اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خطے میں بھارت اپنی بالا دستی قائم کرنے کے لئے ایک طرف تو کنونشنل اور ایٹمی جنگ کی تیاریاں کر رہا ہے اور دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور افغانستان میں امریکا نیٹو اتحاد کو بھارتی ایجنسیوں کی ڈِش انفارمیشن کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف حقانی نیٹ ورک کی حمایت کے حوالے سے پاکستان امریکا تعلقات میں غلط فہمیوں کو جنم دے رہا ہے۔بظاہر امریکی صدر ٹرمپ اور افغانستان میں امریکی فوجی قیادت کے تھنک ٹینک جو افغانستان میں افغان طالبان کی بڑھتی ہوئی دہشت پسندانہ کاروائیوں سے آزردہ ہیں اور پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے اور دہشت گردوں کا راستہ بند کرنے کے حوالے سے پاکستانی بریف کو سمجھنے اور افغانستان میں معاملہ فہمی کی فکر کو مہمیز دینے کے بجائے بھارت کی فراہم کردہ ڈِش انفارمیشن پر افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پس منظر میں پاکستانی ہاتھ تلاش کرنے میں مصروف ہیں ، خطے کی سیکورٹی کے حوالے سے انتہائی ناقابل فہم ہے۔ جبکہ اسرائیلی وزیراعظم کے حالیہ دورۂ بھارت کے بعد بھارتی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے بھی سرگرمی سے پاکستان کے خلاف نیا دھمکی آمیز رویہ اختیار کر لیا ہے حتیٰ کہ بھارتی آرمی چیف نے پاکستان کی جنگ سے باز رکھنے والی جوہری بم کی صلاحیت کو جوہری بلف قرار دیتے ہوئے پاکستان کے خلاف سرحد پار حملے کرنے کی دھمکی دینے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔چند برس قبل ایک اور سابق بھارتی آرمی چیف جنرل دیپک کمار نے پاکستانی ایٹمی صلاحیت کے خلاف نفسیاتی جنگ کا آغاز کرتے ہوئے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا تھا کہ بھارت پاکستان سے ایٹمی جنگ لڑنے کیلئے تیار ہے جسے سابق بھارتی وزیراعظم نے یہ کہتے ہوئے مہمیز دینے کی کوشش کی تھی کہ پاکستانی ایٹمی مواد دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے سے پہلے ہی بھارت امریکا کیساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ طور پر جنگ لڑیگا۔
دریں اثنا، بھارت افغانستان میں اپنی موجودگی اور سماجی و سیکورٹی اداروں میں اپنے کردار کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے حقانی نیٹ ورک کا نام استعمال کرکے پاکستان اور امریکہ کے درمیان غلط فہمیوں کی دیوار کھڑی کرکے خطے میں بھارتی بالادستی کو فروغ دینا چاہتا ہے جس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں اپنے خفیہ وسعت پسندانہ ایجنڈے کو مہمیز دینے کیلئے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف امریکہ نیٹو اتحاد کی ناکامی کو اپنے مخصوص سیاسی مفادات کیلئے ایک سنہری موقع سمجھتے ہوئے پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ بین الاقوامی امور میں بھارتی غیر سنجیدہ روئیے اور موقع سے فائدہ اُٹھانے کی اِس غیر سیاسی روش کے سبب بتدریج پاک امریکہ تعلقات انتہائی اعصاب شکن مرحلے سے گزررہے ہیں ۔ پاکستان امریکہ تعلقات میں غلط فہمیوں کو مہمیز دینے کیلئے بھارتی رہنماؤں کی جانب سے حقانی نیٹ ورک سے تعلق کو بنیاد بناتے ہوئے آئی ایس آئی کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بھارتی مہم کا شروع کیا جانا، خطے میں ناپاک بھارتی عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔ ماضی میں بھارت طے شدہ منصوبے کے تحت سابق افغان صدر کرزئی کی معاونت سے افغان رہنما برہان الدین ربانی کے قتل کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کی ناکام کوشش کر چکا ہے اور اب افغان پولیس اور افغان انٹیلی جنس کی افغانستان میں دہشت گردی پر قابو پانے میں حائل ریاستی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اپنی سیاسی پوزیشن کو بھارت کیساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے موجودہ افغان صدر غنی بھی افغانستان میں موجودہ دہشت گردی کو پاکستان سے جوڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ خود حقانی نیٹ ورک کے ترجمان ماضی میں متعدد مرتبہ پاکستان سے کسی قسم کے ناتے کی تردید کر چکے ہیں۔
یہ درست ہے کہ پروفیسر ربانی کی قیادت میں ماضی میں افغان مفاہمتی کمیٹی اور طالبان گروپوں کے درمیان امریکی پس پردہ حمایت سے قطر اور ترکی میں خفیہ امن بات چیت کی خبریں گردش میں تھیں اور اِسی سلسلے میں سابق افغان صدر کرزئی کے ہمراہ پرفیسر برہان الدین ربانی نے اسلام آباد کا دورہ بھی کیا تھالیکن بظاہر بھارتی سازش سے ماضی میں پروفیسر ربانی کا بل ریڈ ذون میں قتل جو افغا نستان میں طالبان گروپوں سے ڈائیلاگ شروع کرنے کے حامی تھے ایک حیران کن اَمر تھا جبکہ بھارتی ایجنسیوں نے اِس قتل کا الزام پاکستان پر لگا کر پاکستان امریکہ تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی انتہائی بھونڈی کوشش کی تھی۔یہ اَمر ناقابل فہم ہے کہ افغان ریاستی ایجنسی جسے امریکہ نیٹو اتحاد کے علاوہ بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں کی معاونت حاصل ہے ، نے ماضی میں پروفیسر ربانی کے مبینہ قاتل کو حساس سیکورٹی سیف ہاؤس میں پگڑی میں دھماکہ خیز مواد کیساتھ پروفیسر ربانی سے بات چیت کیلئے کیونکر پہنچنے دیا؟ کیا اِس اسٹرٹیجک سیکورٹی کوتاہی میں پاکستانی سیکورٹی اداروں کا قصور تھا ؟ کیا افغانستان کے چیدہ چیدہ علاقوں اور ہوٹلوں میں جہاں افغان ، امریکہ نیٹو اتحاد سیکورٹی کے علاوہ صرف بھارت کے سیکورٹی اداروں کا عمل دخل ہے، میں امریکی فوجیوں اور وی آئی پیز کی حفاظت پاکستان فوج کی ذمہ داری ہے ؟ حقیقت یہی ہے کہ بھارتی ایجنسیاں افغانستان میں امن و امان لانے کیلئے بات چیت کے پروسس کو خطے میں بھارتی بالادستی کیلئے مناسب نہیں سمجھتی ہیں بلکہ افغان طالبان کی قوت کو امریکہ نیٹو اتحاد کے ذریعے ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی حامی ہیں۔ بہرحال یہ وہ سوالات ہیں جن پر امریکی رہنماؤں کو الزامات سے ہٹ کر سوچنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر امریکی سیکورٹی ادارے افغانستان میں پاکستان کے تجربات سے فائدہ اُٹھانے کے بجائے بھارتی کردار پر ہی بھروسہ کرتے رہے تو یہ محض خطے میں اکھنڈ بھارت کے مخصوص بھارتی مفادات کو تحفظ دینے کے مترادف ہی سمجھا جائیگا۔
اندریں حالات ، ریاستی فہم و فراست سے محروم ہمارے سیاسی حکمرانوں کو تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے جو ابھی تک محض مخصوص ذاتی فوائد کی خاطر قومی مفادات کو نظر انداز کرتے رہے ہیں ۔ ملک میں جمہوریت کی بحالی کے بعد اِس صورتحال میں بہتری کی توقع تھی لیکن عوام یہی محسوس کرتے ہیں کہ کرپشن سے آلودہ چہروں نے ملکی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ملکی اقتدار اعلیٰ کو اغیار کی غلامی میں تبدیل کر دیا ہے ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پاکستانی حکمران حقائق کو پاکستانی عوام سے چھپا کر نریندر مودی ایسے پاکستان دشمن حکمران سے مخصوص مفادات کی ذاتی دوستی کو ہی اپنی سیاسی معراج سمجھتے رہے ہیں اور محض کرپشن اور بیرون ملک اپنی جائز و ناجائز دولت چھپا کر عوام کو بے وقوف بنانے اور ملک کے اصل مسائل سے عوام کی توجہ مبذول کرانے کیلئے روزمرہ نت نئے سیاسی کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔ ایک ایسے مرحلے پر جبکہ ہمار ازلی دشمن ہمارے قومی مفادات پر ضرب لگانے میں مصروف ہے ، ہمارے ایٹمی پروگرام کو خطرات و خدشات درپیش ہیں اور ہمارے قومی اداروں کو بین الاقوامی طور پر بدنام کرنے کی منظم کوششیں زور پکڑتی جا رہی ہیں تو ہمارے سیاسی حکمران حالات کا موثر اور بروقت تدارک کرنے کے بجائے پاکستان میں اندرونی خلفشار پیدا کرنے میں کیوں مصروف ہیں اور شیخ مجیب الرحمن ایسے غدار وطن کو محب وطن قرار دیکر پاکستان کو غیر معمولی نقصان کا شکار کرنے کی بات کیوں کی جا رہی ہے ؟ اندریں حالات ، کیا اپنے گھر کی اصلاح احوال اور ملکی اداروں سے کرپشن ، بدعنوانی ، بدانتظامی اور بے انصافی کا قلع قمع کرتے ہوئے پاکستان کو ایک باوقار ایٹمی ریاست کے طور پر بین الاقوامی امو ر میں اپنا کردار ادا کرنا وقت کی اہم ضرورت نہیں ہے؟ البتہ یہ اَمر خوش آئند ہے کہ افواج پاکستان اِس اہم مرحلے پر بھارت اور بھارتی حمایت یافتہ افغان لیڈرشپ کی جانب سے پاکستان کے خلاف پھیلائی گئی ڈِش انفارمیشن کا موثر جواب دینے کیساتھ ساتھ پاکستان و امریکہ کے مابین بے معنی اختلافات و خدشات کو ختم کرنے اور دو آزاد و خود مختار ملکوں کی طرح پاکستان امریکہ سیکورٹی تعلقات کو میرٹ پر استوار کرنے کی کوششوں کو مہمیز دینے میں ضرور مصروف عمل ہیں۔

25
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...