جدید دنیا کی جمہوری تاریخ میں پارلیمانی انتخابات میں رائے عامہ کی قوت کو باوقار طریقے سے تسلیم کیا جاتا ہے اور ہارنے والی ٹیم جیتنے والی ٹیم کو مبارک باد سے نوازتی ہے ۔ اِسی طرح پاکستانی جمہوریت میں بھی یہی روائت چلی آ رہی ہے۔ انتخابات میں چاہے عوام الناس عام انتخابات میں اپنے حقِ خودارادیت کو استعمال کریں یا ارکانِ پارلیمنٹ کیلئے صدر ، وزیراعظم ، چیئر مین سینیٹ یا اسپیکر قومی اسمبلی کا مرحلہ درپیش ہو انتخابات کے نتائج کو صدق دل سے ہی تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ البتہ اگر خفیہ انتخابی عمل میں اگر کوئی شکایت پیش آئے تو ایسے معاملات کو الیکش کمیشن یا عدلیہ کے نوٹس میں لایا جاتا ہے۔ حقیقیت یہی ہے کہ پاکستان سینیٹ کے مڈ ٹرم انتخابات کے بعد جب چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا مرحلہ پیش آیا تو کوئی بھی جماعت اکثریت حاصل نہیں کر سکی اور اِس اَمر کی وضاحت ہوگئی کہ چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہونے والے انتخاب میں کوئی بھی جماعت اتحادی جماعتوں اور آزاد ممبران کی مدد کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کر پائیگی۔چنانچہ چند روز قبل خفیہ بیلٹ کے ذریعے سینیٹ کے ہائی پروفائل انتخابات میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) پنجاب سے تعلق رکھنے والے راجہ ظفر الحق کو پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اتحاد کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صادق سنجرانی کے ہاتھوں شکست ہوئی تو اِسے جمہوری پروسس کا حصہ سمجھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے خوش آمدید کہنا چاہیے تھا لیکن صد افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کے وزراء اور اتحادیوں کی جانب سے صادق سنجرانی کے انتخاب پر جس آمرانہ مزاج کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر جمہوری تلخ زبان استعمال کی گئی اُس کی مثال پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز صفدر نے تو یہ کہتے ہوئے تمام ہی جمہوری حدوں کو پار کردیا کہ وہ نہ صرف یہ کہ چیئرمین وڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی شکست کو تسلیم نہیں کرتی بلکہ (ن) لیگ کے سیاسی مخالفین اور اپوزیشن کو للکارتے ہوئے کہا گیا کہ شطرنج کے مہروں تم جیتے نہیں ہو بلکہ تمہیں بدترین شکست ہوئی ہے ۔اپنے ایک ٹوئیٹ میں اُنہوں نے کہا کہ بھڑ بکریوں کی طرح ہانکے جانے والوں مہروں قوم نے تمہارا اصل چہرہ دیکھ لیا ہے ، ذرا عوام کے سامنے تو آؤ تو تمیں پتہ چلے گا۔ اِسی تلخی کے رویے کو جاری رکھتے ہوئے وزیر مملکت مریم اورنگ زیب نے کہا کہ نامعلوم افراد ، امپائر کی اُنگلی اور کٹ پتلیوں کی سیاست نے پاکستان کی سیاست کو نقصان پہچانے کیلئے ہمیشہ پیچھے سے وار کیا ہے۔ میاں نواز شریف کے حاشیہ بردار وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ تبدیلی اور انقلاب کا نعرہ لگانے والوں کا بھیانک چہرہ سامنے آ گیا ہے ، وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے کہا کہ آصف علی زرداری اور عمران خان نے جمہوریت کی پشت میں چھرا گھونپا ہے لہذا جمہوریت کو عدم استحکام کا شکار کرنے والے مجرم ہیں ۔ میاں نواز شریف کے خاص اتحادی اچکزئی نے الیکشن کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیاجبکہ میاں نواز شریف کے ایک اور اتحادی وفاقی وزیر حاصل بزنجو نے کہا کہ اُنہیں پارلیمنٹ میں بیٹھنے سے شرم آتی ہے، ایوان کا منہ کالا ہوگیا ہے اور پارلیمنٹ ہار گئی ہے ۔ سینیٹ کے تمام ممبران کی موجودگی میں شفاف الیکشن کے باوجود مسلم لیگ (ن) اور اتحادیوں کی جانب سے تلخ نوائی حیران کن بات ہے۔
درج بالا تناظر میں اِس اَمر سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سینیٹ الیکشن سے قبل میڈیا رپورٹس کے مطابق میاں نواز شریف نے متعدد بار آصف علی زرداری سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔اِسی اثنا میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سینیٹ کے چیئرمین کے طور پر پیپلز پارٹی کے سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کومشترکہ اُمیدوار کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا جسے آصف زرداری نے ماننے سے انکار کر دیا ۔ سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ اگر میاں نواز شریف کی مسلم لیگ(ن) کے اتحادیوں کو سینیٹ میں اکثریت حاصل تھی تو اُنہیں پیپلز پارٹی کیساتھ سینیٹ الیکشن میں اتحاد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی؟ سینیٹ الیکشن کے بعد ایک ایسی ہی حیران کن جمہوری روائیت سے فرار کی کوشش اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے گزشتہ روز دیکھنے میں آئی جب اُنہوں نے اسپیکر ہوتے ہوئے بھی از خود ہی قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ یہ صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب طلباء سے ڈرگ ایکٹ سے متعلق سوالات کا جواب دینے کیلئے سیکریٹری داخلہ کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ سیکریٹری داخلہ ساڑھے بارہ بجے سوالات کا جواب دینے کیلئے اسمبلی کے سامنے پیش ہونگے۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس خال خال ہی وقت پر شروع ہوتے ہیں جبکہ موجودہ حالات میں عدلیہ سے آنے والے سوالات کی جوابدہی کیلئے بھی سیکریٹری داخلہ اکثر بیشتر مصروف ہوتے ہیں چنانچہ اسمبلی سیکریٹریریٹ کو مطلع کئے جانے کے باوجود اسپیکر قومی اسمبلی کا اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کرنا نہ صرف جمہوری روایات کے برعکس ہے بلکہ سول سوسائیٹی کیلئے انتہائی ناقابل فہم ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا سینیٹ کے حالیہ الیکشن میں اپوزیشن جماعتوں کی کامیابی کے بعد میاں نواز شریف کی وزیراعظم اور پارٹی چیف کی حیثیت سے نااہلی کو آئینی ترمیم کے ذریعے اہلیت میں تبدیل کرنیکا مجوزہ معاملہ ٹھپ ہوگیا ہے جس کیلئے ممکنہ خفیہ پلاننگ کی جا رہی تھی کیونکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئندہ دوماہ میں اپنے اختتام پر پہنچنے والی ہے اور میاں نواز شریف ، اُنکی صاحبزادی اور ذاتی حاشیہ برداروں کی افواج پاکستان اور عدالت عظمیٰ کے خلاف جاری غیر آئینی و غیر قانونی مہم جوئی سے خود مسلم لیگ (ن) کے بیشتر رہنما بشمول سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بیزار نظر آتے ہیں جبکہ کچھ پارٹی سینیٹر اور ممبران اسمبلی مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر دیگر پارٹیوں میں شرکت کر رہے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما مریم نواز شریف کے شاہانہ رویہ کی بھی شاکی ہیں جو اپنے آپ کو بیرونی میڈیا میں حکمران خاندان کی بیٹی کے روپ میں پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی ہیں جبکہ جمہوریت میں حکمران خاندان کو ئی تصور موجود نہیں ہے۔ درحقیقت ، میاں نواز شریف کی گذشتہ چار سالہ وزارت عظمیٰ کے دورِ میں جمہوری اسٹیٹ کرافٹس کی جگہ آمرانہ انداز حکومت اختیار کرتے ہوئے بیوروکریسی کو مخصوص ذاتی اور پارٹی مفادات کیلئے استعمال کئے جانے اور جائز ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت آف شور کمپنیوں میں چھپا کر بیرون ملک انویسٹ کرنے اورملک کو غیر معمولی بیرونی قرضوں کی نذر کرنے کے سبب ملک میں اقتصادی بحران اور ہائی پروفائل کرپشن کو مہمیز ملی ہے ۔ شاید ابھی تک میاں نواز شریف کو ہاں میں ہاں ملانے والے حاشیہ برداروں کے سوا پاکستان میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال سے آگاہ کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ چنانچہ اُن کی خدمت میں عاجزی سے بقول شاعر درج ذیل اشعار ہی پیش کئے جا سکتے ہیں کہ شاید کہ ترے دل میں اُتر جائے مری بات ۔ ۔ ۔
رشتہ ء دیوار و در تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
مت جلا اِس کو یہ گھر تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
کیوں لڑیں آپس میں ہم ایک ایک سنگ میل پر
اِس میں نقصانِ سفر تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
اندریں حالات، ملک میں چند ماہ میں ہونے والے انتخابات کو شفاف اور ایماندارانہ بنانے کیلئے عدالت عظمیٰ نے قومی خزانے سے سرکاری اشتہارات کے ذریعے سیاسی شخصیات کی ذاتی پبلیسٹی پر بھی پابندی لگانے کا عندیہ دیا ہے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیکش کو شفاف بنانے کیلئے بیوروکریٹس کو بھی دوسرے صوبوں میں بھیجا جائیگا ۔ بہرحال سول سوسائیٹی افواج پاکستان اور عدالت عظمیٰ کی بے لوث قومی خدمات پر مطمئن ہیں اور کسی طالع آزما سیاسی رہنما کو ملک کی سیاست کو دیوار سے لگانے کو برداشت نہیں کرینگے۔

186
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...