گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اُنکی جماعت قائداعظم محمد علی جناح کی وارث جماعت ہے ۔ یہ دعویٰ بھی درست ہے کہ فی الوقت مسلم لیگ (ن) ہی وفاق اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکمران ہے ۔ چند ماہ قبل تک رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں بھی مسلم لیگ (ن) ہی کی حکمرانی تھی جہاں صوبائی پارلیمان نے بظاہر سابق نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے خود ہی صوبہ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا خاتمہ کردیا ۔ اِس سے قبل صوبہ بلوچستان میں ہی وزارت خزانہ سے متعلقہ مشیران اور سول سرونٹس کی عجب کرپشن کی غضب ناک داستانیں بھی منظر عام پر آئی تھیں جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مبینہ طور پر سیاسی شخصیتوں اور سول سرونٹس کے گھروں سے کروڑوں روپے کی نقدی بھی برآمد کی گئی تھی ۔ قومی خزانے کو لوٹنے کی کچھ ایسی ہی عجب داستانیں وفاق ، صوبہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں بھی سامنے آ رہی ہیں جبکہ اقتدار کی غلام گردشوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین اور قانون سے ماورا پھیلتی ہوئی کرپشن نے عوام الناس ، سول سوسائیٹی اور قومی دانشور حلقوں میں بھی سوالات کی بھر مار کر دی ہے کہ قومی بددیانتی کے مارے ہوئے ہمارے کچھ سیاست دان اور سول سرونٹ کیا کر رہے ہیں ، ریاستی نظام کس مرض کی دوا ہے چنانچہ آئین کے آرٹیکل 240/241 کے تحت سول سرونٹ ایکٹ اور سول سرونٹ کنڈکٹ رولز پر عملدرامد سے گریز کیوں کیا رہا ہے؟ اگر مسلم لیگ (ن) قائداعظم کی وارث جماعت ہے تو گوڈ گورننس اور کرپشن فری مملکت کے قیام کیلئے بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ارشادات سے پہلو تہی کیوں کی جا رہی ہے؟ درحقیقت ، قیام پاکستان کے بعد قائداعظم نے کراچی ، پشاور ، سبی اور چٹاگانگ میں سول سرونٹس سے خطاب کرتے ہوئے ملکی انتظام اور انصرام کے حوالے سے جن باتوں کی نشان دہی کی تھی اُن کا تذکرہ سول سرونٹ ایکٹ اور سول سرونٹ کنڈکٹ رولز میں تو بخوبی ملتا ہے لیکن موجودہ حکومتی اقدامات قائد کی فکر کے حوالے سے ریاستی نظام کی موجودگی کے باوجود اصلاحِ احوال اور عمل درامد کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں ۔
درحقیقت قائداعظم محمد علی جناح نے ملکی انتظام ، انصرام اور احتساب کے حوالے سے سیاسی رہنماؤں اور سول سرونٹس کو دیگر معاملات کے علاوہ تین اہم اقدامات کی تلقین کی تھی : (1) میں سیاسی رہنماؤں پر یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ سرکاری ملازمین کے کار منصبی میں دخل دینگے اور اُن پر سیاسی دباؤ ڈالیں گے تو اِس کا نتیجہ بدعنوانی، رشوت ستانی اور اقربہ پروری کی شکل میں برآمد ہوگا۔ اِس خطرناک مرض میں آپ کے صوبے کے علاوہ دوسرے صوبے بھی ملوث ہیں ۔ ایسے لوگ آپ کے کام میں مداخلت کرکے پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ (2) آپ کو (سول سرونٹس) کسی سیاسی جماعت یا سیاستدان کے دباؤ میں نہیں آنا چاہیے ۔ اگر آپ پاکستان کے وقار اور عظمت کو دوبالا کرنا چاہتے ہیں تو بے خوفی اور دیانت داری کیساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں ۔ عمالِ حکومت ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں ، حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں ، وزیر آتے جاتے رہتے ہیں لیکن آپ بدستور اپنے عہدوں پر قائم رہتے ہیں ، ا،س لئے آپ کے کاندھوں پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ (3) اِس دنیا میں اپنے ضمیر سے بڑھ کر اور کوئی انسان کا محتسب نہیں ہے ۔ آپ کو اِس کیلئے تیار رہنا چاہیے تاکہ جب اللہ تعالیٰ کا سامنا ہو تو یہ کہہ سکیں کہ آپ نے اپنا فرض انتہائی خلوص نیت ، دیانتداری ، وفاداری اور تندہی سے سے انجام دیا…کسی اقدام سے قبل یہ سوچیں کہ آیا یہ آپ کے ذاتی یا علاقائی مفاد کیلئے ہے یا ملک کی فلاح و بہبود کیلئے؟ اگر ہر فرد اِس طرح اپنا جائزہ لے اور کسی خوف اور لالچ کے بغیر اپنے آپ اور دوسروں کیلئے دیانت داری کو لازم قرار دے تو ہمارا مستقبل روشن ہوگا اور اگر سرکاری ملازمین اور عوام انہی اصولوں پر کاربند رہے تو حکومت ، قوم اور ملک کا معیار بلند ہوگا اور پاکستان دنیا بھر کے عظیم ملکوں کی صف میں شامل ہوجائیگا۔ سوال یہی ہے کہ کیا ہم نے قائد کے اِن درخشاں اصولوں پر عمل کیا ہے اور کیا پاکستان دنیا کے عظیم ملکوں کی صف میں شامل ہوگیا ہے؟ ایسا بالکل نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں قائد کے جمہوری اصولوں کو ذاتی مفادات کے ایک مافیائی نظام کے تابع کرکے آئین ، قانون اور ریاستی نظام یعنی مروجہ سٹیٹ کرافٹس کی گردن مڑور کے قومی خزانے کو ذاتی مفادات کے حصول کیلئے منظم طریقے سے لوٹ مار کی نظر کیا جا رہا ہے اور قومی دولت باہر کے ملکوں میں منتقل ہو رہی ہے ۔ مخصوص سول سرونٹس کو اُن کے گریڈاور متعلقہ سہولتوں سے بالا تر ہو کر عملی طور پر سول سرونٹ ایکٹ اور سول سرونٹ کنڈکٹ رولز سے ماورا کر کے اہم اداروں اور وزارتوں میں اہم پوزیشنوں پر تعینات کرکے ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ اندریں حالات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں قوم و وطن سے وفاداری نبھانے اور ملک کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے کی فکر کرنے والوں کو پیچھے دھکیلا جا رہا ہے جبکہ ذاتی مفادات کو مہمیز دینے کیلئے سول سرونٹس کے کچھ حلقوں میں غیر معمولی سہولتیں بہم پہنچا کر اُنہیں حکمرانوں کے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے اور بات سیاسی دباؤ سے اُن کے کار منصبی میں دخل دینے سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔
درج بالا تناطر میں ،زبانی احکامات اور غیر شفاف طریقے سے اہم پوزیشنوں پر بھرتیاں اِس حد تک چلی گئی ہیں کہ ایک قومی ادارے پی ٹی وی میں جس کی ترقی کیلئے پاکستان کے ہر گھر سے یوٹیلیٹی بل میں ایک مخصوص رقم ماہانہ طور پر قومی خزانے میں داخل کرائی جاتی ہے میں بظاہر ایک بہتر سالہ پرائیویٹ شخصیت کو غیر معمولی پُرکشش تنخواہ اور سہولتوں کیساتھ غیر شفاف طریقے سے بھرتی کرنے کے ایک مقدمے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی یہ آبزرویشن دینی پڑی کہ زبانی حکم پر ایسی غیر شفاف بھرتیوں پر آئین کے آرٹیکل 62 کا اطلاق ہوتا ہے اور کیا ایسی حکمرانی کیلئے حکومت ملی ہے تو ہم بندر بانٹ نہیں ہونے دیں گے۔ صد افسوس کہ یہ واحد کیس نہیں ہے بلکہ بلوچستان میں قومی خزانے کی لوٹ مار کے بہت سے کیس نوٹس میں آ چکے ہیں سندھ میں ہائی پروفائل کیسز میں ڈاکٹر عاصم اور شرجیل میمن وغیرہ پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے ، یہی کچھ کیفیت خیبر پی کے میں چند مقدمات میں سامنے آئی ہے جبکہ پنجاب میں اِس مافیائی نظام نے تو ہر خاص و عام کو ہلا کر رکھ دیا ہے جہاں دھیلے کی کرپشن نہ کرنے کی دعویدار پنجاب حکومت کی ٹاپ بیوروکریسی نے سول سروس ایکٹ اور سول سروس کنڈکٹ رولز کو پس پشت ڈالتے ہوئے ملک سے کرپشن ختم کرنے میں معاونت کرنے کے بجائے ریاست سے ہی بغاوت کرنے کی ریت ڈال دی۔ا یسا اُس وقت محسوس ہوا جب قومی احتساب بیورو کے چیئرمین سابق جسٹس جاوید اقبال نے مملکت خداداد پاکستان سے کرپشن کے ناسور کو نکالنے کیلئے قائداعظم کے اصولوں پر چلنے کا اعلان کرتے ہوئے مبینہ طور پر میگا کرپشن میں پنجاب آشیانہ ہاؤسنگ کرپشن کیس کے حوالے سے شامل ایک سول سرونٹ جناب احد چیمہ کو گرفتار کر کے متعلقہ کورٹ سے تفتیش کیلئے ریمانڈ پر لے لیا۔ حقیقت یہی ہے کہ جب کوئی سول سرونٹ کسی کیس میں گرفتار کیا جاتا ہے تو حکومت فوری طور پر ایسے آفیسر کو مقدمے سے رہا ہونے تک معطل کر دیتی ہے اور عدالت سے سزایاب ہونے پر محمانہ کاروائی کا آغاز کرتی ہے لیکن اِس کے برعکس پنجاب حکومت میں تعینات سول سرونٹس نے سیاسی کارکنوں کی مانند احد چیمہ کی گرفتاری پر غیر معمولی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سول سرونٹ ایکٹ اور سول سرونٹ کنڈکٹ رولز کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے دفتروں میں تالے لگا دئیے اور غیر قانونی ہڑتال پر چلے گئے ۔ حیرت ہے کہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے بھی صوبے میں گوڈ گورننس کے حوالے سے سول سرونٹس کو غیر قانونی ہڑتال سے باز رکھنے کے بجائے قومی احتساب بیورو کو ہی مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی بلکہ قانون اور متعلقہ عدالت کو موقع دیا جانا چاہیے تھا کہ وہ میرٹ پر اِس کیس کا فیصلہ کرے۔ بیشتر قومی دانشور اِس صورتحال پر حیران پریشان ہیں کہ پنجاب حکومت کے سول سرونٹس کو موجودہ غیر آئینی اور غیر قانونی ردعمل پیش کرنے کی ضرورت کیونکر پیش آئی ہے۔ کیا یہ ردعمل قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین سابق جسٹس جاوید اقبال کو دھمکانے اورپنجاب میں احتساب کا عمل رکوانے کی کوشش ہے یا سول سروس سے متعلقہ پنجاب بیوروکریسی صوبے کے معاملات میں شراکت دار بن کر ایک مافیا کی شکل اختیار کرچکی ہے جو کرپشن فری پاکستان کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنا چاہتی ہے ، اِس کا فیصلہ تو وقت ہی کریگا۔ بہرحال ملک سے کرپشن کا ناسور ختم کرنے کرنے کیلئے جسٹس جاوید اقبال کی کوشش یقیناًایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے جسے اب ملک میں پھیلتی ہوئی کرپشن کا جال ختم کرنے کیلئے ایک لہر کی شکل اختیار کرتے ہوئے قائداعظم کے ارشادات کو ملک کے چاروں صوبوں میں مثال بنا دینا چاہیے۔ اللہ ہمارا حافظ و ناصر ہو ۔

87
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...