دنیا بھر کی جمہوریتوں میں آئین چاہے وہ تحریری آئین ہو یا برطانیہ میں آئینی روایات پر مبنی غیر تحریری آئین ہو ، ریاستی سٹیٹ کرافٹس یا نظم و نسق کے حوالے سے قوموں کی زندگی میں سپریم ہی سمجھا جاتا ہے ۔ گو کہ پارلیمنٹ کو آئینی جمہوریت میں وسیع تر اختیارات حاصل ہوتے ہیں لیکن ہر جمہوری ریاست نظم و نسق اور ریاستی اسٹیٹ کرافٹس کے حوالے سے بنیادی طور پر تین ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے یعنی پارلیمنٹ ، انتظامیہ اور عدلیہ۔ پارلیمنٹ قانون سازی کے حوالے سے بنیادی قومی نکات کو چھیڑے بغیر آئین میں دئیے گئے طریقہ کار کیمطابق تبدیلی لا سکتی ہے البتہ بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے قانون سازی کرتے وقت بہت سے آئینی تحفظات کو مدنظر رکھنا بہرحال ضروری سمجھا جاتا ہے۔آئین کے بنیادی نکات کو پیش نظر رکھا جائے تو آئینی اور قومی حوالے سے مملکت خداداد کو دنیا بھر میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ آرٹیکل 2 کے تحت اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دیا گیا ہے۔ آرٹیکل 2A. کے تحت پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں پاس کی جانے والی قراردادِ مقاصد (The Objective Resolution) کو آئین کا حصہ قرار دیا گیا ہے چنانچہ پالیسی اصولوں کیمطابق آرٹیکل 31 میں اسلامی طریقہ زندگی کے حوالے سے ریاستی ذمہ داریوں کا تعین بھی کر دیا گیا ہے جبکہ آرٹیکل 5 کے تحت مملکت سے وفاداری اور دستور و قانون کی اطاعت ہر شہری کا بنیادی فرض قرار دیا گیا ہے۔ درحقیقت پارلیمنٹ صدر ، وزیراعظم ، کابینہ اور ارکان پارلیمنٹ کی اتھارٹی کے تحت سالانہ ریاستی بجٹ کی منظوری اور قانون سازی کرتی ہے اور ریاستی سٹیٹ کرافٹس کیمطابق انتظامیہ یا بیوروکریسی کے ذریعے ریاستی امور کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے۔ پارلیمنٹ اور انتظامیہ کی آئینی کارکردگی کے حوالے سے عدلیہ کا کردار چیک اینڈ بیلنس کے طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ چنانچہ عدالت عظمیٰ کو آئینی طور پر یہ اتھارٹی حاصل ہے کہ وہ دیکھے کہ آیا کوئی قانون یا آئین کی کسی شق میں کی جانے والی تبدیلی آئین کے بنیادی نکات کے منافی یا مبہم تو نہیں ہے تو وہ اِس کا بخوبی نوٹس لے سکتی ہے ۔اِسی طرح اگر حکومتی انتظامی اقدامات میں خلاف آئین یا خلاف قانون بُعد پایا جائے تو یہ ذمہ داری بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ آف پاکستان کا آئینی حق کہ وہ صورتحال کا مشاہدہ کرنے کے بعد مناسب فیصلہ کرے جس پر عمل درامد کی وضاحت آئین کے آٹیکل 188/189/190میں بخوبی کر دی گئی ہے۔
درج بالا تناطر میں پارلیمنٹ ، انتظامیہ اور عدلیہ کی ذمے داریوں اور اختیارات کا تعین آئین میں بخوبی کر دیا گیا ہے چنانچہ اگر ریاست کے تینوں ستون اپنی اپنی ذمہ داریوں کا آئینی حوالے سے احاطہ کرتے رہیں تو کسی مشکل کے بغیر ریاستی امور کو سمجھنے اور اگر کہیں قانونی یا آئین سقم موجود ہے تو انتظامیہ کو ایسے کسی بھی ابہام کو وقت ضائع کئے بغیر دور کر لینا چاہیے لیکن اگر ایسا نہ کیا جائے تو پھر آئینی تشریح کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کو فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62(f) میں ابہام ہے چنانچہ یہ ابہام بظاہر سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلیت کی مدت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اِسی حوالے سے محترم جناب چیف جسٹس صاحب نے وکلا کی بحث کے دوران میڈیا میں آنے والی خبروں کیمطابق اپنی ایک آبزرویشن میں کہا ہے کہ بادی النظر میں آئین کے آرٹیکل 62/63 آزاد ا ور الگ الگ ہیں ۔ یہ درست ہے کہ بنیادی طور پر یہ دونوں آرٹیکل مختلف ہیں لیکن سابق وزیراعظم نواز شریف کی عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں سنائی گئی نااہلیت کے حوالے سے یہ دونوں آرٹیکل ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں اور جب تک سابق وزیراعظم کی نااہلی کے سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کے متفقہ فیصلے کو عدالت عظمیٰ کے کسی ریویو میں تبدیل نہیں کیا جاتا جب تک یہ نااہلی ختم نہیں کی جا سکتی چاہے یہ نااہلی تا حیات ہی کیوں نہ جائے ۔البتہ اہم سوال یہی ہے کہ کیا میاں نواز شریف کی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کیلئے نااہل قرار دئیے جانے کے بعد اُنہیں آئین میں تبدیلی لائے بغیر آئین کے آرٹیکل 62/63 کی اسلامی اخلاقی اقدار سے متصادم ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے پارٹی ہیڈ بنا کر پارلیمنٹ سے نااہل شخص کو اُسی پارلیمنٹ میں موجود پارٹی ارکان کا گارڈئین بنایا جا سکتا ہے؟
درج بالا سوال پر عدالت عظمیٰ کو اِس لئے بھی غور و فکر کرنا چاہیے کیونکہ میاں نواز شریف کی وزیراعظم کے عہدے سے برطرفی کے بعد پارلیمنٹ کی طرف سے شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم منتخب کئے جانے کے بعد نئے وزیراعظم نے تواتر سے کہنا شروع کیا ہے کہ اصل وزیراعظم نواز شریف ہی ہیں اور یہ کہ وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ تاریخ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیگی۔ جبکہ نااہل وزیراعظم نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے ارکان پارلیمنٹ کی مدد سے آئین میں تبدیلی لائے بغیر ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے آئینی طاقت کی حامل پارٹی صدارت حاصل کرلی ہے۔پارٹی صدارت کے حصول کے بعد میاں نواز شریف کو اپنی ذات کو آئین کے دائرے میں رکھتے ہوئے افواج پاکستان اور عدالت عظمیٰ کے خلاف تضحیک آمیز پروپیگنڈے سے پرہیز کرنا چاہیے تھا لیکن اِس کے برعکس اُنہوں نے قائداعظم اور علامہ اقبال کی ویژن سے بظاہر علیحدہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو اینٹی پاکستان اور اینٹی مسلم ایجنڈے کے حامل بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی دوستی کی آڑ میں غدار وطن شیخ مجیب الرحمن کو محب وطن قراردیتے ہوئے اور بلوچستان میں پاکستان مخالف بیانات دینے والے سیاسی رہنما اچکزئی کی فکر سے ہم آہنگ کرتے ہوئے نہ صرف تحریک پاکستان سے ہٹ کر نیا نظریہ ضرورت اختیار کرنا شروع کر دیا بلکہ بظاہر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے متفقہ فیصلے کے خلاف اُن کا تواتر سے یہ کہنا کہ یہ تماشا اگر بند نہ ہوا تو ڈر ہے کہ نیا حادثہ نہ ہو جائے جو پاکستان کو کسی دوسرے سقوط ڈھاکہ سے دوچار نہ کر دے۔ اِسی پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے بلکہ بظاہر بھارتی وزیراعظم سے خفیہ بنیاد پر قائم ذاتی دوستی اور بھارتی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال جو افغانستان میں خام لوہے کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے بعد تجارت کے نام پر افغانستان میں بھارتی انٹیلی جنس را کیلئے کام کر رہے ہیں سے پاکستان اور برطانیہ میں خود اور صاحبزادگان کے ذریعے ملاقاتوں کا کیا مقصد ہے کیونکہ اِس پاکستان دشمن ایجنڈے کا احاطہ بھارتی سیاسی قیادت کے پاکستان مخالف بیانات اور ڈان لیکس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ایک ایسے مرحلے پر جبکہ بھارتی اینٹی پاکستان وزیراعظم مودی بنگلہ دیش کے دورے کے دوران انکشاف کر چکے ہیں کہ مکتی باہنی اور بنگلہ دیش کا بننا بھارتی فوجی حمایت سے ہی ممکن ہوا تھا۔ توکیا شیخ مجیب الرحمن کو محب وطن قرار دیتے ہوئیے نااہل وزیراعظم بھول گئے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمن پاکستان کی آزادی کے پہلے دن سے ہی بھارتی ایجنسیوں سے مل کر بنگلہ دیش کی آزادی کیلئے کام کرتے رہے ہیں اور اُنہیں بنگلہ دیش کی قیادت بھارتی فوج اور مکتی باہنی کی مشترکہ کمان کے بعد ہی ملی تھی۔ کیا نااہل وزیراعظم بھول گئے ہیں کہ بھارتی تخریب کار ایجنسیوں کی مدد سے ہی مکتی باہنی کے تخریب کار پاکستانی فوج کی وردیوں میں ملبوس ہو کر رات کے اندھیرے میں ایسٹ پاکستان رائفلز کے ہزاروں فوجیوں کے اغوا اور قتل کے ذمہ دار تھے جن میں بیشتر پاکستانی فوجیوں کا تعلق پنجاب سے تھا ۔ اب وہ کس منہ سے سقوط ڈھاکہ کی تاریخ دھرانے کی بات کرتے ہیں۔ اندریں حالات ، عدالت عالیہ کو آرٹیکل 62(f) میں ابہام کا جائزہ لیتے ہوئے نریندرا مودی کی زبان بولنے والے نااہل وزیراعظم جو تواتر سے اپنے بیانات کے ذریعے عدلیہ ، افواج پاکستان اور عوام الناس میں دوریاں پیدا کرنے کیساتھ ساتھ ایک اور سقوط ڈھاکہ کے پروپیگنڈے سے قوم میں بددلی اور انتشار کی کیفیت پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں کا نوٹس بھی لینا چاہیے۔

120
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...