گزشتہ روز عدالت عظمیٰ نے احکامات جاری کئے ہیں کہ میمو گیٹ کے اہم ملزم حسین حقانی کی30 دن کے اندر عدالت کے سامنے پیشی کو ممکن بنایا جائے۔ حیرانی کی بات ہے کہ ایک جانب تو امریکا میں امریکی شہریت کی حامل اپنی اہلیہ کے گھر مقیم حسین حقانی نے بیرونی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستانی عدالت عظمیٰ کی کاروائی کو دوبارہ شروع کرنے پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ناقابل قبول قرار دیا ہے جبکہ دوسری جانب سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف جنہوں نے اپنے چار سالہ دورِ حکومت میں میمو گیٹ کیس کو کارپٹ کے نیچے دبانے سے گریز نہیں کیا تھا باوجود اِس کے کہ وہ خود بھی اِس کیس میں ایک فریق کی حیثیت رکھتے تھے۔ چنانچہ جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے میمو گیٹ کیس کھولنے کا اعلان کیا تو سابق وزیراعظم نواز شریف نے چند روز قبل اپنے ایک بیانیہ میں یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ اُنہیں ماضی میں میمو گیٹ کیس میں فریق نہیں بننا چاہیے تھا۔ کیا قومی سلامتی کے حوالے سے بظاہر غدار وطن خیال کئے جانے والے عدالتی مفرور ملزم حسین حقانی کے ٹرائل سے متعلق میاں نواز شریف کی جانب سے ایسا کہنا مناسب تھا یا یہ بیانیہ بھی عذر گناہ بدتر از گناہ کے زمرے میں آتا ہے؟ سوال اپنی جگہ اہم ہے کیونکہ گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے نواز شریف کے بیانیہ سے اختلاف کرتے ہوئے میمو گیٹ کے اہم ملزم حسین حقانی کیلئے غدار وطن کی ٹرم استعمال کرتے ہوئے کہا کہ حسین حقانی نے ملک سے وفاداری نہیں نبھائی بلکہ وہ پاکستان کی سلامتی کا ساتھ دینے کے بجائے کسی اور ملک(امریکا) کے وفادار رہے۔ چنانچہ نواز شریف کا یہ کہنا کہ اُنہیں میمو گیٹ میں فریق نہیں بننا چاہیے تھا یا یہ کہ اُن سے یہ غلطی کرائی گئی تھی، درست نہیں ہے، اُنہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا کیونکہ اِس طرح وہ خود بھی حسین حقانی کے قرب میں پہنچ جاتے ہیں۔ اِس انٹرویو سے چند روز قبل حسین حقانی میمو گیٹ کیس کی سماعت کے دوران تین رکنی بنچ کی قیادت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار نے کیس کی پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ عدالت نے مفرور ملزم حسین حقانی کی گرفتاری سے متعلق وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور ایف آئی اے کی سست کاروائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حسین حقانی بیان حلفی دے کر بھاگ گیا ہے تو کیا ہماری حکومت کے پاس اتنی طاقت بھی نہیں ہے کہ ایک مفرور ملزم کو واپس لا سکے۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ گزشتہ عدالتی کاروائی کے بعد ملزم کے ریڈ وارنٹ جاری ہو چکے ہونگے لیکن ابھی تک معاملہ ایف آئی آر کی تفتیشی حدود سے ہی باہر نہیں نکلا ہے ۔
دریں اثنا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف کی وزیراعظم اور پارٹی چیف کے طور پر نااہلی کے باوجود مسلم لیگ (ن) حکومت میمو گیٹ کیس میں سست روئی کا مظاہرہ میاں نواز شریف کی میمو گیٹ کیس میں بدلتی ہوئی سوچ کو ہی آگے بڑھانے میں مصروف ہے جسے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی محسوس کیا ہے۔ جناب افتخار چوہدری نے نجی چینل پر وضاحت سے کہا کہ شاید نواز شریف نے میمو گیٹ پر تین مقتدر ججوں کی میمو گیٹ کمیشن رپورٹ کو پڑھا نہیں ہے ۔ میمو گیٹ کمیشن نے حسین حقانی کی بدنیتی تک پہنچنے کیلئے اندرون و بیرون ملک متعدد متعلقہ افراد کی شہادتیں قلم بند کیں تھیں جس سے حسین حقانی کی ملک سے غداری کی بخوبی وضاحت ہو جاتی ہے۔ میمو گیٹ افواج کے خلاف ایک سازش تھی ، ISI کے خلاف سازش تھی جبکہ حسین حقانی کو موقع دیا گیا تھا کہ واپس آ کر اِن الزامات کی وضاحت کریں لیکن وہ مفرور ہوگئے۔ اگر نواز شریف نے میمو گیٹ کمیشن رپورٹ کو پڑھا ہوتا تو وہ یہ بات نہ کرتے کہ میمو گیٹ میں جانا غلطی تھی۔سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ میثاقِ جمہوریت دونوں پارٹیوں (مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی) کے درمیان ایک سمجھوتہ تھا جس سے دونوں پارٹیوں نے فائدہ اُٹھایا۔ این آر او میں سب سے زیادہ فائدہ ایم کیو ایم نے اُٹھایا جن کے آٹھ ہزار مقدمات یکدم ختم کر دئیے گئے۔ پیپلز پارٹی آصف زرداری کے سوئس اکاؤنٹ کے مقدمات ختم کر دئیے گئے ۔ پیپلز پارٹی والوں نے بیرونی قرضے کم لئے لیکن اندرونی طور پر لوٹ مار بہت کی جبکہ مسلم لیگ ن والوں نے اندرونی لوٹ مار بھی خوب کی اور قرضے بہت زیادہ لئے۔یہاں اِس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ عوام نے سوئس اکاؤنٹس اور اندرونی لوٹ مار کی سیاست کرنے پر 2013 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو مسترد کردیا تھا اور مسلم لیگ( ن) اقتدار میں آ گئی تھی ۔اندریں حالات ، سابق چیف جسٹس کا یہ کہنا تھا کہ اب دوبارہ الیکشن ہونے والے ہیں چنانچہ عوام ہی فیصلہ کریں گے کہ قرضے اور اندرونی لوٹ مار کے حوالے سے نالاں ہونے کے بعد وہ اب کسے اقتدار میں لاتے ہیں۔ بہرحال ملک میں پھیلتی ہوئی کرپشن کے حوالے سے اگر کچھ سیاست دانوں کا یہ خیال ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا دورہِ امریکہ اور شہباز شریف کی لندن میں برطانوی قیادت کیساتھ بیٹھک پاکستان میں موجودہ سیاسی قیادت کی کرپشن کے مقدمات میں کوئی کردار ادا کر سکتی ہے تو ایسا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا ہے۔ جسٹس چوہدری کیمطابق یہ فیصلہ اب پاکستانی قوم اور عدلیہ ہی نے کرنا ہے کیونکہ پاکستان میں موجودہ مقدمات آئین اور قانون کے حوالے سے ہی چل رہے ہیں۔ چنانچہ اُمید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانی کے فیصلے بیرونی اثر و رسوخ سے ہٹ کر پاکستان میں ہی ہونگے۔
درج بالا سیاسی تناظر میں جناب افتخار محمد چوہدری کا یہ تجزیہ بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے کہ بیرونی سیاسی دباؤ کے تحت عمل میں آنے والے NRO کو اُن کے دورِ میں ہی عدالت عظمیٰ کے ایک فیصلے میں ختم کر دیا گیا تھا چنانچہ اب پاکستان کے فیصلے بیرون ملک نہیں بلکہ پاکستان میں ہی ہونگے۔ یاد رہے کہ میاں نواز شریف وزیراعظم اور پارٹی چیف کے منصبوں کیلئے نااہل قرار دئیے جانے کے بعد سیاسی طور پر اپنے آپ کو سیاسی عالم تنہائی میں سمجھتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما سابق صدر آصف علی زرداری سے میثاق جمہوریت کے حوالے سے سیاسی تعلق پھر سے جوڑنے میں شدت سے دلچسپی رکھتے ہیں چنانچہ میڈیا رپورٹس کیمطابق اِسی سیاسی مفاد کے پیش نظر میاں نواز شریف نے چند روز قبل یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ اُنہیں آصف علی زرداری کے خلاف میمو گیٹ سے دور رہنا چاہیے تھا۔ کون نہیں جانتا کہ ماضی میں میاں نواز شریف قومی احتساب بیورو (نیب) کو سیف الرحمن کے ذریعے کنٹرول کرتے رہے لیکن اب جبکہ نیب کے چیف سابق جسٹس جاوید اقبال نے پاکستان سے کرپشن ختم کرنے کا تہیہ کر لیا ہے اور نیب مخصوص افراد کو سیاسی قیادت کے اشارے پر نشانہ بنانے کے بجائے کرپشن جہاں بھی ہے وہاں نیب کاروائی کر رہی ہے جس سے بہرحال شریف فیملی بل خصوص نالاں اور پریشان نظر آتی ہے چنانچہ گزشتہ روز نیب کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب میاں نواز شریف سے سوال کیا گیا کہ نیب قوانین کو ختم کرنے کیلئے پارلیمنٹ سے مدد کیوں نہیں لی گئی تو میاں نواز شریف نے اِس معاملے میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آدمی تجربات سے ہی سیکھتا ہے لہذا اب نیب قوانین کو نکال باہر پھینکنا چاہیے۔حیرت ہے کہ اب کیوں نیب قوانین کو ختم کیا جانا ضروری ہے ، کیا اِس لئے کہ سابق وزیراعظم کے بیشتر قریبی حاشیہ بردار وں کو بھی احتساب بیورو کی انکوائریوں کا سامنا ہے؟ حیرت ہے کہ ملک سابق وزیراعظم کی بے معنی معاشی پالیسیوں کے سبب غیر معمولی بیرونی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے ، مالیاتی بحران سر پر ہے لیکن ملک سے کرپشن ختم کرنے کی پالیسی کو وقت کی اہم ضرورت بنانے کے بجائے موجودہ حکومت قومی سلامتی اور قومی مالیاتی پالیسیوں کو درست کرنے کے بجائے ملک کیلئے خود ہی مسائل کھڑے کرنے میں مصروف ہے جسے ناقابل فہم ہی کہا جا سکتا ہے۔ بہرحال قومی بدحالی کی موجودہ صورتحال میں بھی عدلیہ اور نیب کی کوششیں ملک کیلئے تازہ ہوا کے جھونکے کے مترادف ہیں جسے عوام اور سول سوسائیٹی قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔

189
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...