ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی اور انگریز ملک پر قابض ہوا تو ساتھ ہی ہندو اس کا دست راست بن گیا۔ مسلمانوں نے کچھ عرصہ کی خواب غفلت کے بعد جب انگریز آقا سے آزادی کی تحریک شروع کی تو ساتھ ہی ہندو کی سازشیں بھی شروع ہوگئیں اس کا منصوبہ یہ تھا کہ انگریز جائے تو حکومت اُس کے حوالے کرے لیکن جب قائدعظم کی قیادت میں مسلمانان ہند کی ثابت قدمی نے انہیں ہار ماننے پر مجبور کر دیا اور ہندوستان کے کروڑوں مسلمان اپنے اکثریتی علاقوں میں ایک علحدہ ملک حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو ہندو نے اپنی سازشیں بھی تیز کر دیں جوتا حال جاری ہیں اور ہمیں آج بھی اس کا توڑ کرنے کے لیے مسلسل ہو شیار رہنا ہے کیونکہ ہم اپنی اس بے احتیاطی اور غیر ذمہ داری کی وجہ سے ایک ایسا نقصان اٹھا چکے ہیں جس کا ازالہ ممکن نہیں۔پاکستان اپنے قیام کے وقت مغربی اور مشرقی حصوں پر مشتمل تھا دونوں حصوں میں ایک ہزار میل سے زیادہ فاصلہ تھا اور درمیان میں وہ دشمن ملک تھا جس نے روزِ اول سے ہی پاکستان کے قیام کو نہ صرف یہ کہ تسلیم نہیں کیا تھا بلکہ اس کے خلاف اپنی تمام توانائیاں صرف کر رہا تھا۔اپنی اس ذہنیت کو استعمال کرتے ہوئے اُس نے پاکستان کے مشرقی حصے میں اپنی خفیہ کاروائیاں شروع کیں اور اس کا یہ کام آسان یو ں ہوا کہ مشرقی پاکستان تین اطراف سے اسی دشمن ملک میں گھرا ہوا تھااور دنیا کی پانچویں بڑی زمینی سرحد جس کی لمبائی 4096 کلومیٹر ہے سے اس سے جڑا ہو تھا۔ اسی طرح اس کی سمندری حدود بھی مکمل طور پر بھارت کی دسترس میں تھیں جبکہ مغربی پاکستان سے اس کا سمندری فاصلہ کئی دن کی مسافت پر تھا۔ ان طویل سرحدوں کی وجہ سے بھارت کے لیے مشرقی پاکستان میں جغرافیائی اور نظریاتی مداخلت بہت آسان تھی اور وہ یہ کرتا رہا۔وہ مشرقی پاکستانیوں کے ذہنوں میں زہر اُتارتا رہا اورمولانا بھاشانی اور شیخ مجیب جیسے کرداراسے میسر آتے رہے اور وہ اُنہیں استعمال کرتا رہا۔ملک کے دو حصوں میں دوری آتی رہی اور وہ اس خلیج کو بڑھاتا رہا۔کچھ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی بھی غلطیاں تھیں جنہوں نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور شکایات کو دور کرنے کی کوشش کی بجائے اُنہیں چھپایا جاتا رہا۔1970میں الیکشن ہوئے تو ہمارے کچھ عظیم سیاستدانوں نے ’’اِدھر ہم اُدھر تم‘‘ کا نعرہ لگا کر گویا خود ہی متحدہ پاکستان کی مخالفت کر دی اور ایساصرف حصولِ اقتدار کے لیے کیا گیا۔اُدھر شیخ مجیب کی اپنے آقاؤں کے ساتھ مل کر سازشیں بڑھتی رہیں اور اِدھر حکومت حاصل کرنے کے مختلف طریقے ڈھونڈے جاتے رہے اور بھارت مشرقی پاکستان میں خونی کھیل کی منصوبہ بندی اور تیاری کرتا رہا۔خفیہ کارندوں سے کام لینے کے ساتھ اُس نے اب اپنے پالے اورسدھائے ہوئے مُکتی باہنی کے غنڈوں سے سرِعام کا م لینا شروع کیا ۔وہ بھارت جہاں روزِاول سے ہی مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں اور خود نچلی ذات کے ہندؤں اور دلتوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے اُس نے مشرقی پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا شور اُٹھا یااور اس کی آڑ لے کرباقاعدہ حملہ کر دیا۔بھارت اور اس کی پالتو مُکتی باہنی نے مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے غریب مزدوروں اور کاریگر طبقے پر جو مظالم کیے وہ سفاکی کی وہ عظیم داستان ہے جسے سن کر روح کانپ جاتی ہے، مِلوں میں جس طرح ان کا قتلِ عام کیا گیا ، گھروں اور سڑکوں پر اِنہیں جیسے مارا گیا وہ کسی بھی طرح انسا نیت کے زمرے میں نہیں آتا۔ہزاروں بنگالی مسلمان بھی مارے گئے لیکن کچھ نہ ہوا تو اُن غدار لیڈروں کو نہ ہوا جو عام شہریوں کو لڑاتے رہے اور خود قلعہ بند ہو کر تماشہ دیکھتے رہے۔ 3دسمبر1971کوبھارت براہ راست اس جنگ میں کودا اور پھر خون کی ندیاں بہاتا گیا۔بھارت کا ایک دوسرے ملک میں یوں براہ راست مداخلت بذاتِ خود ایک جرم ہے لیکن اُس نے یہ کیا اور دونوں طرف کے مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلتا رہا اور پھر 16 دسمبر1971کو اس خون آشام جنگ کا اختتام ہوا تو بنگلہ دیش بن گیا اور پاکستان دو لخت ہو گیا۔سولہ دسمبراب بھی آتا ہے اور ہمیں دشمن کی چالوں سے باخبر رہنے کا ایک پیغام دیتا ہے۔اس دن کو ہم بھولتے جارہے ہیں کہ ہماری تاریخ ایک ایسے اندوہناک دور سے بھی گزری ہے۔ جب یہ سب ہوا تو اُس وقت تو ہم ایک اعصاب شکن سکتے کی صورتِ حال سے دو چار رہے اور جب اِس صدمے سے نکلے تو ایک بار پھر خود کو اُنہی سرگرمیوں میں اُلجھا لیا، پھر بھائی بھائی کا دشمن اور بدخواہ بن گیا ۔ہم آج بھی علا قائیت اور صوبائیت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے دشمن کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ اپنا حربہ آزمانے کی کوشش کرے۔ہمیں اپنی نئی نسل تک دشمن کی چالا کیوں اور اپنی کوتاہوں کی خبر ضرور پہنچانی ہے تاکہ ہم دوبارہ نہ خود ایسی غلطی کریں اور نہ ہی دشمن کو موقع دیں کہ وہ اپنی چال چلے۔ اپنی اس ناکامی کے لیے تو ہمارے پاس ایک عذر لنگ ہے کہ مشرقی پاکستان کا ہم سے زمینی رابطہ نہیں تھا درست ہے کہ فاصلہ بہت تھا تین طرف سے دشمن ملک سے گھرا ہوا بھی تھا لیکن ہمارے موجودہ جغرافیے میں ایسا کچھ نہیں ۔عذر تو تب بھی ماننے کے قابل نہیں تھا کیونکہ مسلماناںِ ہند نے پاکستان نظریے کی بنیاد پر بنایا تھااور نظریے یوں ٹوٹتے نہیں کہ بقول اندرا گاندھی اُسے بحیرۂ عرب میں غرق کر دیا گیا نظریہ غرق تو نہ ہو سکا کہ بنگلہ دیش بھی اسلامی ملک ہی بنا لیکن ہماری بنیادیں ضرور ہلا دی گئی جس کو قابو کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت تھی ۔عام آدمی تو آج بھی اس نظریے پر قائم ہے اُس کی پاکستان سے محبت کسی بھی شک و شبہے سے بالاتر ہے، ہمارے اربابِ اختیار کی ملک سے محبت پر بھی شک نہیں لیکن مفادات میں تقدیم پر ضرور ہے کہ جب ان کے ذاتی اور قومی مفادات کا ٹکراؤ ہو تا ہے تو اِن کو ہربار اپنا ذاتی مفاد عزیز ہو جا تا ہے اگر ہم عوام اپنے حکمرانوں کو یہ رویہ سکھا دیں کہ پہلے ملک ہے پھر ذات ہے اور اِن کو اِن کی دانستہ غلطیوں کی سزا دے سکیں تو ہم انشاء اللہ دوبارہ اس قسم کے سانحے دوچار نہیں ہو سکیں گے۔ پاکستان ہم سب کا ہے اور اس کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفا ظت بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے لہٰذا ہمیں اپنے اپنے محاذ پر ڈٹ جا نا چاہیے اللہ تعالیٰ ضرور ہماری مدد اور حفاظت فرمائے گا اور دشمن ضرور ناکام ہوگا چاہے وہ کتنا ہی چالاک اور طاقتور ہو۔

122
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...