پاکستانی معاشرہ اس وقت جن مسائل سے دو چار ہے اُن میں دہشت گردی اور انتہا پسندی سر فہرست ہیں بلکہ اگر دیکھا جائے تو دہشت گردی کی وجوہات میں بھی انتہا پسندی کا حصہ سب سے زیادہ ہے ہم دوطبقات میں تقسیم ہیں ایک جدت پسندی کے نام پر حد سے نکلے ہوا ہے اور دوسرا مذہب کو آڑ بنا کر دوسروں پر طعنہ زن ہے۔ ہم کہنے کو کہتے ہیں کہ اسلام روا داری کا مذہب ہے لیکن اسے عملاََ ماننے پر آمادہ نہیں ہمارے ہاں جتنا ارزاں کفر کا فتویٰ ہے شاید ہی دوسری کوئی چیز ہو ،ہم فرقے کو فرقہ نہیں مذہب بنا دینے پر تلے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ تو ایک انتہا پسندی ہے علاقے اور علاقیت کے نام پر ہم ایک اور انتہا پسندی کا شکار رہتے ہیں کہ ہمارے لیے تو زبان بھی وجہ تفریق ہے یہاں تک کہ ایک ہی زبان کے مختلف لہجوں والے بھی ایک دوسرے پر تنقید بلکہ تصحیک سے باز نہیں آتے، ایک ہی تحصیل کے دو دیہات ایک دوسرے کی برائیاں ڈھونڈ کر انہیں اُچھا لتے ہیں اور یوں بات چل نکلتی ہے اور جہاں تک پہنچتی ہے وہ ،وہ خطرناک انجام ہوتا ہے جو معاشرے کی بر بادی کا باعث بن رہا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ہر شیعہ سنی کے خلاف ہے یا سنی شیعہ کے یا ہر دیوبندی بریلوی کا یہ معاملہ ہو یا ہر سندھی ، پنجابی، پٹھان یا بلوچی اور کشمیری اس بات پر لڑ مرتا ہو لیکن فساد اور شر پھیلانے کے لیے تھوڑا بھی بہت ہوتا ہے ایک سیب آہستہ آہستہ پورے ٹو کر ے کو بدبودار کر دیتا ہے، یہی مثال ہماری ہے ہمارے بیچ میں سے تحمل، رواداری اور بُردباری ختم ہوتی جار ہی ہے ۔ ہم انتہا پسند رویوں کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ تحمل مزاج اور بُر د بار شخص ہمیں بے وقوف لگتا ہے مذہب کی بحث میں خاموش رہ جانے والے کو ہم بے علم سمجھ کر تنقید کا نشانہ بنا دیتے ہیں اور علاقے یا صوبے پر بات نہ کرنے والا معاف کیجئے گا لیکن ’’بے غیرت‘‘ کہلانے لگ جاتا ہے۔ یہ تو ہمارے ایک عام آدمی کا حال تھا اگر میں دوسری طرف پلٹ کر خواص کو دیکھوں تو ہمارے اہلِ سیاست جس شدت پسندی کا شکار ہیں وہ ایک اور المیہ ہے سیاسی لیڈر اور رہنما ایک دوسرے کے خلاف جو زبان استعمال کرتے ہیں اُس نے تو ہمارا قومی چہرہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے، قومی چہرہ میں اس لیے کہہ رہی ہوں کہ اِن کی باتیں اور حر کات بین الاقوامی سطح پر پہنچتی ہیں اور ہمارے قومی تشخص کا منطقی یا غیر منطقی تعین کرتی ہیں غیر منطقی اس لیے کہ خود کو قومی رہنما کہنے والے یہ لوگ معاشرے کے صرف ایک چھوٹے سے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کے کارکنان کی اکثریت بھی ان کی زبان و بیان پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں ۔ آف دی ریکارڈ تو جو ہوتا ہے وہ ہوتا ہے ہمارے ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر جو کچھ بولا جاتا ہے وہ ہی قوم کو شرمندہ کر دینے کو کافی ہوتا ہے اور دنیا کے سامنے ہمارا وہ چہرہ رکھ دیا جاتا ہے جو ہمارا دشمن چاہتا ہے اور جانے یا انجانے دشمن کا ایجنڈا پورا ہو جاتا ہے اور وہ پھر بھی خود کو قومی لیڈر کہلانے پر تلے رہتے ہیں اور صادق اور امین بنے رہنے پر بھی بضد۔
یہ تو وہ قومی رویہ اور چہرہ ہے جو ہمارا ہے چاہے ہم اس سے انکار کریں لیکن سچ یہ ہے کہ ایسا ہے ہم ذاتی زندگیوں میں بھی کچھ ایسے ہی ہیں کہ سواری کا کنڈکٹر سے جھگڑا اور کنڈ کٹر کا سواری سے، گاہک اور دکاندار باہم دست و گریباں، پھل کی ریڑھی پر آپ اچھے اور تازہ پھل کو ہاتھ تو لگا کر دیکھیں پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے، گلی کو خوبصورت بنانے کے لیے ہی کوئی حرکت آپ کو بہت مہنگی پڑ سکتی ہے اور بات آباواجداد تک پہنچ سکتی ہے، آپ اپنے گھر مزدوری کرنے والے سے اپنی مرضی کا کام کروانے کی کوشش تو کریں تیشہ ، ہتھوڑی آپ کے منہ پر مار کر چلا جائے گا اور پھر مزدوری نہ ملنے کی دہائی دے گاغر ض ہم عدم برداشت کے ایک ایسے شکنجے میں آچکے ہیں جس سے نکلنے کے لیے ہمیں شدید جدوجہد درکار ہے اور ہمیں اپنی قومی اور معاشرتی بقاء کے لیے ایسا کرنا ہوگا اور اس کے لیے معاشرے کے مختلف طبقات کو مل کر اور اپنے اپنے دائرہ کار میں الگ الگ سے بھی کام کرنا ہوگا اور بجائے اسے’’ موم بتی گروپس‘‘ کے حوالے کرنے کے سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔ علماء مذہبی عدم رواداری اور عدم برداشت کو لے کر اسے ختم کرنے کے لیے کام کریں، دین میں کفر کو داخل ہونے سے روکیں اور چھوٹے موٹے اختلافات کو برداشت کرنے کی تلقین کریں جب ہم اس نکتہ نظر سے کام کریں گے اور رویے اپنائیں گے تو مذہبی اور بین المذاہب رواداری اور روشن خیالی کے نام پر بیہودگی کو مذہب اور مذہبی معاملات میں داخل ہونے سے روک سکیں گے۔ اسی طرح علاقائیت اور صوبائیت پر بات کرنے والوں کی نہ صرف حوصلہ شکنی بلکہ شنوائی کرنا ہوگی تاکہ اس رویے کو روک سکیں۔ اگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں قبیلوں اور گروہوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ ایک دوسرے کی پہچان کر سکو یعنی کسی تفاخر کے لیے نہیں تو پھر ہم خود کو مومنین کہنے والے کیوں یہ بھول جاتے ہیں، کیوں عشق مصطفی ﷺ کے نام پر سڑکوں پر نکل آنے والے عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کالے کو گورے اور گورے کو کالے پر فوقیت نہ دینے کی تعلیم دینے والے اُسی محسن انسانیت کا پیغام بھول جاتے ہیں ۔ اُسی رسولﷺ نے جن پر ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہماری جانیں، ماں باپ اور اولاد قربان ہوں انہی کا ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا دیا سبق بھول جاتے ہیں کہ صدیوں کے دشمن اوس اور خزرج کو دوست بلکہ بھائی بنایا لیکن یہاں صدیوں کے دوست اور خون کے رشتے بات بات پر توپ اور تفنگ لے کر ایک دوسرے کی جان لینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے ان تمام معاملات اور رویوں کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں اگر کبھی ا ن کو ختم کرنے کی کوشش بھی کی تو بغیر کسی سمت کو متعین کیے اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام رویے اجتماعی طور پر جنم لیتے ہیں لیکن انہیں ختم کرنے کے لیے ہمیں انفرادی رویوں پر بنیادی اکائیوں میں کام کرنا ہوگا اور اس کالم کو لکھنے کو محرک بھی چند ایسی حوصلہ افزاء خبریں بنیں جب مختلف شہروں میں کچھ ایسے سیمنار اور ورکشاپیں منعقدکی گئیں جن میں مذہبی اور معاشرتی رواداری پر زور دیا گیا جن میں الحمرا آرٹس کونسل میں صوفی میوزیکل پروگرام، ایف سی کالج لاہور میں برگد ادارہ برائے ترقی نوجوانان اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور وزارت مذہبی امور، ہائر ایجوکیشن کمشن اور غیر سرکاری تنظیم برکت کے اشتراک سے منعقد ہ تقاریب شامل ہیں۔ ایسی ہی ایک تقریب لاہور ہائیکورٹ بار کے جاوید اقبال آڈیٹوریم میں بھی ہوئی جس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تحمل اور برداشت کے جذبے کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ ان ساری تقاریب کی حوصلہ افزائی ضروری ہے لیکن اس اقدام کے بعد مقررین اور منتظمین سے یہ بھی درخواست ہے کہ وہ اپنے علم ،شعور، اختیارات اورمواقع حاصل ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس مہم کا آغاذ عام لوگوں میں کریں ۔ اسلام کے اصولوں کو اس کی اصل روح اور مقاصد کے ساتھ معاشرے کے عام لوگوں اور آبادیوں تک پہنچائیں سیمینار اور ورکشاپ اپنی جگہ لیکن تحریکیں عام لوگوں سے چلتی اور کامیاب ہوتی ہیں اور اس تحریک کو چلاتے ہوئے اسلام کے رواداری اورمحبت کے اصولوں کو اس کی اصل صورت میں لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں اسے دین سے بے خبر ترقی پسندوں یا قدامت پسندوں کے ہاتھوں ہائی جیک نہ ہونے دیں تاکہ اسے کامیاب کیا جاسکے اور ایک مثالی محبت سے بھر پور پرامن اور ترقی اور رواداری پر مبنی معاشرہ تشکیل دیا جاسکے جہاں کالے کو گورے اور آزاد کو غلام پر کوئی فوقیت حاصل نہ ہو جہاں مواخات مدینہ جیسے اقدامات انقلاب کا باعث بنیں خون کی ندیاں اور لاشوں کے انبار نہیں۔

2,768
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...