گزشتہ برس امریکا کے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی جسے کچھ امریکی حلقے متنازع بھی قرار دیتے ہیں کے بعد امریکی صدر کے پاکستان مخالف بیانات کے بعد افغانستان کے حالیہ دورے میں امریکی نائب صدر نے بھی پاکستان کے خلاف ایسا ہی دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا ہے جبکہ ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں پاکستانی عسکری قیادت اور بیشتر سیاسی جماعتیں افغان جنگ کو اب پاکستانی سرحدوں کے اندر لانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ پاکستان پر سیاسی اور عسکری دباؤ بڑھانے کیلئے خطے میں امریکا اپنے دفاعی اتحادی بھارت کو جو پہلے ہی کشمیر کنٹرول لائین اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزیوں کیساتھ ساتھ بلوچستان میں بغاوت کو مہمیز دینے کی کوشش کرنے کے علاوہ فاٹا میں کراس بارڈر دہشت گردی میں مصروف ہے کو استعمال کر رہا ہے۔ قومی سلامتی کے حوالے سے موجودہ سیاسی صورتحال ملک میں قومی یکجہتی کی متقاضی ہے جبکہ افواج پاکستان ملک و قوم کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی کے خلاف اندرونی و بیرونی محاذوں پر ملک کی سلامتی کیلئے جرأت رندانہ کیساتھ نبرد آزما ہیں۔ چنانچہ اِس اَمر سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر فوجی جوان اور افسر بیش بہا قربانیاں دے کر خون کے نذرانے قوم کی خدمت میں پیش کررہے ہیں لیکن کچھ سیاسی حلقے صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرنے کے بجائے مخصوص ذاتی مفادات اور کرپشن کو تحفظ دینے کی خاطر قومی یکجہتی کو ہی پارہ پارہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں جس کی تازہ ترین مثال پاناما پیپرز کیس کی بساط پر شریف فیملی کے ایک پیادے خواجہ سعد رفیق کی جانب سے دیکھنے میں آئی ہے۔
خواجہ سعد رفیق کی حماقت آمیز بیمار مزاج (ill mannered) غیر ذمہ دارانہ اور متنازع سیاسی گفتگو سے تو بیشتر سیاسی جماعتیں پہلے ہی شاکی تھیں لیکن ملکی آئین کو پس پشت ڈالتے ہوئے اُنہوں نے اپنی ایک حالیہ غیر پارلیمانی تقریر میں جس دیدہ دلیری سے فوج میں بددلی اور اختلاف رائے کو جنم دینے کی کوشش کی ہے اُس کی مثال نہیں ملتی، پھر اُن کا یہ اصرار کہ اُنہوں نے کوئی غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں دیا ہے بلکہ اُن کی تقریر کا غلط مطلب نکالا گیا ہے ، عذر گناہ بدتر از گناہ کے زمرے میں ہی آتا ہے جبکہ اُن کے باس میاں نواز شریف پہلے ہی عدالتوں میں شریف فیملی کی بیگناہی کے ثبوت فراہم کرنے کے بجائے عدالت عظمیٰ اور افواج پاکستان کے خلاف منظم ڈس انفارمیشن پھیلانے میں مصروف ہیں جبکہ ملک کو قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ خواجہ سعد رفیق کے بیانیہ کے بعد نواز شریف کا یہ کہنا یہ کہ وہ اب گھر میں نہیں بیٹھیں گے اور اپنا پیغام سب تک پہنچائیں گے ، بظاہر بیرونی اشاروں پر مبنی ہی دکھائی دیتا ہے۔ اندریں حالات، فوج میں دراڑیں ڈالنے کے مترادف سعد رفیق کی اِس ناقابل فہم تقریرپر عوام الناس میں پھیلنے والے غلط فہمیوں کی وضاحت کیلئے آئی ایس پی آر کے چیف میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے افغان جنگ کے حوالے سے عسکری نقطہ نظر پیش کیا اور سعد رفیق کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیان غیر ارادی نہیں لگتا کیونکہ اِس میں چین آف کمانڈ کو نشانہ بنایا گیا ہے جس پر تشویش ہے۔ آرمی احترام آئین پر قائم ہے جس کی ہر شہری کو قدر کرنی چاہیے ۔اِس وقت فوج میں کوئی سرکش عناصر موجود نہیں ہیں اور اگر یہ سازش ہے تو اِس کے ثبوت فراہم کئے جائیں کیونکہ فوج ایک منظم اور آئین پر چلنے والا ادارہ ہے جسے آئین تحفظ فراہم کرتا ہے اور موجودہ حالات میں ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ پاکستان کی سلامتی کو لاحق خدشات کے پیش نظر قوم کو یکجہتی کیساتھ ایک ہوجانا چاہیے۔
بہرحال اگر سعد رفیق کے متنازع بیانیہ کی حقیقت حال کو جاننے کی کوشش کی جائے تو اِس اَمر کی بخوبی وضاحت ہو جاتی ہے کہ ڈان لیکس کی طرح اِس بیان کی ڈوریں بھی بیرونی اشاروں کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں۔ کیونکہ اِس سے قبل میاں نواز شریف نے عوام الناس کو یہ کہتے ہئے حیرت میں ڈال دیا تھا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد اُن کی جگہ شہباز شریف وزیراعظم ہونگے جبکہ انتخابات کے نتائج عوام الناس کی مرہون منت ہوتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ اِس اعلان سے قبل پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نے لاہور میں میاں شہباز شریف سے ملاقات کی تھی اور پھر چند روز کے اندر ہی نواز شریف کی جانب سے شہباز شریف کو مستقبل کا وزیراعظم نامزد کر دیا گیا بلکہ غیر متوقع طور پر پنجاب کے وزیراعلیٰ کو لینے کیلئے سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان کے خصوصی جیٹ طیارے نے لاہور میں لینڈ کیا اور شہباز شریف بظاہر اہم معاملات پر گفتگو کیلئے اِس طیارے میں سعودی عرب چلے گئے ہیں۔ کیا پارلیمنٹ کی جانب سے جناب شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم پاکستان منتخب کئے جانے کے بعد اہم گفتگو کیلئے وزیراعلی پنجاب کا سعودی عرب جانے کا کوئی حق بنتا تھا جبکہ بظاہر اِسی نوعیت کی اہم گفتگو کیلئے ترکی کے وزیراعظم بھی سعودی عرب میں موجود تھے جن سے شہباز شریف نے مدینہ میں ملاقات کی؟ خواجہ سعد رفیق فوج کے خلاف متنازع بیان دینے کے بعد بظاہر عمرہ کیلئے شہباز شریف کے پیچھے پیچھے سعودی عرب چلے گئے ہیں جبکہ میڈیا میںیہ قیاس آرائیاں بھی جا ری ہیں کہ نااہل سابق وزیراعظم اور موجودہ صدر مسلم لیگ میاں نواز شریف بھی چند روز میں سعودی عرب جانے والے ہیں ؟
درج بالا تناظر میں پاکستانی سیاسی جماعتیں اور عوام الناس حیران پریشان ہیں کہ سعودی عرب میں ایسی کونسی اہم میٹنگ یا کانفرنس ہونے جا رہی ہے جس میں پاکستانی وزیراعظم کے بجائے شریف فیملی اور اُن کے بغل بچوں کی موجودگی زیادہ ضروری ہے۔ یہ درست ہے کہ سعودی عرب میں شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد شاہ سلمان بن سعود کے بادشاہ بننے کے بعد السعود خاندان کے آخری شہزادے مقرن بن سعود کو کراؤن پرنس مقرر کیا گیا تھا اور یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ صحرائے نجد اور حجاز کو فتح کرنے کے بعدسعودی عرب کے پہلے بادشاہ عبدالعزیز بن السعود کے بعد اُن کے صاحبزادوں کی لمبی فہرست میں شاہ سلیمان بن سعود کے بعد سعودی بادشاہت بل آخر پرنس مقرن کی فیملی میں منتقل ہو جائیگی لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ شاہ سلمان کی جانب سے پرنس مقرن کی جگہ اپنے صاحبزادے محمد بن سلمان کو کراؤن پرنس مقرر کرنیکے بعد مستقبل کی سعودی بادشاہت بل آخر پرنس مقرن کے خاندان کے بجائے شاہ سلمان کے خاندان میں منتقل ہوگئی ہے۔ یہ درست ہے کہ سعودی عرب میں اقتدار کے منصب پر فائز ہونے کے بعد پرنس محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں سعودی مذہبی روایات کے برخلاف ماڈرن اسلام کے حوالے سے انقلابی تبدیلیاں لانی شروع کی ہیں جبکہ سعودی عرب کے اہم شہریوں اور شہزادوں کو کرپشن کے حوالے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ امریکا کو شاہ عبدالعزیز بن سعود کی ابتدائی بادشاہت کے دور سے ہی سعودی عرب کا اقتصادی پارٹنر ہونے کا شرف حاصل ہے چنانچہ قرائین یہی کہتے ہیں کہ پرنس محمد بن سلمان کیلئے سعودی عرب میں اپنے اقتدار کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کیلئے پہلی ترجیح صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی تعلقات قائم کرنا تھی جس کیلئے اُنہوں نے متحدہ امارات میں اپنے دوست یوسف ال عتبہ (Yousef Al Otaiba) جو امریکا میں UAE کے سفیر کے طور پر کام کررہے ہیں اور امریکی صدر اور ریاستی اداروں میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں کو بظاہر استعمال کیا۔ صدر ٹرمپ امریکی عوام سے اپنے انتخابی وعدے پورے کرنے کیلئے امریکہ میں ضخیم سعودی انوسٹمنٹ چاہتے تھے جو پرنس محمد بن سلمان کی کوششوں سے سعودی عرب کیلئے بڑے پیمانے پر امریکی اسلحہ کی خریداری کے حالیہ معاہدے کے ذریعے ممکن ہو چکی ہے چنانچہ صدر ٹرمپ سعودی کراؤن پرنس کو اب اپنے دل کے نزدیک تر پاتے ہیں ۔ سوال یہی ہے کہ کیا امریکی صدر ٹرمپ، پرنس محمد اور یوسف ال عتبہ کی مدد سے پاکستان کو ایک مرتبہ پھر سے افغان جنگ میں ملوث کرنے کیلئے شریف فیملی جن کے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور بھارتی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال سے قریبی دوستانہ تعلقات ہیں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔اِس کے بارے قیاس آرائیاں بیرونی میڈیا میں جاری ہیں لیکن وقت ہی اِس اسرار سے پردہ اُٹھائے گا۔

27
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...