلف قومیں اور مغربی تہذیبیں بشمول یورپین ، جاپانی، چینی، یہودی ، ہندو اور مسلمان اپنے اپنے مذاہب اور اخلاقی فلسفہ حیات کیمطابق اپنی اپنی زندگی گزارتے ہیں۔دنیا کے کسی بھی خطے میں مشترکہ مذہبی، سماجی اور اخلاقی روایات کا شمار ایک مضبوط انسانی رشتہ میں ہوتاہے چنانچہ قوموں کی زندگی میں نظریاتی ہم آہنگی اور مشترکہ ثقافت کے جذبات و خیالات بیدار کرنے میں سچ اور حق پر مبنی اخلاقی قدریں مثبت کردار ادا کرتی ہیں ۔ تاریخ کے مطالعہ سے بھی یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسانی زندگی کے ہر دور میں بہت سے لوگ اخلاقی قدروں کی پامالی کے مرتکب ہوکر انسانی تمدنی زندگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن اچھے اور بُرے کی تمیز کے حوالے سے ماضی میں بھی اخلاقی نظام کے علم برداروں نے ایسے افراد کی بیخ کنی میں قرار واقعی کردار ادا کیا ہے۔ قومیں آج کے جمہوری دور میں بھی تاریخ سے سبق لیتی ہیں اور اخلاقی قدروں کی حفاظت کیلئے سینہ سپر ہوجاتی ہیں تو قومی زندگی میں گناہ اور جرائم پر بخوبی قابو پایا جا سکتا ہے۔چنانچہ قومی نظریات کی حفاظت کیلئے تاریخی حوالے سے کہنے والے درست ہی کہتے ہیں کہ در حقیقت قوموں کا وجود اُن کے مذہبی و اخلاقی نظریات سے ہوتا ہے اور جو قومیں اپنے نظریات کی حفاظت نہیں کرتی وہ مٹ جاتی ہیں۔
بلاشبہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے جس کے آئین میں اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا گیا ہے، لہذا قومی زندگی میں اسلامی اخلاقی قدروں کو مسلمہ حیثیت حاصل ہے چنانچہ آئینِ پاکستان اور اسلامی نظریات کی پاسداری ہر محب وطن پاکستانی پر فرض ہے۔ ابتدائی طور پر ہی قومی زندگی کو اسلامی اخلاقی قدروں میں ڈھالنے کیلئے قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی ملک میں حلال اور حرام ذرائع آمدنی میں فرق کو واضح کرنے اور جرائم کی اساس یعنی رشوت اور کرپشن کے خاتمے کیلئے The Prevention of Corruption Act, 1947 کو کامل وضاحت کیساتھ ملک کے تمام شہریوں اور سرکاری ملازموں پر لاگو کیا گیا تھا۔پیغمبر اسلامؐ کے ایک ارشاد عظیم میں بھی ملت اسلامیہ کو تلقین کی گئی ہے کہ ” رزق حلال کی طلب ہر مسلمان پر واجب ہے “۔ جو آدمی حلال روزی کماتا ہے اُس کا دل نور سے معمور ہو جاتا ہے اور رزقِ حلال سے حکمت و عقل مندی بڑھتی ہے۔ مستند اسلامی فکر و نظر رکھنے والے عالم و فاضل مذہبی دانشوروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب تک کھانا پینا اور پہننا مالِ حلال سے نہیں ہوگا تو کسی عبادت اور تسبیح کا روحانی فائدہ ہرگز نہیں ہوگا۔ حقیقت یہی ہے کہ دنیا بھر کی جمہوری حکومتیں چاہے وہ سوشلسٹ یا سیکولر حکومتیں ہی کیوں نہ ہوں اچھائی اور برائی میں فرق قائم رکھنے کیلئے جمہوری آداب میں اخلاقی اصولوں پر ترجیحی بنیادوں پر عمل درامد کرتی ہیں۔
درج بالا تناظر میں جمہوری ملکوں کی عصری سیاسی تاریخ کے مطالعہ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بھر کی قومیں کرپشن و بدعنوانی کیلئے زیرو ٹالرنس کے جذبات رکھتی ہیں اوع اِن اقدار پر پورا نہ اُترنے والی سیاسی شخصیتوں کو اقتدار سے علیحدہ کر دیتی ہیں۔ البتہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں چند برس کے اندر ہی بانیانِ پاکستان کے جہانِ فانی سے جلدی رخصت ہونے کے باعث تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی قیادتیں ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور کرپشن کو نہ صرف روکنے میں ناکام رہی بلکہ یہاں تک ہوا کہ خود سیاسی قیادت ہی پانی کی چادر کی طرح پھیلتی ہوئی کرپشن کا حصہ بن گئیں۔یہ اَمر انتہائی افسوسناک ہے کہ آئین ، قانون اور انتظامی مینول موجود ہونے کے باوجود ملک میں تسلسل سے اقتدار میں آنے والی حکومتوں نے 1947 کے ابتدائی کرپشن ایکٹ اور دیگر متعلقہ قانونی اور انتظامی احکامات کی موجودگی کے باوجود انتظامیہ کو مافیائی سیاسی نظام کا حصہ بنانے کیلئے متعلقہ قوانین کو کارپٹ کے نیچے دھکیلتے ہوئے حالات کو بد سے بدتر کر دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ملک کے اہم محکمے یعنی پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ ، امپورٹ ایکسپورٹ ڈیپارٹمنٹ، انکم ٹیکس، محکمہ مال، محکمہ پولیس اور مقامی انتظامیہ کرپشن کی راہ پر چل نکلے تو پھر بات وفاقی وزارتوں سے لیکر محکمہ صحت، محکمہ تعلیم ، اسکولوں کالجوں، یونیورسٹیوں سے لیکر امتحانی سینٹرز تک پہنچ گئی۔ جب ملک کے بیشتر حکومتی ادارے اور محکمے ہی کرپشن و بدعنوانی کا شکار ہوگئے تو نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ تواتر سے کہا جانے لگا کہ ملک کا آوے کا آوہ ہی بگڑ گیا ہے۔کرپشن اور بدعنوانی میں غیر معمولی فروغ کی ایک وجہ سیاسی اور انتظامی قیادت کی کرپشن اور مالی و انتظامی امور میں صوابدیدی ختیارات میں بلا جواز اضافہ بھی ہے جس کے سبب انتظامی اور مالی ادارے حکومت کی مافیائی قوت کے سامنے نہ صرف سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوئے بلک وفاقی اور صوبائی قیادتوں نے ذاتی مفادات کو مہمیز دینے کیلئے پسند و ناپسند کے حوالے سے بیوروکریسی میں ڈسٹرکٹ اور تحصیل لیول تک تعیناتی کیلئے ریاستی نظام کو جوابدہ افسران کی تعیناتی کرنے کے بجائے پسندیدہ پولیس اور انتظامی افسران کو ترجیح دی جانے لگی جس نے ملک کے ریاستی انتظامی نظام کو غیرمعمولی نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔
اندریں حالات ، ملکی سیاسی قیادت کی انتظامی بے راہ روی اور آئین و قانون سے ماورا مالی و سیاسی بددیاینتی کا بل آخر عدالت عظمیٰ نے نوٹس لیا ہے اور حلات کو بہتر بناے کی کوشش کی ہے ۔ چنانچہ اسلامی فکر و عمل کے حوالے سے آف شور کمپنیوں میں دولت چھپانے، قول و فعل میں تضاد اور آئین کے آرٹیکل 62/63 کی صریح خلاف ورزی پر میاں نواز شریف کو وزیراعظم اور پارٹی چیف کے منصبوں سے تا حیات سبکدوش کیا گیا ۔اِسی طرح گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل بنچ نے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کی جانب سے وفاقی وزیر ہوتے ہوئے بھی غیر ملک کیلئے ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے اور اقامہ رکھنے کے الزام میں تا حیات نااہل قرار دے دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کیمطابق خواجہ آصف نے کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت اقامہ اور نوکری کے معاہدے کو چھپایا اِس لئے وہ 2013 کا الیکشن لڑنے کے بھی اہل نہیں تھے لہذا وہ آئین کے آرٹیکل 62(1)f پر پورا نہیں اُترے اِس لئے تاحیات نااہل قرار دئیے گئے۔
یہ درست ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کو وفاقی وزیر ہونے کے باوجود بیرون ملک ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے اور بیرون ملک رہائش کا اقامہ رکھنے اور 2013 انتخابات میں کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت اقامہ اور بیرون ملک نوکری کے معاہدے کو چھپانے پر کہا گیا تھا کہ وہ صادق و امین نہیں رہے کیونکہ وہ اِن اطلاعات کو الیکشن کمیشن سے چھپانے کے باعث 2013 کا الیکشن لڑنے کے بھی اہل نہیں تھے لہذا وہ آئین کے آرٹیکل 62(1)f پر پورا نہیں اُترے اِس لئے تاحیات نااہل قرار دئیے گئے۔ دوسری جانب سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اُنہوں نے اقامہ یا ملازمت چھپائی نہیں تھی چنانچہ وہ قانونی ماہرین سے مشورہ کرنے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ بلا شبہ خواجہ آصف صاحب کو سپریم کورٹ میں اپیل میں جانے کا قانونی حق ہے۔البتہ آئین کی آرٹیکل 62(1)f کے تحت اُن کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے کئے جانے والے یہ اعلانات کہ اسلامی ضابطہ اخلاق کے حوالے سے آئین میں موجود آرٹیکل 62/63 کو 2018 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین سے نکال دیا جائیگا۔ حیرت ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے بھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے آئین کی دفعہ 62(1)f کو کالا قانون قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔قومی سیاسی دانشوروں کیلئے یہ اَمر انتہائی تشویش کا باعث ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما اپنے آپ کو دین اسلام اور اسلامی ضابطہ اخلاق کا نمونہ بنانے کے بجائے کرپشن، بدعنوانی اور اقربہ پروری کو ہی کیوں اپنا ماٹو بنانا چاہتے ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہمارے سیاسی قائدین نے سقوط ڈھاکہ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ہے جبکہ میاں نواز شریف بنگلہ دیش کے خالق شیخ مجیب الرحمن کو اپنا ہیرو ڈکلیئر کرتے ہیں اور سید خورشید شاہ آئین میں موجود اسلامی دفعات کو کالا قانون کہنے سے گریز نہیں کرتے ہیں تو کیا وہ محض مخصوص ذاتی مفادات کے تحفظ کی خاطربانیانِ کی بے لوث قومی جدوجہد کو ملیا میٹ کرنا چاہتے ہیں ؟ جبکہ خطے کی ایک اہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ہمارے دشمن بل خصوص بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی ، سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف کی نام نہاد دوستی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اندرونی اور بیرونی ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کی اساس کے متعلق غلط فہمیوں اور ڈِس انفارمیشن کے جال بنتے جا رہے ہیں اور ہماری نوجوان نسل کو جناح و اقبال کی تعلیمات کے برعکس سیکولرازم اور لبرل ازم کے نام پر پاکستان کے تشخص کو کنفیوژن کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اندریں حالات ، آج کے پاکستان نے ہمارے سیاسی رہنماؤں کو جس آن ، شان اور پہنچان سے نوازا ہے وہ اپنی اصلاحِ احوال کرنے کے بجائے آئین کی اسلامی دفعات کو ہی نشانہ بنا کر پاکستان کی اساس پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔کیا یہ اربابِ اختیار نہیں جانتے کہ بّرصغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو ہندو بھارت کی دائمی غلامی سے بچانے کیلئے قائداعظم محمد علی جناح نے کتنے کٹھن مرحلوں کے بعد اپنی بے لوث جدوجہد کے تسلسل سے پاکستان حاصل کیا تھا؟کیا دو قومی نظریہ جسے نظریہ پاکستان کہا جاتا ہے ، بّرصغیر ہندوستان میں ہندو دھرم کے ماننے والوں کی عددی اکثریت کے مقابلے میں دین اسلام کے ماننے والوں کو ایک قوم کی حیثیت سے متعارف نہیں کراتا ہے؟ کیا یہ درست نہیں ہے کہ ظہور اسلام کے بعد مسلمانوں نے ہندوستان پر تقریباً ایک ہزار سال تک حکومت کی تھی لیکن مغلیہ سلطنت کے زوال پزیر ہونے پر 1857 کی جنگ آزادی میں شکست کھانے پر مسلمان انگریز وں کے ہاتھوں محکوم ہوگئے چنانچہ انگریزوں نے ہندوستان میں ہندوؤں کی حوصلہ افزائی اور مسلمانوں کو سیاسی اور معاشی طور پر تباہ کرنے کی پالیسی اپنائی تھی اور بیشتر مسلمانوں کی جائدادوں کو ضبط کرکے ہندوؤں میں تقسیم کیا گیا تھا چنانچہ ہندو ریاستی امور میں انگریزوں کے پارٹنر بن گئے تھے۔ حقیقت یہی ہے کہ جب ہندوستان میں دو سو سال پر محیط انگریزوں کی حکومت ختم ہونے پر آئی اور ہندو اکثریت نے متحدہ قومیت کے نام پر اکھنڈ بھارت کی آزادی کا نعرہ بلند کیا تو مسلمانوں کو جنوبی ایشیا میں ہندو اکثریت کی دائمی غلامی سے بچانے کیلئے مسلم زعماء بل خصوص سرسید احمد خان، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح نے اسلامی فکر و نظر کے حوالے سے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان حاصل کیا تھا۔
سرسید احمد خان دو قومی نظریہ کی ترویج میں صف اوّل میں تھے چنانچہ اُنہوں نے برطانوی ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی بحالی کیلئے انگریزی تعلیم کے حصول پر زور دیا ۔ 1867 میں بنارس میں ہندوؤں نے جب ہندی اُردو جھگڑے کی آڑ میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینی شروع تو سرسید احمد خان نے پہلی مرتبہ مسلمانوں کے ایک علیحدہ قوم ہونے کے حوالے سے ہندوؤں اور مسلمانوں کیلئے دو قومی تھیوری کی ٹرم استعمال کی۔سرسید احمد خان کی وفات کے بعد ہندوستان میں بڑھتی ہوئی ہندو مسلم کشیدگی اور ہندوٗوں کی جانب سے ہندو مسلم فسادات کے ذریعے مسلمانوں کی تباہی کے منصوبے بنانے پر علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے اپنی شہرہ آفاق نظموں شکوہ و جواب شکوہ کے ذریعے ہندوستان میں بکھرے ہوئے مسلمانوں میں آزادی کی اُمنگ پیدا کی اور 1930 میں الہ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں خطبہ صدارت دیتے ہوئے اُنہوں نے مسلمان اکثریتی خطوں یعنی پنجاب ، سندھ ، صوبہ سرحد (کے پی کے) اور بلوچستان میں ایک علیحدہ مملکت کے قیام کو مسلمانوں کا مقدر قرار دیا جبکہ چوہدری رحمت علی نے علامہ اقبال کی اِسی فکر کو پاکستان کے نام سے نوازا ۔ گو کہ علامہ اقبال 21 اپریل 1938 میں وفات پا گئے لیکن قائداعظم نے علامہ اقبال کی خواہش کیمطابق 23 مارچ 1940 میں لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس منعقد کیا جہاں مسلمانوں کے ایک نمائندہ جلسے میں قرارداد لاہور کی شکل میں قرارداد پاکستان کی منظوری دی گئی۔ قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد قائداعظم نے انگریزوں سے مطالبہ کیا کہ ہندوستان میں عددی اکثریت کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ ہندو اور مسلمان دو مختلف قومیں ہیں ، ہندو ذات پات کے نظام سے منسلک سینکڑوں دیوی دیوتاؤں کو ماننے والے ہیں جبکہ مسلمان دین اسلام کے پیروکار ہیں۔ دونوں قوموں کا سماجی ، معاشی اور مذہبی تمدن ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہے۔ ایک قوم کے ہیرو دوسری قوم کے دشمن کہلاتے ہیں ، دونوں قوموں کی سیاسی و معاشرتی روایات، ادب ، فنون لطیفہ، میوزک اور طرز عمارت ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں ۔ چنانچہ قائداعظم کی عملی جدوجہد نے بل آخر برطانوی حکومت ہند کو تقسیم ہند پر مجبور کر دیا اور 14 اگست 1947 میں پاکستان بن گیا۔ہمارے اربابِ اختیار جو بڑی ہی آسانی سے پاکستان کے آئین میں صداقت و امانت کے حوالے اسلامی ضابطہ اخلاق کی دفعات کو کالا قانون کہنے ے گریز نہیں کرتے کو جاننا چاہیے کہ تحریک پاکستان کے ایک مشکل مرحلے پر 17 اپریل1946 کو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تمام ممبران اسمبلی کے کنونشن میں جب انگریزوں اور ہندو کانگریس کی سازش سے یہ امکان پیدا ہو گیا تھا کہ انگریز اور ہندو پاکستان نہیں بننے دیں گے قائداعظم محمد علی جناح نے تمام ممبران اسمبلی کیساتھ مل کر ایک باکمال حلف نامے پر دستخط کئے تھے جس کی ابتدا قرآنی آیت سے شروع ہوتی تھی “کہہ دو کہ میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور مرنا سب اللہ رب العالمین کیلئے ہے۔ میں اپنے اِس پختہ عقیدے کا اعلان کرتا ہوں کہ بّرصغیر ہندوستان میں بسنے والی مسلم قوم کی نجات ، سلامتی ، تحفظ اور مستقبل حصولِ پاکستان میں مضمر ہے… اِس مقصد عزیز یعنی پاکستان کے حصول کیلئے میں عہد کرتا ہوں کہ اِس راہ میں جو خطرات اور آزمائشیں پیش آئیں گی اور جن قربانیوں کا مطالبہ ہوگا اُنہیں برداشت کرونگا۔ اے اللہ پروردگار ہیں ہمیں صبر و استقامت دے، ہمیں ثابت قدم ررکھ اور قوم کفار پر ہمیں فتح و نصرت عطا فرما”۔ یہ تھی قائداعظم کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بے لوث قیادت اور اب ہمارے اربابِ اختیار کیا کر رہے ہیں ؟ اپنے دلوں کو ٹٹولیئے اور سوچ کے دھاروں کو کھولئے کہ پاکستان کی سلامتی کو دین اسلام اور اسلامی ضابطہ اخلاق پر عمل کرکے ہی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ آئیے عہد کریں کرپشن، بدعنوانی اور اقربہ پروری نامنظور۔ کرپشن فری پاکستان زندہ باد۔

172
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...