گزشتہ روز حضرت سلطان باہوؒ کے حوالے سے پاکستان کے ایک اہم ریسرچ ادارے مسلم انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے اسلام آباد میں معروف تجزیہ نگار ، محقق اور کالم نگار طارق اسمٰعیل ساگر کی کتاب ” بھارتی علیحدگی پسند تحریکیں” کی تقریب رونمائی کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں کافی تعداد میں ریسرچ سکالروں ، صحافیوں ، سفارتکاروں اور دانشورخواتین و حضرات نے شرکت کی۔ تقریب کے دو سیشن منعقد ہوئے، پہلے سیشن کی صدارت سابق پاکستانی سفیر اشتیاق ایچ اندرابی نے کی جبکہ دوسرے سیشن میں صدارت کے فرائض نواب آف جوناگڑھ جناب جہانگیر خان جی نے سرانجام دئیے ۔ دونوں مجالس کے صدور نے ساگر صاحب کی مستند تحقیق کا اجمالی جائزہ پیش کرتے ہوئے فکری کتاب لکھنے پر مصنف کو مبارک باد پیش کی ۔مسلم انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین صاحبزادہ سلطان احمد علی نے مسلم انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے حاضرین کی آمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے طارق اسمٰعیل ساگر کی تحقیقی کتاب کے مختلف علمی پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی اور مصنف کے تحقیقی کام کی تعریف کی۔ طارق اسمٰعیل ساگر کی تحقیقی کتاب کی قومی افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے راقم کے علاوہ قومی فکر و نظر کے حامل دانشوروں بشمول بریگیڈئیر آصف ہارون راجہ، ظفر بختاوری،عبداللہ گل، اینکر احمد قریشی ، بریگیڈئیر اختر نواز جنجوعہ اور طارق اسمٰعیل ساگر نے خطے میں بھارتی علیحدگی پسند تحریکوں کے تاریخی پس منظر میں بھارتی یونین کی جارحیت پسندی سے آزادی کی جدوجہدکے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔
درج بالا تناطر میں مقررین نے بھارتی سیکولرآئین کے تحت مذہبی و لسانی اقلیتوں اور قبائیل کو مذہبی اور فکری آزادی دینے کے بجائے بل خصوص ریاستی سرپرستی میں سنگھ پرئیوار کی ہندو تشدد پسند عسکری تنظیموں کو مسلمانوں ، سکھوں ا ور عیسائیوں کی تاریخی مذہبی عبادت گاہوں بشمول بابری مسجد ، سکھ گولڈن ٹیمپل اور گرجا گھروں کی تباہی کی کھلی چھٹی دینے اور مذہبی اقلیتوں و قبائل کو ہندوازم میں جذب کرنے کیلئے ہندو مہاسبھا ، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ، ویشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل ، شیو سینا کے مسلح غنڈوں کی قتل و غارت گری کے سبب پیدا ہونے والی علیحدگی پسند تحریکوں کو موضوع بنایا گیا۔ برّصغیر ہندوستان پر قابض برطانوی حکومت ہند کی جانب سے اگست 1947 میں ہندوستان کو دو بڑی قوموں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان بھارت اور پاکستان کی دو آزاد ریاستوں میں تقسیم کرنے اور دیگر برطانوی زیر حفاظت ریاستوں کیلئے مذہبی اور جغرافیائی بنیادوں پر اِن آزاد مملکتوں میں شمولیت کا پروگرام متعین کرنے کے باوجود بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر پر ناجائز قبضے، مشرقی پاکستان میں تخریب کاری اور فوجی مداخلت سے بنگلہ دیش کی شکل میں علیحدگی کے علاوہ مذہبی و سماجی اقلیتوں کو پُرتشدد غیر انسانی سلوک کے ذریعے ہندوازم میں جذب کرنے اور جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش سے افغانستان تک اکھنڈ بھارت بنانے کی بھارتی جارحیت پسندی پر دنیا کی توجہ مبذول کرانے کیلئے بخوبی روشنی ڈالی گئی۔
حقیقت یہی ہے کہ خطے میں بھارتی بالا دستی اور اکھنڈ بھارت کے ناپاک عزائم کا اندازہ مصنف کی کتاب میں ” بنگلہ دیش میں ہندو ریاست کا گھناؤنا منصوبہ” کے عنوان سے لکھے گئے مضمون سے بخوبی ہو جاتا ہے جس میں مصنف نے وضاحت سے لکھا ہے کہ بنگلہ دیش کی تقریباً ڈیڑھ کروڑ آبادی نے شیخ مجیب الرحمن کے برسراقتدار آنے کے بعد خود کو مستقبل کے بنگلہ دیش کا حکمران سمجھنا شروع کر دیا تھا اور اب حسینہ واجد کے اقتدار میں آنے کے بعد اُنہوں نے بنگلہ دیش میں ایک آزاد ہندو ریاست بنانے کیلئے خود کو منظم کرنا شروع کیا ہے۔ طارق اسمٰعیل ساگر لکھتے ہیں کہ سری لنکا اور مالدیپ کو اپنے خطرناک عزائم کا نشانہ بنانے کے بعداب بھارت نے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش پر بھی اپنے دانت تیز کرنے شروع کئے ہیں اور وہاں ہندو علیحدگی پسندوں کی طرف سے بنگا بھومی کے حصول کی تحریک شروع کرا دی ہے۔ اِس تحریک کی کرتا دھرتا تنظیم ” این پی این بی این ایس یعنی نکھل بھنگانا گرگ سنگھا” کو بھارتی انٹیلی جنس را کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اور یہ تحریک بنگلہ دیشی ہندوؤں کیلئے آزاد ر علیحدہ ریاست کا مطالبہ کر رہی ہے۔ (بظاہر بنگلہ دیش میں اپنے عزائم پر پردہ ڈالنے کیلئے ) بھارتی را کی جانب سے جھوٹا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ بھارتی شمال مشرقی علاقوں میں چلنے والی (بھارت سے آزادی کی خواہش مند) سات آزادی اور علیحدگی پسند تنظیموں کے کارکن چٹاگانگ کے پہاڑی علاقے میں پناہ لیتے ہیں چنانچہ بھارت اِس علاقے پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے تاکہ اِن شمال مشرقی بھارتی علاقوں کی شورش کو ختم کیا جاسکے۔ اِن میں آسام، تری پورہ ، منی پور، میزورام ، ناگا لینڈ ، اروناچل پردیش اور میگھا لے کی تحریکیں شامل ہیں(اِسی حوالے سے) چٹاگانگ کی بندرگاہ پر تصرف حاصل کر کے شمال مشرقی بھارتی شورش زدہ ریاستوں پر موثر کنٹرول حاصل کرنا بھارت کا دیرینہ خواب ہے ۔ چنانچہ اپنے بیان کیمطابق سابق را کی ایجنٹ اور موجودہ پاکستان دشمن بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کیساتھ پاکستان دشمن ( دفاعی و سیکورٹی) ایجنڈے پر سمجھوتہ کرکے بنگلہ دیش میں، را، کا کام آسان کر دیا ہے۔(بین الاقوامی اور سوشل میڈیا میں بھی یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارتی نیوی، مودی حسینہ واجد معاہدے، کے بعد چٹاگانگ بندرگاہ میں اپنی بیس بنانے کے منصوبے بنا رہی ہے) چنانچہ ،را ، بڑی مستعدی سے بنگلہ دیش کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے ۔بنگلہ دیش میں کیونکہ غالب اکثریت بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی ہے اِس لئے یہاں زبان ، صوبہ اور کلچر کی بنیاد پر تو کوئی مضبوط تحریک نہیں چلائی جا سکی ہے لہذا بھارتی انٹیلی جنس نے بنگلہ دیش میں ہندو مذہب کی بنیاد پر ہندو دہشت گردی اور علیحدگی کی تحریکوں کی پشت پناہی شروع کی ہے” ۔ ، را، نے بین الاقوامی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کیلئے اِس تحریک کے آزاد وطن کا جو نقشہ کلکتہ بیس ہندو آبادکاروں کے نام پر شائع کیا ہے وہ بنگلہ دیش کے ضلع کھلنا ، جیسور ، کشتیا ،فرید پور، باریسال اور نواکھلی پر مشتمل ہے جس کی تشہیر ہندو آبادکاروں کے مرکزی دفتر رام لال بازار ساؤتھ کلکتہ سے کی جا رہی ہے۔
طارق اسمٰعیل ساگر دراصل اپنی ذات میں خود ایک انجمن اور اعلیٰ پائے کے تھنک ٹینک ہیں ۔ اُن کی رگ رگ میں پاکستانی قوم اور وطن کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ ساگر صاحب وسیع تر مطالعہ کے حامل ہیں اور جنوبی ایشیا میں بھارتی ناپاک عزائم پر اُن کی گہری تحقیقی نگاہ ہے ۔ ایک سینئر صحافی کے طور پر وہ نہ صرف درجنوں تحقیقی اور تجزیاتی کتابوں کے مصنف ہیں بلکہ اکھنڈ بھارت کے حوالے سے ہمسایہ ممالک میں بھارتی تخریب کاری اور مغربی ملکوں میں پاکستان کے بارے میں پھیلائی جانے والی بھارتی ڈِس انفارمیشن سے اپنے کالموں کے ذریعے قوم و ملک کی آگہی میں بخوبی اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ بھارت جو مغربی ممالک اور سابق سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کا حاشیہ بردار رہا ہے نائین الیون کے بعد چناکیہ کوٹلیہ منافقت آمیز ہندو فلاسفی کیمطابق اپنا چولہ بدل کر امریکہ و اسرائیل کا اتحادی بن کر افغانستان میں پاکستان کی جگہ اپنا عمل دخل تو قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے لیکن مغربی دنیا میں بھارتی پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر امریکا نیٹو اتحاد کی جانب سے بھارت کو افغانستان میں سیاسی و سماجی کردار دئیے جانے کے باعث امریکہ نیٹو اتحاد افغانستان پر عملاً اپنا قبضہ کرنے کے باوجود افغانستان میں امن و امان قائم کرنے اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کا شکار ہے۔ اندریں حالات پاکستانی سیاست دانوں اور دانشوروں کو جنوبی ایشیا میں بھارتی پاکستان دشمن پالیسیوں کا ادراک کرنے کیلئے ساگر صاحب کی تحریروں کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے تاکہ بلا ضرورت پاکستان دشمن ہندو قیادت کیساتھ دوستی کے راگ الاپنے کے بجائے خطے میں پاکستان کے مفادات کا بخوبی تحفظ کیا جا سکے۔

62
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...