یوں تو آئے دن کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ منظر عام پر آتا ہی رہتا ہے جس میں بھارتی حکومت اپنی ناکامی اور نااہلی کی پردہ پوشی کے لئے مذکورہ واقعہ کی ذمہ داری وطن عزیز کے حساس ادارے آئی ایس آئی پر عاید کرتی دیتی ہے لیکن گذشتہ برس 4 نومبر 2017ء کو بھارتی پنجاب کے مشہور شہر لدھیانہ میں ایک ایسا واقعہ سامنے آیا جس نے بھارتی خفیہ اداروں اور جملہ ذمہ داران کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ اس روز بھارتی پولیس اور خفیہ اداروں نے شہر کی راما منڈی کے ایک شاپنگ مال میں اپنی شادی کی خریداری کرنے والے بھارتی نژاد، برطانوی نوجوان، 30 سالہ جگتار سنگھ جوہل کو گرفتار کر لیا۔ اس پر الزام عاید کیا گیا کہ وہ ’’خالصتان لبریشن فورس‘‘ سے تعلق رکھتا ہے اور اس تنظیم کے لئے فنڈز جمع کر رہا ہے۔ کسی دلیل اور ثبوت کے بغیر اس سکھ نوجوان پر یہ الزام بھی عاید کر دیا گیا کہ اس کا تعلق پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے ہے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ جگتار سنگھ جوہل کے ساتھ کیا گیا ناروا سلوک بلکہ ناانصافی کا ایک مقصد یہ بھی رہا کہ اس نوجوان کو دیگر سکھ نوجوانوں کے لئے عبرت کی مثال بنا دیا جائے تاکہ وہ اپنے سیاسی حقوق کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے سے باز رہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آئی ایس آئی نہ صرف بھارت کے خفیہ ادارے ’’را‘‘ کے مذموم عزائم اور کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دیتی ہے بلکہ وہ بلوچستان میں متحرک ان نام نہاد قوم پرست عناصر کی سرگرمیوں کو بھی کامیابی سے بے اثر بناتی ہے جن کو ’’را‘‘ کے علاوہ افغانستان کے خفیہ ادارے ’’این ڈی ایس‘‘ کی مبینہ سرپرستی اور حوصلہ افزائی بھی حاصل رہتی ہے۔ یہاں پر یہ نشاندہی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ بھارت اور افغانستان کے مذکورہ خفیہ اداروں کو افغانستان میں موجود امریکی ماہرین کی براہ راست معاونت بھی میسر ہے۔ آئی ایس آئی کے دائرہ کار اور نصب العین کے حوالے سے پاک فوج کے سابق چیف آف سٹاف اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی بریگیڈیئر (ر) سید احمد ارشاد ترمذی نے اپنی کتاب ’’حساس ادارے‘‘ کے پیش لفظ میں اظہار خیال کرتے ہوئے تحریر کیا کہ انٹیلی جنس، دلیر، محب وطن اور اپنے مقصد سے لگن رکھنے والے لوگوں کا پیشہ ہے۔ ا س شعبے کے سرکردہ کارکن قومی مقاصد کے حصول کی خاطر انتہائی خطرناک اور دشوار مہمات کو سر کرنے میں عام طور پر اپنی زندگی کا بیشتر حصہ صرف کر دیتے ہیں، ہر مشکل اور کڑی صورتحال کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہیں لیکن جدوجہد سے بھرپور طویل زندگی میں وہ بے نام، اجنبی اور تنہا ہوتے ہیں۔ بس ایک اجنبی سا سایہ، ایک انجانا خوف ان کے ساتھ ساتھ رہتا ہے جو کبھی کبھی حقیقت بن کر انہیں گمنامی کے گھپ اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے، ان کی قبروں پر نہ کوئی مینار تعمیر ہوتا اور نہ ہی کوئی کتبہ نصب کیا جاتا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی قربانیاں ان کی قوم کی تقدیر بدل دیتی ہیں اور ان کے نام ہمیشہ کے لئے ایک ایسی غیر مرئی فہرست میں شامل ہو جاتے ہیں جو قوم کی قسمت کے ماتھے کا جھومر بنتی ہے۔
امریکہ کے صدر بل کلنٹن نے سی آئی اے کے ہیڈکوارٹر کے دورے کے موقع پر امریکی انٹیلی جنس کے ایسے ہی 56 گمنام کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ کئی برسوں پر محیط سرد جنگ میں امریکہ کو انہی لوگوں کے طفیل فتح نصیب ہوئی اور اب ایسے ہی لوگوں کو نئے محاذوں پر نئے دشمنوں کے خلاف نبرد آزما ہونا ہے۔ روسی خفیہ ادارے کے سربراہ ولادیمر میخانوف نے ایک روسی قومی اخبار کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ سیکرٹ سروسز اب دفاعی راز معلوم کرنے کی بجائے اقتصادی اور تکنیکی راز معلوم کرنے پر مامور ہیں اور غیر ملکی جاسوس روس کے اقتصادی راز چوری کرکے اسے عالمی اقتصادی منڈی میں دیوالیہ قرار دلوانا چاہتے ہیں۔
معلومات کو جمع کرکے، دستاویزات تیار کرنا اور انہیں انٹیلی جنس میں تبدیل کرنا ہمیشہ سے دنیا کے ہر ملک میں معتبر پیشہ سمجھا گیا ہے۔ ہر ملک چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، مضبوط ہو یا کمزور، مملکت کو درپیش خطرات اور دیگر اہم امور کے حوالے سے قومی تحفظ کا لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے انٹیلی جنس ادارے قائم کرتا ہے اور ان اداروں کے لئے خصوصی کارکن تیار کرتا ہے۔ دفاع، قومی تحفظ اور دوسرے ممالک کے خفیہ منصوبوں، قوت اور تکنیکی شعبوں تک رسائی حاصل کرنے اور ان پر خفیہ نگاہ رکھنے کے لئے انہی حساس اداروں سے کام لیا جاتا ہے۔ بعض ممالک میں تو سیکرٹ سروس کے کارکنوں کو سیاسی قتل و غارت، دہشت گردی اور تخریب کاری کے مشن بھی سونپے جاتے ہیں، اس لئے اپنے ملک کے لئے حفاظتی تدابیر اور بہتر سے بہتر حکمت عملی وضع کرنے کے لئے دوست اور دشمن کارکن کی پہچان بے حد ضروری ہے۔
وطن عزیز کی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمیں بھی ہمہ وقت قومی، جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے حوالے سے غیر ملکی جاسوسوں کا سامنا ہے۔ دشمنوں کی مذموم سرگرمیوں سے نمٹنا ہمارے حساس اور خفیہ اداروں کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں جن پہلوؤں کی طرف خاص طور پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے ان میں دشمن کے جاسوسوں یا ہماری صفوں میں بیٹھے ہوئے دشمن کے ایجنٹوں کا سراغ لگانا اور پھر ان سے نبرد آزما ہونا، ملک دشمن سرگرمیوں، دشمن کے انٹیلی جنس اہداف، اس کے طریقہ کار اور غیر ملکی ایجنٹوں کے رابطوں کا کھوج لگانا، ملک دشمن عناصر اور ان کے سرپرستوں کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے ان کی سرگرمیوں کا کھوج لگانا اور تخریبی سرگرمیوں کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روکنا، ممکن ہو سکے تو دشمن کی صفوں میں اپنے ایجنٹ شامل کرنا یا دشمنوں کے ایجنٹوں کو انہیں کے خلاف استعمال کرنا، ملکی سیاست میں دشمن کے بلاواسطہ یا براہ راست ملوث ہونے پر نظر رکھنا، اس کے پراپیگنڈے، ڈس انفارمیشن اور حوصلہ پست کرنے والی چالوں کی تاک میں رہنا اور ان کا سدباب کرنا، کسی اہم عہدیدار پر عاید کئے گئے الزامات کی تفتیش کرنا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ وہ مجرم ہے یا نہیں، کسی ملک دشمن سرگرمی میں اس کے ملوث ہونے کے مکمل اور ناقابل تردید ثبوت اکٹھے کرنا تاکہ اسے عدالت میں پیش کیا جا سکے، مختلف معلومات کو ایک باقاعدہ طریقہ کار کے مطابق اور منظم انداز میں جمع کرنا، ان کا باریک بینی سے تجزیہ کرنا اور ان معلومات کو بروقت ارباب بست و کشاد تک پہنچانا، حساس اداروں میں کام کرنے والوں کی جانچ پڑتال، ان کی تربیت، انہیں دشمن کے ارادوں سے باخبر رکھنا اور دفاعی اقدامات تجویز کرنا اور دشمن کے لگائے گئے جاسوسی کے خفیہ آلات کا کھوج لگا کر انہیں ناکارہ بنانا شامل ہیں۔ خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے گمنام مجاہدوں کی ان کہی کامیابیاں کیسی تاریخی حیثیت رکھتی ہیں۔

136
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...