قارئین کرام ! امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکی صدر بین الاقوامی امور میں تواتر سے ایسے انتہا پسندانہ متنازع فیصلے کر رہے ہیں جن سے محسوس ہوتا ہے کہ نہ تو اُنہیں بنیادی انسانی حقوق سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی وہ دنیا کو امن و امان کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں۔ اُن کا بیت المقدس کو اسرئیل کا دارلحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ منتقل کرنے کا موجودہ متنازع فیصلہ دراصل جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر کی نازی ازم کی نسل پرست اور جبریت پسند پالیسی کی غمازی کرتا ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سابق امریکی صدور کی جانب سے عرب ممالک سے کئے جانے والے وعدوں کے برخلاف گزشتہ روز (7 دسمبر2017 ) اُن کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس (مسلمانوں کا قبلہ اوّل) کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کے احمقانہ فیصلے نے مسلم دنیا میں ہلچل مچا دی ہے ۔ دسمبر 1947 میں امریکی حمایت سے فلسطین کو دو غیر متوازن ریاستوں میں تقسیم کرنے کی قرارداد کی منظوری پر خود امریکی کانگریس کے ایک باضمیر رکن لارنس ایچ سمتھ نے امریکی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ فلسطین کے حوالے سے قرارداد کی منظوری کیلئے امریکی حکومت اور پرائیویٹ امریکی شہریوں (جن سے مراد امریکا میں یہودی لابی ہے ) نے فلپائن ، لائبیریا اور ہیٹی کی حکومتوں پر اِس قراردا کے حق میں ووٹ لینے کیلئے(بظاہر سیاسی و مالی) دباؤ ڈالا تھا کیونکہ اِن حکومتوں نے اِس سے قبل ہونے والی رائے شماری میں اِس قرارداد کے خلاف ووٹ ڈالا تھا۔ چنانچہ، دسمبر 1947 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد نمبر 181( جسے 29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا ) کے بعد آج تک امریکا کے کسی بھی صدر نے ایسا انتہا پسندانہ متنازع فیصلہ کرنے سے ہمیشہ گریز کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے دو ریاستی پالیسی پر گفت و شنید کے نا ختم ہونے والے پروسس کو ہی جاری رکھا تھا جسے رونلڈ ٹرمپ نے غیر ضروری طور پر چھیڑ کر دنیا کو دہشت گردی اور امن و امان کے ایک نئے مسئلے سے دوچار کردیا ہے ۔
ماضی میں صدر بش کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے سے لیکر صدر اُبامہ کے آٹھ سالہ دور صدارت میں بھی فلسطینی لیڈرشپ اور اسرائیل کے درمیان اِسی بات چیت کے پروسس کو جاری رکھا گیا تھاجس کا تذکرہ بارک اُبامہ نے امریکا کے صدارتی انتخابات سے قبل 2006 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ” جرأت اُمید” The Audacity of Hope جسے امریکی تاریخ میں تازہ ہوا کے جھونکے کے مترادف قراردیا گیا تھا، میں بخوبی کیا ہے۔ صدر بارک اُبامہ نے قاہرہ یونیورسٹی میں 6 جون 2009 میں اسلامی دنیا اور امریکا تعلقات کے ضمن میں اچھائی کی اِسی آواز کو بلند کرتے ہوئے جہاں اسلامی دنیا پر امریکا اسرائیل اٹوٹ تعلقات کو سمجھنے پر زور دیا تھا وہاں اُنہوں نے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ جس طرح اسرائیل کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا اِسی طرح فلسطین کے حق کو بھی چھینا نہیں جا سکتا ۔اُنہوں نے اسرائیل پر فلسطین کے وجود کو تسلیم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کو ممکن بنانے کیلئے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کے توسیعی عمل کو روکنا ہوگا کیونکہ اِس کے بغیر عرب اسرائیل تنازع میں پیش رفت ممکن نہیں ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ بارک اُبامہ کی فکر اُنہیں فلسطین میں اقوام متحدہ کی بظاہر نامنصفانہ تقسیمِ فلسطین کی قرارداد کے نزدیک تر لے آئی تھی جب اُنہوں نے کہا کہ اُنہیں اُس لمحے کیلئے مل جل کر کام کرنا ہوگا جب اسرائیل اور فلسطین کی مائیں اپنے بچوں کو خوف و ہراس کے بغیر پلتے دیکھیں گی اور جب دنیا کے تین بڑے مذاہب یعنی اسلام ، عیسائیت اوریہودیت کی یہ مقدس سرزمین امن کی پناہ گاہ بن جائے گی اور جب یروشلم مسلمانوں ، یہودیوں اور عیسائیوں کیلئے ایک محفوظ گھر بن جائے گا۔ درحقیقت ، اِس سے قبل عربوں کے تحفظات میں کچھ تبدیلی نائین الیون کے بعد اعلان ریاض کے ذریعے بھی سامنے آئی تھی جسے بیت المقدس کی بین الاقوامی حیثیت اور لاکھوں فلسطینیوں کی فلسطین میں اپنے گھروں کو واپسی سے مشروط کیا گیا تھاچنانچہ 2002 میں بیروت میں منعقد ہونے والی عرب ملکوں کی کانفرنس میں اعلان ریاض کو عرب ملکوں کے مشترکہ موقف کے طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا ۔ جس کی باز گشت 2006 میں بارک اُبامہ کی کتاب اور 2009 میں قاہرہ یونیورٹی میں اُن کے خطاب میں عرب اسرائیل تعلقات میں پیش رفت کی ممکنات کی صورت میں سامنے آئی تھی لیکن صد افسوس کہ ماضی کے امریکی صدور کی پالیسی کے برخلاف موجودہ صدر امریکا ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امن و امان کو بہتر بنانے کے بجائے دنیا میں دہشت گردی کے ارتقا کی نئی بنیاد ہی رکھ دی ہے جو قابل مذمت ہے۔ ماضی میں فلسطینیوں پر جاری و ساری اسرائیلی دہشت پسندانہ ظلم و ستم نے ہی فلسطین میں آزادی کی تحریکوں نے جنم لیا تھا۔ اِسی ضمن میں حماس کی جانب سے نئی انتفادہ چلانے کا اعلان ، مقبوضہ فلسطین میں ہڑتال اور امریکی صدر کے پتلے اور پرچم نظر آتش کئے جانے پر روسی ترجمان کا کہنا کہ صدر ٹرمپ کے اعلان سے مشرق وسطیٰ میں امن و امان کیلئے نئے خطرات بڑھ جائیں گے بھی معنی خیز ہے۔
دریں اثنا ،امریکا کے وزیر خارجہ ٹلرسن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے یہ فیصلہ کرکے امریکی عوام کی خواہش کو پورا کیا ہے، محض عذر گناہ بدتر از گناہ کے مترادف ہے۔ دراصل ٹلرسن نے امریکا میں یہودی لابی کی محض 5 فی صد آبادی جسے امریکی میڈیا اور مالی اداروں میں مافیا ئی حیثیت حاصل ہے کی خواہشات کو امریکی عوام کے پیچھے چھپانے کی ناکام کوشش کی ہے کیونکہ امریکی عوام کی ایک بڑی اکثریت کو ایسے کسی فیصلے سے دلچسپی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا کے یورپی اتحادی ملکوں اور سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جبکہ کینیڈا اور برطانیہ نے اپنے سفارت خانے بیت المقدس نہ منتقل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی فیصلے کی مذمت کی ہے۔ یہ درست ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تشکیل میں کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنے کی طاقت بشمول امریکا پانچ ملکوں کو حاصل ہے لہذا سلامتی کونسل میں امریکا کے اِس ظالمانہ فیصلے پر کسی تبدیلی کی اُمید نہیں ہے ۔ البتہ سلامتی کونسل میں ناکامی کے بعد اگر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ معاملہ پیش کیا گیا تو اِس کے اثرات امریکی پالیسیوں کی سخت سرزنش کی شکل میں سامنے آ سکتے ہیں۔ بہرحال بیت المقدس اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا معاملہ بدستور اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے لیکن اسرائیل مسلمانوں کے قبلہ اوّل اور فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے اقوام متحدہ کی درجنوں قراردادوں پر عمل درامد کے حوالے سے آج بھی گریزاں ہے ۔ سوال یہی ہے کہ کیا مشرق وسطیٰ میں امن و امان کے ایجنڈے سے انحراف کرتے ہوئے صدر ٹرمپ مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کو منتقل کرکے اسرائیل کی جانب سے ہٹلر کی نازی ازم کی نسل پرست و جبریت پرست ظالمانہ پالیسی کو ہی تقویت پہنچانا چاہتے ہیں ؟
قارئین کرام ! یہ درست ہے کہ القدس کی سرزمین کا شمار مسلمانوں عیسائیوں اور یہودیوں کی مذہبی فکر کے لحاظ سے انتہائی قابل احترام خطے میں ہوتا ہے لیکن تحریکِ صہیونیت کے انتہا پسند لسانی ایجنڈے سے سرشار اسرائیلی سیاسی لیڈرشپ فلسطین کے چپے چپے پر اپنا سامراجی پرچم لہرانے کیلئے ہٹلر کی نسل پرست اور جبریت پسندپالیسی کو اپنائے ہوئے ہے ۔ حیرت ہے کہ جس ظلم و جبر کا نشانہ نازی ازم نے یورپ میں یہودیوں کو بنایا تھا اُس کا بدلہ ہٹلر کی ظالمانہ پالیسی کو اپنا کر اسرائیلی صیہونی قیادت جمہوری آزادی کے خواہش مند فلسطینیوں سے اُن کے اپنے وطن میں لے رہا ہے۔ کیا امریکا کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نہیں جانتے کہ اُن کی جانب سے امریکی سفارت خانے کو القدس شہر میں منتقلی کے متنازع اعلان کے بعد فلسطینیوں کی احتجاجی ریلیوں کو گسٹاپو انداز میں کچلنے کیلئے نہتے فلسطینیوں کی احتجاجی ریلی پر اسرائیلی فوج کے گسٹاپو ٹائپ ونگ نے بمباری اور گولیوں کی بوچھاڑ کرنے سے گریز نہیں کیا ہے جس میں کچھ فلسطینی شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ کیا ڈونلڈ ٹرمپ نہیں جانتے کہ فلسطین کی سرزمین مسلمانوں کا قبلۂ اوّل ہونے کے ناتے عیسائیوں اور یہودیوں کی مذہبی فکر سے کم تر نہیں ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اِس اَمر کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسرائیل کی صیہونی لیڈرشپ کی جانب سے 1969 میں بیت المقدس کی بے حرمتی کرنے اور مقدس مسجد میں آگ لگانے کے سنگین واقعات کے بعد ہی مراکش کے شاہ حسن دوم نے القدس کی مقدس حیثیت اور اسلامی تہذیبی ورثے کے تحفظ کیلئے مراکش کے دارلحکومت رباط میں پہلی اسلامی سربراہ کانفرنس طلب کی تھی۔ اِس موقع پر شاہ مراکش کے اِس بیان کو بھلایا نہیں جا سکتا ہے جس میں اُنہوں نے کہا تھا : “The city of Al-Quds, which was during the era of Islamic rule before its capture by the Zionists, a place in which people lived together in harmony whatever their religions and beliefs and where people attended to their religious affairs under the auspieces of tolerance, freedom, security and peace, has become, since usurpation and occupation, a victim of tyrannical administration, an object of oppressive domination and a place where the Zionist usurper is causing haoc through judaization, transpformation and mutilation Islamic religious, historical and cultural sites.”
قارئین کرام ، ظلم و ستم کا جو بازار فلسطینی عربوں کیساتھ برطانوی انتداب کے دور حکومت میں روا رکھا گیا ، فلسطین میں صیہونی ریاست اسرائیل کے قیام کے بعد اِس میں کئی گنا اضافہ ہو گیاہے جس نے آج کے جدید جمہوری دور میں بھی ریاستی جبریت کو نام نہاد دہشت گردی کے حوالے سے انتہا تک پہنچا دیا ہے جس کا اظہار کبھی کبھی باضمیر مغربی صحافیوں کی جانب سے بھی میڈیا میں کیا جاتا رہا ہے ۔ یہ درست ہے کہ وقت گزرنے کیساتھ اقوا�أ عالم کے دباؤ پر کچھ فلسطینی علاقوں کو اندرونی خودمختاری سے نوازنے کا اعلان کیا گیا لیکن اِن علاقوں اور لبنان میں آباد فلسطینی مہاجروں پر بھی اسرائیلی جبریت اور ظلم و ستم کے واقعات بہرحال ایک تسلسل سے جاری ہیں جن میں فلسطینی خواتین اور بچوں کیساتھ انتہائی ناروا سلوک شامل ہے ۔ فلسطینیوں پر اسرائیل جبریت اور ظالمانہ سلوک کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوجی فلسطینی عوام کوانسان ہی نہیں سمجھتے ہیں چنانچہ ایسے ہی انسانیت سے گرے ہوئے واقعات کی روشنی میں کبھی کبھی مغربی صحافیوں کا ضمیر بھی جاگ اُٹھتا ہے۔ غالباً ایسے ہی کسی ایک منظر نامے میں چند برس قبل واشنگٹن پوسٹ کے سٹاف رائٹر ہاورڈ کرٹس نے اپنے ایک اداراتی مقالے “Sneaking into Beruit” میں سوال قائم کیا تھا کہ “ایسا کیوں ہے کہ امریکہ کے علاوہ محض اسرائیل کو ہی سخت اور جارحانہ اقدامات اُٹھانے کی اجازت ہے جبکہ کسی اور کو اِس کا جواب دینے کی بھی اجازت نہیں ہے اور اگر کسی کے ہواس قائم ہیں اور وہ فائیٹ بیک کرتا ہے تو کیا وہ دہشت گردی کر رہے ہیں ؟ میں حیران ہوں کہ ہم میں سے کتنے امریکی ایسے دہشت گرد بن جائیں گے اگر ہم پر حملہ کیا جائے اور ہم پر ایک غیر ملک قبضہ کرلے؟ حقیقت یہی ہے کہ مغربی معاشرے میں جہاں ہر سمت صیہونیت کی دولت اور سیاسی سازشوں کا بھوت رواں دواں ہے وہاں ہاورڈ کرٹس کی جانب سے یہ مشکل سوال قائم کرنا ہی یقیناًاچھائی کی آواز میں شمار ہوگا۔
درج بالا تناظر میں کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران اُس وقت کی مغربی سپر پاور برطانیہ نے سازشی ڈپلومیسی کے تحت ایک جانب تو عرب ممالک کو آزادی دینے کا وعدہ کرکے عرب مقتدر قوتوں کو عثمانی ترکوں کی سلطنت(خلافت عثمانیہ) کے خلاف بغاوت پر اُکسایا تو دوسری جانب جنگ عظیم میں صیہونیوں کی مالی امداد کے عوض فلسطین میں یہودیوں کا قومی گھر بنانے کا اعلان کیااور تیسری جانب برطانیہ نے یورپی اتحادی طاقت فرانس کیساتھ خفیہ سائیکی پیکٹ معاہدے کے تحت آزاد ہونے والے مسلم ممالک کی آپس میں بند ربانٹ کرلی۔ اِسی طرح جب نومبر 1917 میں برطانوی فوجیں فلسطین میں داخل ہوئیں تو 2 نومبر 1917 میں برطانبوی وزیر خارجہ مسٹر بل فور نے فلسطین میں یہودیوں کا قومی گھر بنانے کا اعلان کر دیا۔ کیا یہ انتظامی اخلاقی معیار کی بدترین مثال نہیں ہے ؟ چنانچہ 1917 سے 1948 تک فلسطین پر برطانوی فوجیں قابض رہیں ۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب برطانوی فوجیں عثمانی ترکوں کی جگہ فلسطین میں داخل ہوئیں تو اُس وقت فلسطین میں یہودیوں کی تعداد کل آبادی کا محض 8 فی صد تھی، عیسائی تقریباً دس فی صد اور 80 فی صد سے زیادہ عربی مسلمان تھے۔ برطانوی فوج کی مقبوضہ فلسطین میں موجودگی کے دوران یورپ اور روس سے یہودیوں کو لا کر نہ صرف فلسطین میں بسایا گیا بلکہ اُنہیں ملٹری تربیت دیکر ہتھیاروں سے بھی مسلح کیا گیا۔ لیکن ان تمام غیر اخلاقی اقدامات کے باوجود 1948 میں فلسطین سے برطانوی انتداب کی واپسی کے موقع پر فلسطین میں یہودیوں کی کل آبادی 33 فی صد سے زیادہ نہیں تھی چنانچہ فلسطینی عربوں کی اکثریت کو آزادی کی دولت سے مزین کرنے کے بجائے نومبر1947 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی غیر متوازن تقسیم کر دی گئی اور 1948 میں برطانوی فوجوں کی واپسی پر اقتدار یہودیوں کے حوالے کر دیا گیا ۔ دریں اثنا ، طاقت کے زور پر اسرائیلی ریاست نے نہ صرف دریائے اردان کے مغربی کنارے کے سِوا فلسطین کے تمام علاقوں پر قبضہ کرلیابلکہ فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد کو طاقت کے زور پر فلسطین سے نکال باہر کیا گیا جو ارد گرد کے عرب ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ یہ درست ہے کہ 1948 کے تقیم فلسطین کے پلان کے تحت فلسطینیوں کی ریاست کیلئے ٹکڑوں میں بٹے ہوئے غیر متوازن علاقے دئیے گئے تھے لیکن صد افسوس کہ صیہونی سامراجی عزائم کے تحت اِن علاقوں میں بھی فلسطینیوں کی آزاد ریاست کو بننے روک دیا گیا۔ اندریں حالات فلسطین میں جاری صیہونی بربریت اور جبریت پسندی سے یہی نتیجے اخذ کیا جائیگا کہ ڈونلڈ جے ٹرمپ وہ واحد امریکی صدر ہیں جنہوں نے ہٹلر طرز کی اسرائیلی جبریت اور لسانیت سے لبریز نیو نازی ازم کو اپنے گلے سے لگا لیا ہے توکیا جمہوری آزادی کی نظیروں کا حامل امریکہ، ہٹلر کی پالیسی پر گامزن ڈونلڈ ٹرمپ جیسے صدر کو کیونکر برداشت کر پائیگا، اِس کا جواب تاریخ ہی دیگی۔

165
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...