قارئین کرام ! اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سینیٹ اِس لئے بھی انتہائی اہم ادارہ ہے کہ قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے یا عارضی طور پر اسمبلی کی غیر موجودگی میں بھی سینیٹ ہی وہ قومی ادارہ ہے جو ملک میں پارلیمان کی موجودگی اور جمہوری عمل کے تسلسل سے جاری رہنے کی نمائندگی کرتی ہے ۔ سینیٹ پارلیمان کے اَپر ہاؤس کے طور پر کام کرتی ہے اور اِس لئے بھی اہم ہے کیونکہ سینیٹ کے ممبران تمام چھوٹے بڑے صوبوں کی مساوی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ قومی اسمبلی بھی انتخابی عمل کے ذریعے اپنے نمائندے سینیٹ میں بھیجتی ہے اور ہر تین برس کے بعد سینیٹ کے آدھے ارکان کو صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے اراکین منتخب کرتے ہیں ۔ صد افسوس کہ چند روز قبل پاکستان الیکشن کمیشن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے سینیٹ کے مڈ ٹرم انتخابات بدترین ہارس ٹریڈنگ کے سبب دنیا بھر میں پاکستانی جمہوریت کیلئے کلنگ کا ٹیکہ بن گئے ہیں ۔ایم کیو ایم پاکستان سب سے زیادہ متاثر پارٹی رہی جس کے چیف ڈاکٹر فاروق ستار نے اِسے متحدہ کے ووٹ بنک پر ڈاکے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ سندھ میں اُن کے پندرہ سے زیادہ ممبران صوبائی اسمبلی کو ڈرا دھمکا کر خریدا گیا ہے چنانچہ وہ سینیٹ الیکشن میں اِس دھاندلی کے خلاف الیکشن کو کالعدم قرار دینے کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور سپریم کورٹ میں پٹیشن لے کر جائیں گے۔ فاٹا اور صوبہ بلوچستان میں بھی مبینہ طور پر ہارس ٹریڈنگ کی یہی کہانی دھرائی گئی ہے جہاں آزاد ارکان ہی فتح یاب ہوئے ہیں۔ صوبہ خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف کی ایک منحرف ایم این اے عائشہ گلالئی نے تو کھلم کھلا یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ اُنہوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان (صوبہ خیبر پختون خواہ )نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلا ہے اور اُن کے چند اراکین نے بھی اپنے ضمیر فروخت کر دئیے ہیں چنانچہ جن اراکین نے سودے بازی کی ہے اُن کے خلاف سخت ترین ایکشن لیا جائیگا۔ یادرہے کہ اِس سے قبل عائشہ گلالئی مسلم لیگ (ن) کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے چیف امیر مقام کی مبینہ حمایت اور حوصلہ افزائی سے تحریک انصاف سے منحرف ہوئی تھیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے تحریک انصاف کے پارٹی چیف عمران خان کی تحریری آئینی درخواست کے باوجود جس میں مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ عائشہ گلالئی پارٹی لائین کے خلاف کام کر رہی ہیں لہذا اُن کی سیٹ کو مروجہ قانون کیمطابق خالی قرار دیا جائے لیکن چیف الیکشن کمشنر نے اِس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا تھا۔
اندریں حالات ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے الیکشن کمیشن کو مبینہ طور پر دُہری شہریت رکھنے والے چار منتخب سینیٹرز جن میں مسلم لیگ (ن) کے ہارون اختر ، نزہت صادق ، سعدیہ عباسی اور تحریک انصاف کے سرور چوہدری شامل ہیں کا نوٹیفیکشن جاری کرنے سے روک دیا ہے جب تک کہ یہ منتخب سینیٹرز مستند تحریری دستاویزات کے تحت دُہری شہریت کی وضاحت نہیں کر دیتے لیکن عوامی سطح پر ایسے منتخب سینیٹرز کی تعداد چار سے زیادہ بیان کی جا رہی ہے چنانچہ اِس لسٹ میں اضافہ ہو سکتا ہے اگر مقتدر سیاسی حلقے سپریم کورٹ کی رہنمائی کیلئے آگے آتے ہیں ۔ البتہ نو منتخب سینیٹر چوہدری سرور نے کہا ہے کہ اُنہوں نے برطانوی شہریت 2013 میں اُس وقت چھوڑ دی تھی جب اُنہیں صوبہ پنجاب کا گورنر بنایا گیا تھا۔ دریں اثنا ، موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان سینیٹ انتخابات میں اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے کیونکہ کچھ ایسی ہی صورتحال سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حیران کن طریقے سے کاغذات نامزدگی کی منظوری اور سینیٹر منتخب ہونے کے حوالے سے سامنے آئی ہے جنہیں احتساب عدالت کی جانب سے کرپشن کے مقدمے میں چند ماہ قبل عدالت سے مفرور ہونے پر اشتہاری ملزم قرار دیا جا چکا ہے۔ کیا قانون ایک مفرور اشتہاری ملزم اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کی اجازت دیتا ہے۔ بظاہر یہ معاملہ بھی آئین سے متصادم ہی نظر آتا ہے۔ ایسی ہی ایک صورتحال مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایک کاروباری شخصیت کے ٹیکنو کریٹ کی ریزرو سیٹ پر کاغذات نامزدگی قبول کئے جانے اور سینیٹر منتخب ہونے پر سول سوسائیٹی میں حیرانی اور پریشانی کیساتھ ساتھ الیکشن کمشن آف پاکستان کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے ۔ درحقیقت، آئین کے آرٹیکل 218 (3) میں بخوبی کہا گیا ہے کہ ’’ الیکشن کمیشن کا یہ فرض ہوگا کہ وہ انتخاب کا انتظام کرے اور اُسے منعقد کرائے اور ایسے انتظامات کرے جو اِس اَمر کے اطمینان کیلئے ضروری ہوں کہ انتخاب ایمانداری ، حق اور انصاف کیساتھ اور قانون کیمطابق منعقد ہوں اور یہ کہ بدعنوانیوں کا سدباب ہو سکے‘‘ ۔
درج بالا تناظر میں ، اِس اَمر میں کوئی شک نہیں ہے کہ آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت وفاق اور صوبوں کے تمام حکام اور انتظامیہ پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ وہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کی کار ہائے منصبی کی انجام دہی میں مدد دینے کے پابند ہیں۔ البتہ پاکستان میں جس انداز سے وفاق اور صوبوں کی انتظامیہ سیاسی رنگ اختیار کرکے مبینہ طور پر ریاستی سیاسی قیادت کے اشاروں پر آئین و قانون سے ماوراء ہو کر کام کر رہی ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان کیلئے اپنے کار ہائے منصبی پر آئینی نفسِ مفہوم کیمطابق عملدرامد کرنا مشکل تر اَمر ہوتا جا رہا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کو ہر حال میں انتظامیہ پر ہی بھروسہ کرنا پڑتا ہے جہاں حکمرانوں کی ماوراء آئین و قانون خواہشات غیر جانبدار اقدامات میں رکاوٹ بن جاتے ہیں ۔ دُہری شہریت بھی ایک ایسا ہی معاملہ ہے۔ ماضی میں امریکہ میں دُہری شہریت کی حامل شخصیت فرح نازاصفہانی جو سابق متنازع پاکستانی سفیر حسین حقانی کی اہلیہ بھی ہیں ، سابق صدر آصف علی زرداری کی حمایت سے الیکشن کمیشن کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کافی عرصہ تک پاکستان پارلیمنٹ کا حصہ بنی رہیں ۔ چنانچہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے اُن کی رکنیت معطل کئے جانے سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے آئین کی پاسداری کے حوالے سے صورتحال کو سمجھنے کیلئے کوئی ایکشن نہیں لیا گیاجبکہ دُہری شہریت کی حامل فرح ناز اصفہانی اسمبلی کی اِن کیمرہ اور اوپن کاروائیوں میں بھرپور حصہ لیتی رہیں تھیں۔حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی یا کسی بھی دیگر ملک کے شہری کو مغربی ملکوں میں شہریت اُس وقت دی جاتی ہے جب وہ اپنا تعلق کلی طور پر اپنے پیدائش کے ملک سے توڑ لیتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ بیرونی ممالک کی شہریت بل خصوص امریکی شہریت کے حصول کے موقع پر ایسے افراد کی جانب سے اُٹھائے جانے والے حلف کی رُو سے بھی اِس اَمر کی تصدیق ہوتی ہے جسے امریکی نوٹیفیکیشن میں بخوبی بیان کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ اِس حلف نامے کی رُو سے امریکی آئین و قانون کیساتھ دفاداری کا اظہار پیدائش کے ملک سے ہر قسم کا رشتہ اور تعلق توڑ کر ہی کیا جاتا ہے جس کی وضاحت امریکی شہریت کے حلف نامے میں کر دی گئی ہے اور اِس حلف کو اُٹھائے بغیر کوئی بھی غیر ملکی امریکی شہریت حاصل نہیں کر سکتا۔ چنانچہ اگر امریکی شہریت حاصل کرنے والا کوئی بھی غیر ملکی اگر اپنے پیدائش کے ملک میں کوئی کردار ادا کرتا ہے تو وہ اِس حلف نامے کے حوالے سے کئے جانے والے نوٹی فیکیشن کی رُو سے امریکی حکومت یا امریکی انٹیلی جنس سی آئی اے کی خفیہ آپریشنل ضرویات کے بغیر ایسا نہیں کر سکتا۔ درحقیقت کوئی بھی پاکستانی شہری اپنی پاکستانی شہریت کو خیر باد کئے بغیر امریکی شہریت حاصل نہیں کر سکتا۔ چنانچہ ایسے نام نہاد امریکی شہریت رکھنے والے لوگوں کو دُہری شہریت کا حامل قرر دینا بھی پاکستانی قوم کیساتھ مذاق ہی سمجھا جانا چاہیے۔ ایک برطانوی سکالر نے فرح ناز اصفہانی کی دُہری شہریت کے حوالے سے اپنے مضمون میں انگریزی کی مثال کے حوالے سے لکھا تھا کہ بھیڑیا دروازے پر دستک دے رہا ہے تو فرح ناز کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ “How many wovels are knocking at the door of Pakistan parliament and why the Rulers are keeping quiet? ۔ بہرحال یہ اَمر اپنی جگہ اہم ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 62(1)(a) کے تحت پارلیمنٹ کی رکنیت کیلئے پاکستان کا شہری ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے جس کی چھان بین الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بخوبی کرنی چاہیے جبکہ بظاہر کاغذات نامزدگی وصول کرتے ہوئے ایسی کی تصدیق پر زور نہیں دیا گیا ہے۔ چنانچہ الیکشن کمیشن کو حکمرانوں کی صوابدید پر فیصلے کرنے اور قومی نقصان کو نظر انداز کرنے کے بجائے وطن پر قربان ہونے کے جذبے کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ وطن کی محبت کیلئے کسی اور دنیاوی انعام کی ضرورت نہیں ہوتی۔

71
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...