پاکستان بنے ہوئے ساڑھے چھ دہائیاں گزر گئیں یعنی نصف صدی سے زیادہ عرصہ ،لیکن اسکے دشمنوں نے اسے قبول نہ کیا اور ہر ہر زاویے سے اسکے وجود کے درپے ہیں کبھی خود وار کرتے ہیں اورکبھی ہمارے اندر سے ایسے کردار ڈھونڈ نکالے جاتے ہیں۔ آج کل بھی ایسا ہی ایک وار پاکستان کی اساس یعنی دو قومی نظریے کو موضوع بحث بنا کر بلکہ اس کی مخالفت کرکے کیا جارہا ہے اور اس نظریے کی تشریح اس طرح کی جارہی ہے جیسے یہ دو قوموں کی جداگانہ حیثیت کا تعین نہ ہو بلکہ دو قوموں کی دشمنی کی بنیاد ہو یعنی وہ جس بات کا سارے فسانے میں ذکر ہی نہیں وہی ان کو ناگوار گزر رہی ہے۔ آپ تاریخ کی کتابیں اُٹھا کر دیکھیں کہاں لکھا ہے کہ ہندوستان میں دو دشمن قومیں بستی ہیں مسلمان اور ہندو۔ وہاں تو یہ لکھا ہے کہ ہندوستان میں دوقومیں بستی ہیں مسلمان اور ہندو اور اِسی لیے دوقوموں کے دو ملک ہوں۔ ابھی حال ہی میں سیفما کی ماروی سرمد اپنی تنظیم کے پلیٹ فارم سے دوقومی نظریے کے خلاف بُری طرح اُٹھ کھڑی ہوئی ہیں اور معلوم یا نامعلوم ایجنڈے پر زوروشور سے عمل پیرا ہیں ۔چاہے وہ خود کو جتنابھی آزاد ظاہر کریں لیکن ان کا کام اوراُن کا لہجہ بول رہا ہے کہ وہ کسی خاص مقصد سے یہ سب کچھ کررہی ہیں۔ ماروی کے مطابق وہ دائیں بازو کے لوگوں سے اس (Head on Collision) یعنی براہ راست ٹکراؤ پر انتہائی خوش ہیں بات دائیں اور بائیں کی نہیں وہ اِس شُہرت سے ضرور خوش نظر آرہی ہیں جس میں اچانک ملک گیر اِضافہ ہوا اور اگر پہلے انہیں دس فیصد لوگ جانتے تھے تو اب پچاس ،ساٹھ فیصد لوگ جاننے لگے ہیں اور شُہرت کی تو موت بھی زندہ باد بالکل اس مصری کہانی کی طرح جس میں شُہرت کا خواہشمند ایک شخص ایک اداکارہ کا قتل اپنے ذمے لے لیتا ہے۔ مجھے معلوم ہے میرا لہجہ اور الفاظ سخت ہوگئے ہیں لیکن اس لہجے اور الفاظ سے زیادہ نہیں جوماروی سرمد استعمال کرتی ہیں۔ جوخود بامعاوضہ یا بلامعاوضہ تلک یا بندیا لگا کر سمجھتی ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی ثقافت ایک ہے۔ کیا بھارت کی ہندو عورت کبھی آپکی بلوچ قمیض اِتنے فخر سے زیب تن کرکے بھارت کے خلاف بات کرتی ہے۔ اِن کو اعتراض ہے کہ ہم ایک نظریے یا تھیوری جیسی بے حیثیت چیز کو اتنا اہم کیوں سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسے اپنے ملک کی بنیاد قرار دے دیا جبکہ خود کو سائنسی تعلیم کی ماہر بھی کہتی ہیں حالانکہ سائنس کی طالبہ ومعلمہ دونوں حیثیتوں میں، میں نے یہی پڑھا اور پڑھایاکہ بغیر تھیوری کے سائنسدان کوئی سائنسی قانون بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتااور یہی نظریہ ہے جس کی بنیاد پر قومیں بنتی ہیں یہ اور بات ہے کہ ان کے ممدوح ہندونہ کوئی خاص نظریہ حیات رکھتے ہیں اور نہ خاص نظریہء معبود یعنی جس کو چاہاپوج لیا اور خدا بنالیااور یہ پہلا فرق ہے جس کوہندوستان کی دوقوموں کے درمیان تقسیم کی بنیاد بنایا گیا لیکن یہ صرف واحد فرق نہ تھابلکہ یہاں ثقافت سے لیکر رہن سہن تک بالکل مختلف تھا ۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ماروی اور ہمنوا خود پاکستان کے اندر تو سندھی بلوچی ، پنجابی اور پٹھان کو قوم قرار دیتے ہیں اور ان کے ” قومی” حقوق کے لیے شور مچاتے ہیں جن کے آباواجداد،جن کے رسوم ورواج ، جن کی زبانیں، جنکے لباس معمولی فرق سے ایک ہیں اور مذہب توہے ہی ایک ، لیکن ان میں تفریق کی دانستہ کوشش مسلسل جاری ہے ۔ یہاں اگر مذہب میں فرقے ہیں بھی تو اللہ ، رسول اور قران میں کوئی تمیزوتفریق نہیں پھر آخر مسئلہ کیا ہے۔ جہاں تک پرچم میں اقلیتوں کے لیے الگ رنگ مخصوص کرنے کا تعلق ہے جسے ماروی نے جھنڈے کی تقسیم قرار دیا یہ تقسیم نہیں ان کاحق ہے اور یہی حق انکا زمین پر ہے اس جھنڈے کو سلامی دینے والے صرف سبز رنگ کو سلام نہیں کرتے بلکہ ان کا ہاتھ پورے جھنڈے کے سامنے اٹھتا ہے ۔دراصل یہ اقلیتوں کے د ل میں نفرت پیدا کرنے کی ایک مذموم اور مخصوص کوشش ہے ورنہ کم ازکم کوئی ذی شعور پاکستانی ایسا نہیں جو ان کے بارے میں منفی خیالات تک رکھتا ہو۔نہ تو بحیثیت مسلمان وہ ایسا کرنے کا مجاز ہے اور نہ یہ بھارت ہے جہاں کے ہندو تو پوتر ہیں اور مسلمان اچھوت بلکہ مسلمان ہی کیا خود ہندو دلت توشاید انسان کے زمرے میں بھی نہیں آتے۔ بھارت کے مسلمانوں کی تو مجبوری ہے کہ وہ اب بھی گجرات اور احمد آباد میں رہتے ہیں ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے ایک بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جب مالیگاؤں میں سڑک پر مردہ گائے پائی گئی تو وہاں کے ہندو مسلمانوں کی جان کے دشمن ہوگئے جبکہ تحقیقات سے پتہ چلا کہ اگر گائے کو مارا بھی گیاتھاتو اس میں کوئی مسلمان ملوث نہیں تھایہ آپکے عظیم سیکولر بھارت کا حال ہے۔ ایک مسلمان کو بھارت کا صدر بنادینے سے یہ مت سمجھئے کہ سب اچھاہے۔ بیس پچیس کروڑ میں کسی کو تو موقع ملے گا ہی اور یہی موقع دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے استعمال کرلیا جاتاہے۔ بات باقی کے مسلمانوں کی ہے۔ میں یہ ہرگز نہیں سمجھتی کہ خدانخواستہ ہم یہ بدلہ پاکستان کے اقلیتوں سے لیں یہ سارے بھی اس زمین کے اتنے ہی حقدار ہیں جتنا کہ ایک مسلمان۔ خود میں ایک سکھ اور ہندو دوکاندار کی مستقل گاہک رہی ہوں ،میری عیسائی ہم جماعت ہمارے ساتھ کھاتی پیتی رہی ۔یہ سارے مفروضے مخصوص مقاصد کے لیے قائم کیے اور پھیلائے جاتے ہیں۔ محترمہ اسلام کا مطالعہ کیجئے اور پھر بتایئے کہ اسلام کا اقلیتوں کو برابر کے حقوق دینے کا نعرہ بقول آپ کے کھوکھلا ہے یا در حقیقت ٹھوس۔ کیا کبھی آپ نے اسلام کو سمجھنے کے نظریے سے پڑھا بھی ہے۔
میرے خیال میں تو اسطرح کے مسائل کو اُٹھانا اور” براہ راست ٹکراؤ”کا مقصد سستی شُہرت کے علاوہ کچھ نہیں جوکہ سیفما کو خاصی حاصل ہوچکی ۔ یہ یا د رکھیئے جن قوموں کے پاس نظریہ نہیں ہوتا ،نظریہ حیات نہیں ہوتا وہ معاشرے کھوکھلے ہوتے ہیں اور وہاں اتحاد نہیں ہو تاآخر وہ متحد ہوں تو کس بات پر کیونکہ ُدنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں علاقائی رواج اور زبانیں نہ ہوں جہاں پورا ملک ایک قبیلے اور نسل سے تعلق رکھتا ہو ایسا تو ایک گاؤں میں بھی ممکن نہیں تو کیا پھر پورا گاؤں آپس میں دشمن ہوگا۔
قصہ مختصر دوقومی نظریہ ہی اس ملک کی اساس بناتھااور اب بھی یہ برصغیرکے معاملے میں اتنا ہی سچ ہے جتنا کل تھا اور یہی نظریہ ہی دراصل ہماری طاقت اور مرکزِثقل ہے جس نے قوم کو متحد کرکے رکھاہواہے اور یہی وجہ ہے کہ دوقومی نظریے پر وار کرکے اسکو متنازعہ بنانے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے کیونکہ دشمن جانتا ہے کہ یہی اس کی پہچان اور طاقت ہے جس نے اسے دشمن کے سامنے ناقابلِ تسخیر بنایا ہواہے اور اپنی اس پہچان کو قائم رکھنے کے لیے یہ قوم کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ لہذا ہمیں اِن ہتھکنڈوں اور پروپیگنڈوں سے آگاہ رہنا ہوگااور اِن لوگوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔

14,406
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 27
Loading...