اسلام آباد میں گزشتہ بیس روز سے جاری فیض آباد ناموس ختم نبوت ﷺدھرنا جس کے سبب نہ صرف راولپنڈی اسلام آباد کے شہریوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی تھی بلکہ دونوں شہروں کے درمیان مین ٹریفک بھی بند ہو کر رہ گیا تھا پر گزشتہ ایک ہفتے سے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج مسٹر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے متعدد احکامات جاری کئے جانے کے باوجود مقامی انتظامیہ عوامی مشکلات پر قابو پانے میں ناکام رہی۔دھرنے کے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے یہی محسوس ہوتا ہے کہ ناموس ختم نبوتؐ کے حساس معاملے کو مناسب طور پر ایڈریس کرنے کیلئے نہ تو انتظامی طور پر اِس مسئلے کو سیاق و سباق کیساتھ سمجھنے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی انتظامیہ نے معاملے کی حساس پوزیشن سے بروقت عدالت کو آگاہ کرنے کی ضرورت محسوس کی ۔
یہ درست ہے کہ جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی خود بھی عاشق رسولؐ ہیں جس کا تذکرہ اُنہوں نے اِس کیس کی سماعت کے دوران بھی کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کیمطابق اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے دھرنے کے خلاف آپریشن کی ناکامی پر سماعت کے دوران محترم جسٹس کا وفاقی وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہنا کہ آپ نے دھرنے کے سامنے سرنڈر کیا ہے اور اسلام آباد انتظامیہ و پولیس کو بے رحمی کیساتھ ذلیل کرایا ہے ناقابل فہم ہے۔ کیونکہ فیض آباد دھرنا کسی سیاسی جماعت کے مطالبوں پر منحصر کوئی عام سیاسی اجتماع نہیں تھا۔ اِس اَمر کا ادراک جناب جسٹس صاحب بھی رکھتے ہیں کہ جو مسلمان غازی علم الدین کی طرح عشق رسولؐ سے لبریز ہیں اُن کے سامنے زندگی کا کوئی اور مقصد نہیں رہ جاتا۔لہذا ، جناب جسٹس صاحب کی جانب سے دھرنے اور انتظامیہ کے درمیان معاملہ فہمی کے بعد حالات کے معمول پر آنے کا انتظار کیا جانا چاہیے تھا چنانچہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کرنے کا نوٹیفیکشن جاری ہونے کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کرنے سے پریز کیا جانا چاہیے تھا جس میں انہوں نے فوج کی بروقت کوشش سے حکومت اور دھرنے کے درمیان ہونے والے معاہدے کی شرائط پر سنگین اعتراضات اُٹھائے ہیں۔محترم جسٹس صاحب نے بظاہر حالات کا معروضی جائزہ لئے بغیر عدالتی حکم نامے میں یہ بھی کہا ہے کہ حکومت اور فوج کے آئینی کردار اور فوج کے بطور ثالث کردار ادا کرنے پر عدالت کو مطمئن کیا جائے جبکہ ناانتظامیہ دھرنے کے خلاف ناکام آپریشن کے بعد فوج کی مدد سے فیض آباد دھرنا اور ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت کو ختم کرنے میں جدوجہد میں مصروف رہی ۔
حقیقت یہی ہے کہ دھرنے کے شرکا کو متعدد بار خبردار کرنے ، مہلت دینے اور دھرنا پُرامن طور پر ختم کرنے کی اپیلوں کے بعد بل آخر جب اسلام آباد انتظامیہ نے آٹھ ہزار پولیس و ایف سی اہلکاروں کی موجودگی میں پولیس آپریشن شروع کیا تو پولیس کی آنسو گیس کی زبردست شیلنگ ، ربڑ کی گولیوں کے استعمال اور لاٹھی چارج پر دھرنے میں شریک ناموسِ ختم نبوتؐ کے حامیوں نے سخت مزاحمت کا مظاہرہ کیا ۔ سارے دن تک جاری رہنے والے اِس تصادم میں میں چھ سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے ، پولیس اہلکاروں سمیت ڈھائی سو سے زیادہ زخمی اور سینکڑوں افراد کے گرفتار کئے جانے کے باوجود نہ صرف یہ کہ دھرنے کو ختم نہ کرایا جا سکا بلکہ دھرنے پر پولیس آپریشن کی اطلاع ملنے پر پاکستان کے طول و ارض میں ناموس ختم نبوتؐ کے حامیوں نے سخت ردعمل کا مظاہر کیا اور پشاور سے کراچی تک متعدد شہروں میں نہ صرف لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو گیا بلکہ فیصل آباد ، نارووال ، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور راولپنڈی سمیت متعدد شہروں میں مشتعل ہجوم نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے گھروں پر حملے کئے اور کئی حکومتی عمارتوں کو بھی گھیرے میں لے لیا۔ اندریں حالات ملک کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال میں یوں محسوس ہونے لگا کہ اگر لاء اینڈ آرڈر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو ملک میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے ۔
درج بالا تناظر میں ہر خاص و عام کو اِس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے تھا کہ ایک ایسے مرحلے پر جبکہ افواج پاکستان بلوچستان، فاٹا اور کراچی میں بیرونی تخریب کاری ، دہشت گردی اور مشرقی سرحدوں پر کشمیر کنٹرول لائین اور ورکنگ باؤنڈری پر حالت جنگ میں ہیں، خانہ جنگی کی کیفیت کا جنم لینا ملک کی سلامتی کیلئے سم قاتل کے مترادف تھا ۔ دریں اثنا غیر ملکی سفارت خانوں کی جانب سے اپنے شہریوں کو متنبہ کیا جانے لگا تھا کہ ملکی خراب صورتحال کے باعث و اپنی نقل و حرکت کو محدود رکھیں اور حساس علاقوں میں جسنے سے گریز کریں ۔ چنانچہ حالات پر فوری طور پر قابو پانے کیلئے وزیراعظم پاکستان کے حکم پر آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانے کیلئے فوج کو طلب کیا گیا جس کا بروقت نوٹی فیکیشن جاری کیا گیا چنانچہ آرمی چیف اور وزیراعظم کی ملاقات کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا کہ فوج حالات کو سنوانے کیلئے پاکستانی عوام سے لڑنے کے بجائے فوری طور پر حالات کی بہتری کیلئے راست اقدام کرے اور ایسا ہی ہوا کہ فیض آباد دھرنے کو ختم کرنے کیلئے قتل و غارت گری کا حربہ استعمال کرنے کے بجائے مبینہ طور پر دھرنے کے منتظمین کو فوج کی جانب سے بیرونی خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے دھرنے کو ختم کرنے کیلئے راتوں رات ایک معاہدے پر راضی کیا گیا چنانچہ فیض آباد دھرنا اپنے اختتام کو پہنچا اور اِس کے اثرات دیگر شہروں کے احتجاجی دھرنوں پر بھی مرتب ہوئے۔ مقتدر میڈیا ذرائع کے مطابق جناب جسٹس صاحب کو سماعت کے دوران مقامی انتظامیہ اور سول ایجنسیوں کی جانب سے مطلع کیا جانا چاہیے تھا کہ فیض آباد دھرنے کے جاری رہنے پر ناموسِ ختم نبوتؐ کے متوالے تمام ملک میں 12 ربیع اوّل کے جلوسوں کا رُخ فیض آباد درھرنے کی جانب موڑ سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ملک بھر میں لاء اینڈ آرڈر کا وسیع تر مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ البتہ یہ اَمر ناقابل فہم ہے کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد عدالت عالیہ کو دھرنے کے موضوع فوج کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے سماعت کو وقتی طور پر روک دینا چاہیے تھا کیونکہ فیض آباد دھرنا ختم ہونے کے بعد ملک کے بیشتر شہروں سے مسلم لیگی رہنماؤں پر حملے اور دھرنے پُرامن طور پر ختم ہونا شروع ہو گئے تھے چنانچہ حالات میں مزید بہتری لانے کیلئے فوج کے پُرامن اقدام کی ستائش کی جانی چاہیے تھی کیونکہ 12 ربیع اوّل کے موقع پر کچھ شدت پسند عناصر موجودہ تنقیدی منظر نامے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے حکومت کو گرانے کیلئے مزید مطالبات کو ہوا دے سکتے ہیں جن میں مبینہ طور پر تمام کابینہ کی برطرفی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔درج بالا منظر نامے میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال جو اسلام آباد انتظامیہ کے روح رواں ہیں کو فیض آباد دھرنے کے خلاف انتظامی آپریشن کی نگرانی خود ہی کرنی چاہیے تھی جس کیلئے اُنہوں نے خود ہی کہا تھا کہ اگر دھرنا ختم نہیں ہوا تو وہ تین گھنٹے کے اندر دھرنے کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ ہزاروں پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں کی دن بھر کی جدوجہد کے باوجود دھرنے کو ختم نہیں کیا جاسکا تھا ۔ یہ اَمر بھی ناقابل فہم ہے کہ وفاقی وزیر دھرنا آپریشن کی ناکامی کے بعد میڈیا میں تواتر سے کہتے رہے کہ فیض آباد آپریشن میں اُن کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ یہ آپریشن عدالت عالیہ کے احکامات پر مقامی انتظامیہ نے کیا تھا جبکہ وہ دھرنے کے پیچھے بیرونی (بھارت) کے ہاتھ ہونے کا تذکرہ بھی کرتے رہے حتیٰ کہ اُن کے ناقابل فہم بیانات پر سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے چوہدری نثار علی خان کو بھی کہنا پڑا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ملک کا وزیر داخلہ اِس قدر بے خبر ہے کہ اپنی نااہلی چھپانے کیلئے ناکام پولیس آپریشن کا بوجھ عدلیہ پر ڈال رہا ہے ؟ بہرحال موجودہ حالات اِس بات کے متقاضی ہیں کہ قومی یکجہتی کو ممکن بنائے کیلئے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں۔

19
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...