سابق نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف کی گزشتہ چار سالہ حکومت کے دوران آئین و قانون سے ماورا انتظامی فیصلے ، ریاستی ایجنڈے پر عمل کرنے کے بجائے ذاتی سیاسی ایجنڈے کو مہمیز دینے کیلئے اہم قومی اداروں میں ذاتی وفاداری کے حامل نا تجربے کار افراد کی تعیناتی اور پھر آئین پاکستان میں ریاستی رو لز آف بزنس اور اسٹیٹ کرافٹس کی بدترین خلاف ورزیوں کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے اراکین کی طاقت سیاسی پارٹی چیف کو منتقل کرنے اور انتہا یہ کہ قانون میں ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے پارلیمنٹ کے انتخاب کیلئے نااہل افراد کو سیاسی پارٹی کا صدر بن کر پارلیمنٹ کی آئینی طاقت استعمال کرنے کی ناقابل فہم ترمیم نے جمہوری آئینی حکومت کی اخلاقی حدوں کو پار کرتے ہوئے ذاتی مجرمانہ آمریت میں تبدیل کرنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بنچ نے متفقہ طور پر میاں نواز شریف کو پارلیمنٹ کی رکنیت کیلئے نااہل قرار دیا تو مسلم لیگ (ن) کے وزرأ کی فوج ظفر موج نے اپنے ریاستی عوامی کام کاج چھوڑ کر نااہل وزیراعظم کے حاشیہ نشین بنتے ہوئے عدالت عظمیٰ اور فوج کے خلاف ایک نا ختم ہونے والی سیاسی مہم جوہی میں کیونکر ملوث ہوئے ہیں؟ حتیٰ کہ نااہل وزیراعظم کی جگہ پارلیمنٹ کی جانب سے منتخب کئے جانے والے نئے قانونی وزیراعظم نے ابھی تک اپنے آپ کو وزیراعظم پاکستان ہی نہیں سمجھا ہے اور ابھی تک سابق نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف کو ہی اپنا وزیراعظم کہنے پر مصر ہیں ۔ اپنے حالیہ بیان میں جو شہہ سرخیوں کیساتھ میڈیا میں شائع ہوا ہے شاہد خاقان عباسی نے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ نواز شریف ہمارے وزیراعظم ہیں اور عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں جائیگا۔ حیرت ہے کہ ابھی چند ماہ کے بعد نئے انتخابات ہونے جا رہے ہیں جبکہ شاہد خاقان عباسی کے وزیراعظم نواز شریف کہتے ہیں کہ عوام نے فیصلہ دے دیا ہے میری نااہلی منظور نہیں سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کو جواب دینا پڑیگا یعنی نواز شریف چاہتے ہیں کہ جیسا بادشاہ ہو ویسا ہی قانون ہو لیکن جمہوریتوں میں ایسا نہیں ہوتا ہے ۔
سابق مشرقی پاکستان کے چیف جسٹس ایس ایم مرشد کا کہنا تھا کہ ” قانون ہم سے وہ کام کرنے کا تقاضا کرتا ہے جو صرف عادلانہ ہی نہیں بلکہ صحیح بھی ہو ۔ لہذا قانون عوام کی سیرت اور اخلاقیات کا مخزن ہوتا ہے ، قانون بذات خود عدل کی تخلیق نہیں کرتا بلکہ قانون کے اطلاق میں عدل کو درآمد کرنا پڑتا ہے” ۔ اِسی طرح مغربی پاکستان کے مشہور سابق چیف جسٹس ایم آر کیانی نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ” میرے جیسے کسی شخص کیلئے جو قانون کی حکمرانی میں غرق ہو اور جس نے ہمیشہ یہ کہا ہو کہ واحد آمریت جس میں وہ یقین رکھتا ہے وہ ہائی کورٹ کی آمریت یعنی ایک عادلانہ آمریت ہے ” ۔
درج بالا تناظر میں جمہوریت کو آمریت سمجھنے والے سابق نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف کی ذاتی مفاد پرستانہ سیاسی سوچ کے پیش نظر ریاستی حکمرانوں کی عوامی سیرت، اخلاقیات اور مسائل پر بے توجہی کو محسوس کرتے ہوئے کہ کہیں اِن مخصوص سیاسی مفادات کے شکنجے میں قوم اور معاشرہ طبعی موت سے پہلے ہی اپنے وجود سے محروم نہ ہوجائے عدلیہ اور فوج نے حکومتی بے راہ روی پر انتہائی صبر و تحمل سے کام لیا ہے۔ البتہ عوامی درد کو حد سے گزرتے دیکھ کر موجودہ چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب جسٹس ثاقب نثار کو کہنا پڑا کہ اگر وزیراعلی سندھ سے باز پرس کی جا سکتی ہے تو وزیراعلی پنجاب کو بھی عدالت عظمیٰ میں بلا کر عوامی مفاد عامہ کے حوالے سے صحت اور تعلیم کے موضوعات پر سوال پوچھے جا سکتے ہیں ۔ جناب چیف جسٹس نے کہا کہ صحت کی سہولتوں کی فراہمی ریاست کی ذمے داری ہے ، سرکاری ہسپتالوں میں دوائی تک میسر نہیں ہے ، مفت ادویات نہیں مل رہی بلکہ عوم کا پیسہ سیاسی تشہیر پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کا مقصد ایکشن لینا نہیں بلکہ سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر بنانا ہے ۔ اگر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام نہ ہوا تو اورنج ٹرین سمیت تمام منصوبے بند کر دیں گے۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور میڈیکل کالجوں میں بڑھتی ہوئی فیسوں کا جائزہ لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے میڈیکل کالجز کمیشن کیلئے عائشہ حامد ایڈوکیٹ کو معاون مقرر کرتے ہوئے فاضل عدالت نے قرار دیا کہ کوئی پرائیویٹ میڈیکل کالج 6 لاکھ 42 ہزار سے زیادہ فیس وصول نہیں کریگا، پرائیویٹ میڈیکل کالج اپنے تین سال ملک کو دیدیں اور کچھ نہ کمائیں تاکہ غریب اور متوسط طبقوں کے بچے بھی ڈاکٹر بن سکیں ۔ چیف جسٹس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہ حکومت ابھی تک اپنی ترجیہات کا تعین کیوں نہیں کر سکی ، شہریوں کو آرسینک اور آلودہ پانی کیوں پلایا جا رہا ہے ؟ سلام سپریم کورٹ کی گلیوں کو جہاں جسٹس ثاقب نثار عوامی فلاح و بہبود کیلئے بخوبی متحرک ہیں۔
حقیقت یہی ہے کہ دنیا بھر کی جمہوریتوں میں عوامی حمایت سے اخلاقی قدروں سے مزین جمہوری تصور عالمی سطح پر انسانی طرزِ زندگی کے خوبصورت آدرشوں میں سے ایک ہے اور انسانی زندگی میں سیاسی اصولِ حکمرانی کی حیثیت اخلاقی عادلانہ تصور دنیا بھر میں انتہائی اہم آدرش کی حیثیت اختیار کر گیا ہے ۔ انسانی زندگی کے اِس اہم اصول کو عوامی امنگوں اور انسانی مساوات کے حوالے سے دنیاوی آلائشوں سے پاک رکھنے کیلئے جمہوریتوں کو آئین و قانون کی اخلاقی اور عادلانہ حکمرانی کے تابع کیا گیا ہے ۔ عام فہم زبان میں جمہویت کو آئین و قانون کی حکمرانی کے حوالے سے” عوام کی حکومت عوام کیلئے ” کے درخشاں اصول سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ انسانی زندگی کے اِس اہم نمونے یا طرزِ حکومت کو آمرانہ طرزِ فکر سے زنگ آلود ہونے سے بچانے اور دنیا بھرمیں اِس کی آب و تاب کو قائم و دائم رکھنے کیلئے جمہوری حکومتیں آئین و قانون کے اصولوں پر عمل درامد کو ممکن بنا کر جمہوری رِٹ کو قائم و دائم رکھتے ہوئے حکمرانوں کی آمرانہ خواہشات کو جمہوری پر غالب آنے سے روکتی ہیں۔ کسی بھی جمہوری حکومت کیلئے کرپشن ، بدانتظامی اور اقربا پروری سمِ قاتل کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ معاشرتی برائیاں نہ صرف جمہوری آبگینوں کو ٹھیس پہنچاتی ہے بلکہ عوام الناس بھی کرپشن آلود نظام سے جلد ہی بے چینی و بیزاری کا شکار ہو کر کرپٹ حکومتوں پر اعتماد کھو بیٹھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری اصولوں پر عوامی اعتماد قائم رکھنے کیلئے دنیا بھر میں جمہوریتیں کرپشن کے خلاف آزادانہ تفتیش و تحقیق کو عادلانہ حوالے سے ممکن بنانے کیلئے کرپشن آلود شخصیتوں کو اقتدار کے منصبوں سے علیحدہ کر دیتی ہیں یا پھر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے اُنہیں اپنے منصبوں سے مستعفی ہونے پر مجبور کر دیتی ہیں ۔ لیکن پاکستان میں سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ میاں نواز شریف کی ذاتی سرپرستی میں حکومت اور وفاقی وزرأ آئین و قانون کی حکمرانی کے اصولی قومی موقف کو اور اپنے سرکاری فرائض سے پہلو تہی اختیار کرکے محض بدعنوانی اور کرپشن کو تحفظ دینے کیلئے اپنی صلاحیتوں کو کیوں ضائع کر رہے ہیں۔کیونکہ ایسی ہی حکومتیں سیاسی بلیک میلنگ کا شکار ہو کر بیرونی دباؤ قبول کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں ۔کیا موجودہ حکمران یہ نہیں جانتے کہ محض اقتدار کی غلام گردشوں میں جاری کرپشن اور بدعنوانی سے عوامی توجہ ہٹانے کیلئے تواتر سے اپنائی جانے والی سیاسی تصادم کی پالیسی ملکی مفادات کیلئے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ ملکی اصلاح احوال کیلئے پہلے ہی قیمتی وقت ضائع ہو چکا ہے ۔ کیا اقتدار کے ایوانوں میں اچھائی کی آواز کو سنا جائے گا ، کیونکہ گجر بج رہا ہے اور اب عوامی انقلاب کے نعرے بھی حکمرانوں کی دہلیز پر دستک دیتے نظر آ رہے ہیں ، بقولِ اقبال
آگ ہے ،اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو ، پھر کسی کا ، امتحاں مقصود ہے !

19
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...