اِسے جمہوریت کا حسن کہا جائیگا یا حُسنِ اقتدار کی کرشمہ سازی کہ اقتدار کی غلام گردشوں اور بلند و بالا فصیلوں میں موجوداربابِ اختیار خود ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آئینی حدود سے تجاوز اور ملکی اسٹیٹ کرافٹس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کھلم کھلا عدلیہ کو عوامی حلقوں میں بدنام کرنے کیلئے جلسہ ہائے عام میں عدلیہ کی تضحیک کے مرتکب ہو کر عوامی سطح پر آئین سے بغاوت کے بیج بوتے جا رہے ہیں کا جس کا عدالت عظمیٰ کو بروقت نوٹس لینے کی ضرورت مسلمہ ہے ۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان جس کا شمار آئین کے تحفظ برداروں میں ہوتا ہے کے خلاف نااہل وزیراعظم میاں محمد نواز شریف جنہوں نے آئینی حدود سے بالا تر ہوکر اپنی نااہلیت کو اہلیت میں بدلنے کیلئے پارلیمنٹ میں اپنی جماعت مسلم لیگ (نواز) کے اراکین کی مدد سے صداقت و امانت کے اصولوں سے بالا تر ہو کر قانون میں ترمیم کرتے ہوئے اپنے آپ کو پھر سے مسلم لیگ (ن) کی صدارت پر فائز کر لیا ہے۔ چنانچہ اب وہ اپنی سیاسی حیثیت کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی صاحبزدی مریم نواز صفدر اور چند ریاستی وزرأ کے ہمراہ عدلیہ کے خلاف عوام کو ببانگ دہل عدلیہ کے خلاف اُکسانے اور اُٹھ کھڑے ہونے کی تلقین کرتے ہوئے ملک میں اندرونی سیاسی خلفشار پیدا کرنے میں دیدہ دانستہ آئین سے تجاوز کر رہے ہیں ۔کیا عوام الناس نہیں جانتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی، معاشی ، سماجی ، انتظامی اور معاشرتی زبوں حالی کے ذمہ دار یہی طاقت ور لوگ ہیں جو جرائم کو سیاسی رنگ دیکر نہ صرف ملکی سیاست کو جرائم کی آماجگاہ بنانے پر تُلے ہوئے ہیں بلکہ عوام الناس اِس اَمر سے بھی بے خبر نہیں ہیں کہ ملکی سیاست کے فراعِنہَ اور اُن کے گماشتوں نے ذاتی مفادات، جھوٹ اور ڈیل کی سیاست کے تحت قومی مفادات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اپنے خاندانوں کیلئے جائز و ناجائز ذرائع سے دولت کمانے اور ملک سے باہر بیش قیمت جائدادیں بنانے میں مصروف ہیں ۔
اِس حقیقت کو کیسے چھپایا جا سکتا ہے کہ جھوٹ و کپٹ اور جائز و ناجائز ذرائع سے دولت جمع کرنے والوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بیشتر معاشی اداروں، ریاستی انتظامیہ اور اہلکاروں کو کرپشن کی راہ پر لگا کر اپنا ذاتی ملازم بنا کر رکھ دیا ہے ۔ چنانچہ موجودہ ارباب اختیار چیدہ چیدہ اداروں اور اہم ریاستی عہدوں پر ریاستی اسٹیٹ کرافٹس کی متعین کردہ انتظامی حدود کیمطابق محب وطن اور قابلیت کے حامل افراد کو تعینات کرنے اور میرٹ کو جمہوریت کا حسن بنانے کے بجائے صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ذاتی وفاداریوں اور کرپشن سے مزین افراد کو وقت کا حاکم بنا کرکے ریاستی نظام میں موجود قابل و دیانت دار افسروں اور خدائی خوف رکھنے والے ماتحت عملے و اہلکاروں کیلئے یہ اَمر ناممکن بنا دیا ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی آئینی حدود و قیود میں رہتے ہوئے امانت و دیانت سے ادا کر سکیں۔ یہ اَمربھی تعجب کا سبب ہے کہ بیشتر سیاسی و معاشی اداروں میں عوامی مینڈیٹ اور ریاستی آئین میں دی گئی آئینی حدود سے ماورا ہو کر حکمران اور اُن کے سیاسی حاشیہ بردار اعلیٰ عدلیہ اور افواج پاکستان کو تواتر سے تنقید و تضحیک کا نشانہ بناکر مملکتِ خداد ادپاکستان میں سیاسی و انتظامی خلفشار پیدا کرنے کی کوششوں میں کیوں مصروف ہیں اور کیا وہ بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں ؟ حتیٰ کہ پبلک جلسوں میں سابق نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف ، اُن کی صاحبزادی بی بی مریم صفدر نواز اور اُن کے حاشیہ بردار بیشتر ریاستی وزرأ اپنے سرکاری کاموں سے پہلو تہی کرتے ہوئے نواز شریف فیملی کی ذات سے متعلقہ کرپشن کیسوں میں عدالتی وقار اور اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر عوام کو نظامِ عدلیہ کے خلاف منظم انداز میں تواتر سے اُبھار نے میں مصروف ہیں جس کا عدالت عظمیٰ اور دیگر قومی اداروں کو بروقت نوٹس لینا چاہیے وگرنہ وقت ہاتھ سے نکل جانے پر ملکی سیاسی، سماجی اور معاشرتی حالات غیر معمولی بگاڑ کا شکار ہوسکتے ہیں جبکہ حکمرانوں نے ملکی معاشی معاملات کو پہلے ہی بیرونی قرضوں کے غیر معمولی جال میں جکڑ دیا گیا ہے۔
دراصل گزشتہ چند ہفتوں میں سابق نااہل وزیراعظم کی فیملی کے خلاف نیب کورٹ میں شریف فیملی کی بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف بظاہر مضبوط شہادتوں کے پیش کئے جانے اور عدالتِ عظمیٰ میں نئے کیسوں کے داخل کئے جانے کے بعد میاں نواز شریف اور اُن کے حاشیہ برداروں میں شدت پسندی کے نئے رجحانات دیکھنے میں آئیں ہیں۔ شریف فیملی بظاہر اِن مقدمات میں اپنی بیگناہی ثابت کرنے سے معذور نظر آتی ہے بل خصوص میاں نواز شریف کو صادق و امین سے متعلقہ آئینی آرٹیکل 62/63 کا دفاع کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ وہ عوامی سطح پر عوام کو عدلیہ کے خلاف متحرک کرکے اپنی جائز ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت کو بچانے کیلئے پیش پیش ہیں۔ پاکستانی آئین کے آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت عدالت عظمیٰ کیلئے یہی سوال اہمیت کا حامل ہے کہ کوئی شخص مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا رکن منتخب ہونے کا اہل نہیں ہو گا اگر وہ سمجھدار ، پارسا نہ ہو اور فاسق ہو مزید یہ کہ اُسے صادق و امین نہ ہونے پر عدالت نے اُسے ایسا ڈیکلیئر نہ کیا ہوجبکہ عدالت عظمیٰ کے پانچ جج متفقہ طور پر صادق و امین نہ ہونے کے باعث وزیر اعظم کے طور پر میاں نواز شریف کو نااہل قرار دے چکے ہیں تو وہ کیونکر ایک آئینی پوزیشن کی حامل سیاسی پارٹی کی صدارت پر فائز ہوسکتا ہے جس کی اجازت کے بغیر کوئی بھی فرد نہ تو پارلیمنٹ کا رکن بننے کیلئے پارٹی ٹکٹ حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنی مرضی سے پارلیمنٹ میں کسی قانون یا قرارداد کی حمایت یا مخالفت میں ووٹ دے سکتا ہے۔ دوسری جانب میاں نواز شریف آئین کے آرٹیکل 63(1)(g) سے کھلم کھلا تجاوز کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی متفقہ فیصلے کی توہین کے مرتکب ہوتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کوئی شخص مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے رکن کے طور پر منتخب ہونے یا چنے جانے اور رکن رہنے کیلئے نااہل ہوگا ، اگر وہ کسی مجاز سماعت عدالت کی طرف سے کسی ایسی رائے کی تشہیر کیلئے سزایاب رہ چکا ہو یا کسی ایسے طریقے پر عمل کر رہا ہو جو نظریہ پاکستان یا پاکستان کے اقتدار اعلیٰ ، سا لمیت، سلامتی یا اخلاقیات یا امن عامہ کے قیام یا پاکستان کی عدلیہ کی دیانتداری یا آزادی کیلئے مضر ہو، یا جو پاکستان کی مسلح افواج یا عدلیہ کو بدنام کرے یا اِس کی تضحیک کا باعث ہو ، تاوقت کہ اُس کو رہا ہوئے پانچ سال کی مدت نہ گزر گئی ہو۔درج بالا تناطر میں میاں نواز شریف ، اُن کی صاحبزادی بی بی مریم نواز صفدر اور بیشتر وزرأ و مشیرانِ حکومت بل خصوص سعد رفیق ، طلال چوہدری ، رانا ثنا اللہ وغیرہ کی جانب سے ٹی وی چینلز ، پرنٹ میڈیا اور عوامی جلسوں میں آئین سے تجاوز کی جانے والی دھمکی آمیز تقریروں کو بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ چند روز قبل ہی قارئین اور قانونی ماہرین پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں کی جانے والی تقاریر سے نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں جس میں وزارت داخلہ کے اسٹیٹ منسٹر طلال چوہدری، نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے والے ججوں کو عدالتوں سے نکالنے کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں، جہاں بی بی مریم عوام کو یہ کہتے ہوئے عدلیہ کے خلاف اُبھارتی نظر آتی ہیں کہ لوگو اُٹھو منتخب وزیراعظم کو ہٹانے والے سازشی مہروں کو کو سبق سکھا دو کہ آئندہ سازشی ایسا کھیل نہ کھلیں۔ جبکہ میاں نواز شریف اپنی نااہلی کے حوالے سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جڑانوالہ کا فیصلہ ہے کہ ہم اِن ججوں کا فیصلہ نہیں مانتے جنہوں نے نواز شریف کو نااہل کیا اور آج پھر ایک عدالت بیٹھی ہے یہ فیصلہ کرنے کیلئے کہ نواز شریف کی نااہلی پانچ سال کیلئے ہے یا ساری زندگی کیلئے ، عوام اِس نااہلی کو نہیں مانتے۔ بہرحال عوام اور سیاست دانوں و قانون دانوں کی غیر معمولی اکثریت میاں نواز شریف اور اُن کے حاشیہ برداروں کی عدلیہ و افواج پاکستان کے خلاف آئینی و قانونی حدوں سے تجاوز کرنے کی پالیسی کو پاکستان کی سلامتی کیلئے سم قاتل ہی سمجھتے نظر آتے ہیں جس کا عدالت عظمیٰ کو نوٹس لینا چاہیے۔

98
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...