دنیا بھر میں آئینی جمہوریت اقتدار کے تین ستونوں پر قائم ہوتی ہے یعنی پارلیمنٹ ، عدلیہ اور انتظامیہ ۔ اِس میں میڈیا اقتدار کی تکون میں شامل نہ ہونے کے باوجود عوام کی آگہی اور حکومت و اپوزیشن کی صفوں میں اچھائی کی آواز بلند کرنے کیلئے چوتھے ستون کے طور پر شریکِ محفل ہو جاتا ہے۔ میڈیا کا کردار اِس لئے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ جمہوریت شہنشاہیت نہیں ہے بلکہ عوام کی حکومت عوام کیلئے کے اصول پر کام کرتی ہے لہذا پریس یا میڈیا جو ماضی کی نسبت اب پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور عوام کو حکومتی فیصلوں اور بل خصوص عوامی اہمیت کی معاشی پالیسیوں پر بروقت اطلاعات فراہم کرنے میں مقابلے کی فضا پیدا ہو جانے کے باعث عوامی آگہی کے میدان میں نئے معاشرتی رجحانات کو جنم دینے میں بہت زیادہ متحرک ہے چنانچہ عوام کو میڈیا کے ذریعے حکومتی معاملات کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے ۔ عوام الناس قومی و بین الاقوامی معاملات میں حکومتی اور اپوزیشن کے نقطہ ء نگاہ کو سمجھنے اور قومی معاملات میں اپنی رائے قائم کرنے میں میڈیا رپورٹس پر کسی حد تک یقین کرتے ہیں جبکہ حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے زاویہٗ نگاہ سے عوام اور قومی دانشوروں کو بروقت اطلاعات پہنچانے کیلئے عوامی مسائل کے حوالے سے میڈیا کو اپنے حق میں استعمال کرنے کیلئے روز بروز متحرک ہوتی جا رہی ہیں۔ جمہوریتوں میں پارلیمنٹ بخوبی عوام کی نمائندگی کرتی ہے اور جمہوری حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مغربی جمہوری دنیا میں بل خصوص عدلیہ اور میڈیا حکومت کے ما تحت نہیں ہوتے بلکہ آئین و قانون کی علمداری کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہیں جبکہ انتظامیہ بہرحال حکومت کے ماتحت ہوتی ہے جسے ملکی قوانین کے تحت نہ صرف حکومتی کنٹرول بلکہ جمہوری انتظامی نظام یعنی اسٹیٹ کرافٹس کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے کیونکہ جمہوری حکومت شہنشاہیت نہیں ہوتی بلکہ قومی دولت کے ہر پیسے کا آئین و قانون کیمطابق جائز استعمال کرنے کیلئے عوام کو جوابدہ ہوتی ہے۔ جبکہ شہنشاہیت یا آمریت میں حکومت کی ڈور عوام کے ساتھ میں نہیں ہوتی بلکہ شہنشاہ یا ڈکٹیٹر اپنے اپنے مافیائی نظام کے تحت عوام پر پنے فیصلے صادر کرتے ہیں۔ حیرت ہے کہ پاکستان میں جمہوری حکومتوں نے بھی اداروں میں ملکی اسٹیٹ کرفٹس پر عملدرامد کرنے کے بجائے آمریت کے مافیائی نظام کو نافذ کرنے میں زیادہ دلچسپی لی ہے جس نے آئینی جمہوریت کو آمریت کے معنی پہنا دئیے ہیں چنانچہ اِس انتظامی بگاڑ کے سبب حکومت اور عدلیہ و دیگر تفتیشی اداروں کے درمیان ریاستی نظام کے حوالے سے انتظامی بعُد کی کیفیت پیدا ہوئی ہے جس کا تدارک کرنا ملکی جمہوری فکر و نظر کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے ۔
درج بالا تناطر میں ملکی مقدمات کو وکلاء کی موشگافیوں اور دیگر ملکی و بیرون ملک مصروفیات وطبی بنیادوں پر لمبی تاریخیں لینے کے رجحان نے بظاہر اشرافیہ کو قانون کی گرفت سے محفوظ رکھنے کے کارگر طریقہء کار کے طور پر اپنایا ہوا تھا جسے عدلیہ اور تفتیشی ادارے بدلنے کیلئے ماضی میں بھی کافی کوشاں رہے ہیں لیکن یہ خوش آئند بات ہے کہ اب اِس کیلئے باقاعدہ جدوجہد کی جا رہی ہے ۔ چنانچہ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کو ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان کی غیر حاضری پر جرمانہ کرنے کیساتھ ساتھ یہ آبزرویشن دینی پڑی کہ آپ پاکستان کے اٹاری جنرل ہیں یا کسی سیاسی جماعت کے چنانچہ اُن کی عدم پیشی پر 20 ہزار روپے جرمانہ بھی عائید کیا گیا ؟ اِسی طرح حکمران جماعت کی جانب سے پی ٹی وی میں غیر معمولی تنخواہ پر عطا الحق قاسمی کی متعلقہ قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر بھرتی کرنے کے حوالے سے مقدمہ میں آبزرویشن دیتے ہوئے جناب چیف جسٹس نے کہا کہ جمہوریت کوئی بادشاہت نہیں ہے اب ملک میں قانون کی بالا دستی ہوگی۔ ایسی ہی نوعیت کی ایک تاخیر کا مظاہرہ حکومت جماعت کی جانب سے سینیٹ الیکشن کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے اُمیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے وقت دوہری شہریت کے حوالے سے تاخیری حربے استعمال کرنے پر ہوئی جب وزارت داخلہ کی جانب سے دہری شہریت کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو بروقت معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایسا ہی ایک معاملہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) ہی کی جانب سے سینیٹ کیلئے مسلم لیگ (ن) کے پارٹی ہیڈ جناب نواز شریف کے سمدھی اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو احتساب عدالت کی جانب سے عدالت سے مفرور اور اشتہاری ملزم قرار دئیے گئے ہیں کے کاغذات نامزدگی کیساتھ ٹیکس/ آمدنی سے متعلقہ دستاویزات نہ لگائے جانے کے حوالے سے پیش آیا جب اُن کے کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن نے مسترد کر دئیے ۔ میڈیا اطلاعات کیمطابق اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی پر بھی اُن کے جعلی دستخط ثبت کئے گئے تھے۔
اندریں حالات ، سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکمران جماعت عدلیہ اور ملک میں تیزی سے پھیلتی ہوئی کرپشن کے حوالے سے کرپشن سے متعلقہ تفتیشی ادارے قومی احتساب بیورو کو دباؤ میں لانے کیلئے یہ حربے استعمال کر رہی ہے یا اِس کی کوئی اور وجہ ہے۔ حیران کن بات ہے کہ حکمران جماعت کے ارباب اختیار ملک سے کرپشن بدعنوانی اور اقربہ پروری کو ختم کرنے میں عدلیہ اور تفتیشی اداروں کی بھرپور مدد کرنے کے بجائے تاخیری حربے کیوں استعمال کر رہے ہیں؟ چنانچہ نیب کے چیئرمین سابق جسٹس جاوید اقبال نے جب سندھ اور پلوچستان میں کرپشن کے خلاف اہم مقدمات میں پیش رفت کرنے کے بعد پنجاب کا رُخ کیا تو اُنہیں کرپشن کے مقدمات میں پنجاب حکومت کے اداروں اور بیوروکریسی میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کا سامنا کرنا پڑا تو اُنہیں بھی کہنا پڑا کہ بیوروکریسی کی وفاداری شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کے بجائے وطن عزیز کیساتھ ہونی چاہیے۔ چنانچہ گزشتہ روز کرپشن کے خلاف متحرک وفاقی ادارے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں نیب سے عدم تعاون کرنے کے الزام میں پنجاب اینٹی کرپشن کے سربراہ بریگیڈئر( ریٹائرڈ ) رانجھا صاحب جن پر آرمی سروس کے دوران بھی میاں نواز شریف کی حمایت کے مبینہ الزامات لگتے رہے ہیں اور جنہیں فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد پنجاب میں اینٹی کرپشن کا انچارج بنا دیا گیا تھا کی جانب سے کرپشن کے اہم مقدمات کا ریکارڈ نیب کے حوالے نہ کرنے پر قانونی کاروائی کرنے کی منظوری دی گئی۔یہاں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ پاکستانی عدلیہ اور کرپشن کے خلاف متحرک ادارے پاکستان کو کرپشن اور بیرونی قرضوں میں دھاندلی کے الزامات سے پاک کرنے کیلئے بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی فکر کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے بے لوث ہو کر کام کر رہے ہیں اور ملک میں پہلی مرتبہ وزیراعظم کو پاناما پیپرز کرپشن کیس مین نااہل قرار دئیے جانے کے بعد بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ قائداعظم نے فرمایا تھا کہ رشوت ، کرپشن اور بددیانتی برّصغیر کی بدترین خرابیاں ہیں جو زہر کی مانند ہیں جنہیں آہنی ہاتھ سے کچلنا ہوگا ۔ اِن کے علاوہ ناجائز فائدہ اُٹھانے والے اور اقربہ پروری جیسی لعنتیں موجود ہیں جن کا سختی سے خاتمہ کرنا ہوگا ۔ میں صاف صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں کسی قسم کی بدیانتی ، اقربہ پروری اور سفارش کو برداشت نہیں کرونگا ۔ چنانچہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کو وطن عزیز کے مفاد کو ہر صورت ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔

131
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...