مکران کے ساحلوں کی فتح سے شروع ہونے والی تاریخ میں کئی اُونچ نیچ اور تلخ شیریں موڑ آتے رہے وہ مسلمان جو فاتح بن کر برصغیر میں آئے اور مقامی لوگوں پر حکمرانی کرتے رہے یہاں کے مقامی لوگوں کو چاہے وہ جس مذہب سے بھی تھے ان کے حقوق دیتے رہے، کبھی اتفاق باہمی سے حکومت کرتے رہے کبھی باہم دست و گریباں بھی ہوئے یوں کبھی طاقتور اور کبھی کمزور لیکن حاکم رہے اور ایسا وقت بھی آیا کہ ہندوستان مغرب میں سونے کی چڑیا کہلانے لگا، یہاں تک پہنچنے کے خواب دیکھے جاتے تھے سمندری تجارت کے لیے اس کے سمندری راستے دریافت کرنے کے لیے مہمات بھیجی جاتی تھیں اور ایسی ہی ایک کوشش اور مہم میں امریکہ دریافت ہوا تو دوسری مہمات کے کچھ اور ثمرات ہاتھ آتے رہے لیکن افسو س کہ اس خوشحالی کو مزید ترقی اور تمدن حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا بلکہ عیش و عشرت اور عیاشی کے جنم لینے کا بہانہ بنتا گیا، ملک ہاتھوں سے جانے لگا حکومت ختم ہوتی گئی اور مسلمان مدہوش اپنے ہی نشے میں مست رہے نتیجہ اجنبی دیس سے آنے والے ان کی حکومت چھینتے گئے۔ انگریز جو تجارت کی غرض سے یہاں آیا تھا اُس نے کرتے کرتے مسلمان حکمران کو آگرہ کے لال قلعے سے بھی نکال باہر کیا اور نام کا یہ بادشاہ اور بادشاہت بھی انجام کو پہنچ گئے ۔مسلمان آنے والے حکمرانوں کی نفرت کا خوب نشانہ بنے ،ہندونے بھی اپنی ہزار سالہ غلامی کا شدید بدلہ لیا لیکن اس نشانہ بننے میں مسلمانوں کی اپنی نااہلی اور عاقبت نا اندیشی کا بھی بڑا ہاتھ تھا وہ ایک دوسرے کے دوست کم اور بد خواہ زیادہ بنے ہوئے تھے، جدت، ترقی اور تعلیم پر کفر کے فتوے بڑے آسان تھے اور تواتر سے لگتے تھے ایسے میں چند مسلمان زعماء کا مسلم لیگ بنانا اور پھر اس بکھرے ہوئے ہجوم کو یکجا کرکے اسے قوم بنانا ایک بڑا کارنامہ تھا یوں یہ سلسلہ چل پڑا اور ہوتے ہوتے ایک منظم تحریک کی صورت اختیار کر گیا ۔مسلمانان ہند کی خوش قسمتی تھی کہ ان کو سر سید ،جوہر، نشتر، اقبال اور پھر قائداعظم جیسے لیڈر ملتے گئے، قافلہ چلتا رہا اور کارواں بنتا گیا۔ 23 مارچ 1940 کا مسلم لیگ کا سالانہ جلسہ انہی مخلص لوگوں کی کاوش تھی اور اسی لیے اس نے ہندوستان کے ہر کونے کے مسلمان کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ یہ قرار داد منظور ہوئی مسلمانوں نے اپنے لیڈروں پر اعتماد کا اظہار کیا اور لیڈروں کے اسی خلوس اور عوام کے اعتماد نے دنیا کا نقشہ بدل دیا ،دشمنوں کی سازشوں کو شکست ہوئی ہندوستان تقسیم ہوگیا اور پاکستان بن گیا۔ پاکستان کا بن جاناواقعی معجزہ تھا، یہاں طاقت اور اکثریت دونوں کو شکست ہوئی تھی ان کا گٹھ جوڑ بھی کام نہیں آیا تھا اور اس فتح میں سب سے بڑا ہاتھ رہنماؤں کا خلوص تھا ان کا مقصد و منشاء مسلمانانِ ہند کے لیے ایک الگ ملک کا حصول تھا مسلمان ریاست اور مسلمان حکومت تھی اپنی ذاتی غرض اور ذاتی مفاد نہیں تھا لہٰذا ان کی محنت رنگ لائی اور کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ملک بنانے جتنا کڑا اور مشکل کام تو ہم نے کر لیا لیکن اسے سنبھالنے کے لیے ہم نے وہ خلوص نہیں دکھایا۔ ہمارے لیڈر اپنی حکومت بنانے کے شوق میں پڑ گئے ملک کہیں پیچھے رہ گیا ذاتی مفاد مقدم ہوگیا اور قومی مفاد کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ سیاست اور جمہوریت کے نام پر گند پھیل گیا ،بجائے ملک کے لیے منصوبے بنانے کے ایک دوسرے کے خلاف منصوبے بننے لگے، پگڑیاں اُچھلنے لگیں اور اپوزیشن کا مطلب گندے الزامات رہ گئے ہیں۔ اپوزیشن سے اختلاف نہیں لیکن اس کے مقصد سے ضرورہے اگر اس کا مقصد حزب اقتدار کو سیدھے رستے پر رکھنا ہوتا تو بالکل درست لیکن یہاں تو بات حکومت چھیننے کی ہوتی ہے اب تو حزب اقتدار کو جائیدادیں بنانے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں لیکن خود اقتدار میں آتے ہیں تو دوگنا جائیدادیں بن جاتی ہیں۔ قائدِ فلانا فلانا کے خطابات سب کو دیئے جاتے ہیں اور اتنی فرا وانی اور تسلسل سے دیے جا رہے ہیں کہ قائد اعظم زندہ ہوتے تو اپنے خطاب پر نظرثانی فرمانے کا سو چتے، یہ سب بین السطور قائداعظم سے زیادہ بڑے لیڈر ہونے کے دعوے دار ہوتے ہیں لیکن اپنی قوم سے لوٹی ہوئی جائیدادوں کو اپنی سات پشتوں کے نام کر جاتے ہیں اُس قائد اعظم کی طرح نہیں جس نے اپنی جائیداد قومی اداروں کے نام کردی تھی۔ قائد سارے ہیں لیکن ملک کے یہ سب سے امیر لوگ ہر ذریعے سے اپنا ذاتی پیسہ بنانے لگ جاتے ہیں اور صرف لیڈروں پر کیا مو قوف ہر سطح پر یہی رویہ چل رہا ہے ۔ کلرک سرکار کے پاس جائیں تو وہ سرکاری تنخواہ پر قانع نہیں رشوت اُس کا حق ہے، افسر کے پاس جائیں تو وہ اپنے سرکاری کام کو سر انجام دینے کے لیے آپ کی جیب پر نظر رکھے گا اور جائز کام کروانے کے لیے بھی آپ ناجائز ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے۔ نوکریوں کے اشتہارات اخبارات میں دیے ضرور جاتے ہیں لیکن آپ اپنی شاندار سی وی بھیجئے کوئی آپ کو انٹرویو کے لیے بھی نہیں بلاتا کیونکہ بندر بانٹ ہو چکی ہوتی ہے۔ آپ انجینئر، ڈاکٹر، بزنس مین، سائنسدان اس لیے کچھ نہیں کر پاتے کوئی نئی ایجاد نہیں کر سکتے کوئی نئی دریافت ان کی سی وی میں شامل نہیں ہوتی کہ ریسرچ بھی کسی دریافت شدہ ، ایجاد شدہ چیز پر کی جاتی ہے۔ کمرۂ امتحان کے اندر جائیے تو نقل کرتے طلباء کی صورت قوم کا مستقبل خود بخود آپ کے سامنے آجاتا ہے لہٰذا یہ حال ہے اُس قوم کا جو 1940 میں بڑے طمطراق سے چلی تھی اور ہر قوت کو شکست دیکر فتح مند ہوئی تھی ایک قرار داد تھی ایک وعدہ تھا اور سب اُسے نبھانے نکل پڑے تھے۔ مشکل اب بھی نہیں اگر اب بھی کوئی منٹو پارک چن لیا جائے اور اسے اقبال پارک بنانے کا عہد کر لیاجائے، کسی سربلند و سر بالا مینار کی تعمیر کا سوچا جائے جو گلاب کی پتیوں پر کھڑے مینار پاکستان کو سہارا دے سکے اُس کے دکھ کا مداوا کرکے اُس کے فخر کو بحال کر سکے اور اس قوم کو پھر اُس طرح اُٹھادے جیسے یہ 1940 میں اُٹھی تھی اور 1947 میں دنیا کو حیران کر گئی تھی دنیا نے جو سوچا نہ تھا وہ اس نے کر لیا تھا۔ دن منانا کوئی بڑی بات نہیں اس پر شان و شوکت دکھانا بھی ایک ہی دن کی بات ہوتی ہے اسے یاد گار بنانا ضروری ہے جیسے 23مارچ قرارداد پاکستان نے یاد گار بنا دیااگر اس قرارداد کی تکمیل نہ ہوتی تو آج تاریخ اسے کبھی یاد نہ رکھتی، یاد رہ جانے کے لیے کچھ کر لینا ضروری ہے تب قوم نے کیا تھا تو عزت پائی تھی آج بھی کرے تو دیکھ لے کہ کیسے امریکہ اسے دھمکی دیتا ہے یا کیسے بھارت اِس کے سامنے آتا ہے ۔ بات صرف کر لینے کی ہے اوراب ضرورت بھی بس اس کر لینے کی ہے لہٰذا اس 23 مارچ کو منائیے مت کچھ کر لیجئے۔

211
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...