پاکستان اور دنیا بھر میں پاکستانی شہری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں 5 فروری کو کشمیریوں کیساتھ یکجہتی کا دن مناتی ہیں۔ دنیا بھر میں کشمیر کی وادی جنت نظیر کہلاتی تھی لیکن بھارتی افواج نے جواہر لال نہرو اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن سازش کے تحت 26/27 اکتوبر کے رات ریاست جموں و کشمیر میں داخل ہو کر امن کی اِس وادی میں ظلم و ستم کا بازار گرم کرکے اِسے جہنم بنا کر رکھ دیا، تب قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان آرمی کو کشمیر میں بھارتی جارحیت کو روکنے کا حکم دیا تو انگریز کماندر انچیف جنرل گریسی نے لارد ماؤنٹ بیٹن جو اُس وقت بھارت کے گورنر جنرل کے طور پر کام کر رہے تھے کے حکم کے بغیر کشمیر میں فوج بھیجنے سے انکار کر دیا تب پاکستانی قبائل اِس قتل عام کو روکنے کیلئے وادیٗ کشمیر میں داخل ہوئے تو بھارت منافقت آمیز چناکیہ کوٹلیہ ہندو پالیسی کے تحت خود ہی 1948 میں یہ معاملہ اقوام متحدہ میں لے گیا جہاں بھارت کی خوبصورت چالبازی اقوام عالم پر ظاہر ہوئی تو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے فیصلہ کیا کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت کے تحت رائے شماری کے ذریعے پاکستان یا بھارت میں شامل ہونے کا موقع دیا جائیگا لیکن بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم کرنے کے باوجود آج تک کشمیر میں رائے شماری کرانے سے گریزاں ہے اور کشمیر پر اپنے ناجائز قبضے کو مستحکم بنانے کیلئے چھ لاکھ سے زیادہ فوج کیساتھ نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔ پاکستان کی سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے فروری 1994 میں کشمیر میں انسانیت کے قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا معاملہ جینیوامیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشین کے سامنے پیش کیا اور دنیا کی توجہ کشمیریوں کی آزادی کی اُمنگوں کے خلاف بھارتی ظلم و ستم کی جانب مبذول کرائی تھی تو بھارت پاکستان پر بے معنی الزامات لگانے میں مشغول ہو گیا ۔ گو کہ چند تیکنیکی وجوہات کی بنا پر بھارت کے خلاف قرارداد مذمت کو ووٹنگ کیلئے پیش نہیں کیا گیا لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو کی کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی آواز ضرور دنیا بھر کے ایوانوں میں سنی گئی جس کے نتیجے میں بھارت کے سابق وزیراعظم نرسیمہا راؤ نے بین اقوامی ردعمل سے بچنے کیلئے بھارتی کشمیر پالیسی کا جائزہ لینے کیلئے کیبنٹ کمیٹی قائم کرنے اور کشمیری قیادت سے ڈائیلاگ شروع کرنے کا اعلان کیا لیکن وعدوں اور معاہدوں کے حوالے سے بھارت کا ٹریک ریکارڈ ٹھیک نہیں ہے کیونکہ بھارت کی جانب سے ایسے اعلانات محض بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو مطمئن کرنے اور اس کی آڑ میں کشمیریوں کی آزادی کی تحریکوں پر بھارتی فوجی دباؤ بڑھانے کی نیت سے ہی کئے جاتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے علاوہ بھارت نے جولائی 1972 میں بھارتی وزیراعظم مسز اندرا گاندہی اور پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان شملہ معاہدے کے تحت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے چارٹر کیمطابق بات چیت سے حل کرنے کا وعدہ کیا جس پر عمل درامد کا وعدہ 1999 میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے اعلان لاہور کے ذریعے کیا۔ لیکن نہ تو ماضی میں حکمران کانگریس پارٹی کی قیادت نے اور نہ ہی موجودہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی نریندرا مودی قیادت جسے سنگھ پریوار کی دہشت گرد تنظیم RSS کا سیاسی ونگ ہونے کا شرف حاصل ہے نے بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کی کوشش نہیں جبکہ RSS یعنی راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے موجودہ چیف ڈاکٹر موہن بھگوت نے نئی کشمیر ڈاکٹرائین کے تحت مسئلہ کشمیر کو بات چیت سے حل کرنے کے بجائے کثیر فوجی قوت اور اسرائیل سے حاصل کردہ حساس اسلحہ کے زور پر کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بنانے کیلئے اپنی بیشتر فوجی طاقت کشمیر میں آزادی کی لہر کو ختم کرنے کیلئے جھونک دی ہے۔
درج بالا تناظر میں ڈاکٹر موہن بھگوت کی جانب سے بھارتی صوبے گجرات احمدآباد میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے قتل عام میں ملوث نریندرا مودی کو مرکز میں اقتدار میں لانے اور کشمیریوں کی آزادی کی اُمنگوں کو کچلنے کیلئے جس ظالمانہ پالیسی کی تشکیل کی ہے اُسے سیاق و سباق کیساتھ سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ ڈاکٹر موہن بھگوت عرصہ دراز سے RSS کے سیکریٹری کے طور پر بھارت کے سیکولر آئین کو ایک بنیاد پرست ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کا خواب دیکھتے رہے ہیں۔ اُنہیں اپنی ویژن کو عملی شکل دینے کو موقع 2009 میں بخوبی مل گیا جب سابق RSS چیف سدھرشن جی کی جگہ ڈاکٹر موہن بھگوت کو نیا آر ایس ایس چیف بنا دیا گیا۔ آر ایس ایس کو معمولی تنظیم نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اِس تنظیم کا آغاز 1925 میں نازی جرمنی کے ایجنڈے کی بنیاد پر ایک خفیہ دہشت گرد تنظیم کے طور پر عمل میں لایا گیا تھا۔ ہندوازم کی شدت پسندی پر مبنی اِس تنظیم کے مسلح رضاکاروں نے تقسیم ہند کے موقع پر بھارت کے طول و ارض میں مسلمانوں کے قتل عام میں حصہ لینے کے علاوہ مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر میں آر ایس ایس چیف گروجی کی قیادت میں کشمیر میں مہاراجہ کی ڈوگرہ فورس کیساتھ مل کر نہ صرف کشمیریوں کے قتل عام میں حصہ لیا بلکہ جب پاکستانی قبائل نے کشمیر میں مسلمانوں کے قتل عام کو روکنے کیلئے مداخلت کی تو مہاراجہ کشمیر جو کشمیر کو آزاد ریاست بنانے کیلئے متحرک تھے نے آر ایس ایس چیف گروجی کے دباؤ پر بھارت کیساتھ عارضی الحاق کی دستاویز پر دستخط کئے۔ اِس اَمر کی تصدیق سابق آر ایس ایس چیف سدھرشن جی نے 2005 میں وجے دشمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی۔ اُنہوں نے بھارتی فوج کیساتھ آر ایس ایس کے تعلق کو پاکستان کے خلاف تمام جنگوں میں حصہ لینے اور سابق مشرقی پاکستان میں مکتی باہینی کے ہمراہ بنگلہ دیش کی آزادی کیلئے کام کرنے کی تصدیق بھی کی۔ آر ایس ایس کی خفیہ دہشت پسند قوت کا تذکرہ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارت کے اہم سماجی لیڈر آنجہانی جے پرکاش نرائن نے 1972 میں پٹنہ میں آر ایس ایس کے مسلح رضاکاروں کے تربیتی کیمپ کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا کہ آر ایس ایس کے پاس دس لاکھ مسلح رضاکار ہیں اور اگر بھارت میں کوئی قوت بنگلہ دیش اور پاکستان کو ملا کر اکھنڈ بھارت بنا سکتی ہے تو وہ صرف آر ایس ایس ہے۔ جے پرکاش نارائن کا کہنا اپنی جگہ معنی خیز ہے کیونکہ آر ایس ایس کنونشل جنگ میں تو اس کا فائدہ اُٹھا سکتی ہے البتہ آر ایس ایس کی اِس قوت کو پاکستان میں نوجوان نسل بل خصوص کالجوں اور یونیورسیٹیوں کے طلبا و طالبات کو تربیت دیکر اُنکے جذبہء حب وطنی سے ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ بہرحال یہ اَمر اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان میں مذہبی قوتوں کو تو پابند سلاسل کیا جا رہا ہے تو اِن شواہد کیساتھ بھارت میں بنیاد پرست دہشت گرد تنظیموں پر جو بھارتی مسلمانوں، عیسائیوں ، کم ذات کی اقلیتوں اور قبائل کے قتل عام اور ہندوازم میں جذب کرنے کی شدت پسند سرگرمیوں میں ملوث ہیں کو پابند سلاسل کرنے کا مطالبہ پاکستان کی جانب سے بھی کیا جانا چاہیے۔ البتہ یہ اَمر خوش آئند ہے کہ پاکستان نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ٹیم کی بدولت پاکستان کو ایٹمی قوت بنا کر بھارت کے مقابلے میں ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔
اندریں حالات ، پاکستان کے تھنک ٹینکس اور دفاعی اداروں کو ڈاکٹر موہن بھگوت اور وزیراعظم نریندرا مودی کی ڈاکٹرائین کو ضرور مد نظر رکھنا چاہیے کیونکہ ڈاکٹر بھگوت نے آر ایس ایس کی کمانڈ سنبھالنے کے بعد برق رفتاری سے کام کیا ہے۔ اُنہوں نے 2014 کے بھارتی الیکشن میں برسراقتدار کانگریس پارٹی کو شکست دینے کیلئے ابتدائی طور پر 2013 کی RSS وجے دشمی کانفرنس میں انتہا پسند ہندو متھالوجی میں یقین رکھنے والی سنگھ پریوار کی تمام تنظیموں کو ایک لڑی میں پرونے کیلئے آر ایس ایس کے تھنک ٹینکس کے ہمراہ ویشو ا ہندو پریشد(ورلڈ ہندو آرگنائزیشن)، شیو سینا ، بجرنگ دل، ہندو توا سولجرز ، زعفرانی ٹائیگرز اور دیگر تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا اور اپنے خطاب میں اِس اِمر کی وضاحت کی کہ 2014 کے انتخابات میں کامیابی کی صورت میں ہندوستان کی سیاسی اور سماجی فکر میں تبدیلی لائی جائیگی تاکہ بھارت کو سیکولر ریاست کے بجائے ہندو بنیاد پرست ریاست بنایا جائے لہذا سنگھ پریوار کی تمام تنظیمیں اپنے اختلافات بھلا کر آر ایس ایس کے سیاسی ونگ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت کریں جبکہ مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے خلاف سخت ترین پالیسی اختیار کرکے کشمیر کو مکمل طور پر اکھنڈ بھارت کا حصہ بنایا جائیگا۔ آر ایس ایس کے تربیت یافتہ کیڈر کو کہا گیا کہ وہ سنگھ پریوار کی تنظیموں کیساتھ مل کر بھارت کے طول و ارض میں ہندو سماج کی دیوی دیوتاؤں کی ثقافتی سرگرمیوں میں ہندو یوتھ کو شامل کرکے اعلی ذات کے ہندوؤں کو بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف انتخابی مہم میں حصہ لینے پر مجبور کریں گے تاکہ ہندو سیکولر پارٹیوں بل خصوص کانگریس پارٹی کو شکست فاش دی جائے۔چنانچہ پہلے مرحلے میں موہن بھگوت نے اِس ڈاکٹرائین کی متفقہ سفارشات کو مرتب کرنے کیلئے ہندو توا اور سنگھ پریوار کی تنظیموں کے تھنک ٹینکس اور قیادت کو مشترکہ کانفرنس میں شرکت کیلئے کلکتہ ، نئی دہلی ، بنگلور اور احمد آباد میں سیمینار منعقد کئے جن میں پریس کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اور تمام رہنماؤں کو تلقین کی گئی کہ اِن سیمینارز میں کی جانے والی بحث کو اپنی تنظیموں کے ہارڈ کور کیڈر کے سوا کسی سے شیئر نہ کیا جائے۔ موہن بھگوت ڈاکٹرائن کو حتمی شکل دینے کیلئے اٹل بہاری واجپائی، کے ایل ایڈوانی اور جسونت سنگھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت سے علیحدہ کرکے موہن بھگوت کے بغل بچے راج ناتھ سنگھ جسے واجپائی سیاسی نابالغ سے تشبیہ دیتے تھے کو بی جے پی کی قیادت سونپی گئی اور پھر پاکستان اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف 2014 کی انتخابی مہم کی قیادت کرنے کیلئے گجرات احمد آباد کے بدنام زمانہ وزیراعلی نریندرا مودی کے سپرد کی گئی جسے گزشتہ انتخابات میں واجپائی نے بی جے پی کی شکست کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ دریں اثنا ، پاکستانی قیادت کو نریندرا مودی کی ذاتی دوستی سے ہٹ کر ڈاکٹر موہن بھگوت کی اینٹی مسلم اور اینٹی پاکستان فکر کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی صفوں کو درست کرنا چاہیے تاکہ خطے میں بل خصوص ریاست جموں و کشمیر میں اکھنڈ بھارت کے بھارتی عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔

191
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...