چند روز قبل سفارت ، سیاست اور علمی میدان سے ایک اور نابغہ روزگار شخصیت محمد اکرم ذکی جہاںِ فانی کو الوداع کہتے ہوئے رخصت ہوگئے ہیں۔ اُنہیں بارہ ربیع اول کے مبارک دن اسلام آباد میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد اُن کے آبائی شہر گوجرانوالہ میں اُنکی والدہ کی آخری آرامگاہ کے قرب میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اکرم ذکی کا خاندان مشرقی پنجاب میں آل انڈیا مسلم لیگ سے منسلک رہا جہاں نوجوانی میں اکرم ذکی کو ایک تقریب میں قائداعظم محمد علی جناح سے مصافہ کرنے کا شرف بھی حاصل رہا ۔تقسیم ہند کے بعد اکرم ذکی کے خاندان نے پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں سکونت اختیار کی۔ جناب اکرم ذکی نے تعلیمی معمولات کی تکمیل کے بعد جناح و اقبال کے سچے شیدائی کے طور پر پاکستان کی خدمت کے جذبے سے سرشار 1954 سے 1993 تک وزارت خارجہ سے منسلک رہے جہاں اُنہیں صدر ایوب خان، وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ، صدر ضیاء الحق ، وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اور وزیراعظم میاں نوز شریف کی حکومتوں کیساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ اِس دوران اکرم ذکی نے متعدد بیرونی ممالک میں سفارت کار اور پاکستان کے سفیر کے طور پر کام کیا بل خصوص اُنہیں عوامی جمہوریہ چین اور ریاست ہائے متحدہ امریکا میں سفیر کے طور پر کام کرنے کے علاوہ وزارت خارجہ میں سیکریٹری جنرل جسے منسٹر آف اسٹیٹ کا درجہ حاصل تھا کے عہدے پر فائز رہے۔ وزارت خارجہ سے ریٹائر ہونے پر اُنہوں نے سیاست کے خارِ زار میں بھی چھ برس بطور سینیٹر گزارے جہاں اُنہیں سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر کام کرنیکا موقع ملا۔ اکرم ذکی بنیادی طور پر وسیع تر مطالعہ کے حامل ایک علمی دانش ور شخصیت تھے چنانچہ اُنہیں فارن سروس کے دوران پاکستان کی جیو پولیٹیکل پوزیشن کے حوالے سے خارجہ امور میں پاکستان کے مفاد میں پالیسیاں ترتیب دینے کا موقع بھی ملا ۔ یہ کہا جا سکتا ے کہ مرحوم وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پاکستان چین دوستی میں تقویت پہنچانے میں اکرم ذکی کی فکری صلاحیتوں کا بھی کافی دخل تھا جس کے باعث پاکستان چین تعلقات بتدریج سی پیک کی موجودہ سطح تک پہنچ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ مرحوم کی رسم قل کے موقع پر جہاں وزارت خارجہ کے متعدد سینئر افسران اور ریٹائرڈ سفیروں کے علاوہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ، جنرل مرزا اسلم بیگ ، روئیداد خان ، مشاہد علی سید، ڈاکٹر غلام اکبر نیازی، سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر غلام حسین اور دیگر مشہور علمی ،سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی وہاں عوامی جمہوریہ چین کے متعدد سفارت کار بھی اُنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے موجود تھے۔
درحقیقت اکرم ذکی علم کا خزانہ تھے اور پاکستان کی تاریخ پر اُن کی گہری نظر تھی۔اُنہوں نے بیوروکریسی کا حصہ رہتے ہوئے بھی اور پارلیمنٹ کے اَپر ہاؤس میں سینیٹر کے طور پر اقتدار کی سیاسی غلام گردشوں میں پلتی ہوئی کرپشن کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ قائداعظم محمد علی جناح نے بھی قیام پاکستان کے موقع پر چند کھوٹے سکوں کا تذکرہ کیا تھا۔ البتہ جس جسیم اور بھاری بھرکم کرپشن کو اکرم ذکی نے خود مسلم لیگ کی قیادت میں اُبھرتے دیکھا وہ ایک انتہائی مایوسی کن اَمر تھا۔ اُنہوں نے بیرونی ممالک میں پاکستان کے سفارتی مشن میں سروس کے دوران دنیا بھر کی جمہوریتوں کی بود و باش کو بہت قریب سے دیکھا تھا ۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ دنیا بھر کے ریاستی انتظامی ڈھانچوں کی طرح پاکستان کی انتظامی مشینری کی بنیاد بھی قائداعظم نے آئین و قانون کی حکمرانی، معاشرتی عدل و انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کی استواری کیمطابق ہی تشکیل دی تھی اور کچھ کام قانون ساز اسمبلی کیلئے چھوڑ دیا تھالیکن بانیانِ پاکستان کے رخصت ہوتے ہی اقتدار کی غلام گردشوں میں اِن اصولوں کو پشت پشت ڈالتے ہوئے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے ایک طاقتور طبقے نے جس بے دردی سے سیاسی ، انتظامی اور مالیاتی اداروں میں کرپشن، بدعنوانی اور اقربہ پروری کا بازار گرم کیا اُس کی مثال دنیا بھر کے ملکوں میں خال خال ہی ملتی ہے۔ اکرم ذکی کے ذہن پر کیونکہ علامہ اقبالؒ اور قائداعظم کے افکار تازیانے کی حیثیت رکھتے تھے اِس لئے اُنہوں نے مختلف سیاسی ، سماجی اور علمی فورمز پر کرپشن کے خلاف اچھائی کی آواز کو بلند کرنا شروع کیا لیکن اشرافیہ کے طاقتور نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے کے مترادف کرپشن ، بدعنوانی اور اقربہ پروری کی ملکی کیفیت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی ۔ چنانچہ سینیٹر کے طور پر بھی اور سینٹ میں اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی اکرم ذکی نے اپنے تجربات کو دانشورانہ علمی سرگرمیوں کے ذریعے نوجوان نسل میں منتقل کرنے اور اُنہیں بہتر مستقبل بنانے اور بدترین حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے عزمِ مصمم کی فکر جگانے کاکام شروع کیا۔ اُن کی ابتدائی کاوش مارچ 2005 میں دیکھنے میں آئی جب اسلام آباد میں اُنہوں نے ڈاکٹر محمد رفیق مرزا مرحوم کے تعاون سے بیدرائ فکر فورم کی بنیاد رکھی اور اِس فورم کی پہلی ہی فکری نشست میں راقم کو اقتدار کی فصیلوں میں پلتی ہوئی کرپشن پر ریسرچ مقالہ پیش کرنے کیلئے کہا۔ اسلام آباد میں قائم یہ فورم آج بھی جاوید علی بھٹی کی قیادت میں اپنی ہفتہ وار فکری نشستوں میں علم کے چراغ روشن کئے ہوئے ہے۔ اُنکی دوسری کاوش مارچ کے ہی مہینے میں 2010 میں راولپنڈی اسلام آباد میں دیکھنے میں آئی جب اُنہوں نے قومی دنوں کو عوامی سطح پر منانے اور نئی نسل کو فکر اقبال و قائد سے روشناس کرنے کیلئے جناح اقبال فکری فورم کی بنیاد رکھی جس کی سرگرمیاں آج بھی جاری و ساری ہیں۔ اکرم ذکی خود بھی قومی اور بین اقوامی موضوعات پر تحقیقی مضامین لکھتے تھے جو نہ صرف ملک کے مشہور اخباروں میں شائع ہوتے تھے بلکہ مختلف ٹی وی چینلز پر بھی اُن کی قومی فکر کی بازگشت اکثر و بیشتر سنائی دیتی تھی۔ چنانچہ 2013 میں حضرت سلطان باہوؒ کے خانوادے صاحبزادہ سلطان احمد علی نے جناب اکرم ذکی کی مشاورت سے وفاقی دارلحکومت میں ایک اہم اسلامی نظریاتی تحقیقی ادارے مسلم انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی تو ملک میں اسلامی فکر و نظر کی افادیت کا احساس ہوا چنانچہ مسلم انسٹی ٹیوٹ کا شمار آج اسلامی دنیا کے چند اہم تحقیقی اداروں میں ہوتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد میں ہی نہیں بلکہ پاکستان کی بیشتر یونیورسٹیوں اور پوسٹ گریجویٹ کالجوں کی تقاریب میں اکرم ذکی کی فکری گفتگو کی باز گشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔راقم کو لاہور میں مسلم انسٹی ٹیوٹ کی الحمرہ میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں جناب اکرم ذکی کے ہمراہ پاکستان میں بھارتی تخریب کاری کے حوالے گفتگو کرنے کا موقع ملا جہاں محترم اکرم ذکی نے جب گفتگو کی تو پندرہ بیس منٹ کی تقریر میں ہی ہال میں موجود نوجوانوں اور بزرگوں کو تحریک پاکستان کے حوالے سے تالیوں کی گونج میں گرما کر رکھ دیا۔ یہی کیفیت مجھے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین راولپنڈی کی ایک تقریب میں اُن کے خطاب کے دوران دیکھنے کو ملی جب سینئر کلاس کی بچیوں کی تالیوں کی گونج ختم ہی نہیں ہوتی تھی۔ درحقیقت مرحوم اکرم ذکی علم کا سمندر تھے ، وہ شاعر بھی تھے اور نوجوانوں کو ملک و قومی کی خدمت کیلئے حق و سچ کی تلقین کرتے ہوئے جناح و اقبال کی فکر اپنانے پر زور دیتے تھے۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہی نہیں علمی حوالے سے ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی کی حیثیت رکھتے تھے لیکن آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن اُن کی فکر ہر خاص و عام کو گرماتی رہے گی ۔ الوداع اکرم ذکی صاحب آپ کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر گفتگو کرنا میرے لئے اِس مختصر سے کالم میں ممکن نہیں ہے البتہ آخر میں نوجوانوں کی بیدارئ فکر کیلئے لکھے ہوئے آپ کے چند اشعار قارئین کی خدمت میں پیش کرنے پر ہی اکتفا کرونگا ۔۔۔۔۔
تقدیر کی تعمیر ہے میدان عمل میں
گلیوں سے مکانات سے باہر نکلو
امن اور محبت کا اُٹھا کر پرچم
خونریز فسادات سے باہر نکلو
اللہ سے بھی مانگو خود بھی کرو ہمت
بگڑے ہوئے حالات سے باہر نکلو
تقدیر کے گھوڑے کی لگامیں تھامو
مایوسی کی ظلمات سے باہر نکلو

20
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...