حامد میر کا شمار پاکستان کے اُن سینئر صحافیوں میں ہوتا ہے جو پرنٹ میڈیا کے علاوہ ٹی وی اینکر کے طور پر بھی جانے پہنچانے جاتے ہیں۔ کالم نگاری میں اُن کی ابتدا ایک قومی درد رکھنے والے کالم نویس کی حیثیت سے ہوئی تھی چنانچہ جلد ہی اُنہیں سول سوسائیٹی میں ایک معروف لکھاری کی حیثیت حاصل ہوگئی لیکن اُن کی کچھ تحریریں پڑھ کر حیرت بھی ہوتی ہے اور اُن کی قومی فکر و نظر پر شبہات بھی پیدا ہوتے ہیں ۔ چنانچہ جب وہ کسی خاص شخصیت یا تحریک کی حمایت میں مورخ بننے کی کوشش میں اپنی تحریروں کو ڈِس انفارمیشن میں تبدیل کرلیتے ہیں یا بل خصوص بانیانِ پاکستان کے حوالے سے اپنی ڈِش انفارمیشن کو ماہرانہ رائے کا تاثر دیتے ہوئے بانیانِ پاکستان کی ہرزا سرائی کے مرتکب ہونے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں تو اُن کی شخصیت کا قومی پہلو بھی کسی حد تک مسخ ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ حامد میر کا اپنے والد جناب وارث میر کی وفات کے بعد وزیراعظم بنگلہ دیش حسینہ واجد کی جانب سے اپریل 2013 میں دیا جانے والا بنگلہ دیش کی آزادی کیلئے بلند ترین ایوارڈ “Friends of Libratiion War” لینے کیلئے بنگلہ دیش جانے سے قبل اپنے ایک کالم میں حکومت پاکستان سے 1971 میں مشرقی پاکستان میں مبینہ جنگی جرائم پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھول گئے کہ بھارت اور بنگلہ دیش مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان میں وفادار شہریوں اور بہاری پاکستانیوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کو معطل کرتے ہوئے مغربی پاکستانیوں پر کیا ظلم نہیں ڈھائے تھے۔ چنانچہ بنگلہ دیش کی حکومت کے سرکاری طور پر اجراٗ شدہ اعلان کے اینٹی پاکستان متن کو تسلیم کرتے ہوئے 2013 میں حسینہ واجد سے ایوراڈ کا وصول کرنا کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑتا جبکہ اُنکے والد وارث میر کی پاکستان کیلئے خدمات کے عوض میں مارچ 2013 میں پاکستان کے اعلیٰ ترین اعزاز ہلال امتیاز سے بھی نواز گیا ہو۔ چنانچہ یہ اَمر قرین از قیاس ہے کہ اگر جناب وارث میر زندہ ہوتے وہ غداری کے اِس ایوارڈ کو کبھی قبول نہیں کرتے ۔ حیرت ہے کہ اِسی نوعیت کا یوارڈ حامد میر کے ہمراہ پاکستان میں قانون کی مہارت کے حوالے سے مشہور مرحومہ خاتون وکیل عاصمہ جہانگیر نے بھی وصول کیا تھا۔ جناب حامد میر نے بہرحال چار برس کے بعد 2017 میں اِس اَمر کا احساس کیا جب اُنہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا۔ حامد میر اِس سے قبل بھی متعدد مرتبہ بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت کے حوالے سے بھارتی نقطہ نگاہ کی حوصلہ افزائی کرنے کیساتھ ساتھ اپنے کالموں میں قائداعظم محمد علی جناح ، لیاقت علی خان اور دیگر سیاسی شخصیات کو ڈِش انفارمیشن کا نشانہ بناتے رہے ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اینٹی پاکستان تحریکوں سے متعلق حقائق کو بھی توڑ مڑور کر پیش کرنے میں خاصی مہارت کا ثبوت دیتے رہے ہیں ۔ بانیان پاکستان کے حوالے سے اُن کی تحریروں پر روزنامہ جنگ ہی کے سینئر کالم نگار جناب صفدر محمود ماضی میں 3 نومبر 2013 میں اپنے کالم صبح بخیر میں تاریخی مغالطے کے عنوان سے بانیانِ پاکستان کی ہرزا سرائی پر حامد میر کی کافی سرزنش کر چکے ہیں۔ کیا مملکت خداداد کے شہریوں کیلئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں بانیانِ پاکستان کی حرمت کو محسوس کرتے ہوئے مناسب عزت و احترام کو ملحوظِ خاطر رکھیں؟ لیکن حامد میر کیلئے اپنے مخصوص مفادات کے سامنے کوئی بھی نصحیت اہمیت نہیں رکھتی ہے۔
اندریں حالات ، یہ اَمر بھی حیران کن ہے کہ گزشتہ دنوں محترمہ عاصمہ جہانگیر کی وفات پر اُن کی نمازِ جنازہ میں صف اوّل میں خواتین کی موجودگی پر جب سیاسی، سماجی و مذہبی حلقوں میں مسلمان خواتین کی نماز جنازہ میں صف اوّل میں موجودگی کے حوالے سے پبلک بحث و مباحثہ جاری تھا تو حامد میر صاحب نے سیاق و سباق سے ہٹ کر یہ مناسب خیال کیا کہ سوشل میڈیا پر اپنے ایک ٹوئیٹ میں محترمہ فاطمہ جناح اور قائداعظم کی صاحبزادی ڈینا واڈیا جناح کی دیگر خواتین کے ہمراہ قائداعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ میں صف اوّل میں موجودگی کی ایک متنازع تصویر جاری کر دی۔ اِس متنازع تصویر کیساتھ یہ ٹوئیٹ Hamid Mir@HamidMirPAK حامد میر کے اِس پیغام کیساتھ جاری کی گئی کہ ’’قائداعظم کے جنازے کی نماز علامہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی تھی محترمہ فاطمہ جناح اور ڈینا واڈیا سمیت کئی خواتین پہلی صف میں موجود تھیں‘‘ ۔ حامد میر اِس تصویر کی اشاعت سے کیا مقصد حل کرنا چاہتے تھے کیونکہ اِس تصویر کا بہرحال قائداعظم کی نماز جنازہ میں صف اوّل میں خواتین کی موجودگی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اِس تصویر کی اشاعت کے حوالے سے انٹر نیٹ اور تاریخ سے متعلقہ دیگر تحقیقی اداروں میں اگر کہیں معمولی سا اختلاف ہے تو اِس حد تک کہ کچھ لوگ اِسے گورنر جنرل ہاؤس میں قائداعظم کی صاحبزادی ڈینا واڈیا جناح کی بمبئی سے کراچی آمد پر قائداعظم کے جسد خاکی کو دیکھ کر افسردگی کے منظر کے حوالے سے پیش کرتے ہیں جبکہ دوسری رائے کیمطابق یہ تصویر اُس وقت اُتاری گئی تھی جب قائداعظم کا جسد خاکی قبر میں اُتارا جا رہا تھا لیکن اِن دونوں صورتوں میں حامد میر کی جانب سے اِسے قائداعظم کے جنازے کی صف اوّل کی تصویر قرار دینا حقائق کو توڑ مڑور کر پیش کرنے کے مترادف ہے ۔ کیا حامد میر مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ کو قائداعظم کی نماز جنازہ میں مبینہ خواتین کی موجودگی سے تعبیر کرتے ہوئے ملک کے سماجی و مذہبی حلقوں میں نئی جہت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ ملک میں حالیہ عوامی بحث و مباحثے میں مغربی سیکولر کلچر کے حوالے سے کچھ نام نہاد روشن خیال افراد خانہء کعبہ میں نماز جنازہ کی ادائیگی میں خواتین کی شرکت کو بھی مثال بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ جہاں تک خانہء کعبہ میں نماز جنازہ کی ادائیگی کی بات ہے تو حقیقت یہی ہے کہ جب امام مکہ کسی نماز جنازہ کی ادائیگی کیلئے صف بندی کرتے ہیں تو خانہ کعبہ میں موجود مذہبی اور سیکورٹی گارڈ حرم شریف میں طواف کعبہ کی غرض سے آنے والی خواتین کو پچھلی صفوں میں جانے کا اشارہ کرتے ہیں۔ تاریخ اسلام سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ کے ابتدائی دور میں عرب کلچر کیمطابق خواتین جماعت کیساتھ نماز ادا کرتی تھیں لیکن خواتین کی حرمت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اُن کیلئے آخری صف میں نمازادا کرنے کا حکم دیا گیا تھاجسے بعد میں مزید بہتر بناتے ہوئے خواتین کیلئے علیحدہ نماز کا بندوبست کیا جانے لگا۔ لیکن خانہ کعبہ میں عمرہ ادا کرنے کے حوالے سے طواف اورسعی میں خواتین کی لازمی موجودگی کے باعث خواتین اذان ہونے پر جہاں بھی موجود ہوتی ہیں جماعت کیساتھ نماز ادا کرتی ہیں۔اِس اَمر کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ حرمین شریفین کی سرزمین جسے اسلامی نقطہ نگاہ سے طلوع اسلام سے تعبیر کیا جاتا ہے میں آپ مکہ مکرمہ ے مدینہ منورہ تک چلے جائیں یا جدہ سے ریاض تک سفر کریں آپ کو ہر چھوٹی بڑی مسجد میں خواتین کی عبادت کیلئے علیحدہ مخصوص جگہ ملے گی جہاں وہ بخوبی نماز ادا کر سکتی ہیں۔ لہذا جناب حامد میر عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ میں صف اوّل میں خواتین کی جانب سے نماز ادا کرنے کی بحث میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی نماز جنازہ میں صف اوّل میں خواتین کی موجودگی کا خیالی پیکر پیش کرکے کسے خوش کرنا چاہتے ہیں ۔ بلاشبہ وہ ایک اچھے کالم نگار ہیں لیکن قوم کی ڈِس انفارمیشن کیلئے اپنے آپ کو کیوں مائل پاتے ہیں؟ کیا حامد میر نہیں جانتے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی متعدد دفعات کے حوالے سے بھی اُنہیں بھارت اور مغربی ملکوں میں واہ واہ کی داد لینے کے بجائے پاکستانی عوام کی تربیت کیلئے سچائی کا علمبردار ہونا چاہیے کیونکہ اِسی میں پاکستانیوں کی عظمت ہے ۔

90
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...