سوات پاکستان کے ان خوبصورت علاقوں میں سے ہے جس کا حسن دنیا کے کسی حصے کے انسان کی آنکھیں خیرہ کر دیتا ہے یہ پُر امن شہر ہمیشہ سے قدرتی حسن کے دلدادہ سیاحوں کے لیے باعث کشش رہا ہے وہ یہاں بڑے شوق سے آتے تھے ، فطرت سے محبت کی پیاس بجھاتے تھے اور سوات کے مہمان نواز لوگوں کی مہمان نوازی کا خوب فائدہ اٹھاتے تھے اور خوشگوار تعلقات کی یادیں ساتھ لے کر واپس بحفاظت اپنے ملکوں کو پلٹ جاتے تھے۔ پھر معلوم نہیں کیسے شدت پسندوں کا ایک گروہ یہاں تشکیل پاتا گیا اور انہوں نے اس جنت نظیر پر امن وادی کے امن کو تباہ و برباد کر کے اُن لوگوں بلکہ اس کے اپنے لوگوں کے لیے بھی اسے جہنم بنا دیا نقل و حرکت محدود بلکہ ختم ہوگئی کجا کہ سیاح آتے ۔سیاحت اور ہوٹل کی صنعت تباہ ہوئی ،دکانیں بند ہوئیں ،کاروبار ختم ہوگئے اور سوات کی وادی جو زمانہ قبل از تاریخ سے آباد چلی آرہی ہے ویران ہونے لگی۔ ملا فضل اللہ جیسے دینی اور دنیا وی طور پر نیم خواندہ لوگوں نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا اور خوف اور و حشت کا نشان بن گئے۔ یہ کہنا کہ یہ سب کچھ راتوں رات ہوا تو یہ غلط ہے ایسی صورت حال کبھی بھی اچانک نمودار نہیں ہوتی اس کے پیچھے کئی وجوہات ہوتی ہیں اور مدتوں پلتی ہیں ۔جب حکومت اپنے فرائض سے غفلت بر تنے لگے خاصکر عدالتی نظام ناقص ہو لوگوں کو انصاف نہ ملے قانون نافذ کرنے والے ادارے خود قانون سے کھیلیں اور ایسا کرنے والوں کو یا تو شہ دیں یا اُن سے ڈر کر اپنے تھانوں اور گھروں میں مورچہ بند ہو جائیں اور مجرم مزید آزاد ہو جائیں اور دہشت گرد قانون اور حکومت کے مالک بن بیٹھیں، سوات میں یہی ہوتا رہا مرکزی اور صوبائی حکومتیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہیں، سیاسی رہنما اور قوتیں مزید اور مزید مہلت مانگتی رہیں اور دشمن اپنی قوت مجتمع کرتا رہا۔ یہ درست ہے کہ صلح کی کوشش آخری حد تک کرنی چاہیے لیکن اگر حریف ملا فضل اللہ جیسا شخص اور اس کے کا رندے ہوں اور بار بار آزمائے جا چکے ہوں تو ان پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے یہی ہوا طالبان طاقت اور قوت حاصل کرتے گئے اور حکومت سر بریدہ لاشیں کبھی گرین چوک اور کبھی دوسری گلیوں اور چوراہوں میں وصول کرتی گئی ۔ آپریشن میں دیری ہوتی رہی اور ہلاکتوں میں زیادتی اور پھر جب ان انتہائی حالات میں آپریشن ہوا تو ظاہر ہے نقصان بھی زیادہ ہوا ۔مجھے آپریشن کے فوراََ بعد سوات جانے کا اتفاق ہوا تھا اور میں نے اس کی عمارتوں کو گولیوں سے جس طرح چھلنی دیکھا تھا وہ انتہائی تکلیف دہ تھا خاص کر میرے لیے اور ان لوگوں کے لیے جنہوں نے سوات کو ہمیشہ پر فضا اور خوش باش دیکھا تھا۔ پاک فوج نے سوات کو جس طرح اس لعنت سے پاک اور مصیبت سے آزاد کیا وہ عسکری تاریخ کا ایک شاندار باب ہے، بے مثال قربانیاں دی گئی اور حرف اول و آخر اسی بات کو رکھا گیا کہ سوات سے دہشت گردی کو ختم کرنا ہے اس دوران تنقید بھی آتی رہی اور حیرت انگیز طور پر انسانی حقوق کو بھی بیچ میں لایا گیا یعنی اُس دہشت گرد کو بھی انسان کہاگیا جو خونی جانوروں کی طرح انسانوں کا شکار کرتا تھا۔ سوات کے اپنے لوگوں نے بے شمار قربانیاں دیں اپنا گھر بار چھوڑ کر خیمہ بستیوں میں مہاجر بن کر آبسے اور تب کہیں جا کر سوات دوبارہ مسکرا اٹھا اس کے بازار اور گلیاں دوبارہ آباد ہوئیں اس کے بچے گلیوں میں کھیلنے اور سکولوں میں پڑھنے لگے پاک فوج نے اس کے بعد بھی سوات میں بے شمار منصوبوں پر کام کیا، آرمی پبلک سکول کے خوبصورت کیمپس کا قیام اور اس میں جدید ترین سہولتوں کی فراہمی اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل کی فکر بھی کی گئی ہے اس سکول میں سینکڑوں بچوں کا پہلے ہی سال میں داخلہ سوات کے عوام کا فوج پر اعتماد ہے ۔ سوات کے ایکسپریس وے کا بننا بھی ایک قابل ذکر کا رنامہ ہے۔ مجھے پچھلے سال ایک بار پھر سوات جانے کا اتفاق ہوا اور مالم جبہ کے حسین ترین سکی ریزورٹ کو سیاحوں سے بھرا ہوا دیکھ کر جن میں ملکی اور غیر ملکی دونوں چہرے موجود تھے انتہائی سکون محسوس ہوا کہ واقعی سوات پھر سے مسکرا اٹھا ہے۔ کالام کے ہوٹلوں میں پھر کمروں کا ملنا ایک بڑا مسئلہ تھا بازار پھر بھرے پڑے تھے۔ یہ سب کچھ ہو گیا لیکن جو قتل عام ہو چکا تھا وحشت و بر بریت کا جو کھیل یہاں کھیلا گیا اُس کی یادیں ابھی بھی ابھر آتی تھیں۔ یہ قصہ ایک سوات کا ہی نہیں یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ ہم پہلے ناسوروں کی پرورش کرتے ہیں اسے پلنے پوسنے کا وقت دیتے ہیں اور جب بات اُس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ جہاں سے پلٹنے کے امکانات نہیں ہوتے تب ہم اُس کی درستگی کی کوشش شروع کرتے ہیں میں یہ ہرگز نہیں کہتی کہ فوراََ ہی توپ تفنگ اٹھالی جائے، راہ راست پر لانے کی کوشش اور آنے کا موقع ضرور دیا جائے لیکن مجرم کو اتنی ڈھیل نہ دی جائے کہ رسی کھینچنے لگیں تو سرا ہی نہ ملے اور آپ بے بس ہو کر رہ جائیں۔ باوجود ان دعوؤں کے کہ ہم نے دہشت گردی اور بدامنی پر قابو پا لیا ہے یہ اقرار کر لینا چاہیے کہ اب بھی چھوٹے چھوٹے کئی گروپ اور بڑی تنظیموں کے بچے کچھے کچھ لوگ ادھر اُدھر سے سر اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں کچھ نئے گروہ بھی بنتے بگڑتے ہیں ان کی بیخ کنی شروع میں ہی ضروری ہے ماضی کی طرح پہلے ان کی پرورش و افزائش اور پھر بیخ کنی کا تجربہ شاید ہر بار کامیاب نہ ہو۔ ہمیں سوات میں ملنے والی کامیابی اپنی جگہ اہم لیکن وہاں کے حالات سے سبق یہ سیکھنا ضروری ہے کہ کامیابی تو مل گئی ترقی کی طرف قدم بھی اٹھے ہیں دنیا کو ایک مثبت پیغام بھی ملا لیکن اس سے پہلے جو خون خرابہ ہوا جتنی جانیں گئی جتنے وسائل اور ذرائع خرچ ہوئے انہیں سامنے رکھ کر یہ ضروری ہے کہ بُرائی چھوٹی ہو یا بڑی اس کی مقدار کے مطابق اس کے خلاف فوری کاروائی ہونی چاہیے تاکہ آئندہ سربریدہ لاشوں تک بات نہ پہنچے سوات کی کہانی کا صرف کامیابی کا حصہ دہرایا جائے نقصان کا نہیں۔

188
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...