افغانستان گزشتہ تقریباََ چالیس سال سے خانہ جنگی سے دو چار ہے اس دوران دو سُپرپا ورز اس ملک میں داخل ہوئیں، روس آیا تو ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نکلا اور ایسے میں پاکستان افغانیوں کا مددگار بنا اور انہیں اس قابل بنا یا کہ ایک سُپر پاور کو شکست دے سکیں لیکن اس کے بدلے میں پاکستان کو جو نقصان ہوا اس کا ازالہ آج تک نہیں ہو سکا ۔ پاکستان نے تقریباََ تیس سے پچاس لاکھ افغان مہاجرین کو سنبھالا بلکہ آج چالیس سال گزر نے کے بعد بھی یہ مہاجرین یہاں موجود ہیں۔ ان کی دو نسلیں یہیں پیدا اور جوان ہوئیں اور پاکستان کی وہ معیشت جو اپنوں کا بوجھ مشکل سے اٹھاتی ہے ان کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہے۔ دس لاکھآبادی کا پشاور عملی طور پر پندرہ بیس لاکھ کا شہر بنا ہوا ہے اور وہ سہولتیں جو یہاں کی اصل آبادی کے حساب سے مہیا کی جاتی ہیں وہ اس سے کہیں بڑی تعداد کے زیر استعمال ہیں ۔ یہی حال کم و بیش دوسرے شہروں کا بھی ہے۔ روس گیا لیکن مسلسل جاری خانہ جنگی کے باعث یہ مہاجر واپس اپنے ملک نہیں جا سکے، واپس نہ جائے کی دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ یہ لوگ پاکستان میں زیادہ بہتر شہری سہولیات حاصل کر رہے ہیں۔ روس کے بعد امریکہ افغانستان میں اسامہ بن لادن کا پیچھا کرتے ہوئے داخل ہوا اور ایک شخص کی تلاش میں اس نے پورے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی افغان ایک بار پھر بموں کی بارش کے نیچے آگئے اور واپس گئے ہوئے افغان بھی ایک بار پھر واپس پلٹ آئے اور اس بار تو دہشت گردی کی ایسی لہر لے کر آئے کہ جس میں ہزاروں پاکستانی فوجی اور شہری شہید ہوئے مال اور املاک کا الگ نقصان ہوا اور ہم نے بطور معاشرہ جو نقصان اٹھایا اس کا اندازہ لگانے کے لیے تو کوئی پیمانہ ہی نہیں لیکن اِن تمام قربانیوں کے باوجود جو پاکستان نے افغانستان کے لیے دیں افغانستان کی کٹھ پتلی حکومتیں اکثر اوقات احسان فراموشی کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان کے خلاف زبان دراز کرتی ہیں اور اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے تحت الزامات کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے اور کہہ دیا جاتا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کو پاکستان میں پناہ حاصل ہے۔ ہم مانتے ہیں افغانستان یہ سب کچھ بھارت کی ایماء پر اس کی زبان منہ میں رکھ کر بولتا ہے لیکن اگر وہ خود کو آزاد اور خود مختار کہتا اور تصور کر تا ہے تو اسے مان لینا چاہیے کہ بھارت جو اپنے ملک کے مسلمانوں کو ان کے حقوق نہیں دے رہا اوران کے مذہبی فرائض کی ادائیگی کی راہ میں مسائل پیدا کر تا ہے پچھلے ہی دنوں ایک نمازی کو شہید کر کے ہندوقاتل اُس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر دے کرمسلمانوں کے خلاف چندہ جمع کرتا ہے اور چند دنوں میں تین لاکھ روپے مسلمانوں کے خلاف جمع کر بھی لیتا ہے، جہاں مسجدوں کو حکومت کی ایما ء پر شہید کر کے اُسے رام کی جنم بھومی قرار دے دیا جاتا ہے اس ملک کو مسلمان افغانستان کا درد کیسے تڑپاتا ہے کہ وہ بھارت سے اُٹھ کر، پاکستان کی ’’دشمن سر زمین‘‘ کو پار کر کے افغانیوں کی خدمت کے لیے افغانستان پہنچ جاتا ہے اور وہاں تعمیر نو کا ٹھیکیدار بن جاتا ہے، کیاان تمام عوامل اور پس منظر کو سامنے رکھ کر یہ واضح نہیں ہو جاتا کہ وہ افغانستان کی محبت اور دوستی میں نہیں پاکستان کی نفرت اور دشمنی میں افغانستان پہنچا ہے تا کہ اس طرف سے بھی وار کر سکے ۔وہ افغانستان میں وہ گھناؤنا کھیل کھیل رہا ہے کہ جس کے اثرات افغانیوں کی نسلوں تک جائیں گے، وہ انہیں پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور یوں تاریخی ، جغرافیائی ،نسلی اور سب سے بڑھ کر مذہبی رشتوں میں بندھے ہوئے دو پڑوسی ممالک کے درمیان ایسی نفرت پیدا کر رہا ہے کہ اگر اس پر ابھی قابو نہیں پایا گیا تو یہ دہائیوں تک ختم نہ ہو گی۔ایک طرف وہ افغانستان ہی کے راستے اور افغانیوں کو ہی دہشت گرد بنا کر پاکستان بھیج کر دہشت گردی کراتا ہے اور دوسری طرف پاکستان کے خونی طالبان اور ملا فضل اللہ جیسے درندوں کو افغانستان میں پناہ گاہوں میں محفوظ رکھتا ہے لیکن پھر بھی اس کے آقا امریکہ اورچیلے افغانستان کا الزام یہ ہوتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گا ہے اور وہ افغانستان میں ان کی مدد کرتا ہے ۔ابھی حال ہی میں وردک میدان صوبے میں ایک ہسپتال کا پتہ چلا ہے جو جدید سہولیات سے آراستہ ہے اور افغان ذرائع نے اسے طالبان کے علاج معالجے سے وابستہ قرار دیا لیکن طالبان نے اس بات کا انکار کیا اور کہا کہ یہ مقامی آبادی کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے والا ایک کلینک ہے اور ریڈ کراس سے منظور شدہ ہے اب اگر ایک بین الاقوامی طور پر منظور شدہ ہسپتال طالبان کا علاج کر رہا ہے تو افغان حکومت کیا کر رہی ہے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا حامل امریکہ اور افغان حکومت کا غمخواربھارت کیا کر رہا ہے یا اِن لوگو ں نے ملا فضل اللہ کی طرح افغان طا لبان کے اِس ٹھکانے سے بھی آنکھیں بند کر رکھی ہیں تا کہ وہاں اپنی موجودگی اور قیام کی وجوہات برقرار رکھ سکے۔ بھارت افغانستان میں اپنی مو جودگی کو صرف ترقیاتی اور تعمیر نو کے کاموں تک محدود بتا تا ہے لیکن ایسا ہے نہیں وہ کھل کر افغان طالبان کے خلاف نہیں آتا لیکن اب اُس کی یہ کاروائیاں اور کردار بھی ظاہر ہو رہا ہے۔ وہ اس میدان کا پُرانا کھلاڑی ہے جس کا کامیاب تجربہ اُس نے مکتی باہنی کی صورت میں مشرقی پاکستان میں کیا تھااور اب وہ افغانستان میں طالبان کے خلاف اپنے فوجی ماہرین کا استعمال کر رہا ہے اورافغان حکومت نے اُسے اپنی سلطنت برقرار رکھنے کے لیے اپنے ہی ملک میں دہشت گردی کا لائسنس جاری کیا ہوا ہے ، ایسے ہی کچھ بھارتی باشندے بمعہ ملٹری انٹیلیجنس کے دو کارندوں کے صوبہ ہلمند کے ضلع گرم سیئر کے ایک امریکی کیمپ میں موجود ہیں اور طالبان کے خلاف عملاََ برسرِپیکار ہیں جبکہ بھارت اس بات سے انکاری ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی فوجی کاروائیوں میں ملوث ہے اس طرح وہ افغان طا لبان سے بھی خود کو محفوظ رکھتا ہے اور پاکستانی طا لبان کا تو وہ ویسے ہی والی وارث ہے۔
بھارت اسلام اور مسلمانوں کا دشمن توہے ہی اور وہ اپنا کام کر رہا ہے ایک طرف اس نے اپناپورا زور صرف کر دیا ہے کہ وہ خود اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائے،اس کا کردار کشمیر میں بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اور پاکستان میں بھی بلکہ اُس کی اپنی مسلمان آبادی جس طرح ہندو اکثریت کے ظلم وستم کا شکار رہتی ہے وہ خود دنیا کے سامنے بھارت کے سیکولرازم کا پردہ چاک کرنے کو کافی ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کے بیچ میں نفرت کے بیج بوتا ہے۔یہی کام وہ اس وقت خطے میں کر رہا ہے لیکن ضرورت تو اس امر کی ہے کہ مسلمان اس سازش کو سمجھیں ۔ کیا ایران نہیں جانتا کہ بھارت اس کی بندرگاہ کی تعمیر و ترقی میں دلچسپی کیوں لے رہا ہے،اسے نہ ایران کی فکر ہے نہ افغانستان کی ، وہ اگر چاہ بہار بنا رہا ہے اور زرنج دلارآم روڈ تعمیر کر رہا تو صرف اور صرف گوادر کو ناکام کرنے کے لیے اُسے مسلمان ایران اور مسلمان افغانستان کی فکر نہیں۔وہ اگر افغانستان میں تعمیرات کر رہا ہے تو اسے وہاں کی ترقی سے کوئی غرض نہیں،وہ اگر تعلیمی ادارے بنا رہا ہے تو افغانیوں کو پڑھانے نہیں بلکہ ان کے ذہنوں کو تبدیل کرنے کے لیے جس کی ابھی ابتداء ہوئی ہے۔ افغان حکومت تو مکمل طور پر بھارت کے چنگل میں آچکی ہے لیکن عوام کو ہی ہوشمندی سے کام لینا چاہیے اور اپنی حکومت کو بھی یاد دلا دینا چاہیے کہ جب افغان روس کے مظالم سے بھاگے تو اِنہیں بھارت نے نہیں پاکستان نے سمیٹا ،پھر جب امریکہ اس پر چڑھ دوڑا تو پھر اسی پاکستان نے ان افغانوں کو اپنی زمین پر پناہ دی اور آج بھی لا کھوں افغان پاکستان کے مختلف شہروں میں موجود ہیں اور تمام شہری سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔پاکستان نہ صرف اِن کا معاشی بوجھ اُٹھائے ہوئے ہے بلکہ اسی مسئلے کی وجہ سے دہشت گردی کی زد میں ہے۔پاکستان نے اسی افغانستان کو بچاتے بچاتے اپنے ہزاروں شہریوں کی قربانی دی ،ہمارے فوجی جوان اور افسر شہید ہوئے لیکن پھر بھی نہ امریکی مشکور ہوئے نہ افغان،بلکہ مسلسل ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ اور بے بنیاد الزامات کاہی سلسلہ جاری رہا اور اب بھی ہے لیکن افغانستان کو اب اپنے مستقبل کی فکر بھی کر لینی چاہیے اور ہندو سازشوں کے آگے بند بھی باندھ لینا چاہیے بجائے بھارت کا آلہء کار بننے کے اپنی ترقی پر توجہ مرکوز کر لینی چاہیے اور اپنے عوام کی بھلائی پر کام کرنا چاہیے ۔بد امنی اگر افغان مہاجرین کے واپس نہ جانے کی ایک وجہ ہے تو دوسری یقیناًسہولتوں کا ناپید ہونا ہے تو کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ افغانستان بھارت سے جان چھڑائے،دہشت گردی کو ختم کرے اور نہ صرف اپنی سرزمین پر امن قائم کرے بلکہ پڑوسیوں کو بھی سکون کا سانس لینے دے اور دنیا کو بھی واپس ایک پُرامن جگہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

233
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...